Saturday, May 7, 2016

پھلوں کے پکنے سے پہلے فروخت کردینا

پھلوں کے پکنے سے پہلے فروخت کردینا
==================
مقبول احمد سلفی

ویسے تو سال بھر کوئی نہ کوئی پھل آتا رہتاہے مگرآج کل آم کا موسم ہونے سے یہ  سوال کافی اٹھایا جارہاہے  کہ پھلوں کو پکنے سے پہلے بیچ دینا کیساہے ؟
میں سمجھتاہوں اس معاملے میں  لوگوں یہ وبا عام ہوگئی ہے کہ پھلوں کو پکنے سے پہلے ہی بیچ دیتے ہیں تاکہ ناگہانی کسی آفت سے نقصان نہ اٹھانا پڑے جبکہ اس سلسلے میں شریعت کا واضح موقف ہے کہ پھلوں کواس کی درستگی سے پہلے بیچنا جائز نہیں ہے ۔
بخاری شریف کی روایت ہے :
نَهَى النبيُّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ عن بيعِ الثمارِ حتى يَبْدُو صَلاحُهَا .(صحيح البخاري:1487)
ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کو ان کی پختگی اور بہتری ظاہر ہو جانے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا ہے۔
اس حدیث میں صلاح کا لفظ ہے ، بخاری کی دوسری روایت سے صلاح کا معنی بھی متعین ہوجاتا ہے ۔
نَهَى النبيُّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ عن بيعِ الثمرةِ حتى يَبْدُو صَلاحُهَا ، وكان إذا سُئِلَ عن صَلاحِهَا ، قال : حتى تَذْهَبَ عَاهَتُهُ .(صحيح البخاري:1486)
ترجمہ : نبی ﷺ نے پھلوں کے پکنے سے پہلے اس کی خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے، جب آپ سے صلاح کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: یہاں تک کہ نقصان کا اندیشہ نہ رہے۔
علامہ البانی رحمہ اللہ نے غایۃ المرام میں صحیح سند کے ساتھ اس سے متعلق صاف اور واضح روایت ذکر کی ہے ۔
أن النبيَّ نهى عن بيعِ الثمارِ في الحقولِ أو الحدائقِ قبل أن يبدوَ صلاحَها ويعرفُ أنها سالمةٌ من العاهاتِ والآفاتِ(غاية المرام:370)
ترجمہ : نبی ﷺ نے کھیتوں یا باغیچوں میں پھلوں کی درستگی (پکنے ) سے پہلے بیچنے سے منع کیا ہے ،یہاں تک کہ پھلوں کے نقصان اور آفت سے سلامتی کا یقین نہ ہوجائے ۔

اب یہ بات واضح ہوگئی کہ بعض لوگ ناگہانی سے آفت سے بچنے کے لئے پھلوں کو پختگی سے پہلے بیچ دیتے ہیں ۔ اس صورت میں بیچنے والا تو نقصان سے بچ جائے گا مگر خریدارکو نقصان کا اندیشہ رہے گا۔ اسلام نے جہاں بیچنے والے کو پھلوں کے پکنے سے پہلے بیچنے سے منع کیا وہیں خریدار کو بھی اس قسم کی خریدوفروخت سے منع کیا تاکہ بیع و شراء کا یہ کاروبار ہی بند ہوجائے ۔
أن رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم نهى عن بيعِ الثمارِ حتى يبدو صلاحُها، نهى البائعَ والمبتاعَ .(صحيح البخاري:2194)
ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کو ان کی پختگی اور بہتری ظاہر ہو جانے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا ہے، بیچنے والوں کو اور خریدنے والوں کو بھی منع فرمايا۔
لوگ سال دوسال تک کے لئے بھی خریدوفروخت کرلیتے ہیں یہ تو اور بھی ظلم پرمبنی تجارت ہے ۔
یہ تجارت کئی پہلؤں سے اسلامی تجارت کے منافی ہے مثلادھوکہ ، نقصان، ظلم اور زیادتی۔
لہذا ہم ایسے ہی پھلوں کی تجارت کریں جو پک جائے اور کھانے کے قابل ہوجائے جیساکہ بخاری شریف کی ایک دوسری روایت ہے :
نَهى النبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم عن بيعِ النخلِ حتى يؤكَلَ منه ، أو يأكُلَ منه ، وحتى يوزَنَ .(صحيح البخاري:2247)
رسول اللہﷺ نے کھجور کی بیع سے (اس وقت تک) منع کیا ہے جب تک کہ وہ کھائے جانے یا کھلائے جانے اور کاٹ کر رکھنے کے لائق نہ ہو۔
"یوزن" سےمراد:کاٹ کر محفوظ رکھنے کے قابل ہوجانا۔


0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔