Tuesday, January 21, 2025

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات (40)

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات (40)

جواب از: شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ

جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ ـ سعودی عرب


سوال:جب ہم نماز میں کوئی رکعت پڑھنا بھول جائیں مثلا ظہر کی تین پڑھ کے سلام پھیر دیں تو یہ ایک رکعت دوبارہ ادا کرنے کا طریقہ کیا ہے، کیا اس میں ثناء پڑھیں گے اور پھر فاتحہ اور پھر سورت یا صرف آخری رکعت ادا کرنے کی طرح صرف فاتحہ پڑھیں گے اور پھر رکوع اور تشہد اور سجدہ سہو کرنا ہوگا؟

جواب: چھوٹی ہوئی ایک رکعت، آخری رکعت کی طرح ادا کی جائےگی اور اس میں صرف سورہ فاتحہ پڑھیں گے اور سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کریں پھر سلام پھیریں گے۔

 سوال: واٹس ایپ پر ایک جملہ دیکھاہوں کہ"دنیا میں جو ہیں سب ملعون ہیں سوائے عالم اور متعلم کے"کیا یہ حدیث ہے یا قول ہے؟

جواب: یہ حدیث ہے۔ ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بیشک دنیا ملعون ہے اور جو کچھ دنیا میں ہے وہ بھی ملعون ہے، سوائے اللہ کی یاد اور اس چیز کے جس کو اللہ پسند کرتا ہے، یا عالم (علم والے) اور متعلم (علم سیکھنے والے) کے۔

(ترمذی:2322) اسے شیخ البانی نے حسن کہا ہے۔

سوال: لڑکے اور لڑکی کا نکاح ہو گیا لیکن ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی تو کیا رخصتی سے قبل میاں بیوی جنسی تعلق قائم کرسکتے ہیں اگر شوہر زبردستی کرے تو؟

جواب: لڑکے کا شرعی طور پر عقد نکاح ہوگیا تو اب لڑکا اور لڑکی دونوں آپس میں میاں بیوی ہیں، بغیر رخصتی کے وہ دونوں خلوت کرسکتے ہیں، آپس میں بات چیت کرسکتے ہیں حتی کہ جنسی تعلق بھی قائم کرسکتے ہیں اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

سوال: عصر اور فجر کے وقت فرشتوں کی ڈیوٹی تبدیل ہونے کے وقت اللہ فرشتوں سے سوال کرتا ہے کہ تمہاری تبدیلی کے وقت میرا بندہ کیا کر رہا تھا تو یہ کہتے ہیں کہ تیری عبادت۔اس حدیث کی روشنی میں اگر کبھی کسی کی عصر یا فجر کی نماز آخری وقت میں ہو، اس شخص نے نماز تو پڑھی مگر غفلت میں تاخیر ہوگئی تو یہ فرشتے کیا لکھتے ہیں یا پھر یہ بھی آخری وقت میں ہی شفٹ ہوتے ہیں؟

جواب : اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے اس کی رحمت کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ہے۔ آپ جس وقت کے بارے میں سوچ رہے ہیں، اس سے ہٹ کر ساری دنیا کے لوگوں کے بارے میں اندازہ لگائیں کہ اگر آپ کے پاس فجر کا وقت ہے تو دنیا کے دوسرے علاقوں میں کہیں دن، کہیں رات، کہیں صبح، کہیں شام یعنی مختلف اوقات ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی دنیا کے تمام لوگوں کے لئے انتظام فرمانے والا ہے، وہ اس بارے میں بہتر جانتا ہے خواہ ہماری عقل میں آئے یا نہیں آئے۔ اس وجہ سے اس طرح کا سوال ہمیں اپنے ذہن میں پیدا ہی نہیں کرنا چاہیے۔ فرشتوں کی ڈیوٹی سے متعلق جو بات آتی ہے، اس پر ہمیں ایمان لانا چاہیے۔ یہ غیبی امور میں سے ہے، اس بارے میں جتنا بتایا گیا ہے ، بس وہی بولیں اس سے زیادہ قیاس آرائی کرنا درست نہیں ہے۔

جہاں تک نیکی اور بدی لکھنے کا معاملہ ہے وہ ہمہ وقت لکھے جاتے ہیں کیونکہ اللہ تعالی نے نیکی اور بدی لکھنے پر مستقل فرستے مقرر کررکھا ہے ،چاہے آدمی تاخیر سے نماز پڑھے یا وقت پر پڑھے یا نماز ہی نہ پڑھے اس وقت کوئی برائی کرےیا کوئی دوسرا کام کرے، ہر بات لکھی جاتی ہے،اللہ تعالی کا فرمان ہے:

وإن عليكم لحافظين ، كراماً كاتبين ، يعلمون ما تفعلون (الانفطار:10-12)

ترجمہ : یقینا تم پر حفاظت کرنے والے عزت دار لکھنے والے مقرر ہیں جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتے ہیں ۔

سوال: صرف آخری تشہد میں انگلی کو حرکت دینا ہے یا دو رکعت کے بعد تشہد میں بیٹھتے ہیں اس میں بھی انگلی کو حرکت دینا ہے اور اگر امام کے ساتھ ہی مقتدی تکبیر تحریمہ کہہ دے تو اس کی نماز ہو جائیگی یا باطل ہو جائیگی، ہماری رہنمائی فرمائیں؟

جواب:انگلی کو پہلے اور دوسرے دونوں تشہد میں ہلائیں گے۔ اور نماز میں مقتدی کو امام کی متابعت کرنی ہے یعنی امام کے پیچھے پیچھے چلنا ہے لہذا امام تکبیر تحریمہ کہہ دے اس کے بعد مقتدی تکبیر تحریمہ کہے۔شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ جس نے امام کے ساتھ ہی تکبیر تحریمہ کہہ دی تو اس کا کیا حکم ہے اس پر شیخ نے جواب دیا کہ اسے نماز کے اعادہ کا حکم دیا جائے گا کیونکہ نبی کریم کا فرمان ہے: "إذا كبر فكبروا" یعنی جب امام تکبیر کہے اس کے بعد تم تکبیر کہو۔

سوال: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے اس مومن بندے کا جس کی میں کوئی عزیز چیز دنیا سے اٹھا لوں اور وہ اس پر ثواب کی نیت سے صبر کر لے، تو اس کا بدلہ میرے یہاں جنت کے سوا اور کچھ نہیں۔(صحیح بخاری : 6424)اس حدیث میں جو بات بتائی گئی کیا اس میں مال و دولت اور صحت و تندرستی جیسی نعمتیں بھی شامل ہے؟

جواب: یہ حدیث عام ہے اور ہر قسم کی نعمت جیسے مال و دولت اور صحت وعافیت سب کو شامل ہے جو آدمی سے چھن جائے یا اس سے محروم رہے اور اس پر صبر کرے تو اللہ رب العالمین اسے اجر و ثواب عطا فرمائے گا حتی کہ اللہ نے صبر پر جنت کا وعدہ بھی کیا ہے۔

سوال: میرے گھر میں ہندو عورت کام کرنے کے لئے آتی ہے، کیا اسے صدقہ دے سکتی ہوں اور اسے صدقہ دیتی ہوں تو کیا صدقہ قبول ہوگا؟

جواب: ہندو کو واجبی زکوۃ نہیں دے سکتے ہیں کیونکہ یہ صرف مسلمانوں کا حق ہے لیکن زکوۃ کے علاوہ نفلی صدقات و خیرات بلاشبہ دے سکتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور آپ کو آپ کے صدقہ کا اجر ملے گا۔

سوال: میں نے ڈھائی سال کی بچی کو غسل دیا۔ اس کا پوسٹ مارٹم ہوا تھا جس کی وجہ سے تھوڑا تھوڑا خون بہہ رہا تھا اس بناء پر میں نے اس پہ ستر نہیں ڈالا کیونکہ مجھے نہلانے میں دقت ہو رہی تھی اور خوف بھی ہو رہا تھا۔ نیت یہ تھی کہ میں اسے جلدی غسل دے کر کفن پہنا دوں اور اس کے گھر والوں سے کہہ کے جلد روانہ کروا دوں۔ ستر کے معاملے میں مضطرب ہوں، رہنمائی فرما دیں؟

جواب: اہل علم نے لڑکا اور لڑکی کی شرمگاہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ سات سال سے کم عمر کے بچے کی شرمگاہ کا اعتبار نہیں ہوتا ہے اس وجہ سے اس کی نظافت و طہارت کے وقت اسے دیکھنے اور چھونے پہ کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔اس شرعی مسئلہ کے سبب ڈھائی سالہ بچی کو بلاستر غسل دینے میں کوئی شرعی مسئلہ نظر نہیں آتا ہے لہذا اس تعلق سے فکر مندی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

سوال: کیا ناپاکی کی حالت میں ناخن کاٹ سکتے ہیں؟

جواب: ناپاکی کی حالت میں صرف نماز اور روزہ منع ہے، باقی ساری عبادات انجام دے سکتے ہیں۔ اور دنیاوی کام کاج اور ضرورت کا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے اس لئے ناخن کاٹنے سے متعلق سوال پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ ناپاکی کی حالت میں کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے اور بات کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے تو ناخن کاٹنے میں کیا مسئلہ ہے۔

سوال: کسی مجبوری کی وجہ سے ہمارے فرض روزے چھوٹ گئے ہیں تو کیا ہم ان روزوں کو ایامِ بیض کے دنوں میں دو طرح کی نیت کرکے رکھ سکتے ہیں جیسے ہم ایسی نیت کرکے رکھ سکتے ہیں کہ فرض روزوں کی بھی ہماری قضا ہوجائے گی اور ہم کو ایام بیض کے روزوں کا بھی ثواب ملے؟

جواب: ایام بیض کے دنوں میں قضا اور ایام بیض کے روزے دونوں ایک ساتھ نہیں رکھ سکتے ہیں یا تو قضا روزے رکھیں یا ایام بیض کا روزہ رکھیں یعنی دونوں روزوں کو الگ الگ رکھنا پڑے گا، ان دونوں روزوں کی نیت ایک ساتھ نہیں کر سکتے ہیں۔اس میں اصل یہی ہے کہ قضا روزوں کو الگ سے رکھیں گے تبھی قضا کی ادائیگی ہوگی۔

سوال: اصل میں میرے گھر والے میرے لئے رشتہ دیکھ رہے ہیں لیکن میرا ایک فیوچر رشتہ

 (past relationship) رہ چکا ہے تو کیا مجھے آنے والے شخص کو یہ بتانا چاہیے کیونکہ اس بات کا خوف ہے کہ اگر میں نے نہیں بتایا اور مستقبل میں میرے محرم کو پتہ چل گیا تو پھر اس کو ایسا تو نہ لگے کہ میں نے کوئی دھوکہ دیا؟

جواب: اللہ تعالی نے گناہوں پر پردہ ڈالنے کا حکم دیا ہے لہذا جس لڑکی نے شادی سے پہلے کسی لڑکے سے ناجائز رشتہ بنایا اس کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ سچے دل سے اللہ رب العالمین سے توبہ کرلے اور آئندہ اس طرح کا حرام کام دوبارہ نہ کرے۔

شادی کے بعد اس لڑکی کو یہ بات اپنے شوہر سے بتانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ گناہ کا کام کسی کو بتانا نہیں چاہیے، اس پر پردہ ڈالنا چاہیے۔ صحیح بخاری میں ایک عبرت آموز حدیث ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ میری تمام امت کو معاف کیا جائے گا سوا گناہوں کو کھلم کھلا کرنے والوں کے اور گناہوں کو کھلم کھلا کرنے میں یہ بھی شامل ہے کہ ایک شخص رات کو کوئی گناہ کا کام کرے اور اس کے باوجود کہ اللہ نے اس گناہ کو چھپا دیا ہے مگر صبح ہونے پر وہ کہنے لگے کہ اے فلاں میں نے کل رات فلاں فلاں برا کام کیا تھا رات گزر گئی تھی اور اس کے رب نے اس کا گناہ چھپائے رکھا لیکن جب صبح ہوئی تو وہ خود اللہ کے پردے کو کھولنے لگا۔(صحیح بخاری: 6069)

اس حدیث پر امام بخاری نے باب بادھا ہے: "باب ستر المومن على نفسه" یعنی مومن کا اپنے عیب پر پردہ ڈالنا۔اس حدیث سے ہمیں نصیحت ملتی ہے کہ اگر ہم سے کوئی گناہ سرزدہو جائے تو ہمیں اس پر پردہ ڈالنا چاہیے اور اسے کسی سے بیان نہیں کرنا چاہیے۔جہاں تک شادی کے بعد مستقبل کا مسئلہ ہے تو اسے اللہ پر چھوڑ دیں اور اللہ رب العالمین سے اس معاملے میں دعا کے ذریعہ اپنے

گناہوں کی مغفرت کے ساتھ اپنے عیب کی سترپوشی پر مدد طلب کریں۔

سوال: ایک عورت ہے جس کے پانچ بچّے ہیں، ان میں تین بچّے بہت چھوٹے ہیں۔ ایک بچّے کی عمر چار سال ، دوسرے کی دو سال اور سب سے چھوٹے بچے کی ایک سال ہے۔ وہ کہتی ہے کہ میری طبیعت خراب رہتی ہے، پھر سے حمل ہوگیا ہے۔ ابھی ایک مہینہ آٹھ دن گزرا ہے تو کیا میں کوئی دوا وغیرہ استعمال کرسکتی ہوں۔ اس بارے میں بہت زیادہ پریشان ہوں۔ پہلے اس کی والدہ حیات تھی تو وہ بچّوں کی دیکھ بھال میں مدد کرتی تھی مگر ابھی جلد ہی اس کی والدہ کی وفات ہوگئی ہے جسکی وجہ سے وہ اور پریشان رہنے لگی ہے، اسے کیا کرنا چاہیے؟

جواب: حمل ٹھہرنے کے بعد وہ ایک جان اور ایک نفس ہے اس کو ضائع کرنا ایک جان کا قتل کرنا ہے اور قتل کرنا کتنا بھاری گناہ ہے ہم سبھی لوگ اسے بخوبی جانتے ہیں۔ کئی بچے ہونے یا عورت کے کمزور ہونے یا اس کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے حمل ساقط نہیں کروایا جائے گا۔ حمل ٹھہرنے سے پہلے اگر ضرورت و مصلحت کے تحت حمل روکنے کی تدبیر کرتے ہیں تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے لیکن حمل ٹھہرنے کے بعد اب اسے بغیر شرعی عذر کے ضائع نہیں کیا جائے گااور مذکورہ باتیں شرعی عذر میں داخل نہیں ہیں۔ لہذا مذکورہ صورتحال میں اس بہن کے لئے اس حمل کا ساقط کرنا گناہ کا باعث ہے اور یہ ایک بچے کا قتل بھی کہلائے گا۔ خواہ حمل کی کچھ بھی مدت رہی ہو۔ اسقاط حمل کی سنگینی کو جاننے کے لئے میرا مضمون پڑھیں"اسقاط حمل پہ دیت و کفارہ کا حکم"۔

جب اللہ نے ماں کے پیٹ میں حمل دے دیا ہے اور اللہ بغیر کسی حکمت کے کوئی کام نہیں کرتا،

ایسے میں اس بہن کو اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے، وہ اپنے معاملہ کو اللہ کے سپرد کر دے، اپنے معاملہ میں اللہ سے آسانی کی دعا بھی کرے اور اس کی طرف سے خیر کا انتظار کرے۔

سوال: کیا اگر جماعت کی نماز میں ایک رکعت چھوٹ جائے تو اس پر بھی سجدہ سہو کرنا ہے؟

جواب: اگر کوئی جماعت کی نماز میں شامل ہوا ہو اس حال میں کہ اس سے ایک رکعت فوت ہوگئی ہو تو وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہوگا اور ایک رکعت پڑھ کر سلام پھیر دے گا اور اسے سجدہ سہو کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ سجدہ سہو تو نماز میں غلطی اور بھول چوک ہو جانے پر کیا جاتا ہے۔

سوال: اگر کسی کا بچپن میں عقیقہ نہیں ہوا ہے تو کیا ابھی بڑے ہوکر کرنا ضروری ہے اور عقیقہ کا گوشت صرف فیملی میں رکھ سکتے ہیں یا بانٹنا ضروری ہے؟

جواب: بچپن میں جس کا عقیقہ نہیں ہوا، بڑے ہوکر اسے عقیقہ کرنے کی استطاعت ہو تو عقیقہ کرسکتا ہے۔ عقیقہ کرنا فرض و واجب نہیں ہے تاہم یہ سنت مؤکدہ ضرور ہے جسے طاقت ہو اسے عقیقہ دینا چاہیے۔اور عقیقہ دینے کے بعد سارا گوشت اپنے ہی گھر میں نہیں رکھنا ہے اس سے خود بھی کھانا ہے، دوسروں کو بھی کھلانا ہے جیسے قربانی کا گوشت خود بھی کھاتے ہیں اور دوسروں کو کھلاتے ہیں۔

سوال: مجھے عمرہ کے دوران عادت سے دس دن پہلے پیریڈ ہوگئے تھے۔ میں پاکستان سے عمرہ کے لئے آئی تھی۔ اس صورت میں کوئی دوا کام نہیں آئی ، میرے پاس صرف تین دن ہیں، اس حالت میں کیا کرنے کاحکم ہیے؟

جواب: سب سے پہلی بات یہ ہے کہ جو خاتون پاکستان سے عمرہ کے لئے مکہ آرہی ہے اس کے لئے لازم تھا کہ اپنے ملک سے آتے ہوئے فلائٹ میں ہی اپنی میقات پر عمرہ کا احرام باندھ لیتی حتی کہ وہ اس وقت حیض کی حالت میں ہو تب بھی وہ احرام باندھتی اور احرام ہی میں باقی رہتی۔ جب حیض سے پاک ہوجاتی تو غسل کرکے عمرہ ادا کرتی۔

جو صورتحال اوپر مذکور ہے کہ وہ اس وقت حیض کی حالت میں ہے اور جانے کا دن ہو رہا ہے تو آخر وقت تک حیض سے پاک ہونے کا انتظار کرے گی۔ اگر وہ جانے سے پہلے تک پاک نہ ہوسکے تو اسی حال میں غسل کرکے اور لنگوٹ باندھ کر عمرہ کر لے گی۔

احرام کی حالت میں پہلے سے تھی تو اسے کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے، وہ اپنی رہائش سے غسل کرکے اور لنگوٹ باندھ کر حرم جائے اور عمرہ کرے ۔

اور اگر پہلے سے احرام باندھ کر سعودی نہیں آئی تھی یہاں تک کہ اسے حیض آگیااور وہ حیض میں ہی ہے اور ملک واپسی میں چند دن وہ گئے ہیں تو یاد رہے کہ اس صورت میں احرام نہیں باندھنا ہے ۔ اگر پاک ہوجائے تو عمرہ کرے ورنہ عمرہ نہ کرے۔ہوسکے تو ٹکٹ میں ایام بڑھالے تاکہ پاک ہونے پر عمرہ کرکےملک واپس ہوسکے۔

سوال: اگر ہم رشتے داروں کو تحفے تحائف دیتے ہیں اور یہ نیت ہو کہ اس کا اجر صرف اللہ سے چاہیے، کسی سے بدلہ نہیں چاہیے لیکن کبھی یہ خوف بھی دل میں آتا ہو کہ کہیں یہ فضول خرچی میں شمار ہوتا ہو اور اس سے افضل اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہو تو ایسی صورت میں کیا کریں؟

جواب: اگر تحفے تحائف دینے میں مبالغہ کریں گے تو فضول خرچی میں شمار کیا جائے گا، یہ حقیقت

 ہے اس میں وسوسہ والی بات نہیں ہے۔

پیسے کے استعمال میں اصل صدقہ و خیرات پر دھیان دیا جائے اور جو غریب، مسکین، یتیم، بیوہ، معذور اور ضرورت مند ہوں ان لوگوں کی زیادہ سے زیادہ مدد کی جائے۔ مال کا اصل اور بہتر استعمال یہی ہے۔ اپنے رشتہ داروں میں ضرورت مند کو صدقہ دینا دہرے اجر کا باعث ہے۔

سوال:عقیقہ کے جانور میں ولیمہ کرسکتے ہیں مطلب ولیمہ کا کھانا ہو اس میں عقیقہ کے بکرے سے کھلائے جائیں تو کیا یہ صحیح ہوگا؟

جواب: جس وقت عقیقہ کیا جائے اگر اس وقت ولیمہ ہو رہا ہو تو عقیقہ کا گوشت ولیمہ میں کھلایا جاسکتا ہے اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

سوال:کیا بالوں میں خضاب لگانا ضروری ہے، اگر سر کے بال بہت سفید ہوجائیں لیکن بال رنگنا پسند نہ ہو تو کیا بالوں کو ایسے ہی چھوڑا جاسکتا ہے؟

جواب: ایک آدمی کے لئے ہمیشہ خضاب میں رہنا بہت مشکل امر ہے کیونکہ کچھ وقفہ کے بعد رنگت ختم ہو جاتی ہے اور سفیدی ظاہر ہوجاتی ہے۔ ظاہر سی بات ہے ہمہ وقت خضاب لگانا ایک مشکل ترین امر ہے جس کی وجہ سے اہل علم نے اس عمل کو سنت مؤکدہ قرار دیا ہے۔

اس کے باوجود آدمی حتی الامکان خضاب لگانے کی کوشش کرے اور اگرکوئی سفیدی چھوڑے رکھتا ہے تو بھی اس میں گناہ نہیں ہے۔ آپ متعدد علماء کو بغیرخضاب کے پائیں گے جبکہ ان کے بال و داڑھی سفید ہوتے ہیں۔

سوال: اگر عورت فجر کی نماز کے بعد اپنی جگہ سے اٹھ کر بچوں کو اسکول بھیجنے اور ناشتے کی مصروفیات کے بعد اشراق کی نماز پڑھتی ہے تو اس کو ایک عمرہ کے برابراجر ملے گا ؟

جواب: اشراق کی نماز اس عورت کے لئے نہیں ہے جو گھر میں اکیلی نماز پڑھتی ہے بلکہ اشراق کی نماز اس عورت یا مرد کے لئے ہے جو مسجد میں جماعت کے ساتھ فجر کی نماز ادا کرے لہذا جو خاتون گھر میں فجر کی نماز پڑھ رہی ہے اسے چاہیے کہ صلاۃ الضحی پڑھا کرے کیونکہ اشراق کے لئے جماعت سے نماز پڑھنے کی قید ہے۔

سوال: اگر جمعہ کے دن فجر نماز سے پہلے غسل کرکے نماز پڑھی جائے تو کیا جمعہ کے غسل کی فرضیت ساقط ہو جاتی ہے جبکہ نیت یہ ہو کہ جمعہ کا غسل کر رہے ہیں؟

جواب: جمعہ کا غسل اصل میں فجر کے بعد ہے لیکن اگر کوئی عذر کی وجہ سے فجر سے پہلے غسل کر لیتا ہے تو یہ کفایت کر جائے گا۔دوسری بات یہ ہے کہ جمعہ کا غسل کرنا فرض و واجب نہیں ہے اس لئے کوئی فجر سے پہلے غسل کرے یا عذر کی وجہ سے جمعہ کا غسل نہ کرسکے اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

سوال: کالے رنگ کے علاوہ دوسرے کلر کا برقع پہن سکتے ہیں؟

جواب: برقع یا نقاب کا مقصد جسم کا پردہ ہے اس کے لئے کوئی رنگ خاص نہیں کیا گیا ہے لہذا عورت کسی بھی رنگ کا برقع استعمال کرسکتی ہے لیکن پردے کے اوصاف کو مدنظر رکھنا ضروری ہے یعنی لباس فیشن والا نہ ہو، شہرت والا نہ ہو، نقش و نگار والا نہ ہو، بھڑکیلا اور جاذب نظر نہ ہو، چست، باریک اور چھوٹا نہ ہو۔شرعی پردہ کے لحاظ سے جس رنگ کا بھی لباس استعمال کرنا چاہیں

اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

سوال: سجدہ میں دعا مانگنے کی بہت اہمیت ہے تو کیا سجدہ میں دعا مانگتے وقت دعا کے آداب کو ملحوظ رکھنا ہے جیسے پہلے حمدوثنا پھر درود اور اس کے بعد دعا؟

جواب:عبادت کا معاملہ توقیفی ہے یعنی جس خصوصیت کے ساتھ جو عبادت منقول ہے اسی خصوصیت کے ساتھ اس عبادت کو انجام دیں گے۔ نماز ایک عظیم عبادت ہے اور نماز کا سجدہ اس عبادت کا ایک اہم حصہ ہے، سجدہ میں بندہ رب سے قریب ہوتا ہے اس لئے اس میں دعا کرنے کا حکم ہوا ہے لیکن دعا کا یہ مقام عام دعا کی طرح نہیں ہے۔ اس جگہ دعا کرتے ہوئے صرف دعا کے الفاظ ادا کریں گے اور دوسرے کوئی کلمات نہیں کہیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سجدہ وہ مقام ہے جہاں ہمیں کثرت سے دعا کرنا چاہئے۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں:

إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا، فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا الرَّبَّ فِيهِ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ(ابوداؤد:876، صححہ البانی)

ترجمہ:مجھے رکوع اور سجدہ کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کردیا گیا ہے، رہا رکوع تو اس میں تم اپنے رب کی بڑائی بیان کیا کرو اور رہا سجدہ تو اس میں تم دعا میں کوشاں رہو کیونکہ یہ تمہاری دعا کی مقبولیت کے لیے زیادہ موزوں ہے۔

اس حدیث کی روشنی میں سجدے میں تسبیح کے علاوہ دیگر دعائیں بھی کرسکتے ہیں لیکن صرف دعائیہ کلمات پر اکتفا کریں گے۔

سوال: آج کل آنلائن ایپس میں کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ خرید و فروخت پر ڈسکاؤنٹ رہتا ہے تو کیا

کسی دوسرے آدمی کے کارڈ سے سامان خرید سکتے ہیں، بعد میں اسے پیسہ دے دیں گے؟

جواب: شرعی لحاظ سے کسی کے لئے بھی کریڈٹ کارڈ کا استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔ کریڈٹ کارڈ اصل میں قرض کے طور پر استعمال ہونے والا کارڈ ہے اور اس کارڈ کا تعلق سودی بینک سے ہے لہذا ہم اس کارڈ کے ذریعہ سودی کام میں ملوث ہوتے ہیں اس وجہ سے نہ کسی کے لئے یہ کارڈ بنوانا جائز ہے اور نہ ہی کسی دوسرے کا یہ کارڈ لے کر اس سے خریداری کرنا جائز ہے۔

سوال: ایک لڑکی کالج پڑھنے کے لئے جاتی ہے جس کی وجہ سے اس کی عصر اور مغرب کی نماز چھوٹ جاتی ہے۔ کالج سے گھر پہنچنے میں کافی تاخیر ہوجاتی ہے اور یہ لمبا سفر ہوتا ہے، جب گھر پہنچتی ہے تو ایک ساتھ عصر اور مغرب کی نماز ہمیشہ قضا کرتی ہے۔ ایسا کرنا ٹھیک ہے یا اسے سفر میں ہی اپنے وقت پر نماز ادا کرنا چاہیے؟

جواب: نماز کے لئے اصل یہ ہے کہ جب جس نماز کا وقت ہو اس نماز کو اسی وقت پر ادا کرنا ہے کیونکہ اللہ تعالی نے پانچ نمازوں کےلئے الگ الگ اوقات متعین فرمایا ہے۔جو لڑکی اپنے گھر سے دور دراز کالج پڑھنے کے لئے جاتی ہے اس کے لئے نماز کے ساتھ شرعی مسائل کا جاننا اور اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔

اگر گھر سے کالج کی دوری اسی کلومیٹر یا اس سے زیادہ ہو تو اس کے لئے بغیر محرم کے سفر کرنا جائز نہیں ہے،ویسے بھی یہ زمانہ فتنے سے بھرا ہے ۔ اسی طرح مخلوط ادارے میں تعلیم حاصل کرنا بھی جائز نہیں ہے۔جب سفر کرنے کی وجہ سے برابر نماز قضا ہوتی ہو تو ایسی صورت میں ایک جگہ رہ کر تعلیم حاصل کی جائے تاکہ نماز کی اپنی جگہ پر پابندی ہو نیز سفر کرنے اور کہیں ٹھہرنے سے متعلق

اسلامی تعلیمات کو مدنظر رکھا جائے۔

سوال: حیض کی مدت عام دنوں سے بڑھ گئی کیونکہ یہ دو ماہ بعد تاخیر سے ہوا اور پہلی بار اس طرح ہوا۔یہ مدت بیس دن تک چلی اور سمجھے تھے کے یہ حیض ہی ہوگا لیکن مقدار پھر زیادہ بڑھ گئی تو شک ہوا کہ یہ حیض ہے یا استحاضہ۔ اس شک میں اس درمیان نمازیں چھوٹ گئیں تو کیا اب ان نمازوں کی قضا کرنی ہوگی اور اگر کرنا ہو تو کتنے دن کی نماز پڑھنا ہوگا اور استحاضہ کے دنوں میں کیا فرض کے ساتھ نفل نمازیں بھی پڑھ سکتے ہیں وضو کرکے اور اسی طرح ہاتھ میں قرآن کریم لے کر تلاوت کی جا سکتی ہے کیا؟

جواب:اس میں پہلا مسئلہ یہ ہے کہ حیض اور استحاضہ کے خون میں صفات کے اعتبار سے بہت فرق ہے لہذا صفات کے اعتبار سے اس فرق کو دھیان میں رکھا جائے گا۔ ممکن ہو اس مرتبہ بھی حیض عادت کے مطابق اتنے ہی دن آیا ہو اور حیض کے بعد جو خون آیا ہو وہ استحاضہ کا ہو مگر حتمی طور پریہ بات نہیں کہی جاسکتی ہے۔اگر کسی کو دم حیض کئی دن تک مسلسل آئے تو پندرہ دن تک حیض شمار کیا جائے گا اس کے بعد استحاضہ شمار کرکے اس میں نماز اور روزے کی پابندی کرنی ہے۔

مذکورہ صورتحال میں شروع سے حیض اور استحاضہ کی کیفیت پر نظر نہیں رکھی گئی ہے لہذا کم از کم پندرہ دن کے بعد کی چھوٹی ہوئی نمازیں ادا کی جائیں۔ اور فرض نماز کو سنت کے ساتھ ادا کریں گے جیسے عام دنوں میں ادا کرتے ہیں اور فرائض و سنن کے علاوہ دیگر اوقات کے نوافل بھی ادا کرنا چاہیں تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں جیسے چاشت کی نماز ، وضو کی سنت وغیرہ۔آئندہ حیض اور استحاضہ کے صفات کو مدنظر رکھتے ہوئے عمل کریں۔اور استحاضہ کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت کی جا سکتی ہے اور ہاتھ میں لے کر بھی قرآن پڑھ سکتے ہیں کیونکہ استحاضہ کا خون حیض و نفاس کی طرح نہیں ہے۔

سوال: نکاح کے کارڈس گھر پہ جمع کرکے رکھتے ہیں کیونکہ اس پہ اللہ کا نام ہوتا ہے اور نکاح کی دعا اور اسی طرح مسجد کے چندہ نامہ، کلینڈر۔ یہ کارڈ بہت زیادہ جمع ہوجانے پر ہمارے یہاں ہر مسلم گھرانے میں یہ رواج عام ہے کہ ان کارڈ کو پھیکا نہ جائے بلکہ جلادیا جائےتاکہ بے ادبی نہ ہو۔ تو پھیکنا اور جلانا کیا یہ عمل درست ہے؟

جواب: جن کاغذات پر قرآنی آیات یا حدیث یا اللہ کے نام لکھے ہوئے ہوں خواہ وہ کلینڈر ہو یا شادی کارڈ ہو یا اخبارات و رسائل ہوں۔ ان کاغذات کو ادھر ادھر کہیں نہیں پھینکنا چاہیے بلکہ انہیں جمع کرکے جلا دینا چاہیے۔ایسے کاغذات کو کہیں پھینکنا جائز نہیں ہے بلکہ جلا دینا چاہیے تاکہ مقدس الفاظ کی بے حرمتی نہ ہو۔

سوال: ہمارے یہاں دیہات میں دعوتی کام چل رہاہے۔الحمد للہ ،وہاں کے لوگ مشورہ کرکے جمعہ کے خطبات فکس کئے ہیں۔اب احناف کی مسجد ہے ان کا طریقہ خطبہ سنت کی مخالفت پر ہے ، وہاں میں جاؤ ں تو کس انداز میں حکمت کے ساتھ وہاں کے لوگوں کو بتاؤں؟

جواب: احناف کی مساجد میں خطبہ سے پہلے اردو زبان میں بیان دینا یہ بدعتی عمل ہے۔اگر کسی اہل حدیث کو حنفی مسجد میں جمعہ کا خطبہ پڑھانے کا موقع ملے تو وہ سنت کے مطابق خطبہ پڑھائے اور احناف کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے واقف کرائے۔

اگر اہل حدیث بھی دیوبندی کی طرح خطبہ سے پہلے بیان دے پھر رسمی خطبہ دے تو ایسے بیان کا

میں سمجھتا ہوں کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اہل حدیث کا اصل کام بدعت کو مٹانا اور سنت کو رواج دینا ہے۔

سوال: مجھے کوئی اولاد نہیں تھی تو میں نے اپنی بہن کی لڑکی کو پیدا ہوتے ہی گود لے لیا اور اگر میں اس بچی کا عقیقہ کروں تو ہو جائے گا یا پھر اس بچی کے اپنے ماں باپ کو کرنا ہوگا؟

جواب: بچی کو گود لینے والا بھی بچہ کی طرف سے عقیقہ کرسکتا ہے اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے اور اگر بچی کے والدین کرنا چاہیں تو وہ بھی کر سکتے ہیں یعنی عقیقہ میں وسعت ہے جو بھی بچی کی طرف سے عقیقہ کرنا چاہے، اس کے عقیقہ کرنے سے بچی کی جانب سے عقیقہ ادا ہو جائے گا۔

سوال: ایک بچے کا عقیقہ ہو چکا تھا ،اب دس بارہ سال کے بعد اس کے والدین بچے کا نام بدلنا چاہ رہے ہیں تو کیا دوبارہ بچے کی طرف سے عقیقہ کرنا ہوگا؟

جواب: دوبارہ عقیقہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جو پہلے عقیقہ کیا گیا وہی کافی ہے اور بچے کا نام بغیر عقیقہ کئے بدل سکتے ہیں اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بہت سارے صحابہ کرام کے نام بدلے لیکن نام بدلنے کی وجہ سے آپ نے کسی صحابی کو عقیقہ کرنے کا حکم نہیں دیا۔

سوال: میں جدہ میں رہتا ہوں اور اپنی اہلیہ کے ساتھ عمرہ کرنے کے لئے جا رہا ہوں، ساتھ میں کزن کی بیوی اور اس کی بیٹی جانا چاہتی ہے بغیر محرم کے، کیا وہ ہمارے ساتھ جا سکتی ہیں؟

جواب: جدہ اور مکہ کے درمیان سفر کی مسافت نہیں بنتی ہے جس کی وجہ سے اس سفر میں عورت کو محرم کی ضرورت نہیں ہے لہذا ماں اور بیٹی بغیر محرم کے آپ لوگوں کے ساتھ عمرہ کرنے جاسکتی

ہے تاہم محرم کے ساتھ جائے تو زیادہ بہتر اور افضل ہے۔

سوال: اگر کسی عورت کی وفات ہوتی ہے تو اس کو غیر محرم مرد کندھا دے سکتے ہیں؟

جواب: میت کو لے جاتے وقت تابوت میں رکھا جاتا ہے اور اس تابوت کو کوئی بھی کندھا دے سکتا ہے کیونکہ یہاں پر جسے کندھا دیا جاتا ہے وہ تابوت ہوتا ہے اس لئے کندھا دینے کے واسطے محرم کا ہونا ضروری نہیں ہے۔

سوال: احناف کی مسجدوں میں وضو کی ایک دعا لکھی ہوئی رہتی ہے: 'بسم اللہ العظیم والحمدللہ علی دین الاسلام" کیا یہ دعا صحیح ہے؟

جواب: طبرانی میں اس طرح کی ایک روایت آتی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو ہریرہ سے فرمایا کہ اے ابوہریرہ جب تم وضو کرو تو یہ کہو "بسم اللہ والحمدللہ"۔ اس دعا کو حنفی عالم دین ملا علی قاری نے منکر کہا ہے۔(الاسرار المرفوعہ:373)

اور احناف کی کتابوں میں وضو کی وہ دعا لکھی ملتی ہے جسے آپ نے بھیجا ہے لیکن یہ کسی مرفو ع حدیث سے ثابت نہیں ہے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی کوئی دعا وضو کے لیے ہمیں نہیں سکھائی ہےاس لئے وضو شروع کرتے ہوئے بسم اللہ کہیں گے ۔

سوال: ریلائنس نام کی ایک لائف انشورنس کمپنی ہے جس میں فراڈ کنٹرول یونٹ یعنی رسک ڈیپارٹمنٹ میں مینجر کے پوسٹ پہ تھا۔اب اس سے استعفیٰ دے دیا ہوں لیکن چونکہ مجھے فراڈ کے سلسلے میں انیس بیس سال کا تجربہ ہے اس لئے کمپنی مجھے کنسلٹنٹ کے طور پر رکھنا چاہتی ہے، میں اس کا ملازم نہیں رہوں گا ،اس میں مجھے صرف گائیڈ کرنا ہے کہ اگر فراڈ کی توقع ہے تو اس سے روکنا کیسے ہے اور اگر فراڈ ہوا ہے تو اس میں تفتیش کیسے کرنی ہے۔ اس کی اجرت مجھے دی جائے گی کیا یہ میرے لئے حلال ہے؟

جواب: انشورنس کی کسی بھی قسم کی پالیسی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جائز نہیں ہے خواہ لائف انشورنس ہو، میڈیکل انشورنس ہو، ویہیکل انشورنس ہو یا ہاؤس انشورنس ہو۔ کسی بھی طرح کی تجارتی انشورنس اسلام کے اندر جائز نہیں ہے کیونکہ اس کے اندر جوا، سود اور فریب و دھوکہ ہے۔ اس وجہ سے انشورنس کی کوئی بھی قسم اہل علم کی نظر میں جائز نہیں ہے اور جب یہ تجارت جائز نہیں ہے تو اس کے اندر نوکری کرنا بھی جائز نہیں ہے اور نوکری کے ساتھ ساتھ اس میں وہ کام بھی شامل ہے جو اس کمپنی میں تعاون کے لئے ہو یعنی تعاون کا سبب بنے۔ اس کمپنی کے لیے کنسلٹنٹ کے طور پر کام کرنا بھی جائز نہیں ہے کیونکہ یہ کام بھی دراصل گناہ کے کام پر تعاون ہے۔
کنسلٹنٹ کا کام خواہ آپ کمپنی جا کرملازم بن کر کریں یا گھر بیٹھے بغیرملازم بنے کریں اور اس کی اجرت لیں یا یہ کام بغیر اجرت کے کریں کسی بھی صورت میں یہ عمل جائز نہیں ہے اور اس عمل کی اجرت لیتے ہیں تو وہ اجرت بھی جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالی قرآن میں ارشاد فرماتا ہے کہ تم گناہ اور ظلم کے کام پر ایک دوسرے کا تعاون نہ کرو۔

 

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔