Saturday, October 11, 2014

معاشی پہلو سے رسول کریم کی سیرت مطہرہ کے چند نقوش

معاشی پہلو سے رسول کریم کی سیرت مطہرہ کے چند نقوش
-----------------------------------------------------------------------
رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معا شی زندگی کے با ب سے چند نقوش خلا صہ کے طور پر پیش خدمت ہیں جو اُمت کی رہنمائی میں زرّیں اُصول کا درجہ رکھتے ہیں :
(1) مسلما ن کو انتھک محنتی اورجفا کش ہو ناچاہیے نہ کہ سست اور کاہل،
کیونکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ سستی سے پناہ ما نگی ہے۔(صحیح بخاری:۶۳۶۹)
(2) اس عارضی جہانِ رنگ و بو میں ہر انسان کو زندگی کے سانس جینے کے لیے اپنی مدد آپ کے اُصول کے تحت کوئی نہ کوئی پیشہ و روزگار اختیار کرنا چا ہیے، تاکہ دوسروں کے سا منے دست دراز کرنے کی بجا ئے کمزوروں کی دستگیری کی جائے ۔
(3) ہر انسان کو اپنی حیثیت،استعداد اور وسائل کو بھرپور بروئے کار لا ناچا ہیے تاکہ انسانی معاشرہ سے کم ہمتی کا خاتمہ ہو، جواں جذبے پروان چڑھیں اور اجتما عی استعدادِ کار میں اضافہ ہو۔
(4) فرزندانِ اسلام کو ذریعۂ معاش اختیا ر کرتے ہو ئے جاہلی معاشی تقسیم کو آڑ نہیں بناناچاہیے یعنی پیشوں کی اونچ نیچ میں نہیں پڑنا چاہئے بلکہ اُسوئہ رسول کو معیار سمجھنا چا ہیے۔
(5) انسان ذاتی مفاد کے سا تھ ساتھ اجتما عی مفاد کو بھی مدنظر رکھے اور دوسرے لو گوں کو بھی زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کی سعی کرے تا کہ انسانی معاشرے میں ہمدردی، غمگساری اورباہمی تعاون کی رِیت بتدریج ترقی پائے۔
(6) مال کی فروانی کے باوجود بھی ذاتی ضروریات پر انتہائی مناسب خرچ کرنا
چاہیے۔ اور ضرورت سے زائد اَموال کو مفاداتِ عامہ ، فلاحِ انسا نیت، اور فی سبیل اللہ کی مَدمیں خرچ کر نا چا ہیے۔
(7) رزقِ حلال کمانا بہت بڑی نیکی ہے اور اِس نیکی کو اسلام کی معاشی ہدایات کے مطا بق بجا لا ناچاہیے۔اپنی تجارتی اور دفتری زندگی کو صدق وامانت اور عہدو وَفاجیسے اَوصافِ حمیدہ سے مزین کرنا چا ہیے۔
(8) حلال و حرام کا مسئلہ ہمیشہ مد نظر رکھنا چا ہیے،کیو نکہ یہ اسلا می معیشت میں ایک سنگ ِ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔
(9) اپنا پیٹ پالنے کے لیے کسی دوسرے کا نوالہ چھیننے کی کوئی تدبیرو عمل ہماری معا شی جدوجہد کا حصہ نہیں ہو ناچاہیے۔
(10) ساری معاشی جدوجہد برو ئے کارلا کر بھی توکل خالق و مالک پر کرنا
چاہیے،کیو نکہ
{ اِنَّ اﷲَ ھُوَ الرَّزَّاقُ ذُوْا الْقُوَّۃِ الْمَتِیْنِ }(الذاریات:۵۸)
'' اللہ تعالیٰ تو خود ہی سب کا روزی رساں توانائی والا اور زور آور ہے۔''
{ وَمَا مِنْ دَابَّۃٍ اِلَّا عَلَی اﷲِ رِزْقُہَا}(ہود:۶)
''زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں سب کی روزیاں اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں۔''
اور{ وَفِیْ السَّمَاء رِزْقُکُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ}(الذاریات:۲۲)
''اور تمھاری روزی اور جو تم سے وعدہ کیا جاتا ہے سب آسمان میں ہے۔''
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں اسوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنانے کی توفیق دے ۔ آمین
باختصار آبادشاہ پوری

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔