Monday, June 8, 2026

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات (105)

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات (105)

جوابات از: شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ

جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ – سعودی عرب

 

سوال:ایک فیملی پاکستان سے عمرہ کے لیے گئی۔ مکہ جا کر عمرہ ادا کیا، پھر مدینہ گئی اور دوبارہ مکہ آئی اور حرم میں نمازیں اور طواف کیا۔ سوال یہ ہے کہ مدینہ سے آتے ہوئے وہ میقات سے گزرے جبکہ ان کی دوسرے عمرے کی نیت نہیں تھی، تو کیا وہ میقات سے بغیر احرام کے مکہ جا سکتے تھے؟ کیا ان پر دم واجب ہوا؟

جواب: جوفیملی پاکستان سے  عمرہ پر آئی تھی اس نے اپنا عمرہ کرلیا، اس کا کام مکمل ہوگیا اب وہ فیملی پاکستان واپس جاسکتی ہے، اس کے لئے دوسرا عمرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، ایک سفر میں ایک ہی عمرہ مسنون ہے۔ نبی ﷺ اور صحابہ کرام سے ایک سفر میں ایک ہی عمرہ کرنا منقول ہے۔ سوال میں مذکور ہے کہ وہ فیملی مدینہ گئی اور مدینہ کی میقات سے بغیر احرام کے گزری ، کیا اس پر دم ہےتو اس کا جواب یہ ہے کہ اس پر کوئی دم نہیں ہے۔ میقات سے احرام باندھنا اس کے لئے ہے جو حج و عمرہ کرنا چاہے لیکن جس کا ارادہ حج و عمرہ کا نہیں ہو، وہ بغیر احرام باندھے میقات پار کرسکتے ہیں جیسے دن و رات ہزاروں کی تعداد میں لوگ  بغیر احرام باندھے اپنی اپنی ضرورت  سے میقات پار کرتے ہیں۔ سبھی احرام نہیں باندھتے ہیں کیونکہ احرام باندھنا اس کے ذمہ ہے جو حج یا عمرہ کا ارادہ کرے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے:هُنَّ لَهُنَّ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِهِنَّ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ(صحیح البخاری:1524)

ترجمہ: یہاں سے ان مقامات والے بھی احرام باندھیں اور ان کے علاوہ وہ لوگ بھی جو ان راستوں سے آئیں اور حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں۔

بہرحال! مذکورہ فیملی نے بغیر احرام مدینہ کی میقات پار کیا اس پر کوئی دم نہیں ہے کیونکہ عمرہ کرنے کا اس کا ارادہ نہیں تھا۔ اور جس کا ارادہ عمرہ کا نہیں ہووہ بغیر احرام کے میقات پار کرسکتا ہے خواہ وہ مکہ کا رہائشی ہو یا سعودی ہو یا اجنبی ہو یا ڈرائیور اور عامل ہو یا کوئی بھی آدمی ہو اور کہیں کا رہنے والا ہو۔

سوال: ایک بہن جو پانچ بچوں کی ماں ہیں، انہوں نے اپنے شوہر سے خلع لیا ہے۔ پانچ چھ ماہ بعد ایک شخص نے نکاح کا پیغام دیا جو ان کی بہن کا دیور ہے اور بچوں سمیت قبول کرنے پر آمادہ ہے۔ لیکن ان کی والدہ اس رشتے پر راضی نہیں ہیں۔ ان کا سوال ہے کہ اگر وہ خفیہ نکاح کر لیں تو کیا یہ جائز ہے؟ کیا پنیتیس سال کی عورت کے لیے ولی ضروری ہے؟ والد نے اجازت دی ہے لیکن نکاح میں شامل نہیں ہوں گے، والدہ اور بھائی مخالف ہیں۔ کیا وہ اپنے چودہ  سالہ بیٹے یااٹھارہ  سالہ بھانجے کو ولی بنا سکتی ہیں؟

جواب: پہلی بات یہ ہے کہ ہر عمر کی لڑکی کے لئے ولی ضروری ہے اور لڑکی کا بھائی یا اس کی ماں راضی نہیں ہے اس سے نکاح میں کوئی فرق نہیں پڑتا ہے ، لڑکی کا باپ راضی ہے تو یہی نکاح کے لئے کافی ہے کیونکہ لڑکی کا ولی اس کا باپ ہی ہوتا ہےتاہم لڑکی اپنے بھائی اور والدہ کو بھی راضی کرنے کی کوشش کرے تو بہتر ہے تاکہ سبھی کی خوشیوں کے ساتھ یہ نکاح منعقد ہو۔

اسلام میں خفیہ نکاح نہیں ہے ، نکاح کا اعلان کرنے کو کہا گیا ہے اس لئے اعلانیہ طور پر نکاح کیا جائے اور لڑکی کا ولی راضی ہے تو ان کی نگرانی اوران کے تعاون وخوشی کے ساتھ نکاح ہو۔یاد رہے کہ باپ کے ہوتے ہوئے کوئی دوسرا ولی نہیں بنے گا۔ لڑکی کے لئے اس کے گھر میں اختلاف ہے تو اسے چاہئے کہ مقامی عالم کے ذریعہ اپنے والداور گھر والوں کے ساتھ ایک بیٹھک کرالے تاکہ گھریلو اختلاف دور کرکے اچھے ماحول میں شادی کرسکے ۔

سوال:ہمارے ایک عزیز تقریباً پچیس  سال بیمار رہے، جن میں سے اکثر وقت چارپائی پر گزرا۔ انہیں پارکنسنز کی بیماری تھی اور چار سال قبل انتقال ہوگیا۔ اب ان کی بیٹی پوچھتی ہے کہ ان کے پچیس سال کے روزوں کا کیا حکم ہے؟ مالی حالات کمزور تھے اور اب بھی بیوہ، بیٹی اور بیٹا(ذہنی بیماری) مالی امداد پر گزارا کر رہے ہیں۔ فدیہ دینے کی استطاعت نہیں۔ ان روزوں کا کیا کیا جائے؟

جواب:جو مسلسل بیمار رہتا ہے ، اس کے ٹھیک ہونے کی امید نہیں رہتی ہے اس کو  اپنے ہر روزہ کے بدلے ایک مسکین کو فدیہ دینا ہوتا ہے۔ جس بیمار سے متعلق سوال پوچھا گیا ہے کہ وہ  پچیس سال بیماری کی وجہ سے روزہ نہیں سکااس کے تمام روزوں کا فدیہ ادا کرنا تھا مگر یہ فیملی خود ہی مسکین ہے اور لوگوں کے امداد سے گھریلو ضرورت پورے ہوتے ہیں اس وجہ سے مریض کے چھوٹے روزوں کا فدیہ ساقط ہوجائے گا یعنی اس کی بیٹی یا اس کے گھر کے کسی فرد کو فدیہ دینے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ فدیہ دینے کی استطاعت نہیں ہے۔ اللہ اپنے بندوں پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ جس چیز کی طاقت ہے انسان کے ذمہ وہی  عمل ہوتا ہے۔

سوال:ضرورت مند لوگوں کے لیے کنواں کھدوانا ہے۔ کیا اس میں زکوٰۃ کے پیسے دیے جا سکتے ہیں؟

جواب:اگر کنواں فقیروں ، محتاجوں اور ضرورت مندوں کے لئے کھدایا جارہا ہے تو اس میں زکوۃ کا پیسہ استعمال کرسکتے ہیں ، کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ زکوۃ میں فقیر ومسکین کا بھی  حق ہے بلکہ اولین حق ہے۔

سوال: کیا جائے نماز ایسی ہونی چاہیے کہ زمین کی سختی محسوس ہو؟ اس بارے میں کوئی حوالہ مل سکتا ہے؟

جواب: ترمذی(381) میں ایک حدیث ہے، ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے (گھر کے) ایک لڑکے کو دیکھا جسے افلح کہا جاتا تھا کہ جب وہ سجدہ کرتا تو پھونک مارتا ہے، تو آپ نے فرمایا: "يَا أَفْلَحُ تَرِّبْ وَجْهَكَ"

ترجمہ: اے افلح! سجدے میں اپنے چہرے کو مٹی پر رکھو۔

اس حدیث کو شیخ البانی نے ضعیف کہا ہے یعنی یہ حدیث قابل حجت نہیں ہے۔

صحیح بات یہ  ہے کہ زمین پر ہی سجدہ کرنا کوئی ضروری نہیں ہے ۔ آدمی قالین، جائے نماز اور چٹائی وغیرہ  پر سجدہ کرسکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ صحابہ کرام گرمی سے بچنے کے لئے اپنے کپڑے کے دامن پر سجدہ کرتے تھے ، نبی ﷺ نے بھی چٹائی پر سجدہ کیا ہے، ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان فرماتی ہیں:كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ(صحیح البخاری:381)

ترجمہ: رسول اللہﷺ کھجور کی چٹائی پر نماز پڑھتے تھے۔

خلاصہ یہ ہوا کہ آدمی چٹائی، قالین اور جائے نماز پر نماز پڑھ سکتا ہے، اس میں حرج نہیں ہے خواہ وہ باریک یا کچھ موٹی ہی کیوں نہ ہو۔

سوال:فرض، سنت اور نفل نمازوں کے بعد سلام پھیرنے کے مکمل اذکار پڑھنے چاہئیں یا صرف فرض نمازوں کے بعد؟

جواب:نماز کے بعد والے اذکار صرف فرض نماز کے بعد پڑھے جائیں گے، یہ اذکار سنت اور نفل کے بعد نہیں پڑھنے ہیں۔ شیخ ابن باز رحمہ اللہ ایک سوال کے  جواب میں بیان کرتے ہیں کہ تمام مسنون تسبیحات فرض نماز کے بعد ہیں۔ نبی کریم ﷺ انہیں صحابہ کو سناتے تھے اور صحابہ کو سکھاتے تھے۔رہی بات نفل نمازوں کے بعد کی، تو ان کے بعد خاص طور پر کوئی ذکر ثابت نہیں، سوائے استغفار کے۔ جب نفل نماز سے سلام پھیر لیں تو یہ کہیں:
(أستغفر الله، أستغفر الله، أستغفر الله،اللهم أنت السلام، ومنك السلام، تباركت يا ذا الجلال والإكرام)

اس کے علاوہ باقی تمام اذکار فرض نمازوں کے بعد ہی وارد ہوئے ہیں۔

سوال: کیا فرض نماز کے سجدے میں صرف سجدے کی مسنون دعائیں پڑھنی چاہئیں یا قرآنی اور دیگر مسنون دعائیں بھی پڑھی جا سکتی ہیں؟

جواب:فرض نماز کے سجدہ میں سجدہ کی دعائیں پڑھنے کے بعد دیگر مسنون دعائیں بھی کی جاسکتی ہیں یعنی سجدہ میں قرآنی دعائیں بھی کرسکتے ہیں اور دیگر مسنون دعائیں بھی کرسکتے ہیں کیونکہ ذکوان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ، فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ(صحیح مسلم:482)

ترجمہ:بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس حالت میں ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے، لہٰذا اس میں کثرت سے دعا کرو۔

سوال:اگر کسی نے ہم سے قرض لیا ہو اور وہ ادا کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو، تو کیا ہم اپنی زکوٰۃ اس نیت سے نکال سکتے ہیں کہ اس نے ہمارا قرض ادا کردیا یا قرض معاف کر کے زکوٰۃ ادا کرنا بہتر ہے؟

جواب:آپ نے  کسی کو قرض دیا ہو تو اس قرض کو زکوۃ کے طور پر معاف نہیں کرسکتے ہیں اور نہ ہی اسے زکوۃ کی نیت کرکے نکال سکتے ہیں ۔ زکوۃ ایک معلوم و متعین چیز ہے، وہ اپنے مال سے نکال کر ہرحا ل میں اسے زکوۃ کے مصرف سے الگ سے دینا ضروری ہے۔ جہاں تک قرض کا معاملہ ہے تو یہ زکوۃ سے الگ معاملہ ہے، جو قرض لوٹانے کی طاقت نہ رکھے اس کو مزید مہلت دی جاسکتی ہے یا اس کا قرض ہی معاف کیا جاسکتا ہے مگر یاد رہے کہ قرض معاف کرنے سے زکوۃ معاف نہیں ہوسکتی ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ فقرومحتاجگی کی وجہ سے اس مقروض کو بھی زکوۃ دی جاسکتی ہےمگر اس شرط کے ساتھ نہیں کہ زکوۃ لے کر میرا قرض واپس کرو۔ اگر خود سے لوٹادے تو کوئی حرج نہیں ہے مگر شرط لگاکر نہیں ۔

سوال:جو قرض ہم نے کسی کو دیا ہے، کیا اس رقم پر بھی زکوٰۃ ہے؟ اور اگر ہمیں معلوم ہو کہ وہ رقم واپس نہیں ملے گی، تو کیا اس پر بھی زکوٰۃ دینی ہوگی؟

جواب:آپ نے کسی کو قرض دیا ہے تو اس قرض کو بھی زکوۃ دیتے وقت جوڑ کر اس کی بھی زکوۃ دیں گے ۔ جو قرض واپس ملنے کی امید نہ ہو اس کی زکوۃ ابھی نہیں دیں گے ، جب  وہ مل جائے پھر اس کی زکوۃ ادا کریں گے۔

سوال:ایک خاتون رمضان میں عمرہ کرنا چاہتی ہیں لیکن روزے کی حالت میں عمرہ نہیں کر سکتی اور افطار کے بعد بھی ہمت نہیں ہوتی۔ کیا وہ اس مقصد کے لیے روزہ قضا کر سکتی ہے اور بعد میں رکھ سکتی ہے؟

جواب:کسی مقیم عورت کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ روزہ توڑکر عمرہ کرے کیونکہ روزہ ایک فریضہ ہے جسے بغیر کسی عذر شرعی کے توڑنا جائز نہیں ہے جبکہ عمرہ ایسی عبادت ہے جو کبھی بھی کرسکتے ہیں ۔ ہاں اگر کوئی مسافر ہو، وہ سفر کی وجہ سے اپنا روزہ توڑ سکتا ہے خواہ اس کا سفر مکہ کے لئے اور عمرہ  کرنےکے لئے ہی کیوں نہ ہو۔

سوال:ایک پلاٹ اس نیت سے لیا گیا کہ ضرورت پڑنے پر جیسے بچے بڑے ہوں گے تو بیچ دیں گے۔ سات آٹھ سال ہوگئے اور پچھلے سال زکوۃ دی تھی ، سوال یہ ہے کہ کیا اس پر ہر سال زکوٰۃ واجب ہے یا صرف فروخت کے وقت؟ اگر کئی سال زکوٰۃ نہیں دی تو اب کیا کیا جائے؟

جواب: آپ نے یہ نیت کی ہے کہ جب بچے بڑے ہوں گے تو ضرورت پڑنے پر زمین بچیں گے گویا ابھی بروقت زمین بیچنے کا ارادہ نہیں ہے مستقبل میں بیچنے کا ارادہ ہے اس لئے ابھی اس پلاٹ کی زکوۃ نہیں ہے کیونکہ اس وقت بیچنے کا ارادہ نہیں ہے اور جو سات آٹھ سال گرزے ان سالوں کی بھی زکوۃ نہیں ہے کیونکہ ان دنوں پلاٹ بیچنے کا ارادہ نہیں تھا۔ یہاں پر آپ کو ایک نصیحت بھی کروں گا کہ جب اس وقت پلاٹ بیچنے کا ارادہ نہیں ہے تو بس یہ ارادہ کریں کہ مستقبل میں جیسی ضرورت پڑی اس طرح عمل کیا جائے گا۔

سوال:تین وتر کے بعد جو دو رکعت نفل بیٹھ کر پڑھی جاتی ہےکیا یہ سنت سے ثابت ہےاور کیا اسے پڑھنا چاہیے؟

جواب: نبی ﷺ نے وتر کو رات کی آخری نماز بنانے کا حکم دیا ہے، اس کے باوجود آپ سے بعض ایسی حدیث ملتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ وتر کے بعد بیٹھ کر دو رکعت ادا فرماتے تھے۔ جیسے  سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا:

إنَّ رسولَ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ كانَ يوترُ بتِسعِ رَكَعاتٍ ، ثمَّ يصلِّي رَكْعتينِ وَهوَ جالِسٌ ، فلمَّا ضَعُفَ :أوترَ بسبعِ رَكَعاتٍ ، ثمَّ صلَّى رَكْعتينِ وَهوَ جالسٌ(صحیح النسائی:1721)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نو رکعات وتر پڑھتے تھے پھر بیٹھ کر دو رکعت پڑھتے تھے، جب آپ کمزور ہوگئے تو سات رکعت وتر پڑھنے لگے پھر بیٹھ کر دو رکعت نماز ادا کرتے۔
اس حدیث سے ہمیں وتر کے بعد دو رکعت پڑھنے کی مشروعیت معلوم ہوتی ہے اس لئے اگر کوئی نبی ﷺ کی اقتداء میں وتر کی نماز کے بعد دو رکعت ادا کرنا چاہے تو بلاشبہ وہ دو رکعت نماز ادا کرسکتا ہے مگر اس عمل کو معمول نہیں بنانا چاہئے کیونکہ نبیﷺ نے یہ عمل کبھی کبھار کیا ہے، اکثر معمول آپ کا یہ رہا کہ آپ نے وتر کو ہی رات کی آخری نماز بنائی ہے۔اس بارے میں تفصیلی معلومات کے لئے میرا مضمون"وتر کے بعد دو رکعت پڑھنے کا حکم" مطالعہ کریں۔

سوال:کیا عقیقہ ادھار لے کر کیا جا سکتا ہے؟

جواب:عقیقہ اسے کرنا چاہئے جس کو عقیقہ کرنے کی استطاعت ہو اور جس کے پاس پیسہ نہ ہو اور عقیقہ کرنے کی استطاعت نہ ہو، اسے عقیقہ نہیں کرنا چاہئے۔ کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی صاحب استطاعت ہے مگر عقیقہ کے وقت پیسہ نہیں ہے، اگر وہ قرض لے کر عقیقہ کرتا ہے اور  بعد میں آسانی سے اپنا قرض واپس کرسکتا ہے تو ایسی صورت میں قرض لے کر عقیقہ کیا جاسکتا ہے اس میں حرج نہیں ہے لیکن ایسا آدمی جو قرض کی ادائیگی کی استطاعت نہیں رکھتا ہے یا قرض ادا کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا کرسکتا ہے تو قرض لے کر عقیقہ نہ کرے۔ وہ اللہ کی طرف سے آسانی کا انتظار کرے ، جب اس کے پاس پیسہ آجائے تب عقیقہ کرے۔

سواال: ایک خاتون کو آٹھ دن تک  حیض آیا، چار دن بعد غسل کیا، پھر داغ آیا اور دوبارہ غسل کیا۔ اب روزہ رکھ رہی ہے لیکن دوران روزہ خون کا داغ آگیا۔ کیا وہ روزہ مکمل کرے یا افطار کرے اور کیا دوبارہ غسل واجب ہے؟

جواب:اگر اس خاتون کے حیض کی عادت آٹھ دن ہواکرتے ہیں تو آٹھویں دن غسل کے بعد آنے والے خون کا داغ حیض شمار نہیں ہوگا لہذا اس حال میں رکھا گیا روزہ بھی صحیح ہے اور پھر سے غسل کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے، پہلے والا غسل ہی کافی ہے۔ ہاں اگراس خاتون کو حیض رک رک مختلف فترات میں آتا ہے اور دوسری بار غسل کرنے کے بعد آنے والا خون  حیض کے صفات والا ہے اور عادت کے دوران ہے تو اس کو حیض شمار کرے،  اس سے روزہ باطل ہوجائے گا اور حیض سے پاکی پر پھر سے غسل کرنا پڑے گا لیکن اگر پہلی والی صورت ہے جو اوپر ذکر کیا ہوں تو حیض شمار نہیں ہوگا۔

سوال:کیا روزمرہ کی تلاوت میں سے کچھ حصہ نفل نماز میں اور کچھ مصحف سے پڑھنا درست ہے؟

جواب:کوئی آدمی  مصحف سے عام تلاوت کرے اور جہاں سے تلاوت باقی ہو ، وہاں سے نفل نماز میں تلاوت کرے، اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے تاہم اس میں تکلف اور مشقت  ہے اس وجہ سے اس سے بچنا  بہتر ہے کیونکہ جس کام میں اللہ نے ہمارے لئے آسانی فرمائی ہے اس میں آسانی کی راہ اپنائی جائے۔ ہم  پانچ اوقات کی نمازوں اور سنن و نوافل میں قرآن کی تلاوت حسب سہولت کیا کریں یعنی نمازمیں  جہاں سے جو پکا حفظ ہو، وہ زبانی قرات کریں اور نماز کے علاوہ بقیہ اوقات میں مصحف سے تلاوت سے علاحدہ طور پر کیا کریں جیسے لوگوں کاعام طریقہ ہوتا ہے۔ اللہ کا فرمان ہے:

فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ(المزمل:20)

ترجمہ:جتنا قرآن پڑھنا تمہارے لیے آسان ہو اتنا ہی پڑھو۔

سوال: کیا گرہن لگنے پر کھانا نہیں بناسکتے اور نہیں کھاسکتے۔اگر رمضان کا دن ہو، اور رات دو بجے شروع ہو کر صبح سات بجے ختم ہو، تو کیا سحری کر سکتے ہیں اور کھانا بنا سکتے ہیں؟

جواب:سورج یا چاند گرہن لگنے پر کھانا بنانے اور کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں گرہن لگنے پر کھانا بنانے یا کھانا کھانے سے منع نہیں کیا ہے۔ اس وجہ سے اگررمضان میں  رات سے لے کر صبح تک گرہن لگا ہو تو سحری بناسکتے ہیں اور سحری کھا بھی سکتے ہیں ۔ آپ کے یہاں جو کوئی ایسی بات کرتا ہے کہ گرہن پر کھانا بنانا اور کھانا کھانا منع ہے، وہ جھوٹی بات کرتا ہے، دین اسلام میں ایسی بات کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

سوال: چند سال پہلے حکومت کی طرف سے اسٹڈی اسکالرشپ ملی تھی۔ نیت کی تھی کہ دوبارہ ملے تو حضور پاک ﷺ کی طرف سے قربانی کروں گی۔ دوبارہ ملی لیکن مالی حالات خراب تھے اس لئے والدین سے قربانی کے لئے نہیں کہہ سکتی تھی۔ اب ملازمت لگ گئی ہے تو کیا اب ان کی طرف سے قربانی کر سکتی ہوں اور  تقسیم کا طریقہ کیا ہوگا؟

جواب: چونکہ آپ نے ایک ایسے عمل کی نیت کی جس کا شریعت میں ثبوت ہی نہیں ہے یعنی محمد ﷺ کی طرف سے قربانی کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ شریعت میں آپ ﷺ کی طرف سے قربانی دینے کی کوئی دلیل نہیں ملتی ہے لہذا آپ اپنا یہ ارادہ ترک کردیں۔ قربانی فقط زندوں کی طرف سے ہے، آپ اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے قربانی کیا  کریں جو زندہ ہیں۔

آپ کی معلومات کے لئے یہ بھی بتانا مناسب سمجھتا ہوں کہ نبی ﷺ کی طرف سے قربانی کرنے کی ایک حدیث آتی ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
عَن عليٍّ : أنَّهُ كانَ يُضحِّي بِكَبشينِ أحدُهُما عَنِ النَّبيِّ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ ، والآخرُ عن نفسِهِ ، فقيلَ لَهُ : فقالَ : أمرَني بِهِ - يَعني النَّبيَّ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ - فلا أدعُهُ أبَدًا(سنن ترمذي:1495)
ترجمہ: علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ دو مینڈھے کی قربانی کرتے تھے ایک نبی ﷺ کیطرف اور دوسرا اپنی طرف سے اس بابت ان سے کلام کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ آپ یعنی نبی ﷺ نے مجھے اس کا حکم کیا ہے میں اسے ترک نہیں کر سکتا۔

یہ روایت ثابت نہیں ہے ، اس کی سند میں شریک بن عبداللہ بن شریک کثیر الخطاء ہونے کی وجہ سے ضعیف اور اس کا شیخ ابوالحسناء حسن کوفی مجہول ہے، اسی لئے شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے ، اس لئے اس حدیث سے دلیل نہیں پکڑی جاسکتی ہے۔

گویا نبی ﷺ کی طرف سے قربانی کرنا سنت سے ثابت نہیں، لہذا کسی کے لئے جائز نہیں ہے کہ نبی ﷺ کے نام سے عیدالاضحی پہ قربانی کرے۔

سوال:سونا اور چاندی پر زکوٰۃ کتنی ہے؟ زکوٰۃ کب فرض ہوتی ہے اور کتنا سونا ہونے پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے؟

جواب: آپ کے پاس پچاسی(85) گرام سونا یا پانچ سو پنچانوے (595) گرام چاندی ہو یا  سونا و چاندی اس مقدار سے زیادہ ہوں اور یہ برابر ایک سال  تک موجود رہتے ہوں تو اس میں زکوۃ فرض ہوجاتی ہے۔ یعنی نصاب بھرسونا یا نصاب  سے زیادہ سونا ہواور ایک سال تک رہے تو اس میں زکوۃ فرض ہوجاتی ہے ، اسی طرح نصاب بھر چاندی یا نصاب سے زیادہ چاندی ایک سال تک رہے تو اس میں زکوۃ فرض ہوجاتی ہے۔ سال مکمل ہونے پر نصاب تک پہنچنے والے سونا یا چاندی کی ڈھائی فیصد زکوۃ دینی ہوگی ۔یاد رہے سونا اور چاندی کی زکوۃ الگ الگ ہے، دونوں کو ملایا نہیں جائے گابلکہ سونا و چاندی میں سے جو نصاب کو پہنچے گا اسی کی زکوۃ دینا ہے۔  زکوۃ دینے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ کے شہر میں سونا /چاندی کی جو قیمت ہو ، اس قیمت کے حساب سے آپ کے پاس موجود نصاب بھر سونا یا نصاب بھر چاندی کی جو قیمت بنتی ہو، اس قیمت  کا ڈھائی فیصد حصہ زکوۃ ہے۔ اس کو چالیسواں حصہ بھی کہتے ہیں یعنی  پورے سونا یا  چاندی کی جو قیمت بنتی ہے اس کا چالیسواں حصہ زکوۃ ہے۔ اس کو نہایت آسان زبان میں ، میں نے ایک ویڈیو میں سمجھایا ہے، اس کو ضرور دیکھیں۔

سوال:ایک ماں جس کا چھ ماہ کا بچہ ہے اور وہ ماں پر ہی منحصر ہے، رمضان میں روزہ رکھ رہی ہے جس سے دودھ رک  ہو گیا ہے اور بچہ باہرکا دودھ نہیں لیتاہے، اب کچھ لینے لگا مگر اس سے اس کی صحت متاثر ہو رہی ہے۔ کیا ماں روزہ ترک کر سکتی ہے؟

جواب:جب دودھ پلانے والے عورت کو روزہ رکھنے میں اپنے لئے یا بچہ کے لئے کوئی ضرر ہو تو وہ اپنا روزہ چھوڑ سکتی ہےاور مذکورہ بالا صورت بھی کچھ ایسی ہے کہ اس صورت میں عورت اپنے بچہ کے لئے روزہ چھوڑ سکتی ہے تاکہ وہ اپنے بچے کو دودھ پلاسکے۔ اللہ تعالی نے مرضعہ کو روزہ چھوڑنے کی اجازت دی ہے۔

 نبی ﷺ کا فرمان ہے :

إنَّ اللَّهَ عزَّ وجلَّ وضعَ عنِ المسافرِ شطرَ الصَّلاةِ، وعنِ المسافرِ والحاملِ والمرضعِ الصَّومَ(صحيح ابن ماجه وقال الشيخ الألباني حسن صحيح:1361)

ترجمہ: اللہ تعالی نے مسافر کے لئے آدھی نماز معاف فرما دی اور مسافر اور حاملہ اور دودھ پلانے والی کو روزے معاف فرما دیئے۔

یہاں پر یہ بات بھی دھیان میں رہے کہ ابھی جتنے روزے چھوڑے گی ، بعد میں اتنے روزوں کی قضا کرے گی، زوروں کا فدیہ نہیں دینا ہے کیونکہ مرضعہ وقتی بیمار کے حکم میں ہے۔ جیسے بیمار آدمی عذر کی وجہ سے کچھ روزہ چھوڑتا ہے اور بعد میں اس کی قضا کرتا ہے، اسی طرح مرضعہ بھی قضا کرے گی، یہی حکم حاملہ کا بھی ہے۔

سوال:ساڑھے تین تولہ سونا اور چھ لاکھ نقد پر زکوۃ فرض ہے اور زکوۃ کا آسان لفظوں میں نصاب بھی بتادیں؟

جواب:سونے کی زکوۃ کا نصاب پچاسی گرام ہے اور چاندی کی زکوۃ کا نصاب پانچ سو پنچانوے گرام ہے۔ جس کے پاس چھ لاکھ رو پئے ہیں اس پر زکوۃ فرض ہے کیونکہ اس کا پیسہ  سونے نصاب کو نہیں پہنچ رہا ہے مگر چاندی کے نصاب کو پہنچ رہاہے۔ آپ اپنے شہر میں پانچ سو پنچانوے گرام چاندی کی قیمت معلوم کریں تو پتہ چلے گا کہ چھ لاکھ چاندی کے نصاب سے کہیں زیادہ ہے لہذا آپ اپنے چھ لاکھ کی زکوۃ ادا کریں اگر اس چھ لاکھ پر سال گزر گیا ہو۔ چھ لاکھ  میں ساڑھے تین تولہ سونا کی قیمت بھی جوڑ کرپوری قیمت کا ڈھائی فیصد زکوۃ نکالیں۔

سونا /چاندی اور نقدی میں زکوۃ کو سمجھنے کے لئے میری ویڈیو بیان سنیں جس میں آسان طریقہ پر سمجھایا ہوں۔

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔