Monday, June 8, 2026

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(106)

 

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(106)

جواب از: شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ

جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ - سعودی عرب


سوال: میرا نکاح ہوئے دو ماہ گزر چکے ہیں۔ میرے زیورات اس وقت میرے قبضے اور استعمال میں ہیں۔ یہ زیورات پہلے میری والدہ کی ملکیت میں تھے اور وہ ان کی زکوٰۃ ادا کرتی تھیں۔ اب جب یہ زیورات میری ملکیت میں آ چکے ہیں تو کیا مجھ پر فوراً ان کی زکوٰۃ لازم ہے یا ایک سال مکمل ہونے کے بعد دینی ہوگی؟

جواب: آپ اپنے زیورات کی زکوۃ اس وقت دیں گے جب آپ کے پاس ایک سال ہوجائے گاکیونکہ  زکوۃ دینے کے لئے دو شرطیں ہیں۔

(1)مال زکوۃ کا نصاب تک پہنچنا (2)اور اس پر ایک سال گزرنا۔

لہذا جب سال مکمل ہو تب اپنے زیور کی زکوۃ نکالیں گے۔

سوال: روزے کا فدیہ اصل میں اناج کی شکل میں دینا ہے لیکن اگر کوئی کینسر کا مریض ہو اور اسے علاج کے لیے پیسوں کی ضرورت ہو تو کیا فدیہ کی رقم پیسوں کی شکل میں دی جا سکتی ہے؟

جواب:اصل تو یہی ہے کہ روزہ کا فدیہ اناج کی شکل میں دیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالی نے یہی حکم دیا ہے مگر جب شدید ضرورت ہو تو فدیہ کا پیسہ دیا جاسکتا ہے جیسے کینسر کا مریض ہے اور اس کو علاج کے لئے پیسے کی ضرورت ہے تو اس کو فدیہ کا پیسہ دیا جاسکتا ہے۔ یہ عذر اور مجبوری کا معاملہ ہے۔

سوال: اگر کسی کے قریب صرف بریلوی مسجد ہو اور آس پاس اہل حدیث مسجد نہ ہو تو کیا وہ جمعہ کے خطبہ کو چھوڑ کر صرف نماز کے لیے جا سکتا ہے خاص طور پر جب خطیب تعویذ لکھنے والا اور نجوم وغیرہ سے وابستہ ہو اور خطبہ کا بڑا حصہ صوفی شاعری پر مشتمل ہو؟

جواب:بریلوی مسجد میں خطبہ جمعہ کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اصل  میں نماز جمعہ کا مسئلہ ہے یا یوں کہیں ہر نماز میں مسئلہ ہے۔جس کے پیچھے نماز پڑھی جائے اس آدمی کا عقیدہ درست ہونا ضروری ہے، اگر عقیدہ شرکیہ ہے تو اس کی خود کی نماز قبول نہیں ہوگی پھر اس کے پیچھے نمازی کی نماز کیسے قبول ہوگی۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الانعام:88)

ترجمہ: اور اگر فرضاً یہ حضرات بھی شرک کرتے تو جو کچھ یہ اعمال کرتے تھے وه سب اکارت ہوجاتے۔

سوال: کیا کسی غریب بچی کی شادی کے لیے زکوٰۃ کی رقم دی جا سکتی ہے؟

جواب:زکوۃ کے آٹھ مصارف ہیں، ان آٹھ مصارف میں شروع کے دو مصارف فقراء و مساکین ہیں۔ ہم اپنی زکوۃ فقیر و مسکین کو ان کی ضروریات زندگی کے لئے دے سکتے ہیں۔ غریب بچی کی شادی پر بھی زکوۃ دے سکتے ہیں کیونکہ یہ زکوۃ کے مستحقوں میں سے ہے۔

سوال: کیا کوئی بہن اپنی اس بہن کو صدقہ یا زکوٰۃ دے سکتی ہے جو میکے میں رہتی ہو اور اس کا شوہر بارہ سال سے خرچ نہ دے رہا ہو۔ وہ بیٹی کی پیدائش سے ہی میکے ہے؟

جواب:ایک بہن اپنی ضرورت مند بہن کو صدقہ دے سکتی ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ صدقہ کو باب وسیع ہے، یہ ہر نیک کام میں دیا جاسکتا ہے اور ہر طرح کا تعاون کرنے میں لگایا جاسکتا ہے۔  آپ اپنی ضرورت مند بہن کو صدقہ کے علاوہ زکوۃ بھی دے سکتے ہیں، اس میں آپ کو دہرا اجر ملے گا۔ ایک صلہ رحمی کا اور دوسرا صدقہ و زکوۃ دینے کا۔ سیدنا سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ الصَّدَقَةَ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَإِنَّهَا عَلَى ذِي الرَّحِمِ اثْنَتَانِ، صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ(سنن دارمي:1718)

ترجمہ:مسکین کو صدقہ دینا صدقہ ہے اور رشتے دار کو صدقہ دینا صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔

سوال: اگر کسی نے لاعلمی میں لائف انشورنس کروا لیا ہو اور کچھ سال تک اس میں رقم جمع کی ہو تو کیا اس جمع شدہ رقم پر زکوٰۃ ہوگی اور بعد میں ملنے والے سودی پیسے کا کیا حکم ہے؟

جواب:اولا بیمہ کرنا جائز نہیں ہے، اب اگر معلوم ہوگیا ہے تو اس عمل سے دوری اختیار کریں اور اللہ سے توبہ کریں۔

جہاں تک زکوہ کا معاملہ ہے اس کا جواب یہ ہے کہ جو پیسہ کاروبار میں یا جہاں بھی اور جس جگہ بھی جمع ہے اس کو بھی زکوۃ کے پیسوں میں شامل کرکے زکوۃ دینا ہے۔ اس بیمہ میں لگے پیسوں پر بھی زکوۃ دینا ہے اگر سارے پیسے مل کر نصاب کو پہنچے اور سال گزرے۔

سودی پیسے کو سماجی کاموں میں خرچ کردیں جیسے سڑک ، کنواں ، نالہ، اور نہر وغیرہ یا جو کوئی مضطرآدمی ملے اس کو بھی دے سکتے ہیں۔

سوال: اگر کسی عورت کے پاس ساڑھے سات تولہ سےتھوڑا کم سونا ہو لیکن بیٹیوں کے سونے کو ملا کر نصاب پورا ہو جاتا ہو تو کیا اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی؟

جواب: ہر کوئی اپنے سونا کا مسئول ہے، کوئی خاتون اپنا سونا دوسری خاتون کے سونا کے ساتھ ملاکر زکوۃ نہیں دے گی۔ جس خاتون کا سونا نصاب کو پہنچے اور سال گزر جائے تو اس کو زکوۃ دینا ہے اور نصاب کو نہ پہنچے زکوۃ نہیں دینا ہے۔

سوال میں مذکور ہے کہ کسی خاتون کے پاس ساڑے سات تولہ سے تھوڑا کم سونا ہے تو اس بہن کو زکوۃ دے دینا چاہئے کیونکہ نصاب کے قریب تک پہنچ گیا ہے اور ہوسکتا ہے کچھ پیسے بھی ہوں جس سے نصاب پورا ہوجائے۔ اس میں غریبوں کا بھلا ہے اور زکوۃ دینے والی بہن کو بھی اجر ملے گا یعنی زکوۃ دینے میں نقصان نہیں ہے۔ اگر نصاب تک مکمل طور پر نہ پہنچنے کی وجہ سے زکوۃ نہ دینا چاہے تو اس میں گناہ نہیں ہے تاہم قریب پہنچ گیا ہے تو دینا بہتر ہے۔

سوال: اگر حیض سے غسل کرنے کے بعد دوبارہ ایک یا دو قطرے خون کے ظاہر ہوں تو کیا اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا؟

جواب:عادت کے مطابق اگر عورت حیض سے پوری طرح پاک ہو گئی تھی، تب اس نے غسل کیا اور غسل کے بعد محض ایک یا دو قطرہ خون کا آئے تو اس کو حیض نہیں شمار کریں گے اور اس سے روزہ بھی نہیں ٹوٹے گا۔

سوال: بزنس میں بینک کے ذریعہ لین دین ہوتا ہے اور سود بھی آ جاتا ہے، تو اس سودی رقم کا کیا کیا جائے؟ کیا کسی کافر کو دے سکتے ہیں اور اگر دیں تو پیسہ ہی دے دیں یا کوئی سامان وغیرہ لے کر دے سکتے ہیں یا باتھروم وغیرہ بنواکر دے سکتے ہیں؟

جواب: بینک سے جو سود ملتا ہے اسے رفاہی اور سماجی کام میں لگانا چاہیے جیسے کنواں، سڑک، نل اور نہر وغیرہ۔ یہ کسی شدید ضرورت مند اور مضطر آدمی کو بھی دے سکتے ہیں حتی کہ غیر مسلم کو بھی دے سکتے ہیں یا اس کی ضرورت کی چیزیں خرید کریا بناکر دے سکتے ہیں اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

سوال: کیا حالت احرام میں عورت اسکارف باندھنے کے لیے سیفٹی پن استعمال کر سکتی ہے؟

جواب:احرام کی حالت میں اسکارف باندھنے کے لیے عورت سیفٹی پن کا استعمال کر سکتی ہے، اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

سوال: اگر کسی نے دس سال پہلے کسی کاروبار میں منافع و نقصان کی بنیاد پر پیسہ لگایا ہو مگر پیسے ملے گا یا نہیں اس کی امید نہیں تھی اور اب جا کر رقم واپس ملی ہو تو کیا پورے دس سالوں کی زکوٰۃ ادا کی جائے گی یا امسال کے حساب سے؟

جواب:جو صورت حال مذکورہے اس صورت میں صورت ایک سال کی زکوۃ دینی ہے جب رقم ملی ہے، گزشتہ تمام سالوں کی زکوۃ نہیں دینی ہے۔

سوال: رمضان سے پہلے میری شادی ہوئی ہے اور جب بھی میرا شوہر مجھے بوسہ لیتا ہے، یا میرے ساتھ بوس و کنار کرتا ہے اور مجھے گلے لگاتا ہے یا پیشانی پر چھوتا ہے تو اس سے میرے جسم میں حرارت بڑھ جاتی ہے اور پانی جیسا کچھ نکلنے لگتا ہے مگر اس میں بدبو نہیں ہوتی۔ کیا اس سے میرا روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب: روزہ کی حالت میں شہوت کے ساتھ بیوی سے بوس و کنار ہونا مکروہ ہے یعنی اس سے روزہ تو نہیں ٹوٹتا ہے لیکن روزہ کی حالت میں شہوت کے ساتھ ایسا کرنا ناپسندیدہ اور مکروہ  عمل ہے۔

مذکورہ صورتحال بھی یہی ہے کہ ایک نوجوان جوڑا ہے اور ان میں بوس و کنارے سے جسم میں حرارت پیدا ہوتی ہے لہذا آئندہ میاں بیوی کو روزے کی حالت میں اس عمل سے پرہیز کرنا چاہیے۔جس کو اپنی شہوت پر کنٹرول ہو اس کے لیے روزہ کی حالت میں بیوی سے بوس و کنار ہونے میں حرج نہیں ہے۔

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ بوس و کنار کے وقت شرمگاہ سے بغیر بدبو کے جو لیس دار پانی کا اخراج ہوتا ہے یہ مذی ہے، اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے، اور نہ ہی غسل واجب ہوتا ہے بلکہ اس سے صرف وضو ٹوٹتا ہے۔

سوال: کیا زکوٰۃ کے پیسوں سے نلکا لگوایا جا سکتا ہے یا فی سبیل اللہ پانی کی سپلائی کے کسی منصوبے میں حصہ ڈالا جا سکتا ہے؟

جواب:مالی زکوۃ سے متعلق اصل معاملہ یہ ہے کہ جو ہمیں زکوۃ دینی ہے وہ مال کی شکل میں مستحق کو عطا کرنا ہے یعنی نقدی کی زکوۃ یا سونے /چاندی کی زکوۃ پیسے کی شکل میں مستحقوں کو دینا چاہیے۔ اب آگے ،زکوۃ لینے کے بعد مستحق اپنے حساب سے اپنی ضرورت خود پوری کرے گا۔

کسی ضرورت مند کو نلکے کی ضرورت ہو تو آپ انہیں زکوۃ دے دیں وہ اپنا نلکا خود لگوا لیں گے۔ جہاں تک فی سبیل اللہ پانی کے سپلائی کی بات ہے تو اگر یہ پانی امیر و غریب سبھی کے لیے ہے تو اس میں زکوۃ نہیں دینا ہے لیکن کہیں ایسی جگہ جہاں پر صرف ضرورت مندوں کے لیے پانی کا انتظام کیا جا رہا ہو تو اس میں زکوۃ کا پیسہ لگا سکتے ہیں۔

سوال: اگر کسی کے پاس ڈائمنڈ کی انگوٹھی یا ناک کی لونگ ہو جس میں سونا ملا ہوا ہو تو اس پر زکوٰۃ کیسے ادا کی جائے گی؟ اور کیا میکنگ چارج پر بھی زکوٰۃ ہوگی؟

جواب:خالص سونے اور چاندی کی چیزوں پر تو زکوۃ ہے ہی، زکوۃ میں ان چیزوں کو بھی شمار کرنا ہے جن میں سونا یا چاندی مکس کیا گیا ہو اور وہ سونا چاندی کے طور پر اعتبار کیا جاتا ہو یعنی معمولی حصہ جیسے سونے یا چاندی کا کچھ پانی چڑھا ہو تو اس کا شمار نہیں ہوگا لیکن سونا چاندی کی ایک ایسی مقدار جس کا اعتبار کریں وہ کسی چیز میں مکس ہو تو اس کو بھی شمار کیا جائے گا۔

خلاصہ یہ ہوا کہ مثلا ڈائمنڈ میں ایک گرام سونا بھی مکس ہو تو ڈائمنڈ پر زکوۃ نہیں لیکن ایک گرام سونا شمار کیا جائے گا اور دوسرے سونے کے ساتھ ملا کر زکوۃ کا نصاب بنتا ہو تو زکوۃ دینا پڑے گا۔میکنگ چارج پر زکوۃ نہیں ہے۔

سوال: اگر سحری اور فجر کا وقت گزر جائے اور آدمی سویا رہ جائے تو کیا روزہ ہو جائے گا جبکہ ہم نے سارے روزوں کی ایک ساتھ نیت کرلی ہو؟

جواب:پہلے سے فرض روزہ کی نیت موجود ہو اور فجر سے پہلے سحری کھانے کے لیے آنکھ نہ کھلے تو بغیرسحری کے، محض  نیت سے ہی روزہ ہو جائے گا۔

سوال: اگر کوئی شوہر اپنی بیوی سے کہے کہ اگر تم فلاں سے رشتہ رکھوگی یا تم وہاں جاؤگی گی تو تمہیں طلاق۔ شوہر کے ایسا کہنے کے باوجود اگر کوئی عورت وہ کام کرے تو کیا طلاق واقع ہو جائے گی یا نہیں ہوگی؟

جواب:اگر شوہر اپنی بیوی کو مشروط طلاق دیتا ہے یعنی کہ وہ اپنی بیوی سے یہ کہے: اگر تم فلاں سے بات کرو گی تو طلاق یا فلاں جگہ جاؤ گی تو تم کو طلاق۔اور اگر بیوی وہ کام کر لیتی ہے جس سے شوہر نے منع کیا تھا تو ایسی صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی۔

سوال: اگر کسی عورت کے پاس سونا ہو اور زکوۃ دے سکتی ہو مگر شوہر بے روزگار ہونے کے سبب زکوٰۃ نہ نکالے اور اس کی مالی حالت خراب ہو تو کیا دوسرے لوگ اسے زکوٰۃ دے سکتے ہیں؟

جواب:اگر شوہر طاقت والا ہے اور کما سکتا ہے تو اس کو کما کر خود بھی کھانا چاہیے اور اپنی بیوی بال بچوں کی بھی کفالت کرنی چاہیے۔ کوشش کے باوجود اگر وہ اپنی ضرورت پوری کرنے سے عاجز ہے تو ایسی صورت میں بیوی اپنے زیورات کی زکوۃ شوہر کو دے سکتی ہے اور دوسرا آدمی بھی بنیادی ضرورت کے لیے اسے زکوۃ دے سکتا ہے، اس شرط کے ساتھ کہ وہ کوشش کے باوجود اپنی ضرورت پوری کرنے سے عاجز ہو۔

سوال: میری امی  روزانہ سحری کے پانچ منٹ تک چائے پیتی رہتی ہے۔ جب انہیں کہتی ہوں کہ اذان ہوتے ہی نہیں کھانا چاہئے تو وہ کہتی ہیں کہ سحری تاخیر سے کھانا چاہئے اور مجھ سے میری چچی لڑائی کرتی ہے اور دلیل مانگتی ہے۔ اس بارے میں رہنمائی فرمائیں؟

جواب: سحری تاخیر سے کھانا چاہیے مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اذان فجر ہوتی رہے اور کھاتے رہیں بلکہ اذان سے کچھ دیر پہلے پہلے ہی سحری کھا کر فارغ ہو جانا چاہیے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت رہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سحری کھا لیتے تو سحری اور اذان کے درمیان پچاس آیات پڑھنے کا وقفہ ہوتا یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر پہلے سحری سے فارغ ہو جایا کرتے تھے۔لہذا ہمیں اذان فجر سے کچھ دیر پہلے پہلے سحری کھاکر فارغ ہوجانا چاہئے۔

سوال: کیا زکوٰۃ کے پیسوں سے ہینڈ پمپ، میڈیکل سٹور یا جنرل سٹور کے ذریعے غریبوں کو سامان دلایا جا سکتا ہے؟

جواب:آپ اپنی زکوۃ کا پیسہ مستحق کو اپنے ہاتھوں سے دیں تاکہ واجبی چیز مستحق آدمی تک صحیح صورت میں پہنچے۔ آگے مستحق کا کام ہے، وہ اپنی ضرورت کے اعتبار سے اپنی اشیاء خریدلیں گے۔کوئی مجبور آدمی بیمار ہے، اس کو علاج کے لئے زکوۃ کا پیسہ دیں، کسی کے پاس گھر نہیں ہے، گھر بنانے کے لیے پیسہ دیں، کسی کے پاس ہینڈ پائپ نہیں ہے اس کو ہینڈ پائپ کے لیے پیسہ دیں۔ مستحق کو اس کی ضرورت کے حساب سے زکوۃ کا پیسہ دے سکتے ہیں، باقی ضرورت پوری کرنا اس کا اپنا کام ہے۔

ہاں اگر کوئی ادارہ ایمانداری کے ساتھ زکوۃ کا پیسہ غریب ومسکین پر خرچ کرتا ہے تو ضرورت مندوں پر خرچ کرنے کے لیے ادارہ  والے کو زکوۃ کا پیسہ دے سکتے ہیں تاہم مستحقوں کو خود سے ہی دینا اولی وافضل ہے۔

سوال: روزے کی حالت میں ناک میں اسپرے استعمال کرنے، گرم پانی کی بھاپ لینے اور مشین سے کان صاف کروانے کا کیا حکم ہے؟

جواب: روزہ کی حالت میں ناک میں اسپرے ڈالنے سے اگر وہ دوائی ناک کے راستے حلق کے نیچے اترنے کا امکان ہو تو ایسی صورت میں یہ اسپرے، روزہ کی حالت میں نہیں استعمال کریں گے، ورنہ روزہ ٹوٹ جائے گا اور اگر اس ا سپرے کا تعلق ناک تک ہی ہو یعنی یہ وہیں تک محدود رہے، وہ حلق سے نیچے نہ اترے تو ایسی صورت میں اس کے استعمال میں حرج نہیں ہے جیسے ناک میں پانی ڈال کر ناک کی صفائی کرتے ہیں یہ اسی کے مثل ہے۔

عام سادہ پانی کی بھاپ لینے میں روزہ پر فرق نہیں پڑے گا بشرطیکہ اس میں کوئی ایسی دوا نہ ملائی گئی ہو جو ناک یا منہ کے راستے حلق کے نیچے اترے۔روزہ کی حالت میں مشین سے کان کی صفائی کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، اس سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

سوال: رمضان میں نفلی اعتکاف کتنے وقت کا کیا جا سکتا ہے؟ اور اعتکاف کے دوران غیر ضروری بات چیت کا کیا حکم ہے؟

جواب:بعض اہل علم نے اعتکاف کے سلسلے میں یہ کہا ہے کہ چند دن یا چند گھنٹے کا بھی اعتکاف کیا جا سکتا ہے لیکن چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رمضان میں دس دنوں کے اعتکاف کرنے کا ثبوت ملتا ہے، لہذا آپ کی سنت کی پیروی میں رمضان میں دس دن کا ہی اعتکاف کرنا چاہیے اور وہ بھی رمضان کے آخری عشرے میں۔

اعتکاف کہتے ہیں، مسجد میں اللہ کی عبادت کی نیت سے ٹھہرنا۔ اس دوران بلاضرورت مسجد سے باہر آنا یا غیر ضروری بات چیت کر کے اپنے اوقات ضائع کرنا اعتکاف کے منافی ہے۔معتکف اوقات کو غنیمت جانتے ہوئے زیادہ سے زیادہ عبادت کرے۔

سوال: اگر کسی فوت شدہ شخص کی وراثت میں حرام (سودی) مال بھی ہو تو کیا اصل مال کے ساتھ سودی مال ملاکر قرض ادا کیا جا سکتا ہے؟

جواب: جو آدمی فوت ہوا ہے، اس کی وراثت میں اگر حرام مال بھی ہو تو حرام مال کو الگ کرکے اسے رفاہی اور سماجی کام میں صرف کر دیا جائے گا۔ حرام مال سے نہ میت کا قرض ادا کیا جائے گا، نہ ہی وراثت کے طور پر تقسیم کیا جائے گا۔جو حلال مال ہے، اس میں سے قرض ادا کیا جائے گا، اس کے بعد اس سے وراثت تقسیم کی جائے گی۔

سوال: نبی ﷺ کے زمانے میں خدمت گار اور غلام کی طرف سے بھی فدیہ ادا کیا جاتا تھا تو اس وقت گھریلو ملازمین کے بارے میں صدقۂ فطر کا کیا حکم ہے؟ کیا ان کا فطرہ گھر کے مالک کے ذمہ ہے؟

جواب:گھروں میں جو ملازم کام کرتے ہیں وہ آپ سے کچھ اوقات کے لیے ایگریمنٹ کے ساتھ کام کرنے والے ہوتے ہیں۔ یہ پرانے زمانوں کی طرح غلام کی حیثیت سے نہیں ہیں کہ ان پر غلامی کے احکام نافذ کیے جائیں گے۔

یہ اجرت پر کام کرنے والے اجیر اور ملازم ہیں جیسے خود آپ اور ہم کسی آفس میں کچھ گھنٹے کے لیے ڈیوٹی کرتے ہیں۔ گھروں میں کام کرنے والوں کا معاملہ بھی ہماری ہی طرح ہے جیسے ہم آفس میں کام کرتے ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ آپ کو اپنے گھر میں اپنے گھر کے لوگوں کا فطرانہ ادا کرنا ہے، گھر میں اجرت پر کام کرنے والے لوگوں کے فطرہ کی ذمہ داری آپ کے سر پر نہیں ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے ہماری آفس والوں کے اوپر ہمارے فطرانہ کی  ذمہ داری نہیں ہے۔

سوال: ایک خاتون نے اپنی بیٹی کو دو لاکھ قرض دئے۔ اس کا شوہر اوبر چلاتا ہے اور قرض واپس نہ کرسکا۔ وہ خاتون اب تک اس کی زکوۃ دے رہی ہے لیکن اب زکوۃ دینا مشکل لگ رہا ہے، کیا اس طرح زکوۃ دیتی رہے؟

جواب: قرض کی دو شکلیں ہوتی ہیں۔

ایک شکل یہ ہے کہ قرض لینے والا اسے واپس نہ کرنے پر تلا ہو یعنی وہ قرض واپس کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔

دوسری صورت یہ ہے کہ جس کو ہم نے قرض دیا ہے اس کو قرض لوٹانے کی استطاعت نہ ہو۔

ان دونوں صورتوں میں جس نے قرض دیا ہے وہ اس قرض کی زکوۃ نہیں ادا کرے گا۔ جب قرض کا پیسہ واپس آجائے تو صرف ایک مرتبہ زکوۃ ادا کرنی ہے، بشرطیکہ یہ قرض نصاب تک پہنچا ہوا ہو۔

خلاصہ یہ ہے کہ اس خاتون کو اس کی زکوۃ ابھی نہیں ادا کرنی ہے جب قرض کا پیسہ مل جائے گا تب اسے ایک مرتبہ زکوۃ دینی ہے۔

سوال:ایک آدمی چھ آٹھ ماہ سے بے روزگار ہے، گھر میں ستر ہزار جمع پونجی ہے مگر شوہر دیکھ بھال کر خرچ کرتا ہے۔ بیوی آن لائن پڑھا کر کچھ کما لیتی ہے جو گھر خرچ میں صرف ہوجاتا ہے۔ کیا وہ زکوۃ لے سکتی ہے؟

جواب: اگر کسی آدمی کے پاس کوئی مستقل نوکری نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ زکوۃ کا مستحق ہے۔ جو آدمی ہٹھا کٹھا ہے، طاقت اور قوت والا ہے، کما کر کھا سکتا ہے تو ایسے آدمی کو زکوۃ نہیں دینی ہے اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ کما کر خود بھی کھائے اور اپنے گھر والوں کو بھی کھلائے۔

دنیا میں کاموں کی کمی نہیں ہے۔ ہزاروں لاکھوں کام ہیں جن کے ذریعے آدمی کمائی کرسکتا ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ آدمی اپنے مطلب کا روزگار تلاشتا ہے اور وہی روزگار کرنا چاہتا ہے، ایسی صورت میں اس کے گھر پریشانی تو آنی ہے۔

اگر اس کے گھر کا گزارا ہو جاتا ہے تو اس کو زکوۃ نہیں دینی لیکن اگر گھر کا گزارا نہیں ہوتا تو ضرورت بھر زکوۃ دی جا سکتی ہے نیز یہاں یہ بات اس کے گھر والے کو بتائی جائے کہ کمانے والے کے لیے زکوۃ نہیں ہے، وہ محنت و مزدوری کر کے گھر والوں کو کھلائے۔

سوال: اگر کسی کے پاس دو لاکھ روپے تین سال سے موجود ہوں اور ساتھ ہی اس پر لون بھی ہو تو کیا زکوٰۃ دیتے وقت قرض کی وجہ سے زکوٰۃ کی رقم کم کی جا سکتی ہے کیونکہ اس کو لون کی قسط جمع کرنی ہوتی ہے؟

جواب:اگر کسی کے پاس تین سال سے دو لاکھ روپے نقد کی شکل میں موجود ہیں تو ایسے آدمی کو ان تینوں سالوں کی زکوۃ ادا کرنی ہے۔ ساتھ ہی زکوۃ کی ادائیگی میں تاخیر کے سبب توبہ بھی کرنا ہے۔

دوسرا مسئلہ سودی  لون لینے کا ہے، سودی لون لینے والے کو اللہ تعالی سے پہلے توبہ کرنا چاہیے۔ توبہ کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ یہ کام نہیں کرے گا۔ باقی زکوۃ کی ادائیگی کا جو مسئلہ ہے، وہ یہ ہے کہ جتنا پیسہ بروقت موجود ہے، اس پیسے میں سے چالیسواں حصہ زکوۃ دینا ہے۔ اس میں سے کچھ بھی کم نہیں کرنا ہے۔ اگر خرچ وضرورت کے طور پر اس پیسے میں سے کم ہو جائے تو یہ الگ مسئلہ ہے لیکن پہلے سے اس میں سے (قسط کے لئے)پیسہ کم نہیں کرنا ہے۔

سوال: دکان کرایہ پر ہے اور دکان میں کل پندرہ لاکھ کا مال ہے اور پندرہ لاکھ میں سے دس لاکھ کا مال قرض پر لایا ہوا ہے۔ اور دکاندار کو اور قرض بھی ہے لہذا دکان کی زکوۃ کس طرح ادا کریں گے؟

جواب: دکان میں جتنی تجارتی چیزیں ہیں ان کی قیمت فروخت جتنی بنتی ہے، اس میں سے تمام قرض کو نکال دینا ہے یہاں تک کہ اس سے کرایہ بھی نکالنا ہے اگر گزشتہ سال کا کرایہ باقی ہو۔ ساتھ ہی جو سامان ادھار بکا ہے، ان کو قیمت میں شمار کرنا ہے نیز اس میں منافع کو بھی شامل کرنا ہے اور قرض نکالنے کے بعد جتنا پیسہ بچتا ہے اس میں سے ڈھائی فیصد زکوۃ دینا ہے۔

سوال: کیا کسی ایسے دوست کے لیے دعا مغفرت اور افسوس کا اظہار کیا جا سکتا ہے جس نے خودکشی کی ہو؟

جواب: افسوس کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے تاہم خود کشی کرنے والے کے حق میں دعائے مغفرت کر سکتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے جیسے اس کے لیے جنازے کی نماز پڑھ سکتے ہیں اور قبرستان میں دفن کر سکتے ہیں۔ جنازہ کی نماز بھی میت کے حق میں دراصل مغفرت ہی ہے۔

سوال: وتر کی نماز امام کے ساتھ ادا کرنا افضل ہے یا رات کے آخری حصے میں نوافل کے بعد آخر میں پڑھنا بہتر ہے؟

جواب:امام کے ساتھ آخر تک قیام کرتے ہیں تو پوری رات قیام کرنے کا ثواب ملے گا، اس صورت میں امام کے ساتھ وتر بھی پڑھنا پڑے گا۔ تراویح کے بعد رات میں مزید عبادت کرنی ہو تو اس وتر کو جفت بنا لیں گے یعنی امام کے ساتھ سلام نہ پھیر کر مزید ایک رکعت پڑھ کے سلام پھیرنا چاہیے۔

سوال: اگر کوئی حرام کمائی کرتا ہے اور وہ اپنے مال کی زکوۃ نکالتا ہے تو کیا اس کی زکوۃ قبول کی جاسکتی ہے جبکہ اس کے گھر کا تو کچھ بھی قبول نہیں کرنا چاہئے؟

جواب: حرام کمائی والے کی کوئی چیز قبول نہیں کی جائے گی۔ نہ اس کا ہدیہ، نہ اس کی دعوت اور نہ ہی صدقہ و زکوٰۃ۔ کچھ بھی نہیں ۔

ہاں اگر وہ توبہ کرلے اور صرف حلال کمائی کرنے لگے اور اپنے حرام مال کو حلال سے الگ کرکے حرام کو رفاہی کام میں لگا دے اور صرف حلال مال کی زکوۃ دے تو اس مال کو قبول کر سکتے ہیں۔

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔