Saturday, November 7, 2026

نماز میں سورہ فاتحہ کے بعد کم ازکم کتنی آیات تلاوت کی جائے؟

نماز میں سورہ فاتحہ کے بعد کم ازکم کتنی آیات تلاوت کی جائے؟

سب سے پہلے ایک بنیادی بات جان لی جائے کہ نماز میں سورہ فاتحہ پڑھنا رکن ہے، اس کے بغیر نماز نہیں ہوگی۔ سورہ فاتحہ کے بعد کوئی دوسری سورت پڑھنا مسنون و مستحب ہے یعنی اس کا پڑھنا ضروری نہیں ہے، اس کے بغیر بھی نماز ہوجائے گی تاہم عمدا اسے نہیں چھوڑنا چاہئے کیونکہ رسول اللہ ﷺ سورہ فاتحہ کے بعد بھی تلاوت کرتے تھے۔

اب سوال یہ ہے کہ سورت فاتحہ کے بعد کم ازکم کتنی آیات کی تلاوت کرنی چاہئے ، اس بارے میں احادیث میں صراحت سے مذکور نہیں ہے۔قرآن کریم میں عمومی انداز میں اللہ کا حکم ہے: فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ (المزمل: 20)

ترجمہ:قرآن میں سے جو میسر ہو پڑھو۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی اپنی سہولت اور یادداشت کے اعتبار سے دو ،چار، چھ جتنی بھی آیات کی تلاوت کرے، کافی ہے۔ہررکعت میں مکمل سورت پڑھا کریں تو یہ زیادہ بہتر ہے کیونکہ نبی ﷺ عموما مکمل سورت پڑھا کرتے تھے جیساکہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں:

كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ سُورَةٍ، وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا (صحيح البخاري:762)

ترجمہ:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی دو رکعات میں سورۃ فاتحہ اور ایک ایک سورۃ پڑھتے تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی کوئی آیت ہمیں سنا بھی دیا کرتے۔

نبی ﷺ سے بسا أوقات سورت کا کچھ حصہ بھی پڑھنا منقول ہے اس لئے کوئی نماز میں مکمل سورت پڑھے یا کسی لمبی سورت کا کچھ حصہ اور چند آیات کی تلاوت کرے ، یہ بھی کافی ہے۔

قرآن کی سب سے چھوٹی سورت، العصر تین آیات پر مشتمل ہے، اس سے استدلال کیا جاتا ہے کہ نمازمیں کم ازکم تین آیات کی تلاوت کرنا چاہئے بلکہ رات میں سوتے وقت سورہ بقرہ کی دو آیات، تلاوت کرنے کی فضیلت آئی ہے، اس سے دو آیات پڑھنے پربھی  استدلال کیا جاتا ہے جیساکہ صحیح بخاری(5051) میں ہے۔

امام بخاری ؒ نے"فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ"۔۔۔کے تحت ذکر کیا ہے کہ سفیان بن عیینہ نے کہا مجھ سے ابن شبرمہ نے بیان کیا (جو کوفہ کے قاضی تھے) کہ میں نے غور کیا کہ نماز میں کتنا قرآن پڑھنا کافی ہوسکتا ہے۔ پھر میں نے دیکھا کہ ایک سورت میں تین آیتوں سے کم نہیں ہے۔ اس لیے میں نے یہ رائے قائم کی کہ کسی کے لیے تین آیتوں سے کم پڑھنا مناسب نہیں۔

پھر آگے یہ ذکر ہے کہ علقمہ، ابومسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں: میں نے ان سے ملاقات کی تو وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا (کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا) کہ جس نے سورۃ البقرہ کے آخری کی دو آیتیں رات میں پڑھ لیں وہ اس کے لیے کافی ہیں۔ (صحيح البخاري:5051)

اس طرح ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کوئی نماز میں دو آیات بھی تلاوت کرسکتا ہے بلکہ کوئی  نماز میں ایک لمبی آیت جیسے آیۃالکرسی کی تلاوت کرے تو اس میں بھی حرج نہیں ہے کیونکہ ایک آیت نہ پڑھنے کی کوئی دلیل نہیں ہے تاہم بہتر ہے کہ آپ نماز میں مکمل سورت پڑھاکریں خواہ چھوٹی سورتیں ہی کیوں نہ ہوں نیز اگر لمبی سورت کا کچھ حصہ پڑھنا چاہتے ہیں تو بھی جائز ہے اور چند آیات کی تلاوت کرنا چاہیں تو بھی جائز ہے۔ اس میں کوئی تحدید نہیں ہے، جتنی آیات پڑھنا سہل ہو، دو ، تین، چار ،چھ آیات  اتنی آیات کی تلاوت کریں لیکن ایک بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ کبھی کبھی ایک آیت میں ایک بات مذکور ہوتی ہے، اس آیت کا تعلق اگلی آیت سے ہوتا  ہے لہذا تلاوت کرتے ہوئے معنوی ربط قائم رہے جیسے سورہ مدثر میں ہے: مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ(42) تمہیں دوزخ میں کس چیز نے ڈالا۔

اس آیت کا تعلق اگلی آیات سے ہے، لہذا اگلی آیات بھی تلاوت کریں جن میں یہ مضمون ذکر ہے کہ "وہ جواب دیں گے ہم نمازی نہ تھے۔ نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔اور ہم بحث کرنے والے (انکاریوں) کا ساتھ دے کر بحث مباحثہ میں مشغول رہا کرتے تھے اور روز جزا کو جھٹلاتے تھے۔ یہاں تک کہ ہمیں موت آگئی"۔

واللہ اعلم بالصواب

مقبول احمد سلفی – جدہ

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔