جواب از: شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ
جدہ دعوہ سنٹر-سعودی عرب
سوال: میرے بھائی کی اولاد ہے۔ بھائی فوت
ہو گئے اور بھابھی نے نکاح کر لیا ہے جبکہ بچے ہمارے پاس ہے۔ ابو سربراہ اور گھر
کے سب معاملات دیکھتے ہیں تو کیا ان بچوں کو فطرانہ دے سکتے ہیں۔ اگر دے سکتے ہیں
تو کیا ان پیسوں کا کپڑے خرید کر دے سکتے ہیں؟
جواب: جو آدمی یتیم بچے پر خرچ کر رہا ہے، وہ خود اپنا
اور اپنے گھر والوں کا فطرہ اس بچے کو نہیں دے گا کیونکہ اس وقت وہ ان بچوں کا
کفیل بنا ہوا ہے لیکن جو دوسرے لوگ ہوں یا دوسرے رشتہ دار ہوں وہ اس بچے کو فطرہ
دے سکتے ہیں۔
فطرہ اناج کی شکل میں دیا جاتا ہے لیکن جب شدید ضرورت
ہو تو اس سے ضرورت کی چیز خرید کر بھی دے سکتے ہیں جیسے عید پر اس کو کپڑے نہ مل
سکے تو کپڑے خرید کر دے سکتے ہیں۔
سوال: کیا اہل تشیع کا فطرانہ اور اس سے
زکوة لی جاسکتی ہے؟
جواب: مال اگر حلال اور پاکیزہ ہو تو شیعہ کی جانب سے
قبول کیا جا سکتا ہے، اس کی نیت فطرانہ یا زکوۃ کی ہو اس سے مسئلہ نہیں ہے مسئلہ
اصل یہ ہے کہ مال حلال ہو۔
سوال: کل مسجد میں عشاء کی نماز میں
جماعت کھڑی ہوچکی تھی، مائک بند ہونے کی وجہ سے خواتین میں پتہ ہی نہیں چلا کہ
جماعت کھڑی ہو چکی ہے اور دو رکعت بھی ہو چکی ہے۔ ہم تمام خواتین امام کے ساتھ
تیسری رکعت میں شامل ہوگئے اور امام کے سلام پھیرنے کے بعد ہم تمام خواتین نے کھڑے
ہوکر اپنی دو رکعت فردا فردا ادا کی۔ کیا ہم خواتین کا اس طرح کرنا درست تھا یا
امام کے سلام پھیرنے کے بعد خواتین میں سے کسی ایک خاتون نے دو رکعت کی امامت کرنی
چاہیے تھی؟ دوسری بات یہ ہے کہ تھوڑی دیر بعد مسجد میں اعلان ہوا کہ امام صاحب
دوسری رکعت میں ایک سجدہ بھول گئے تھے تو سب لوگ سجدہ سہو کئے اور بیچ میں ان
لوگوں نے باتیں بھی کیں چنانچہ امام کھڑے ہوئے۔ اللہ اکبر کہا اور دو سجدہ سہو ادا
کرنے کے بعد سلام پھیر دیا لیکن خواتین میں سے کسی نے بھی سجدہ سہو نہیں کیا۔ وہ
کہہ رہی تھیں کہ ہم نے تو دو رکعت امام کے ساتھ شروع کی پائی ہی نہیں تو ہمیں سجدہ
سہو نہیں کرنا ہے۔ اس میں کونسا عمل صحیح اور غلط تھا، وضاحت مطلوب ہے؟
جواب: اس میں پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر خواتین تیسری
رکعت میں شامل ہوئیں تو انہیں محض ایک رکعت پڑھ کر جفت بنا لینا تھا۔ باقی جو دو
رکعتیں پہلے چھوٹ گئی تھی ان کو ادا کرنے کی ضرورت نہیں تھی بلکہ امام کے ساتھ
فورا مل کر اگلی نمازیں ادا کرنی تھی۔ تراویح میں سے دو یا چار رکعت چھوٹ جائے تو
جماعت میں شامل ہونے والے کو چاہیے کہ جو نماز پڑھی جا رہی ہے امام کے ساتھ مل کر
وہ پڑھے کیونکہ یہ نفل نماز ہے۔
بہرکیف! وہ دو رکعت بھی فردا فردا ادا کر لی گئی اس میں
کوئی حرج نہیں ہے مگر اس کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ ایک جماعت جب ہو رہی ہے تو اس
جماعت میں شامل ہو کر نماز ادا کرنا چاہیے اور جو دو رکعت چھوٹ گئی اس کو ابھی
پڑھنے کی ضرورت نہیں تھی۔
جہاں تک دوسرا مسئلہ ہے کہ امام نے کسی رکعت میں ایک
سجدہ چھوڑ دیا تھا تو ایسی صورت میں سجدہ سہو سے وہ رکعت پوری نہیں ہوگی کیونکہ
نماز کا سجدہ یہ رکن ہے اور رکن سجدہ سہو سے پورا نہیں ہوتا بلکہ اس رکن کی
ادائیگی ضروری ہوتی ہے۔ اس صورت میں مزید ایک رکعت پڑھ کے پھر سجدہ سہو کرنا چاہیے
تھا۔
سوال: ایک خاتون مالی طور پر کمزور ہے،
اپنے ذاتی پیسے سے بہت زیادہ صدقہ و خیرات کرنے کی استطاعت نہیں ہے لیکن اس کے
رابطے بہت سے نادار، مسکین اور ضرورت مند لوگوں سے ہیں تو وہ اپنے امیر دوستوں اور
رشتہ داروں سے زکوۃ، صدقہ اور خیرات لے کر ضرورت مندوں تک پہنچاتی رہتی ہے۔ لوگ اس
پر مکمل بھروسہ کرنے لگے ہیں اور وہ پوری ایمانداری سے اللہ کی رضا کے لیے یہ کام
کررہی ہے۔ وہ پوچھنا چاہتی ہے کہ کیا اس کو اس کام میں وسیلہ بننے پر اللہ سبحانہ
و تعالٰی سے ویسے ہی اجر و ثواب کی امید رکھنا ہے جیساکہ مال دینے والے کے لیے
لکھا جاتاہے؟
جواب: ایک آدمی پیسے کے ذریعہ کسی کی مدد کرتا ہے اور
دوسرا آدمی وہی پیسہ لے کر لوگوں میں ایمانداری سے تقسیم کرتا ہے تو ان شاءاللہ
دونوں کو اجر برابر ملے گا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے جو
کوئی نیکی کی طرف رہنمائی کرے اس کو اتنا ہی اجر ملے گا جتنا نیکی کرنے والے کو۔
سوال: ہم نے تین سال پہلے زمین خریدی تھی
کہ اگر پیسے اور ہوئے تو اس پر گھر بنائیں گے مگر پیسے نہ ہو سکے تو ہم نے اس کو
بیچنے کا ارادہ کر لیا مگر کوئی اسے ابھی خرید نہیں رہا تو کیا ایسی زمین پر زکوۃ
ہوگی۔ اگر ہمارے پاس زکوۃ دینے کے لیے پیسے نہیں ہوتے، تو ایسی صورت میں کیا حکم
ہے؟
جواب: جس دن زمین بیچنے کی نیت کر لی گئی اس دن سے لے
کر جب ایک سال مکمل ہوگا تو اس زمین کی زکوۃ دینی پڑے گی کیونکہ یہ زمین اب مال
تجارت ہو گئی ہے۔ اگر زکوۃ دینے کے لیے پیسے نہ ہوں تو اپنے ذمہ میں اس کی زکوۃ
باقی رہے گی اور جب پیسے آجائے تو اس کی زکوۃ دینی ہوگی۔
سوال:کل سحری کے بعد فون میں ٹائم دیکھی
تو پانچ منٹ باقی تھا۔ ابھی ٹائم نہیں ہوا ہے یہی میرے خیال میں تھا کیونکہ اگر
ٹائم ہوجائے تو اذان موبائل میں ہونے لگتی ہے، یہ سوچ کر پانی پی لیا۔ فورا بھائی
نے بولا کہ ٹائم ہوگیا اور میرے فون میں والیم پوری طرح بند ہونے کی وجہ سے اذان
سنائی نہیں دی اور میں فون دیکھی تو اذان شروع ہوکے آٹھ سکنڈ ہوچکے تھے۔ کیا میرا
روزہ ہو جائے گا؟
جواب: پہلی بات یہ ہے کہ اس طرح کی صورت حال میں جب
اذان کا وقت قریب ہو اور کسی نے سحری نہ کی ہو تو اب وہ سحری نہ کرے کیونکہ سحری
اذان سے کچھ منٹ پہلے ہی کھا کر ختم کر دینا چاہیے۔
دوسری بات یہ ہے کہ انجانے میں جو آپ نے سحری کھائی اور
پتہ چلا کہ موبائل میں اذان شروع ہوچکی ہے تو ایسی صورت میں آپ کا روزہ درست ہے اس
میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ یہ انجانے پن کا معاملہ ہے۔ یہاں پر اگر کوئی جان
بوجھ کر اس طرح کا عمل کرتا تو پھر اس کا روزہ نہیں ہوتا مگر اللہ نے بھول چوک کو
معاف کر دیا ہے۔
سوال : لوگوں کے تعاون سے مدرسہ کی تعمیر
لئے ایک پلاٹ خریدنا ہے- کیا اس میں زکوٰۃ استعمال ہو سکتی ہے؟
جواب: زکوۃ کے آٹھ مصارف ہیں، ان میں مدرسہ کی تعمیر
نہیں ہے لہذا مدرسہ کی تعمیر کے لیے زکوۃ کی رقم نہیں دیں گے۔ مدرسہ میں موجود
غریب و مسکین بچوں کی تعلیم کے لیے زکوۃ دے سکتے ہیں۔
سوال: تروایح اگر گھر میں اکیلے پڑھ رہے
ہوں تو ایسی صورت میں سری پڑھیں گے یا جہری ہوگی؟
جواب: تراویح اور تہجد اکیلے گھر میں پڑھیں تو جہرا اور
سرا دونوں طرح سے پڑھ سکتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
سوال:ہم ایک ایسی مسجد میں نماز پڑھنے
جاتے ہیں جہاں عورتیں جماعت کے دوران صف میں پاؤں سے پاؤں نہیں ملاتیں تو کیا مجھے
جماعت کا ثواب ملے گا اور میں تراویح کی صرف آٹھ رکعت پڑھ کر آجاتی ہوں، امام کے
ساتھ آخر تک پوری نماز نہیں پڑھتی تو کیا مجھے پوری رات کے قیام کا ثواب نہیں ملے
گا؟
جواب: عورتوں کے ساتھ صف میں کھڑی ہوتی ہیں اسی کا نام
جماعت ہے اور اس میں شامل ہونے کی وجہ سے آپ کو جماعت کا اجر ملے گا۔ جہاں تک پیر
ملانے کا مسئلہ ہے تو عورتوں کو چاہیے کہ پیر ملاکر کھڑا ہونا چاہیے، اس کے لیے آپ
تمام خواتین سے بات کریں۔
امام کے ساتھ وتر نہیں پڑھتے تو ساری رات قیام کا اجر
نہیں ملے گا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ امام کے ساتھ آخر تک نماز پڑھیں۔
سوال: ایک جوائنٹ فیملی میں تین دیورانی
جٹھانی ہیں، تینوں پر زکوۃ لاگو ہے۔ ان میں دو خواتین کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا
ہے اور ایک کے پاس گیارہ تولہ سونا ہے۔ ان کے شوہروں کے اوپر بیس لاکھ قرض بھی ہے،
اس صورت میں زکوۃ کتنی لاگو ہوگی اور کیا تینوں کی زکوۃ ایک ساتھ ادا کر سکتے ہیں؟
جواب: اس زکوۃ سے متعلق جوائنٹ فیملی کا کوئی مسئلہ
نہیں ہے اور بیویوں کے شوہروں کے قرض کا بھی ان کے زیورات کی زکوۃ سے کوئی تعلق
نہیں ہے۔
جس جس خاتون کا زیور ہے اور نصاب تک پہنچا ہوا ہے نیز
اس پر ایک سال ہوگیا ہے، اس خاتون کے ذمہ اپنے زیورات کی زکوۃ نکالنا ہے۔ سب کو
اپنا اپنا اور الگ الگ زکوۃ نکالنا ہے۔
زکوۃ نکالنے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے شہر کے حساب سے
موجودہ زیورات کی جو قیمت ہو اس قیمت میں سے ڈھائی فیصد زکوۃ دینا ہے۔
سوال: میرے پاس ساڑھے گیارہ تولہ سونا ہے
جو میں پہنتی نہیں ہوں تو کیا میں اس میں سے آدھا سونا اپنے بچوں کے نام کر دوں
اور اس کا استعمال نہ کروں تو کیا پھر بھی مجھے پورے سونے کی زکوۃ نکالنا پڑے گا؟
جواب: جس خاتون کے پاس گیارہ تولہ سونا ہے، اگر وہ اس
میں سے آدھا سونا اپنے بچے کو واقعتا ہدیہ دے دیتی ہے تو ایسی صورت میں اس خاتون
کا سونا نصاب سے کم ہو جائے گا پھر اس کی زکوۃ دینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
سوال: میری عمر تہتر سال ہے، حیض کب کا
بند ہو چکا ہے بلکہ میرا یوٹیرس بھی نکالا جاچکا ہے۔ مجھے دو مہینے تین مہینے کے
بعد معمولی سی اسپاٹنگ ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت میں کیا ہمیں غسل کرنا پڑے گا اور
نماز وروزہ کا کیا مسئلہ ہے؟
جواب: اس عمر میں اس وقت جو اسپاٹنگ ہو رہی ہے، وہ کسی
مرض کی وجہ سے ہو رہی ہوگی۔ اس کو حیض میں شمار نہیں کیا جائے گا بلکہ یہ استحاضہ
شمار کیا جائے گا۔
ایسی صورت میں غسل کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہر
نماز کے وقت نیا وضو بنانے کی ضرورت ہے جو مستحاضہ کا حکم ہے۔ وضو سے پہلے جسم اور
کپڑے میں لگے خون کے دھبے کی صفائی کر لینی ہے پھر وضو کرکے ایک وقت کی نماز پڑھنی
ہے۔ پھر دوسرے وقت میں اسی طرح پہلے صفائی کرنی ہے پھر وضو بناکر نماز پڑھنا ہے۔
سوال: ہم نے کوئی کوکنگ آئل خریدا، بعد
میں پتہ چلا کہ اس میں الکوحل ملا ہوا تھا۔ سوال ہے کہ اگر ہم اسے خود استعمال
نہیں کرسکتے تو کسی غیر مسلم کو دے سکتے ہیں یا اسے پھینک دینا چاہیے؟
جواب: اگر اس پیک پر اس طرح کی کوئی بات لکھی ہوئی ہو
کہ یہ تیل ضرر رساں ہے تو پھر یہ کسی کو بھی دینا درست نہیں ہے کیونکہ اس کو نقصان
پہنچانا کہا جائے گا لیکن اگر اس میں ضرر نہیں ہے تو کسی غیر مسلم کو دے سکتے ہیں۔
سوال: کچھ خواتین مسجد میں دو تین دن کے
لیے اعتکاف میں بیٹھنا چاہتی ہیں کیا یہ درست ہے؟
جواب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں دس
دنوں کا اعتکاف کیا ہے لہذا رمضان میں دس دنوں کا اعتکاف ہی مسنون ہے۔ اگر کوئی
عورت یا مرد اعتکاف کرنا چاہے تو دس دن کے لیے مسجد میں اعتکاف کرے، ورنہ اعتکاف
نہ کرے۔
سوال: میری ایک سہیلی کے گھر میں ان کی
بہن خواتین کو تراویح کی نماز پڑھا رہی تھی۔ اس دوران یہ صورتحال پیش آئی کہ وہ
عشاء کی نماز میں چار رکعت مکمل کرنے کے بعد (بیٹھنے کے بجائے) غلطی سے پانچویں رکعت
کے لیے کھڑی ہو گئی۔ پیچھے موجود مقتدی خواتین نے انہیں ٹوکنے کے لیے 'سبحان اللہ'
اور 'اللہ اکبر' بھی کہا لیکن وہ امام صاحبہ نہیں بیٹھی اور اس نے پانچویں رکعت
بھی مکمل کرلی۔ ایسی صورت میں پیچھے مقتدی کو کیا کرنا چاہیے اور کیا اس طرح پانچ
رکعت پڑھی گئی نماز درست تھی یا اس نماز کو دہرانی پڑے گی؟
جواب: اگر کبھی اس طرح کی صورتحال پیدا ہوجائے کہ امام
چار رکعت والی نماز میں پانچویں رکعت کے لیے کھڑا ہو جائے تو امام کو متنبہ کرنا
چاہیے۔ متنبہ کرنے کے باوجود بھی امام واپس نہ بیٹھے بلکہ پانچویں رکعت کے لیے
کھڑا ہوجائے اور پانچویں رکعت بھی مکمل کرے تو ایسی صورت میں مقتدی کو بیٹھے ہی
رہنا چاہیے یعنی امام کی متابعت یہاں پر نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اللہ تعالی نے
ہمارے اوپر چار رکعت نماز ہی فرض کی ہے، زائد رکعت کے لیے کھڑا ہونا درست نہیں ہے۔
جب امام سلام پھیرے اس وقت مقتدیوں کو امام کے ساتھ سلام پھیرنا چاہیے۔
اگر غلطی سے کوئی مقتدی کھڑا ہو جائے تو اس میں کوئی
حرج نہیں ہے، نماز اپنی جگہ درست ہے تاہم یقین سے یہ معلوم ہو کہ یہ پانچویں رکعت
ہے تو جان بوجھ کر پانچویں رکعت میں امام کی متابعت نہیں کرنی چاہیے۔ اور امام کو
سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو بھی کرنا چاہیے۔
بہر کیف! اس صورت میں مسئلہ یہ ہے کہ امام اور مقتدی
دونوں کی نماز اپنی جگہ درست ہے، اس نماز کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔
شیخ البانی کا اس مسئلہ میں یہ موقف ہے کہ اگر امام
غلطی سے پانچویں رکعت کے لیے کھڑا ہو جائے اور لقمہ دینے پر بھی نہ بیٹھے تو
مقتدیوں کو بھی امام کی متابعت کرنی چاہیے اور پانچویں رکعت پڑھنی چاہیے مگر زیادہ
تر اہل علم پہلے قول کی طرف گئے ہیں۔
سوال: ایک بیوی کا سجنا سنورنا اپنے شوہر
کے لیے ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں جو سامان سجاوٹ اور آرائش کے لیے درکار ہو، اگر
بیوی وہ سامان خریدنے کے لیے اپنے شوہر سے کہے تو کیا یہ فضول خرچی میں شمار ہوگا
نیز کیا عورت کو اپنے شوہر کے مزاج اور پسند کے مطابق ہی سجنا سنورنا چاہیے؟
جواب: بنیادی طور پر دو باتیں ذہن میں رہے۔
مسلمان عورت کے لیے ممنوع زینت اختیار نہیں کرنا چاہیے
اور نہ ہی زینت اختیار کرنے میں غیروں کی مشابہت اختیار کرنا چاہیے۔
دوسری بات یہ ہے کہ زینت اپنانے میں فضول خرچی سے پرہیز
کرنا چاہیے۔ بہت ساری عورتیں دوسری عورتوں کی دیکھا دیکھی میک اپ وغیرہ میں ایک
دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتی ہیں۔
اب اصل سوال کا جواب یہ ہے کہ جائز حد میں رہتے ہوئے
مناسب طور پر بیوی کا شوہر کے لیے زینت اختیار کرنے میں حرج نہیں ہے اور زینت کی
چیزیں خریدنے کے لیے شوہر کو بولنے میں بھی حرج نہیں ہے۔ عورت کو ایک طرف شوہر کے
مالی حالات کو بھی دیکھنا ہے تو دوسری طرف فضول خرچی سے بھی بچنا ہے۔ نیز عورت کا
زینت اختیار کرنا شوہر کے لیے شوہر کی پسند کے مطابق ہو۔
اگر کسی بیوی کے ساتھ یہ مسئلہ ہے کہ اس کا شوہر زینت
کی چیزیں خرید کر نہیں دیتا ہے یا جائز زینت اختیار کرنے پر بھی اسے منع کرتا ہے
تو اس مسئلہ کو حکمت کے ساتھ اور پیار و محبت کے ذریعہ حل کرنا چاہیے۔ بیوی شوہر
کی اطاعت بھی کرے، جائز اور ناجائز کی پرواہ بھی کرے اور رشتے میں تلخی آنے والی
باتوں سے دوری بھی اختیار کرے۔ شوہر اس کی زندگی ہے، اس کی خوشی کے ساتھ زندگی
گزارنے میں بیوی کو اصل سکون اور خوشی ملتی ہے۔
سوال: ایک بے اولاد خاتون نے اپنے بھائی
کی بیٹی کو پیدا ہوتے ہی گود لے لیا اور لاعلمی کی وجہ سے پیدائش کی سرٹیفکیٹ سے
لے کر تمام کاغذات پر اصل والد کے بجائے گود لینے والے یعنی اپنے شوہر کا نام بطور
والد درج کروایا۔ اب اس کو معلوم ہوا کہ شریعت کی صریح خلاف ورزی ہوئی ہے۔ اس بچی
کا نکاح طے پایا ہے اور وہ پریشان ہے کہ ولدیت کے خانے میں اصل والد کا نام لکھے
یا اپنے شوہر کا نام کیونکہ بچپن سے اس کے تمام کاغذات پر جو نام لکھا گیا ہے۔ اسی
پر اس کا پاسپورٹ بھی بنا ہوا ہے اور اس نے شادی کے بعد باہر ملک جانا ہے۔ اگر
نکاح نامہ پر اصل والد کا نام لکھتے ہیں تو میرج سرٹیفکیٹ پر بھی وہی نام آئے گا
اور باقی تمام کاغذات بشمول پاسپورٹ میں تردید آجائے گی۔ اب وہ کیا کرے کیونکہ
اتنے قلیل عرصہ میں تمام کاغذات کی تصحیح ممکن نہیں ہے؟
جواب: کسی آدمی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے لے پالک
کو اپنی طرف منسوب کرے بلکہ جس کا بچہ ہے اسی کی طرف نسبت کرنا ضروری ہے۔
جس نے کاغذات بنوانے میں والد کی جگہ اپنا نام لکھا ہے،
اگر اس نے جان بوجھ کر یعنی شرعی حکم جانتے ہوئے ایسا کام کیا ہے تو گناہگار ہے،
ایسے آدمی کو اللہ سے توبہ کرنا چاہیے۔ اور اگر شرعی حکم جانے بغیر ایسا کیا ہے تو
اللہ تعالی معاف کرنے والا ہے۔
جہاں تک نکاح نامہ میں ولدیت کا مسئلہ ہے تو جیسے
کاغذات بنایا گیا ہے ویسے ہی ابھی کام کیا جائے کیونکہ ابھی اس کی ضرورت ہے۔ نیز
آئندہ کے لیے وہ اس بات کو ذہن میں رکھے کہ جب اسے سہولت اور فرصت ملے گی اپنے
کاغذات کو درست کرنے کی کوشش کرے گا۔
دوسری بات جو ہمیشہ کے لیے اسے ذہن میں رکھنی ہے کہ
پکارنے میں اور نسبت کرنے میں زبانی اعتبار سے اصل ولدیت کی طرف انتساب کرے گا۔
سوال: ایک نئے شادی شدہ جوڑے کا سوال ہے
کہ وہ جوائن فیملی میں رہتے ہیں۔ کل مباشرت کی وجہ سے وہ دونوں ناپاک تھے لیکن سسر
کے ڈر سے انہوں نے بغیر نہائے روزہ رکھ لیا اور دن کے گیارہ بجے انہوں نے غسل کیا
تو کیا ان کا روزہ مانا جائے گا؟
جواب: حالت جنابت میں روزہ کی نیت کرنے اور سحری کھانے
میں کوئی حرج نہیں ہے البتہ انہیں چاہیے تھا کہ وقت پر غسل کرکے فجر کی نماز پڑھتے
اور اس معاملہ میں شرم و حیا کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔
ہرکیف! تاخیر سے دن میں غسل کرنے پر روزہ میں کوئی
مسئلہ نہیں ہے یعنی روزہ اپنی جگہ درست ہے تاہم اس سے ایک بڑی غلطی یہ ہوئی کہ غسل
نہ کرکے فجر کی نماز کو اپنے وقت پر ادا نہیں کیا اس کے لیے اللہ تعالی سے توبہ
کرے اور آئندہ اس قسم کی غلطی سے بچے۔
سوال: ایک جوائنٹ فیملی میں ساس کے پاس
چار تولہ سونا ہے اور بہو کے پاس نو تولہ ہے، کیا دونوں کو ملاکر زکوۃ دی جائے گی،
سننے میں آیا ہے کہ ایک چھت کے نیچے رہیں تو سب کا سونا ملا کر زکوۃ دینا ہے؟
جواب: چند خواتین ایک چھت کے نیچے رہیں یا الگ الگ چھت
کے نیچے رہیں، سونا چاندی اپنی اپنی ملکیت کی چیز ہوتی ہے اس میں اجتماعی مسئلہ
نہیں ہوتا ہے۔
ساس کے سونے کا مسئلہ ساس کے ساتھ ہے اور بہو کے سونے
کا مسئلہ بہو کے ساتھ ہے، ان دونوں کا ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ساس کا سونا نصاب سے کم ہے تو وہ اپنے سونا کی زکوۃ
نہیں دے گی لیکن بہو کے پاس نصاب سے زیادہ سونا ہے لہذا اسے سالانہ اعتبار سے زکوۃ
دینا پڑے گا۔
سوال: ایک خاتون نفاس کی حالت میں ہے، اس
کو مسلسل فلو یا اسپاٹنگ نہیں ہے بلکہ کچھ دنوں بعد ہلکا گلابی داغ لگتا ہے، کیا
یہ نفاس میں شمار ہوگا؟
جواب: نفاس کی اکثر مدت چالیس دن ہے لہذا عورت کو چالیس
دن کے دوران ہلکا خون آئے یا زیادہ مقدار میں آئے یا رک رک کے آئے، یہ سارے قسم کے
خون نفاس میں مانے جائیں گے بشرطیکہ یہ چالیس دن کے اندر کا ہو۔
سوال: ایک عورت کی کورٹ سے طلاق ہوئی ہے۔
اس کو ایک چھوٹا بیٹا ہے جسے عورت اپنے ساتھ لے گئی اور کوٹ کے ذریعہ بارہ لاکھ
روپے بھی لے گئی۔ کیا ایسی صورت میں بچے پر باپ کا کوئی حق نہیں ہے اور وہ بچہ باپ
کی وراثت میں حقدار نہیں ہوگا بلکہ کورٹ سے سارے معاملات ختم کرنے کی وجہ سے اب
کوئی تعلق نہیں رہا؟
جواب: طلاق کے بعد بچہ کا جو مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ
پرورش کی عمر تک بچہ ماں کے پاس رہے گا۔ اس کے بعد باشعور ہو جائے تو اختیار دیا
جائے گا چاہے وہ ماں کے ساتھ رہے یا باپ کے ساتھ رہے جبکہ بچے کا خرچہ بلوغت تک
باپ کے ذمہ رہے گا۔ اور اس بچے پر جتنا ماں کا حق ہے اتنا ہی باپ کا بھی حق ہے نیز
یہ بچہ اپنے باپ کی وراثت سے حق بھی پائے گا۔
یہ شرعی حقوق آپ کو بتایا ہوں، کوٹ کا معاملہ دنیاوی
معاملہ ہے جبکہ شرعی معاملہ ہمارے لیے اصل ہوتا ہے۔
سوال: والدین کو زکوٰۃ و صدقات دینا منع
ہے تو والدین کے زیر کفالت جو بہن بھائی ہیں کیا ان کی ضروریات کے لئے زکوٰۃ میں
سے دیا جا سکتا ہے جیسے میری بہن کی شادی ہے تو اس کو زکوٰۃ میں سے رقم دے سکتے
ہیں؟
جواب: باپ کے ذمہ اولاد کی کفالت ہوتی ہے، اگر باپ
مالدار ہے تو پھر کوئی لڑکا یا لڑکی اپنے باپ کو یا اس کے ماتحت کو یعنی اپنے
بھائی بہن کو زکوۃ نہیں دینا ہے کیونکہ وہ مستحق میں نہیں آتے، اس کی کفالت کرنے
والا موجود ہے۔
یہاں پر بھائی بہن کا اصل مسئلہ نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ
باپ کا ہے کیونکہ وہ بچوں کا کفیل ہوتا ہے۔ جب بھائی بہن الگ اور شادی شدہ ہوں اور
وہ غریب و مسکین ہوں تو ان کی ضرورت کے لئے زکوۃ دے سکتے ہیں۔
سوال: کیا تشبیک صرف جمعہ کے لیے خاص ہے
یا عام دنوں میں بھی اس کی ممانعت ہے؟
جواب: جب کوئی چیز سمجھانی اور بتانی ہو اور تشبیک کی
ضرورت پڑے تو اس میں حرج نہیں ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تشبیک
کی ہے البتہ نماز کے لیے جاتے ہوئے یا نماز کے وقت اس طرح کا عمل ممنوع ہے۔
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے کہ اس کا
ایک حصہ دوسرے حصہ کو قوت پہنچاتا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہاتھ کی
انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کیا۔(صحيح البخاري:481)
سوال: اگر کوئی جمعہ کے دن صرف نماز کے
لیے مسجد جائے اور برابر جان بوجھ کر خطبہ ترک کرے ایسے آدمی کا کیا حکم ہے؟
جواب: آدمی کے اوپر جمعہ کے دن شروع خطبہ سے لے کر آخر
تک حاضر رہنا واجب اور ضروری ہے۔ اگر کسی عذر کے باعث تاخیر ہو جائے اور خطبہ چھوٹ
جائے یا اس کا کچھ حصہ رہ جائے تو اس میں حرج نہیں ہے لیکن جان بوجھ کر خطبہ مسلسل
چھوڑنا اور صرف نماز جمعہ کے لیے آنا گناہ کا باعث ہے کیونکہ وہ ایک واجبی عمل کو
ترک کر رہا ہے۔ ایسے آدمی کی جمعہ کی نماز پر اثر پڑے گا۔
لہذا خطبے جمعہ میں تاخیر کرنے اور خطبہ ترک کرنے والے
کو اللہ سے توبہ کرنا چاہیے اور شروع وقت میں مسجد میں حاضر ہونا چاہیے۔

0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔