حمام میں قرآن مجید لے جانے کا حکم
------------------------------------------
اہل علم کے اقوال کی روشنی میں انسان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ حمام میں قرآن مجید لے کر جائے کیونکہ یہ بات سب جانتے ہیں کہ قرآن مجید کے احترام اور تعظیم کا تقاضا یہ ہے کہ اسے ایسی جگہ نہیں لے جایاجائے جہاں اس کی بے حرمتی ہوتی ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک انگوٹھی ٹھی جس پر ’’محمد رسول اللہ ‘‘ منقش تھا۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنائی اور اس میں محمد رسول اللہ منقش کروایا۔ محمد ایک سطر ، رسول ایک سطر ، اور لفظ اللہ ایک سطر تھی۔
(بخاري مسلم، ترمذي)
اور آپ بیت الخلا جاتے وقت اس کو اُتاردیا کرتے تھے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء داخل ہوتے تو انگوٹھی اُتار دیتے تھے۔ (ترمذي)
------------------------------------------
اہل علم کے اقوال کی روشنی میں انسان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ حمام میں قرآن مجید لے کر جائے کیونکہ یہ بات سب جانتے ہیں کہ قرآن مجید کے احترام اور تعظیم کا تقاضا یہ ہے کہ اسے ایسی جگہ نہیں لے جایاجائے جہاں اس کی بے حرمتی ہوتی ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک انگوٹھی ٹھی جس پر ’’محمد رسول اللہ ‘‘ منقش تھا۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنائی اور اس میں محمد رسول اللہ منقش کروایا۔ محمد ایک سطر ، رسول ایک سطر ، اور لفظ اللہ ایک سطر تھی۔
(بخاري مسلم، ترمذي)
اور آپ بیت الخلا جاتے وقت اس کو اُتاردیا کرتے تھے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء داخل ہوتے تو انگوٹھی اُتار دیتے تھے۔ (ترمذي)
اس لئے حمام جاتے وقت قرآن مجید یا ذکر یا دیگر قابل احترام تحریر نہ لے جائے ۔
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔