مصیبت یافتنے سے گھبراکر
موت کی تمنا کرنا
==================
مقبول احمد سلفی
مقبول احمد سلفی
یہ فتنے کا زمانہ ہے ،
مصائب ومشکلات بھی عام ہیں۔ ویسے کوئی زمانہ فتنہ، مصیبت، تکلیف، آفت اور مشکل سے
خالی نہیں رہا مگر زمانے کے حالات ہمیشہ بدلتے رہے ہیں۔ یہ دور واقعی پرفتن اور
ایمان آزماہے۔ اس وقت ایمان والوں کو جہاں فتنوں سے نبردآزمائی مشکل ہے وہیں
برائیوں بچنا بہت دشوار ہورہاہے ۔کہیں کہیں مسلمانوں کو دین اسلام کی بعض تعلیمات
پہ چلنا آگ کے انگاروں پہ چلنے جیساہے۔
ایسے عالم میں بعض
غیورقسم کے مسلمان مردوخاتون سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر ہم مصائب ومشکلات اور زمانے
کے شروفتن کا سامنا نہ کرسکیں تو کیا موت کا راستہ اختیار کرسکتے ہیں یا کم از کم
موت کی تمنا کرسکتے ہیں؟
اسلام نے زندگی کا جو
قانون دیا ہے اس کے دامن میں امن وسکون اور راحت واطمینان ہے۔ اس سے تجاوز کرنا
شریعت الیہ سے بغاوت وروگردانی کے ساتھ فتنہ وفساد کا راستہ ہے ۔
اسلام نے ہمارے لئے
شروفتن، مصائب ومشکلات اور رنج والم کا معقول حل پیش کیا ہے اس لئے اللہ کے بندے
کو کبھی بھی زمانے کے کسی قسم کے حالات سے خوف نہیں کھانا چاہئے ۔
ان حالات سے متعلق اسلام کے
چند اصول :
(1) سب سے پہلے ایک
مسلمان کسی بھی مصیبت کو تقدیر کا حصہ سمجھے اور کاتب تقدیر کے اس فیصلے پہ راضی
ہوکراپنے اعمال کا محاسبہ کرے کیونکہ کبھی مصیبت آزمائش کے لئے ہوتی ہے تو کبھی
مصیبت بداعمالی کی وجہ سے ۔اگر اس نے خطا کی ہے تو رب العالمین سے معافی مانگے
مصیبت دور ہوجائے گی ۔
(2) فتنہ کسی برائی سے
شدیدتر ہوتا ہے، اس کی تاب لانا سب کے بس میں نہیں ہوتا ۔ اس مرحلے میں ایمان
کااصل امتحان شروع ہوتاہے ۔ اس لئے مومن کو فتنے کے زمانے میں صبر سے کام
لیناہےاور راہ ایمان پہ جمے رہناہے کیونکہ فتنے کے زمانے میں دین پہ عمل کرنے کا
ثواب پچاس صحابی عمل کے برابر ہے ۔ فرمان نبوی ﷺ ہے :
( َإِنَّ مِنْ
وَرَائِكُمْ أَيَّامًا الصَّبْرُ فِيهِنَّ مِثْلُ الْقَبْضِ عَلَى الْجَمْرِ ،
لِلْعَامِلِ فِيهِنَّ مِثْلُ أَجْرِ خَمْسِينَ رَجُلًا يَعْمَلُونَ مِثْلَ
عَمَلِكُمْ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ وَزَادَنِي غَيْرُ عُتْبَةَ
: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَجْرُ خَمْسِينَ مِنَّا أَوْ مِنْهُمْ ؟! قَالَ بَلْ
أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْكُمْ )(سنن الترمذي :3058)
ترجمہ : تمہارے بعد
ایام صبر ہونگے اس دور میں صبر کرنا ایسے ہی ہوگا جیسے انگارہ پکڑنا۔ ان (لوگوں کی
موجودگی) میں عامل کے لئے پچاس آدمیوں کے عمل کے مطابق اجر ہوگا جو اس کے عمل کی
طرح کرتے ہونگے انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول ان میں سے (اُس دور کے) پچاس آدمیوں
کا اجر۔ آپؐ نے فرمایا : تم میں سے پچاس آدمیوں کا اجر (یعنی پچاس صحابہ کرام کے
عمل کے برابر اجر ہوگا)۔
حکم : اس حدیث پہ کلام
ہے مگر کثرت طرق کی وجہ سے قابل احتجاج ہے ۔ (دیکھیں : السلسلہ الصحیحۃ : 494)
(3)موت کا ایک وقت
متعین وہ کسی کے مانگنے سے نہیں آتی پھربھی اسلام نے لوگوں پہ واضح کردیا کہ موت
کی کوئی تمنا نہ کرے ۔اس کہ وجہ بھی بتلادی گئی کہ نیک ہوگا تو مزید نیکی کا موقع
ملےگا اور بد ہوگا تو توبہ کا موقع میسر ہوگا۔
لا يتمنَّى أحدُكمُ
الموتَ، إما محسِنًا فلعلَّه يَزدادُ، وإما مُسيئًا فلعلَّه يَستَعتِبُ(صحيح
البخاري:7235)
ترجمہ : رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کوئی شخص تم میں سے موت کی آرزو نہ کرے ۔ اگر وہ نیک ہے
تو ممکن ہے نیکی میں اور زیادہ ہو اور اگر براہے تو ممکن ہے اس سے توبہ کر لے ۔
(4) اسلام نے حفظان صحت
پہ خاصا دھیان دیا ہے اور اپنے ماننے والےکو صحت کا خیال کرنے اور خود کو ہلاکت
میں ڈالنے سے منع کیا ہے ۔ فرمان ربانی ہے : وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى
التَّهْلُكَةِ ( البقرة:195)
ترجمہ: اور اپنے ہاتھ
کو ہلاکت میں مت ڈالو۔
موت کی تمنا کرنا،
خودکشی کرنا یا موت کے لئے کوئی بھی راستہ اختیار کرنا اسلام کے حفظان صحت کے خلاف
ہے ۔
(5) ہاں ایک صورت ہے کہ
اگر فتنہ شدید ترین ہو، اس کی تاب لانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہویعنی جان کے
لالے پڑ گئے ہوں تو اس وقت موت کی دعا کرسکتے ہیں جیساکہ حدیث میں فتنے کے وقت کی دعا
آئی ہے :
وإذا أردتَ فتنةً في
قومٍ فتوفَّني غيرَ مفتونٍ(صحيح الترمذي:3235)
ترجمہ : اے اللہ اگر تو
قوم کو فتنہ میں مبتلا کرے تو مجھے بغیر آزمائے ہوئے وفات دیدے۔
صحیحین کی ایک روایت
میں ہے:
لا تقومُ الساعةُ حتى
يمرَّ الرجلُ بقبرِ الرجلِ فيقول : يا ليْتَنِي مكانَه(بخاری :7115 ومسلم:157)
ترجمہ : قیامت اس وقت
تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ آدمی ، قبر کے پاس سے نہ گذرے اور کہے : اے کاش میں اس
کی جگہ ہوتا۔
اس حدیث میں ذکر ہے کہ
خروج دجال کے وقت ایک شخص کسی قبر پر گذرے گااور فتن و زلزلے دیکھ کر کہے
گا"یالیتنی مکانہ"(اے کاش میں اس کی جگہ ہوتا)۔
فتنے کے وقت موت کی دعا
کرنے کے لئے اسلامی رو سے چند ہدایات ہیں۔
(الف) فتنے سے گھبراکر
موت کا راستہ اختیارکرنا خودکشی ہے اور اسلام میں خودکشی حرام ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان
ہے :
مَن قتل نفسه بشيء في
الدنيا عذب به يوم القيامة (رواه البخاري :5700 ومسلم: 110 ) .
ترجمہ :جس نے دنيا ميں
اپنے آپ كو كسى چيز سے قتل كيا اسے قيامت كے روز اسى كا عذاب ديا جائيگا۔
(ب) موت کی تمنا اور
آرزو بھی نہ کرے کیونکہ موت کا وقت متعین ہے وہ وقت پہ ہی آئے گی ۔ اللہ کا فرمان
ہے :
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ
أَجَلٌ ۖ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ
لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً ۖ
وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ (اعراف:34)
ترجمہ : ہرگروہ کے لئے
ایک متعین مدت کی زندگی ہے جب اسکا متعینہ وقت آجاتاہے تو ایک لمحہ وہ وقت پیچھے
ھو تا ہے نہ آگے۔
(ج)اس طرح کی شدت فتن
کی تاب نہ لاکر صرف موت کی دعا کرسکتے ہیں جومتعدد آیات و صحیح احادیث سے ثابت
ہیں۔
فتنے کے وقت موت کے لئے
مختلف دعائیں:
(1)ساحرین فرعون کی
دعا:رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ (اعراف:126)
(2)یوسف علیہ السلام کی
دعا:فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا
وَالْآخِرَةِ ۖ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي
بِالصَّالِحِينَ (یوسف:101)
(3)اللَّهمَّ أحيني ما
كانتِ الحياةُ خيرًا لي ، وتوفَّني إذا كانتِ الوفاةُ خيرًا لي(صحيح البخاري:6351
)
(4)وإذا أردتَ فتنةً في
قومٍ فتوفَّني غيرَ مفتونٍ(صحيح الترمذي:3235)
(5)حضرت عمر رضی اللہ
عنہ کی دعا:اللهمَّ ارزقْنِي شهادَةً في سبيلِكَ ، واجعلْ موتِي في بلَدِ رسولِكَ
صلى اللهُ عليهِ وسلَّمَ .
(6) حضرت علی رضی اللہ
عنہ کی دعا:اللهم خذني إليك، فقد سئمتهم وسئموني(رواه عبد الرزاق في
المصنف:18670وابن أبي شيبة في المصنف :38255 ) واسنادہ صحیح
(7) امام بخاری ؒ کی
دعا جب امیر خراسان سے جھگڑا پیش آیا: اللهم توفني إليك(تفسیرابن کثیر)
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔