Sunday, October 12, 2014

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذرائع معاش

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذرائع معاش
=======================
(1) والدین کی وراثت سے حصہ:
رسول اللہ1کو اپنے والد عبداللہ بن عبدالمطلب کی طرف سے وراثت میں کوئی جائیداد یا مال و دولت نہیں ملا، سوائے ایک مکان کے جو آپ کے چچا زاد عقیل کے قبضہ میں تھا .

(2)گلہ بانی :
حضرت عبید بن عمیرؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا :
"ما من نبيٍ إلا وقد رعی الغنم قیل وأنت یا رسول اﷲ؟ قال:وأنا،أنا رعیتھا لأھل مکۃ بقراریط" (الطبقات الکبرٰی:۱؍۱۲۲)
''کوئی نبی ایسے مبعوث نہیں ہوئے جنہوں نے بکریا ں نہ چرا ئی ہوں۔دریا فت کیا گیا: یارسول اللہ! آپ نے بھی؟ فرمایا:ہا ں میں نے بھی اہل مکہ کی بکریاں چندقراریط(قیراط) پر چرائیں تھیں۔''

(3)تجا رت:
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جوان ہوئے توآپ نے تجا رت کو معاش کاذریعہ بنایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذرائع آمدنی میں سب سے بڑا ذریعہ تجا رت تھا۔ تجارت کے سلسلہ میں آپ نے کئی ایک اَسفا ر کیے۔ جن کا تذکرہ تفصیل سے ملتا ہے اِن میں سے کچھ شام، بحرین ، یمن اور چین کی طرف ہیں۔ اِ ن اسفار میں آپ کو کا فی نفع حا صل ہوا ہوگا۔

(4)قریشی صحابہ کی طرف سے اِعانت و کفا لت :
نبوت کے بعد ابتدائی اَدوار میں متمو ل صحا بہ کرا م رضوان اللہ علیہم اجمعین کو آپ صلی اللہ علیہ وسلمکی کفالت کی سعادت نصیب ہو ئی۔ ان خو ش بخت اَفراد میں حضرت ابو بکر صدیقؓ، سعدؓ بن معاذ اور عما ر بن حزم ؓ کے نام قابلِ ذکرہیں۔

(5) اَنصارکی طرف سے اِعانت :
انصارِ مدینہ نے بھی مکی صحابہ کی طرح دل و جان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھرپور خدمت کی۔ ہجرت کے بعد سب سے پہلی میزبانی حضرت ابو ایوب انصاری ؓ کے حصہ میں آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنا عرصہ بھی اُن کے ہا ں قیام فرمایا، آپ کی ضروریات پورا کرنے کا شرف اُنہی کے نصیب میں آیا۔

(6)مالِ غنیمت :
مالِ غنیمت میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوپانچواں حصہ بطور ِ مالِ خمس ملتا تھا جو بیت المال کا حصہ ہو تا تھا مگر اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرو ریا ت بھی پوری کی جاتیں تھیں۔

(7)مالِ فے :
مالِ فے ایسے مال کو کہتے ہیں جو دشمن سے لڑائی کئے بغیر حا صل ہو جا ئے اوریہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہی خاص تھا۔ اور آپ کو اختیار بھی تھا کہ اس میں سے جس کوچاہیں دیں۔

(8)بیت المال سے مقرر شدہ حصہ :
بیت الما ل میں سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ مقرر تھا اور اِس سے آپ کے اہل و عیا ل پر خرچ کیا جا تا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین نصف پیداوار پر مزارعت کے لیے دے رکھی تھی۔(صحیح بخاری:۴۲۴۰،۴۲۴۷)

(9)یہودی مخیریقکی جا ئیداد کاتحفہ :
مخیریققبیلہ بنو قینقاع کایہودی تھا،امیر ترین آدمی تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی انتہائی عقیدت تھی۔ اس کے سا ت با غ تھے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں غزوئہ اُحد میں شریک ہو ا اُس نے غزوہ میں شرکت کے وقت وصیت فرما ئی تھی کہ اگروہ فوت ہو جائے تو اُس کے با غا ت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت ہوںگے ۔

(10) غیر ملکی با دشا ہوں کے تحائف :
نبی صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ قبول نہیں کرتے تھے، ہدیہ اور تحفہ بخوشی قبول فرماتے تھے اور اکثر اَوقات تحفہ بھیجنے والے کو اُس سے بہتر تحفہ دیا کرتے تھے۔ مجمو عی طور پر آپ کی آمدن میں ایک مناسب حصہ تحائف کا شامل تھا جس میں مسلمانوں کے تحائف کے علاوہ مدینہ کے غیر مسلموں کی طرف سے ہدایا کے ساتھ ساتھ غیر ملکی حکمرا نوں کے تحائف بھی شامل تھے۔

مختصر طور پر یہ تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذرائع معاش مگر اپنی معیشت کو دوسروں پر قربان کردیتے تھے۔ اس لئے

گھر میں اکثر فا قہ رہتاتھا۔ رات کے وقت تواکثر اوقات سارا گھرانہ نبو ی بھوک اوڑھ کرسوتا۔رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاشانۂ مبارک میں کئی راتیں متواتر ایسی گزر جاتیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے گھر والو ں کوکھانا نصیب نہ ہوتا۔مسلسل دو دو مہینے تک آگ کو یہ سعادت حا صل نہ ہو ئی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں جلے۔ (صحیح مسلم:۲۹۷۲)

؎خود نہ کھاتے تھے وہ اوروں کو کھلادیتے تھے
      کتنے صابر تھے محمد کے گھرانے والے


باختصار آباد شاد پوری

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔