Sunday, March 6, 2016

دوسری شادی کے لئے پہلی بیوی سے اجازت لینا

دوسری شادی کے لئے پہلی بیوی سے اجازت لینا
===================
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا فرماتے ہیں وعلماء کرام کی ایک سادی سدا آدمی کو دوسری سادی کرنے کے لئے پہلے والی بیوی سے اجازت طلب کر نا ضروری ہے اور اگر بیوی اجازت نہ دے تو کیا کرے برائے مہربانی رہنمائی کریں
جزاک اللہ خیر


وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ :
ایک بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کا حکم صرف مرد کو ملا ہے ۔ عورت کو اختیار نہیں کہ وہ ایک شوہر کے ہوئے ہوئے دوسری شادی کرے ۔
دوسری شادی کے معاملے میں مرد خود مختار ہے اسے پہلی بیوی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں کیونکہ دوسری شادی کی ضرورت مرد کو ہے نہ کہ عورت(شوہرہوتے ہوئے)کواس لئے عورت سے پوچھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ نیز قرآن وحدیث میں پہلی بیوی سے اجازت طلبی کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔
ہاں اگر کوئی شخص بطور احسان پہلی بیوی سے پوچھ لیتا ہے یا اس کو دوسری شادی کی اطلاع دیتا ہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

واللہ اعلم
کتبہ

مقبول احمد سلفی


0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔