دو تین سال کے لئے درخت کا پھل بیچنا
=====================
پهلوں کے پکنے اور بیچنے کے حوالے سے شیخ صاحب
ایک سوال ہے ..
کہ پاکستان میں عموما امرود کا باغ دو سال ، تین
سال یا اس سے زیادہ سال کے لئے ٹهیکے پر دے دیا جاتا ہے ...
اب ان سالوں میں باغ کی حفاظت اور پانی وغیرہ کی
مکمل ذمہ داری خریدنے والے پر ہوتی ہے اور جو بهی پهل لگے ، اچها ہو یا برا ،
زیادہ ہو یا کم وہ اسی کے ذمہ ہے ...
کیا ایسا کرنا ٹهیک ہوگا ...؟؟
اس بیع کو معاومہ کہتے ہیں جو کہ اسلام میں منع
ہے یعنی سالوں کے حساب سے پھلوں کو بیچنا شرعا جائز نہیں ہے ۔
نهى رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ عن
المُحاقلةِ والمُزابنةِ والمُعاومةِ والمُخابرةِ قال أحدُهما : بيعُ السِّنينَ هي
المُعاومةُ۔ (صحيح مسلم:1536)
ترجمہ : رسول اللہﷺ نے محاقلہ، مزابنہ سے اور
معاومہ سے اور مخابرہ سے منع فرمایا ہے۔راویوں میں سے ایک نے کہا کہ معاومہ سے
مراد یہ ہے کہ اپنے درخت کا پھل کئی سال کے لئے بیچ دیا جائے۔
لہذا ایسی بیع نہ کی جائے ۔
واللہ اعلم
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔