Saturday, March 5, 2016

خطبہ کے دوران سونا

خطبہ کے دوران سونا
==============

جمعہ کے خطبہ کے دوران بعض لوگ خراٹے لیکر سوتے ہیں ایسے لوگوں کا کیا حکم ہے ؟ کیا انہیں خطبے کا ثواب ملتا ہے ؟ اور اگر اسی حالت میں بغیروضو نماز پڑھ لیتے ہیں تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے ؟

گہری نیند ناقض وضو ہے ، اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے مگر سونے سے پہلے جوغنودگی کی کیفیت ہوتی ہے جسے اونگھ بھی کہتے ہیں جس میں سر ہلنے لگتا ہے اور شعور باقی رہتا ہے اس سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ اس کی دلیل :
عَنْ عَائِشَةَ ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لَا يَدْرِي لَعَلَّهُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ.(بخاری : 212)
ترجمہ :حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز پڑھتے وقت تم میں سے کسی کو اونگھ آ جائے، تو چاہیے کہ وہ سو رہے یہاں تک کہ نیند (کا اثر) اس سے ختم ہو جائے۔ اس لیے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے لگے اور وہ اونگھ رہا ہو تو وہ کچھ نہیں جانے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کر رہا ہے یا اپنے نفس کو بددعا دے رہا ہے۔
دوسری حدیث میں صراحت سے موجود ہے کہ صحابہ نیند یعنی اونگھ کی حالت میں وضو نہیں کرتے ۔
كان أصحابُ رسولِ اللهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ : ينامونَ ثمَّ يقومونَ فيُصلُّونَ ولا يتوضؤونَ (صحيح الترمذي:78)
ترجمہ : نبی ﷺ کے اصحاب( صحابہ کرام) کو نیند آتی ، وہ کھڑے ہوتے اور نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے۔
یہاں نیند سے گہرہ نیند نہیں ہلکی نیند مراد ہے ۔
اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ہلکی نیند ناقض وضو نہیں مگر جو گہری نیند ہوجس سے شعور زائل ہوجاتاہواس نیند سے وضوٹوٹ جاتاہے خواہ بیٹھا ہو، کھڑاہو یا ٹیک لگایاہو یا خطبے کی حالت میں ہو۔
جہاں تک اس کے خطبے کا ثواب ہے تو اللہ تعالی اس کے ساتھ اس کی نیت کے حساب سے بدلہ دے گا۔ نیت خطبے سننے کی تھی اور کوشش کے باوجود نہیں سن سکا توبھی پورا پورا اجر ملے ۔ ان شاء اللہ

واللہ اعلم

کتبہ
مقبول احمد سلفی


0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔