آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(107)
جواب از: شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ
جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ - سعودی عرب
سوال: میں مینوپاز (سن یاس)
کے مرحلے کی طرف جا رہی ہوں، اس وجہ سے میری عادت میں تبدیلی آرہی ہے۔ کبھی حیض
آٹھ دن رہتا ہے اور کبھی پانچ دن۔ اس مرتبہ پانچویں دن شام کو بالکل صفائی ہوگئی،
تو میں نے نماز اور تراویح ادا کی اور صبح روزہ بھی رکھ لیا لیکن اب دوبارہ کچھ
داغ ظاہر ہوا ہے۔ کیا آج کا روزہ صحیح ہے یا نہیں اور کیا اب مجھے نماز پڑھنی
چاہیے یا نہیں؟
جواب:آخری وقت میں عموماً ماہواری میں بدنظمی پیدا ہو
جاتی ہے۔ اس جگہ یہ دھیان رہے کہ جتنے دن آپ کو لگاتار حیض کے صفات والا خون آئے
گا، وہ حیض مانا جائے گا چاہے کم دن ہو یا زیادہ دن ہو یعنی اگر لگاتار آٹھ دن تک
خون آئے تو یہ حیض ہے، یا پانچ ہی دن تک آئے تو اتنا ہی دن حیض شمار کرنا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ جو آپ نے سوال کیا کہ پانچ دن تک
خون آیا پھر بالکل خشکی حاصل ہوگئی اور آپ نے غسل کرکے عشاء کی نماز پڑھی بلکہ آپ
نے سحری کھا کر روزہ بھی رکھا مگر اس کے بعد دن میں کسی وقت داغ لگا ہے تو یہ داغ
و دھبہ حیض شمار نہیں کیا جائے گا۔ آپ کا روزہ درست ہے، اس روزے کو مکمل کریں اور
نماز بھی جاری رکھیں۔
سوال:اگر کسی مسلمان عورت کی شادی کسی
عیسائی مرد سے ہو تو کیا اس پر عدت لازم ہوگی اور اگر کسی عیسائی عورت کی شادی کسی
مسلمان مرد سے ہو تو کیا اس پر بھی عدت لازم ہوگی؟
جواب: مسلمان عورت کا عیسائی مرد سے نکاح کرنا جائز
نہیں ہے کیونکہ عیسائی غیر مسلم ہے۔ اگر کوئی مسلمان عورت عیسائی مرد سے شادی کرتی
ہے، اس کے دین و مذہب سے راضی ہوتے ہوئے تو ایسی صورت میں تو وہ خود مسلمان نہیں
ہے۔ وہ دائرہ اسلام سے نکل کر مرتد ہوچکی ہے۔
ہاں، اگر وہ اپنے اسلام و ایمان پر باقی ہو اور شیطانی
فریب کا شکار ہو کر اس نے غیر مسلم سے شادی کر لی ہو تو اسے جیسے ہی احساس ہو جائے
فورا اس غیرمسلم سے کنارہ کشی اختیار کر لے اور اللہ رب العالمین سے سچے دل سے
توبہ کرے۔ اللہ معاف کرنے والا ہے۔
جہاں تک کتابیہ کا مسئلہ ہے تو مسلمان مرد پاک دامن
کتابیہ عورت سے شادی کر سکتا ہے۔ اور اگر اس کتابیہ عورت کو اس کا شوہر طلاق دے یا
شوہر کی وفات ہو تو ایسی صورت میں بیوی پر عدت گزارنا لازم اور ضروری ہے جیسے
مسلمان عورت عدت گزارتی ہے۔
سوال: کیا رمضان میں روزہ کی حالت میں
غیر ضروری بالوں کی صفائی (جیسے بغل یا زیر ناف بال صاف کرنا) کی جا سکتی ہے؟
جواب:روزہ کی حالت میں غیر ضروری بالوں کی صفائی کرنے
میں کوئی حرج نہیں ہے، اس سے روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔
سوال : اگر نماز کے دوران یا نماز کے بعد
قرآن پڑھتے ہوئے اونگھ آجائے تو کیا وضو دوبارہ کرنا ضروری ہے اور کتنی دیر کی
اونگھ آنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
جواب:نیند یا اونگھ میں وقت کی کوئی تحدید نہیں ہے بلکہ
مسئلہ یہ ہے کہ اگر گہری نیند آجائے جس میں آدمی کو کوئی شعور نہیں رہتا ہے۔ ایسی
صورت میں وضو ٹوٹ جائے گا لیکن اگر محض اونگھ ہو جو گہری نیند نہیں ہوتی ہے تو اس
سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔ اور عام طور سے بیٹھے بیٹھے اونگھ آتی ہے۔ یہاں پر یہ بھی
یاد رہے کہ قرآن پڑھنے کے لیے وضو ہونا ضروری نہیں ہے لیکن نماز بغیر وضو کے نہیں
ہوگی۔
سوال: میرے گھر کے قریب ایک حنفی مسجد ہے
جس میں اذان کچھ دیر سے ہوتی ہے۔ کیا میں اہل حدیث کے ٹائم کارڈ کے مطابق سحری اور
افطار کروں جبکہ یہ ٹائم صحیح ہے یا مسجد کی اذان سن کر، اگر صحیح وقت، ٹائم کارڈ
کے مطابق ہو چکا ہو اور میں پھر بھی مسجد کی اذان سن کر سحری ختم کروں اور افطار
کروں تو کیا میں گناہگار ہوں؟
جواب:اگر آپ کو یقین کے ساتھ یہ معلوم ہے کہ آپ کے یہاں
احناف کی مسجد میں تاخیر سے مغرب کی اذان دی جاتی ہے تو آپ ہرصورت میں صحیح وقت پر
افطار کریں۔ اور اپنی جگہ یہ بات بھی برحق ہے کہ اہل حدیث صحیح وقت پر مغرب کی
اذان دیتے ہیں اور ان کے کیلنڈر میں بھی مغرب کی اذان کا وقت وہی ہوتا ہے جو سورج
کے ڈوبنے کا اصل وقت ہوتا ہے۔
مذکورہ بالا صورت میں آپ کے لیے یہ ضروری ہے کہ آپ صحیح
کلینڈر کے حساب سے وقت پر افطار کریں اور احناف کی اذان کا انتظار نہ کریں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ احناف کی اذان سے افطار کرتے
ہیں تو اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی مخالفت ہے جبکہ ہمارے لیے
ضروری ہے کہ ہم اللہ کے دین پر رسول کی سنت کے مطابق عمل کریں۔
دوسری بات یہ ہے کہ اہل کتاب افطار کرنے میں تاخیر کرتے
ہیں جبکہ مسلمان کو اہل کتاب کی مشابہت سے بچنا چاہیے۔ اس بارے میں ایک حدیث پر
غور کریں، ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا: دین برابر غالب رہے گا جب تک کہ لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے
کیونکہ یہود و نصاری اس میں تاخیر کرتے ہیں۔(سنن ابی داؤد: 2353)
سوال: ایک عورت کو حیض آیا اور وہ آٹھ دن
بعد پاک ہو کر غسل کر چکی تھی لیکن ایک ہفتے بعد دوبارہ خون آنا شروع ہو گیا ہے۔
کیا یہ استحاضہ کا خون ہے یا حیض کا اور کیا اسے نماز، روزہ اور قرآن پڑھنا چھوڑ
دینا چاہیے یا جاری رکھنا چاہیے؟
جواب:اگر اس بہن کو پہلے ہمیشہ ایک ہی بار فقط آٹھ دن
حیض کی عادت رہی ہے جیسے اس بار آیا ہے مگر اس بار اسے ایک ہفتہ بعد دوبارہ خون آیا
ہے۔ اس جگہ دیکھنا یہ ہے کہ دوبارہ آنے والے خون کے صفات کیسے ہیں؟
اگر اس خون میں حیض کے صفات ہیں یعنی یہ گاڑھا، بدبودار
اور سیاہی مائل ہے تو اس پر حیض کا حکم لگے گا لیکن اگر اس میں حیض کے صفات نہیں
ہیں تو اس پر حیض کا حکم نہیں لگے گا بلکہ استحاضہ مانا جائے گا اور اس میں نماز
بھی پڑھنا ہے اور روزہ بھی رکھنا ہے۔
جہاں تک قرآن کی تلاوت کا مسئلہ ہے تو آپ حیض کی حالت
میں بھی تلاوت کرسکتی ہیں، تلاوت کا کبھی بھی مسئلہ نہیں ہے۔
سوال: میرا ہوم میڈ فوڈ کا کاروبار ہے
اور ایک شخص روزانہ مجھ سے افطار تیار کرواتا ہے۔ روزے کی حالت میں ٹسٹ بیلنس
رکھنا مشکل ہوتا ہے،کبھی نمک یا مرچ کم زیادہ ہو جاتا ہے۔ کیا روزے کی حالت میں
نمک یا سالن چکھنا جائز ہے اور اگر چکھ کر فوراً کلی کر لی جائے تو کیا اس کی
اجازت ہے؟
جواب:ضرورت پڑنے پر روزہ کی حالت میں کھانے کا ذائقہ
ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے، اس سے روزہ پر اثر نہیں پڑے گا بشرطیکہ جو چیز زبان پر لی
جائے اس کو پھر باہر پھینک دی جائے اور منہ کی صفائی کرلی جائے۔
سوال : مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں
مسجد کے باہر بھی نماز پڑھنے کی جگہ مل جاتی ہے۔ کیا باہر نماز پڑھنے والے کو تحیۃ
المسجد پڑھنی چاہیے اور کیا مسجد کے باہر ادا کی گئی نماز کا اجر بھی مسجد کے اندر
پڑھی جانے والی نماز کے برابر ہوتا ہے؟
جواب:مسجد سے متصل تمام حصے مسجد کے ہی مانے جاتے ہیں
خواہ وہ مسجد کا داخلی حصہ ہو یا مسجد کا خارجی حصہ ہو۔ اس وجہ سے کوئی مسجد نبوی
یا مسجد حرام جاتا ہے تو مسجد سے باہری صحن میں بھی تحیۃ المسجد پڑھ سکتا ہے۔ اور
ایسی صورت میں ثواب اتنا ہی ملے گا جو اندر پڑھنے کا ثواب ہے بلکہ مسجد حرام کے
چاروں طرف حدود حرم میں کہیں بھی نماز پڑھنے سے ایک لاکھ اجر ملتا ہے۔
یہاں پر شیخ ابن باز کا ایک فتوی نقل کرتا ہوں، آپ سے پوچھا
گیا کہ مسجد سے باہر خارجی صحن میں تحیۃ المسجد پڑھنا واجب ہے تو شیخ نے جواب دیا
کہ جو چیز مسجد کے تابع ہو وہ مسجد ہی کے حکم میں ہوتی ہے، اور پورے حرم میں نماز
کا ثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ مسجد کے صحن (ساحات) بھی مسجد ہی کے تابع ہیں۔
جب تک انہیں مسجد کی توسیع اور اضافہ کے طور پر شامل کیا گیا ہے تو وہ فضیلت اور
ثواب کے کئی گنا ہونے میں مسجد ہی کے حکم میں ہوں گے۔(ویب سائٹ شیخ ابن باز)
سوال: اگر گھر میں پرانی ٹی وی پڑی ہو
اور اسے کسی کو دے دیا جائے، یا کسی کو موبائل فون تحفے میں دیا جائے تو کیا اس
صورت میں گناہ جاریہ کا اندیشہ ہو سکتا ہے مثلاً اگر وہ شخص اس میں گانے سنے یا
کوئی غلط چیز دیکھے تو کیا اس کا گناہ دینے والے کو بھی ہوگا؟
جواب:ٹی وی یا موبائل کے غلط استعمال سے، اس کے استعمال
کرنے والے کو گناہ تو ہرحال میں ملے گا، ساتھ ہی یہ گناہ اس کی طرف بھی منتقل
ہوسکتا ہے جس نے یہ سامان اس کے لیے مہیا کیا ہے۔ دینے والے نے اگر ٹی وی نہ دیا
ہوتا تو یہ آدمی گناہ نہ کرتا، گویا گناہ کا ذریعہ دینے والا بن رہا ہے۔
اس وجہ سے آپ اگر کسی کو ٹی وی دے رہے ہیں تو دیکھیں کہ
اس آدمی کی فطرت کیسی ہے، کیا اس کے اندر دین داری ہے۔ اگر دینداری ہے تو عین ممکن
ہے کہ اس ٹی وی کا استعمال غلط نہ کرے لیکن برے آدمی کو دیتے ہیں تو ظاہر سی بات
ہے وہ برا ہی کرے گا۔
لہذا اس قسم کی چیزیں دیکھ بھال کر صحیح آدمی کو دیں
اور دیتے وقت اس کو نصیحت بھی کریں کہ میری طرف سے اس چیز کے غلط استعمال کی ممانعت
ہے۔ موبائل ضرورت کی چیز ہے، یہ کسی آدمی کو ضرورت کے تحت دے سکتے ہیں، اگر وہ اس
کا غلط استعمال کرے تو اس کا وبال اسی کے اوپر ہوگا۔ تاہم یہاں پر بھی احتیاط کریں
کہ ایسے ہی آدمی کو موبائل دیں جس کو اس کی ضرورت ہو اور ویی چیز دیں جس سے اس کا
کام چل جائے۔
سوال: اگر کوئی غریب شخص کچا چاول مانگے
تو کیا اسے چاول دینا درست نہیں؟
جواب:مانگنے والے کو کچا پکا جو بھی چاول ہو آپ دے سکتے
ہیں، بالکل منع نہیں ہے۔ روزہ کے فدیہ کے طور پر اور فطرانہ کے طور پر بھی کچا
چاول دے سکتے ہیں۔ گیہوں ، آٹا، جو بھی میسر ہو، کچا اناج کی شکل میں دے سکتے ہیں۔
اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
سوال:ایک شخص کی حالت یہ ہے کہ اس کے پاس
چار تولہ سونا، تین لاکھ روپے کی سرمایہ کاری، کرائے کا مکان، پیشہ:پلمبرنگ اور
قرض: تقریباً پانچ سے چھ لاکھ روپے ہیں۔ اس کی ذمہ داری میں بیوی، دو بچے اور دو
بھائی ہیں۔ کیا ایسے شخص کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟
جواب:زکوۃ کے مصرف میں ایک قرضدار بھی ہے یعنی اگر کسی
کے اوپر قرض ہو اور وہ قرض خود سے اتارنے کی طاقت نہیں رکھتا ہو تو ایسی صورت میں
زکوۃ سے قرض اتارنے کے لیے مدد کر سکتے ہیں۔
جس آدمی کے قرض کی آپ بات کر رہے ہیں، وہ برسر روزگار
بھی ہے اور اس کے پاس تین لاکھ کیش بھی ہے تو انہیں اپنا پیسہ انویسٹمنٹ سے نکال
کر قرض اتار لینا چاہیے تاکہ قرض کا بوجھ ہلکا ہو، یہاں تک کہ قرض اتارنے کے لیے
جو سونا ہے اسے بھی بیچ کر قرض اتار لے۔
ایسا شخص اپنا قرض خود سے اتار سکتا ہے کیونکہ ان کے
پاس قرض اتارنے کے استطاعت ہے لہذا ان کو زکوۃ نہیں دینی چاہیے۔
سوال:اگر زکوٰۃ کی رقم زیادہ ہو تو کیا
اسے ایک ہی شخص یا خاندان کو ماہانہ تھوڑا تھوڑا کرکے دیا جا سکتا ہے؟
جواب: قرض تھوڑا تھوڑا یا مہینہ مہینہ دینا، یہ اس صورت
میں جائز ہے جب آپ اپنی زکوۃ وقت سے پہلے نکالیں لیکن جب آپ کی زکوۃ کا وقت آجائے
تو اب زکوۃ دینے میں تاخیر نہیں کرنی ہے یعنی مہینہ مہینہ نہیں دینا ہے بلکہ فوراً
نکال کر مستحق میں تقسیم کر دینا ہے۔
سوال: ہمارے پاس اپنا گھر نہیں ہے اور ہم
کرائے کے مکان میں رہتے ہیں۔ ہم نے اپنا گھر خریدنے کے لیے کچھ رقم جمع کی ہوئی
ہے، لیکن ایک سال سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہے اور ابھی تک مناسب گھر نہیں ملا۔ اسی
دوران ہم نے کچھ لوگوں سے قرض بھی لیا ہوا ہے تاکہ گھر خریدتے وقت کمی پوری ہو
سکے۔ ہم نے کچھ سونے کے زیورات بھی اس نیت سے خریدے ہیں کہ گھر خریدتے وقت انہیں بیچ
کر رقم استعمال کر لیں گے۔ ان حالات میں ہمیں زکوٰۃ کیسے ادا کرنی ہوگی؟
جواب:جو قرض آپ نے لیا ہے، اس پر کوئی زکوۃ نہیں ہے
لیکن جو پیسہ آپ نے گھر خریدنے کے لیے رکھا ہے، اگر وہ پیسہ نصاب کے برابر یا اس
سے زیادہ ہے تو اس کی زکوۃ ادا کرنی پڑے گی بشرطیکہ ایک سال ہوگیا ہو اور اسی طرح
جو زیور ہے اگر وہ بھی نصاب تک ہے تو اس کی بھی زکوۃ دینی پڑے گی بشرطیکہ اس پر
بھی ایک ساتھ گزر گیا ہو۔ نیز اگر پیسہ نصاب تک نہیں پہنچے اور زیور کو ساتھ ملانے
زکوۃ کا نصاب پورا ہو جائے تو ملا کر زکوۃ دینی ہے۔
سوال: جب عورت حیض سے پاک ہو کر روزہ
رکھتی ہے تو غسل بھی کرتی ہے۔ غسل کے فرائض میں حلق تک پانی پہنچانا بھی شامل ہے،
لیکن روزے کی وجہ سے صرف کلی کی جاتی ہے تاکہ پانی حلق میں نہ چلا جائے۔ کیا اس
صورت میں غسل صحیح ہو جائے گا؟
جواب:نہانے میں یا وضو کرنے میں حلق میں پانی نہیں لینا
ہے بلکہ منہ میں پانی لے کر صرف کلی کرنا ہے۔آپ نے جہاں سے پڑھا ہے کہ حلق میں
پانی لینا غسل کا فرض ہے، یہ غلط ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ صرف کلی کرنا ہے۔
سوال: دو دوستوں کے درمیان ابتدا میں بہت
اچھے تعلقات تھے اور ایک دوسرے کے گھروں میں آنا جانا بھی تھا۔ بعد میں ایک دوست
چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ہونے لگی اور بار بار کہنے لگی کہ میرا تم سے تعلق ختم
ہے، لیکن پھر خود ہی دوبارہ بات کر لیتی تھی۔ دوسری دوست قطع رحمی کے خوف سے تعلق
برقرار رکھنے کی کوشش کرتی رہی۔رمضان میں تراویح کے دوران مدرسہ میں لوگوں کے
سامنے اس دوست نے دوسری کو تھپڑ بھی مار دیا اور کہا کہ میرا تم سے تعلق ختم ہے۔
اگر وہ دوست اپنے گھر افطار کی دعوت دے تو کیا دوسری دوست اس دعوت کو رد کر سکتی
ہے؟ کیا اس پر کوئی گناہ ہوگا؟
جواب:ایک بات تو یہ ہے کہ کسی مسلمان کو دوسرے مسلمان
سے بات چیت بند نہیں کرنا چاہیے۔دوسری بات یہ ہے کہ کوئی مسلمان دعوت دے تو اس کی
دعوت قبول کرنا چاہیے، یہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق ہے۔
جہاں تک قطع رحمی کا مسئلہ ہے تو اس چیز کا تعلق اپنے
خونی رشتہ داروں سے ہے، عام لوگوں سے یا سہیلیوں سے قطع رحمی کا معاملہ نہیں ہوتا
ہے لیکن اس اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم رشتہ داروں کے علاوہ دوسروں سے قطع کلامی
کریں بلکہ دوسروں سے بھی ہمیں بیر نہیں رکھنا چاہیے۔
ایک نے دوسرے پر ظلم کیا ہے تو اس ظلم کا بدلہ لیا جا
سکتا ہے لیکن معاف کر دینے والا بڑا ہوتا ہے اور اس کو اس پر اجر بھی ملتا ہے لہذا
ظلم کو معاف کرکے ایک دوسرے سے تعلق بحال رکھنا چاہیے اور دعوت قبول کرنی چاہیے۔
سوال: ایک عورت نے اپنے گھر میں کام کرنے
والی ملازمہ کے علاج پر اپنی زکوٰۃ کی رقم خرچ کی لیکن اسے نقد رقم نہیں دی۔ کیا
اس صورت میں اس کی زکوٰۃ ادا ہو گئی؟
جواب:گھر میں کام کرنے والے ملازم کو اجرت کے طور پر
علاج کا پیسہ دیا گیا ہو تو یہ زکوۃ نہیں مانی جائے گی لیکن اگر اجرت سے الگ، علاج
کے لئے خاص طور پر زکوۃ کی نیت سے پیسہ دیا گیا ہو تو یہ زکوۃ مانی جائے گی لیکن
اگر اجرت دی گئی ہو تو یہ زکوۃ نہیں مانی جائے گی۔
سوال: قطع تعلق کا گناہ کن لوگوں سے تعلق
نہ رکھنے پر ہوتا ہے یعنی ان میں کون کون سے رشتہ دار شامل ہوتے ہیں؟
جواب: جن سے صلہ رحمی کا حکم دیا گیا ہے ان میں نسب کے
رشتے دار ہوتے ہیں جو والد یا والدہ کی طرف سے ہوں۔ اس بارے میں شیخ ابن باز رحمہ
اللہ کا ایک فتوی ملاحظہ کریں، اس سے اندازہ ہو جائے گا۔
تمام قرابت دار رَحِم میں شامل ہیں، لیکن ان میں سب سے
زیادہ قریب اصول اور فروع ہوتے ہیں؛ یعنی باپ، ماں، دادا، دادی، اولاد اور اولاد
کی اولاد۔ یہ سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہیں۔ اس کے بعد بھائی آتے ہیں، پھر
بھائیوں کی اولاد، پھر چچا اور ان کی اولاد، اور اسی طرح درجہ بدرجہ جو جتنا قریب
ہو۔
اسی لیے جب نبی ﷺ سے ایک شخص نے پوچھا: اے اللہ کے
رسول! میں سب سے زیادہ کس کے ساتھ نیکی اور حسنِ سلوک کروں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری ماں۔
اس نے پوچھا: پھر کون؟
آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری ماں۔
اس نے پوچھا: پھر کون؟
آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری ماں۔
اس نے پوچھا: پھر کون؟
آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا باپ۔
پھر فرمایا: پھر جو زیادہ قریب ہو، پھر جو اس کے بعد
قریب ہو۔
لہٰذا صلۂ رحمی بھی قریبی رشتہ داروں سے شروع ہوتی ہے،
پھر درجہ بدرجہ آگے بڑھتی ہے۔ صلۂ رحمی مال کے ذریعہ، اچھے کلام کے ذریعہ، ملاقات
کے ذریعہ، اچھے انداز سے پیش آنے کے ذریعہ، اور ان کے حال احوال پوچھنے کے ذریعہ
بھی ہوتی ہے۔ یہ سب صلۂ رحمی کی صورتیں ہیں۔(ویب سائٹ شیخ ابن باز)
سوال: اگر کسی کے پاس اس وقت زکوٰۃ ادا
کرنے کے لیے نقد رقم موجود نہ ہو تو کیا وہ زکوٰۃ کی ادائیگی میں چار یا پانچ ماہ
تاخیر کر سکتا ہے؟
جواب:جس چیز کی زکوۃ دینی ہوتی ہے وہ چیز اصل میں موجود
ہوتی ہے۔جیسے پیسے کی زکوۃ دینی ہو تو پیسہ موجود ہوتا ہے، تبھی تو اس میں سے زکوۃ
دینی ہوتی ہے۔ اسی طرح سونا اور چاندی کی زکوۃ دینی ہو تو سونا اور چاندی موجود
ہوتے ہیں۔
جب معاملہ یہ ہے کہ زکوۃ دینے والی چیز موجود ہے تو اسی
میں سے زکوۃ دینی ہے، اس میں تاخیر نہیں ہے۔
عورتوں کے پاس زیورات ہوں اور ان کی زکوۃ دینے کے لیے
الگ سے کبھی پیسے نہ ہوں تو یہ ایک مسئلہ ہے اور چونکہ زیورات کی زکوۃ مختلف فیہ
مسئلہ بھی ہے، اس میں گنجائش کا معاملہ ہے لہذا عورت کو اس کی زکوۃ دینے میں کچھ
تاخیر ہوجائے تو حرج نہیں ہے تاہم زیورات کی بھی زکوۃ دینی چاہیے۔

0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔