آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(113)
جواب از: شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ
جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ – سعودی عرب
سوال: میرے جیٹھ کے گھر
،زیور اور پیسوں کی چوری ہوئی تو وہ لوگ ایک عورت کے پاس گئے جس کے پاس کوئی ایسا
علم ہے جس سے وہ چور کا حلیہ کے ساتھ یہ بتاتی ہے کہ اپنا کوئی چور ہے یا غیر میں
سے ہے۔ کیا ایسے لوگوں کے پاس جاکر باتوں کا اندازہ لگانا اور پوچھنا صحیح ہے؟
جواب: کسی ایسے آدمی کے پاس جانا جو غیب کی خبریں بتائے
یا مستقبل کی خبریں بتائے ، جائز نہیں ہے بلکہ یہ سخت گناہ کا باعث ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((مَنْ
اَتٰی عَرَّافًا فَسَاَلَه عَنْ شَیْئٍ لَمْ تُقْبَلْ لَه صَلٰوةَ اَرْبَعِینَ
لَیْلَةَ)) (صحیح مسلم)
ترجمہ: جو شخص کسی کاہن کے پاس جا کر اس سے کسی چیز کے
بارے میں سوال کرے، تو اس کی چالیس راتوں تک نماز قبول نہیں ہوتی۔
چور پکڑنے کے لئے جائز اسباب اختیار کئے جائیں یا
قانونی کاروائی کی جائے۔
سوال:مغرب کے وقت اگر امام کی آخری رکعت
ہو اور ہم تیسری رکعت میں شامل ہوتے ہیں تو ہم امام کی آخری رکعت کے بعد ایک اور
رکعت پڑھ کر تشھد کر کے پھر تیسری رکعت ادا کریں گے یا تشھد کے بنا دو اور پڑھ کر
سلام پھریں گے؟
جواب:جب مسبوق نماز کی کسی رکعت میں امام کے ساتھ ملتا
ہے تو وہ رکعت مسبوق کے حق میں پہلی ہے یا آخری اس بارے میں اختلاف ہے۔ اس بارے
میں جو روایات منقول ہیں، ان سے دونوں طرح استدلال کیا جاتا ہے تاہم اکثر اہل علم
کی رائے یہی ہے کہ مسبوق جس رکعت میں امام کے ساتھ ملتا ہے وہ اس کے حق میں پہلی
رکعت ہوتی ہے۔
نبی ﷺ کا فرمان ہے:«فما أدرَكتُم فصَلُّوا، وما فاتَكُم
فأتِمُّوا»( صحيح البخاري:636)
ترجمہ: جو نماز تم پا لو اسے ادا کرو اور جو فوت ہو جائے
اسے مکمل کرو۔
یہاں پر حکم دیا گیا ہے کہ جو چھوٹ جائے اس کو مکمل
کرلو اور اکثر روایات میں یہی الفاظ وارد ہیں تاہم بعض روایات ایسے بھی ہیں کہ نبی
ﷺ نے فرمایا:
صَلِّ مَا أَدْرَكْتَ، وَاقْضِ مَا سَبَقَكَ(صحيح
مسلم:602)
ترجمہ:جو نماز تم پالو اسے ادا کرو اور جو فوت ہو جائے
اس کی قضا کرو۔
یہاں قضا بھی مکمل کرنے کے معنی ہے کیونکہ کتاب و سنت
میں قضا کا لفظ مکمل کرنے کے بھی معنی میں آیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:فَإِذَا قَضَيْتُمْ
مَنَاسِكَكُمْ(البقرہ:200)
ترجمہ: جب تم اپنے مناسک ادا کر چکو۔
اور فرمایا:فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ(الجمعۃ:10)
ترجمہ: پھر جب نماز مکمل ہو جائے۔
خلاصہ یہ ہے کہ جب کوئی مغرب کی نماز میں امام کے ساتھ
ایک رکعت پائے تو وہ اس رکعت کو اپنی پہلی رکعت شمار کرے اور جب امام سلام پھیرے
تو اٹھ کر ایک رکعت پڑھے، اس میں سورہ فاتحہ کے ساتھ کوئی سورت بھی ملائے پھر قعدہ
اولی میں بیٹھے اور تشہد پڑھ کر پھر کھڑا ہو اور تیسری رکعت پڑھے، اس میں صرف سورہ
فاتحہ پڑھے اور قعدہ کرکے سلام پھیرے۔
سوال:صلاۃ الاستسقاء پڑھنے کا کیا طریقہ
ہے اور کیا یہ نماز پڑھنے کے لیے میدان میں مردوں کے ساتھ خواتین بھی جا سکتی ہیں
نیزچادرپلٹنے کا طریقہ بھی سمجھائیں؟
جواب:صلاۃ الاستسقاء کا طریقہ وہی ہے جو عیدین کی نماز
کا ہے یعنی پہلی رکعت میں سات تکبیرات اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیرات کے ساتھ۔
نماز کے بعد امام لوگوں کو وعظ و نصیحت کریں گے پھر قبلہ رخ ہوکر امام دعا کرے،
مقتدی بھی ساتھ دعا کرے اور آمین کہے۔ دعا کے آخر میں سب لوگ اپنے اوپر اوڑھے ہوئے
رومال یا چادر پلٹیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے ہاتھوں سے کمر کے نیچے سے چادر کا
دایاں کنارہ بائیں ہاتھ سے اور بایاں کنارہ دائیں ہاتھ سے پکڑ کر اوپر کرلے۔
اس نماز میں گھر سے نکل کر عورتیں بھی شامل ہوسکتی ہیں
مگر پردہ اور سادگی کے ساتھ ، نیز عورتوں کے لئے چادر پلٹنا دشوارہو اور اس میں بے
پردگی کا امکان ہو تو وہ اس عمل کو چھوڑ دے کیونکہ ان کےلئے پردہ اہم ہے۔
سوال:اگر کسی پر قرض ہو اور اس نے دو سال
سے زکوۃ ادا نہ کی ہو، اور اب ادا کرنا چاہتا ہے تو کیا زکوۃ قبول ہو جاتی ہے یا
پہلے قرض ادا کرنا ہوگا؟
جواب:قرض ایک الگ چیز ہے اور زکوۃ ایک الگ چیز ہے۔ زکوۃ
اسی وقت فرض ہوتی ہے جب مال زکوۃ ہو۔ جب آدمی کے پاس مال زکوۃ ہی نہیں تو اس پر
زکوۃ فرض نہیں ہوتی ہے۔
ایک مقروض آدمی کے پاس زکوۃ دینے کے لئے مال ہے تو اس
کی زکوۃ ادا کرے اور قرض ادا کرنا بھی اس کے ذمہ ہے۔ کسی نے دوسال سے زکوۃ نہیں دی
جبکہ اس کے پاس مال زکوۃ تھا تو وہ گنہگار ہے، وہ پہلے اللہ سے توبہ کرے اور دو
سالوں کی زکوۃ ادا کرے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ پہلے قرض ہی ادا کرے۔ قرض چکانا بھی
ضرروی ہے اور زکوۃ فرض ہو تو وقت پر زکوۃ دینا بھی ضروری ہے۔
سوال:کیا گھر میں لکے کبوتر ہو تو جادو
نہیں ہوتا اورکیا جنوں کے بچے گھر میں پرندےہونے سے اس سے کھیلتے ہیں؟
جواب: گھر میں لکے کبوتر ہو اورکوئی اورکبوتر ہو، اس کے
ہونے سے یا نہ ہونے سے گھر میں جنات و شیاطین اور جادو کا کوئی تعلق نہیں ہے۔اس
وجہ سے اس بات کی کوئی حقیقت نہیں ہے کہ گھر میں لکےکبوتر ہو تو جادو نہیں ہوتا۔
اگر کوئی اس قسم کی بات بولتا ہے تو وہ جھوٹا اور کذاب ہے، اس کی باتوں پر یقین
نہیں کیا جائے گا۔یہاں ایک حدیث سے نصیحت لے سکتے ہیں کہ کبوتر کو ہی شیطان قرار
دیا گیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں:
أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَتْبَعُ حَمَامَةً، فَقَالَ: شَيْطَانٌ يَتْبَعُ
شَيْطَانَةً(ابوداؤد:4940، شیخ البانی نے حسن صحیح کہا ہے)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو
دیکھا کہ وہ کبوتری کا (اپنی نظروں سے) پیچھا کر رہا ہے (یعنی اڑا رہا ہے) تو آپ
نے فرمایا: ”ایک شیطان ایک شیطانہ کا پیچھا کر رہا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کبوتربازی جیسے لہوولعب سے
انسان دوررہے، اس سے انسان اللہ کے ذکر سے غافل ہوتا ہے۔ کبوتر کی تجارت کا مسئلہ
الگ ہے، وہ اپنی جگہ جائز و حلال ہے۔
سوال میں مذکور دوسری بات بھی جھوٹ ہےیعنی اس بات کی
بھی کوئی حقیقت نہیں ہے کہ گھر میں پرندہ یا کبوتر رکھنے سے جنوں کے بچے اس کے
ساتھ کھیلتے ہیں۔ جنات کا معاملہ غیب سے تعلق رکھتا ہے اور ہمیں غیب کی خبر نہیں
ہے۔ اگر کوئی اس قسم کی بات بولتا ہے تو اس کی باتوں پر یقین نہیں کیا جائے گا۔
سوال: چالیسواں میں بکرا کھانے کے لیے
پیسہ دے سکتے ہیں؟
جواب: میت کے نام سے تیجہ ، قل اور چالیسواں وغیرہ بدعت
ہے، اس بدعت سے ہمیں دور رہنا ہے۔ میت کے حق میں دعائے استغفار کریں یا فقراء
ومساکین کو صدقہ دینا چاہیں توبغیر رسم و رواج اوربغیر تخصیص یوم میت کی جانب سے
فقراء کو پیسہ اور صدقہ وخیرات دے سکتے ہیں مگر میت کی طرف سے چالیسواں نہیں کرنا
ہے۔ یہ بدعت ہے اور بدعت کرنے سے ثواب نہیں ملتا، الٹا گناہ ملتا ہے۔ نبی ﷺ کا
فرمان ہے: ہر قسم کی بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔
اگر آپ میت کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں اور خود بھی
ثواب حاصل کرنا چاہتے ہیں تو سنت کے مطابق عمل کریں اور بدعت سے بچیں۔ ورنہ بدعت
پر عمل کرنے سے نہ میت کو کوئی فائدہ ہوگا اور نہ آپ کو بلکہ الٹا آپ کو گناہ ملے
گا۔
سوال: کیا جب طبیعت خراب ہو (پیریڈزہو)تو
عورت وضو کر سکتی؟
جواب:حیض کی حالت میں وضو کرنے سے حائضہ کو کوئی فائدہ
نہیں ہوگا کیونکہ وضو تو ناپاکی دور کرنے کے لئے کیا جاتا ہے حتی کہ حائضہ غسل بھی
کرلے تب بھی اسے فائدہ نہیں ہوگا۔ اس لئے حائضہ کے لئے وضو نہیں ہے۔
ایک اثر اس طرح ملتا ہے، مکحول (شامی) نے بیان کرتے
ہوئے فرمایا کہ حیض والی عورت کو نماز کے اوقات میں وضو کا حکم دیا جائے، پھر قبلہ
رو ہو کر وہ الله کو یاد کرے۔ (یعنی ذکر الٰہی میں مشغول رہے)۔ (سنن دارمي/من كتاب
الطهارة/حدیث: 1011)
گوکہ اس اثر کی سند صحیح ہے مگر مرفوع روایات میں اس
طرح کا کوئی حکم نہیں ملتا ہے، یہ محض ایک اجتہادی قول ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عورت ہو
یا مرد کبھی بھی اور کسی وقت بھی ذکر و اذکار کرسکتے ہیں، اس کے لئے وضو یا پاکی
شرط نہیں ہے۔
سوال: اگر کسی کو استطاعت نہیں تو وہ
لڑکا کی طرف سے صرف ایک جانور عقیقہ کر سکتا ہے؟
لڑکا کی طرف سے دو مستقل جانور ذبح کرنا ہے، اس لئے جس
کو دو جانور ذبح کرنے کی استطاعت ہوجائے وہ عقیقہ کرے اور دو جانور کی استطاعت نہ
ہو وہ عقیقہ نہ کرے۔ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ اگر ابھی کسی کو ایک جانور کی
استطاعت ہو تو ابھی ایک جانور ذبح کرلے اور بعد میں استطاعت ہونے پر دوسرا جانور
عقیقہ کرلے۔
سوال: میرے شوہر دوبئی میں تھےاورواپس
پاکستان آگئے ہیں نیزہمارے پاس کوئی کاروبار بھی نہیں اورآمدنی کا ذریعہ بھی
نہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ گاڑی لے کر ٹیکسی چلا لیں مگر بینک سے نکال نہیں سکتے سود
کیوجہ سے۔میرے شوہر کے دوست نے گاڑی بینک سے قسطوں پر نکالی تھی،وہ پندرہ لاکھ
روپے دے چکا ہے اور ابھی اقساط چل رہی ہیں۔ اس کو کچھ اشد ضرورت آ پڑی ہے وہ کہتا
ہے ابھی مجھے پانچ لاکھ روپے دو اور گاڑی لے لو، پھر کما کر مجھے باقی کی رقم
آہستہ آہستہ اتار دینا۔بینک کی باقی اقساط میں خود دوں گا ،اب ہم ماہانہ پیسے اس
آدمی کو ہی دیں گے،کیا ہم اس سے گاڑی لے سکتے ہیں،یہ شرعا جائز ہوگا؟
جواب:جو معاملہ آپ کے شوہر کرنا چاہتے ہیں، یہ سودی
معاملے پر تعاون ہے۔ اس کو آپ اس طرح سمجھیں کہ سودی بینک سے معاملہ کرنا سودی
معاملہ ہوتا ہے۔ پھر سودی بینک سے قسطوں پر سامان لینا یہ مزید سودی معاملہ ہے
کیونکہ اس میں نقدی قیمت سے زیادہ پیسہ دینا پڑتا ہے۔
اب یہاں سوچ کر دیکھیں کہ ایک آدمی نے گناہ کا کام کیا
اور وہ ابھی بھی گناہ کے کام میں ملوث ہی ہے ، اس کام میں آپ کا شوہر بھی ہاتھ
بٹائے تو ظاہر سی بات ہے وہ بھی گناہ میں شریک ہو گئے جبکہ اللہ تعالی نے ظلم اور
گناہ کے کام میں شریک ہونے اور اس پر تعاون کرنے سے منع کیا ہے۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے:وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ
وَالتَّقْوَى وَلا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ
إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ۔(المائدہ: 2)
ترجمہ: نیکی اور تقوی کے کاموں میں تعاون کرو، برائی
اور زیادتی کے کاموں میں تعاون مت کرو، تقوی الہی اپناؤ؛ یقیناً اللہ تعالی سخت
سزا دینے والا ہے۔
اس بنیاد پر آپ کے شوہر کے لیے یہ گاڑی خریدنا جائز
نہیں ہے کیونکہ ان کو بھی سودی کام میں شریک ہونے پر گناہ ملے گا۔الحمدللہ اس وقت
کاموں کی کمی نہیں ہے، جب تک پیسہ نہیں ہے، تب تک کسی دوسری جگہ نوکری کی جائے اور
جب اپنے پاس پیسہ ہو جائے تب اس سے اپنی تجارت کریں۔
سوال:جادو وغیر سے حفاظت کے لئے منزل
پڑھنا درست ہے؟
جواب: جادو اور جنات سے بچنے کے لیے منزل پڑھنے کی قرآن
و حدیث میں تعلیم نہیں دی گئی ہے، یہ لوگوں کا بنایا ہوا اپنا اور خود ساختہ طریقہ
ہے۔ ہر قسم کے نقصان سے بچنے کے لئے خواہ آسمانی آفت ہو، دنیاوی مسائل ہوں، دشمنوں
سے خطرہ ہو یا جن و شیاطین سے حفاظت ہو۔ ان سب امور میں سب سے اہم اور سب سے بڑی
چیز ایمان اور عمل صالح ہے۔ ایک آدمی کا جس قدر ایمان مضبوط ہوگا اور جس قدر عمل
صالح کے راستے پر گامزن ہوگا اسی قدر اللہ ہر شر سے اس کی حفاظت کرے گا۔
جو لوگ کوئی وظیفہ خاص کر لیتے ہیں یا منزل خاص کر لیتے
ہیں یا چند سورتیں خاص کر لیتے ہیں، ممکن ہے ان سے ان کے دل کو تسلی ملتی ہو لیکن
یہ قرآن و حدیث کی تعلیم نہیں ہے۔ مجرب وظیفہ کے سلسلے میں، میں نے ایک مضمون لکھا
ہے، اس کا مطالعہ مفید ہوگا جو میرے بلاگ پر موجود ہے۔
سوال: اگر گھر
میں جنات اور جادو کے اثرات ظاہر ہونے لگیں تو ان سے نجات پانے کا مسنون طریقہ کار
کیا ہے؟
جواب:انسان خود کو ایمان اور عمل صالح سے لیس کرے،تو وہ
آدمی جہاں بھی رہے گا اس جگہ کو امن و سکون اور برکت و سعادت کا گہوارہ بنا دے گا۔
اس وجہ سے اس معاملے میں اصل یہی ہے کہ آدمی خود ایمان
و عقیدہ ، علم و ذکر ، زہد و تقویٰ اور عبادت الٰہی کا پابند بنے، اس سے اس کی بھی
حفاظت ہوگی اور اس کے گھر کی بھی حفاظت ہوگی۔یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم نے حکم دیا ہے کہ اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ یعنی گھر میں اللہ کی عبادت
کرتے رہو۔اسی طرح قرآن کی تلاوت بطور خاص سورہ بقرہ کی تلاوت سے گھر کی حفاظت ہوتی
ہے۔اللہ کے ذکر سے گھر کی حفاظت ہوتی ہے۔
ان سب کا ماحصل یہ ہے کہ آدمی اپنے گھر میں اللہ کی
عبادت، تلاوت اور ذکر و اذکار کرے اور ان کاموں سے گھر میں پرہیز کرے جن سے بے
برکتی آتی ہے جیسے حرام مال گھر میں لانا، اللہ کی ناراضگی کے سامان گھر میں
رکھنا، گھروں میں موسیقی ، گانے اور فلمیں دیکھنا وغیرہ۔
دو جملوں میں اس مسئلہ میں یہ سمجھ لیں کہ صرف دو کام
کر لیں آپ کا گھر جنت بن جائے گا۔
پہلا کام : گھر سے آلات لہو و لعب نکال دیں یا اگر گھر میں
موبائل اور ٹی وی ہو تو اس کا مثبت استعمال کریں۔
دوسرا کام: اپنے گھر کو اللہ کی عبادت اور ذکر و تلاوت
سے آباد کریں۔
سوال: صدقہ دے کر فقیر و مسکین سے دعا کا
مطالبہ کرناکیسا ہے؟
جواب:اس میں اصل یہی ہے کہ آپ کسی ضرورت مند کو خالص
اللہ کی رضا کے لئے صدقہ دیں اور اس سے کسی چیز کا مطالبہ نہ کریں جیساکہ اللہ کا
فرمان ہے:
إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ
مِنكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا (الانسان:9)
ترجمہ: ہم تو تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لیے
کھلاتے ہیں نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں نہ شکر گزاری۔
دوسری بات یہ ہے کہ جب کوئی کسی کے ساتھ احسان کرے تو
اپنے محسن کے حق میں خود ہی دعا کرنا چاہئے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے
ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وَمَنْ صَنَعَ إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ،
فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُونَهُ فَادْعُوا لَهُ حَتَّى تَرَوْا أَنَّكُمْ
قَدْ كَافَأْتُمُوهُ۔(ابوداؤد: 1672، صححہ البانی)
ترجمہ: اور جو تمہارے ساتھ بھلائی کرے تم اس کا بدلہ
دو، اگر تم بدلہ دینے کے لیے کچھ نہ پاؤ تو اس کے حق میں اس وقت تک دعا کرتے رہو
جب تک کہ تم یہ نہ سمجھ لو کہ تم اسے بدلہ دے چکے۔
تیسری بات یہ ہے کہ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ صدقہ کرنے
والا فقیر و محتاج سے دعا کا مطالبہ کرسکتا ہے مگر افضل و اولی یہی ہے کہ خالص
اللہ کی رضا کے لئے صدقہ کریں، دعا کا مطالبہ نہ کریں تاکہ صدقہ کے اجر میں کوئی
کمی نہ ہو۔ محتاج از خود دعا دے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے، نیز محتاج دعا دے تو اس کی
دعا کے مثل اس کو بھی دعا دے تاکہ صدقہ کا پورا اجر باقی رہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ
عنہا فرماتی ہیں:رسول اللہ ﷺ کو ایک بکری ہدیہ میں دی گئی، تو آپ ﷺ نے
فرمایا:"اسے تقسیم کر دو۔"
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا معمول تھا کہ جب خادم واپس
آتا تو آپ اس سے پوچھتیں:لوگوں نے تم سے کیا کہا؟ وہ بتاتا کہ انہوں نے کہا: بارك
الله فيكم' (اللہ آپ لوگوں کو برکت دے)۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتیں:
'وفيهم بارك الله' (اور اللہ انہیں بھی برکت دے)۔ اس طرح ہم انہیں ویسا ہی جواب دے
دیتے ہیں جیسا انہوں نے ہمیں کہا اور ہمارا اجر ہمارے لیے باقی رہتا ہے۔
یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ان کی دعا کا جواب دعا
سے دے دیتی تھیں تاکہ احسان اور بدلہ برابر ہو جائے جبکہ صدقہ و ہدیہ کا ثواب
خالصتاً اللہ تعالیٰ کے ہاں محفوظ رہے۔
شیخ البانی نے اس اثر کی سند کو صحيح الكلم الطيب میں
جید کہا ہے۔
سوال: جیسے انڈیا میں مٹن اوربیف کے گوشت
پر بہت پابندی لگائی جاتی ہے ایسی صورت میں اگر کوئی شخص حکومت سے چھپا کر گوشت
بیچتا ہے تو کیا وہ چوری کہلائے گا یا یہ حکومت کی نافرمانی ہوگی؟
جواب: حکومت نے گئو کشی پر جو قانون بنایا ہے، یہ
بلاشبہ مسلمانوں پر زیادتی ہے اور یہی ایک معاملہ نہیں ہے بلکہ بہت سارے معاملات
ہیں جن میں مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں بلکہ یہ کہیں کہ مسلمانوں کی جان،
مال اور آبرو کچھ بھی محفوظ نہیں ہے۔
ہمارے خلاف قوانین بنا کر حکومت اس تاک میں رہتی ہے کہ
بہانہ بنا کر مسلمانوں کو سزا دی جائے، ایسے حال میں ہمیں احتیاط برتنے کی ضرورت
ہے اور جن جانور کو ذبح کرنے پر پابندی ہے ان سے بچنا ہی بہتر ہے۔ جو جانور ذبح
کرنا قانون کے خلاف نہیں ہے اسے ذبح کریں اور اس کا گوشت کھائیں۔
ویسے گائے ذبح کرنا یا اس کا گوشت کھانا یا اس کو بیچنا
شرعا حلال ہے۔ ایسا کرنے سے ہمیں کوئی گناہ نہیں ملے گا۔ اس کے باوجود یہ کام
حکومت کی نظر میں جرم ہے تو اس سے بچنا بہتر ہے۔ حکومت نے بکرا ذبح کرنے سے منع
نہیں کیا ہے۔
سوال:اگر میاں بیوی ایک دوسرے کی میت کو
غسل دیں تو ان کے ستر کا شرعی حکم کیا ہے،نیز کیا میاں بیوی ایک دوسرے کی میت کو
غسل دیتے ہوئے کفن پہنانے اور میت کو اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے
لیے کسی دوسرے کی مدد لے سکتے ہیں؟
جواب: میاں بیوی کے درمیان کوئی ستر نہیں ہوتا یعنی
دونوں کے لیے ایک دوسرے کا ہر ایک عضو دیکھنا جائز ہے تاہم میت کو غسل دیتے ہوئے
ستر ڈھک کر غسل دینا چاہیے جیسے ایک مرد ، مرد میت کو غسل دیتا ہے یا ایک عورت ،
میت عورت کو غسل دیتی ہے۔
جہاں تک تعاون کا مسئلہ ہے تو کوئی بھی اکیلے میت کے
لئے غسل کے احکام نہیں برت سکتا ہے، لازما اسے تعاون کی ضرورت ہے۔ اس وجہ سے دیگر
عورتوں اور محارم سے مدد لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
سوال: کیا یہ درست ہے، اس میں بندش کا
وظیفہ بتایا گیا ہے؟
((کالے جنوں کا صدقہ ہر بندش ہر رکاوٹ دور کرنے کا آسان
حل۔ایک کلو ابلے ہوئے کالے چنے لے لیں ،100 مرتبہ سورہ فلق، 100 مرتبہ سورہ ناس
اور 100 مرتبہ آیت الکرسی پڑھ کر پھونک دیں اور بچوں کو بانٹ دیں رزق کی بارش
ہوگی، ہر بندش رکاوٹ دور ہوگی، مشکلات حل ہوں گے۔))
جواب: کسی بات کے صحیح ہونے کے لیے قرآن اور حدیث سے
دلیل ہونا ضروری ہے۔ اگر اس کی دلیل نہ ہو تو وہ بات بے بنیاد اور غلط ہے۔
یہ بات بھی یہ دلیل، بے بنیاد اور مبنی پر غلط ہے۔ ہرگز
ہرگز اس پر عمل نہ کریں۔یہ کسی بدعتی کا بنایا ہوا خودساختہ وظیفہ ہے۔
سوال:کیا عورت کے لیے باہر کے ملک حجاب
کر کے فوڈ سٹور پہ کام کرنا شرعاً جائز ہےجبکہ وہاں سور کا گوشت بھی سیل ہوتا ہو
یا شراب بھی موجود ہو ؟
جواب: کسی عورت کے لئے اکیلے دوسرے ملک کے لیے سفر کرنا
اور وہاں پر بغیر محرم کے رہنا یا مرد و عورت والی اختلاط والی جگہ پر رہنا یا
اختلاط والی جگہ کام کرنا یا ایسی جگہ پر نوکری کرنا جہاں سور کا گوشت اور شراب
بھی بیچی جاتی ہو جائز نہیں ہے چاہے عورت پردے ہی میں کیوں نہ نوکری کرے کیونکہ اس
میں کئی خامیاں ہیں جن میں سے چند کا اوپر ذکر کیا گیا ہے اور بھی بہت ساری خامیاں
ہیں حتی کہ عورت کی اپنی عزت و آبرو کی حفاظت بھی مشکل ہے خصوصا اس فتنے کے دور
میں لہذا ایسا عمل کسی مسلمان عورت کے لیے جائز نہیں ہے۔
سوال:اگر لڑکی اور لڑکا موبائل پر ایک
دوسرے کو قبول کر لیں تو کیا اس طرح نکاح ہو جاتا ہے ان کا؟
جواب: نکاح لیلی مجبوں کا کھیل نہیں ہے کہ موبائل پر یا
آمنے سامنے ایک دوسرے کو قبول کرلیں تو اس سے ان کا نکاح ہوجائے گا۔ نکاح کے لئے
اسلامی ضابطے ہیں، انہیں بروئے کار لائے بغیر نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ اولا لڑکی کی
طرف سے اس کے ولی کی رضامندی کے بغیر نکاح نہیں ہوسکتا ہے۔ نیز اس میں دو عادل
گواہان چاہئے، مہر متعین کرنا چاہئے، اس نکاح کا لوگوں میں اعلان کرنا چاہئے
کیونکہ نبی ﷺ نےنکاح کا اعلان کرنے کا حکم دیا ہے۔ چوری چھپے نکاح نہیں ہوتا۔
اورلڑکی کا اکیلے لڑکا کی تنہائی میں ہونا خلوت ہے، اسلام نے اس سےہمیں منع کیا
ہے۔ اسی طرح بلاضرورت کسی اجنبی لڑکا اورلڑکی کا آپس میں فون پر بات کرنا یا عشقیہ
رابطہ رکھنا حرام ہے۔ اگر کسی لڑکی کو کوئی دنیدار لڑکا پسند ہو تو وہ اپنے ولی کے
ذریعہ اپنا نکاح کرائے ۔ہرلڑکی کویاد رکھنا چاہئے کہ کسی اجنبی لڑکے کی تنہائی
اختیار کرنا ، اس سے موبائل رابطہ رکھنا یا عشق ومحبت والا تعلق رکھنا حرام ہے، اس
معاملہ میں اللہ سے ڈرنا چاہئے اور اگر زندگی میں پہلے اس قسم کی کوئی بات ہوئی ہو
تو خالص دل سے رب سے معافی مانگے ، ورنہ آخرت میں مواخذہ ہوگا۔
سوال: اگر ہم قرآن پڑھتے ہیں تو ہم اس کو
الٹا پکڑتے ہیں سر پر رکھتے ہیں یا سیدھا نہ رکھتے ہوئے تھوڑی الگ پوزیشن میں اگر
ہم ہاتھ میں پکڑیں تو کیا ہے اس سے اس کی بے ادبی ہوگی یہ ہمیں گناہ ملے گا جبکہ
اپنے دل میں قرآن کا پورا احترام موجود ہے؟
جواب:اس قسم کی باتوں سے بے حرمتی نہیں آتی ہے۔ قرآن کی
بے حرمتی کرنے سے بے حرمتی آتی ہے۔آپ کو بیٹھ کر جس طرح پڑھنے میں آسانی ہو ، پڑھ
سکتے ہیں۔قرآن سے پیر لگانا یا اس پر پیر رکھنا یا اس پر بیٹھنا یا اس کو پیچھے
رکھ کر خود آگے بیٹھنا اس طرح کی چیزیں بے حرمتی ہیں لیکن پکڑنے میں کچھ ٹیڑھا ہو
جائے یا ہلکا سادائیں بائیں ہو جائے اس میں کوئی حرج نہیں۔پکڑنے میں اس بات کا بھی
خیال کریں کہ تلاوت کے وقت اس طرح مصحف پکڑیں کہ ہاتھ سے گرنے کا اندیشہ نہ ہو۔
سوال:جانوروں کے گلے یا پاؤں میں حلقے(رنگ)یا
پٹے ڈالے جاتے ہیں جو کہ ان کے چلنے پر چھن چھن کی آواز پیدا کرتے ہیں ،کیا یہ
شریعت کی رو سے جائز ہیں؟
جواب:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الْجَرَسُ مَزَامِيرُ الشَّيْطَانِ(مسلم:2114)
ترجمہ: گھنٹی شیطان کی بانسری ہے۔
اس حدیث کی روشنی میں جانور کی گردن یا پیر میں گھنٹی
والی کوئی چیز باندھنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ شیطان کا آلہ اور اس کی بانسری ہے۔
ضرورت پڑنے پر بغیر گھنٹی والا پٹہ اور رسی باندھنے میں حرج نہیں ہے۔
سوال:میری عمر ترپن ہے اور اس عمر میں
حیض آیا ہے ،ایک ڈاکٹر صاحبہ کہ رہی ہیں کہ اس عمر میں حیض نہیں آنا چاہئے۔ آپ
دوائی کھائیں کہ حیض نہ آئے، کیا اس ڈاکٹر کی بات شرعی طور پر درست ہے اور اس عمر
میں وقفے سے سپوٹنگ ہوتی رہے تو کیا اسکا حکم حیض کا ہوگا؟
جواب:کسی کسی خاتون کو پچاس تک حیض آنا بند ہو جاتا ہے
اور کسی کو اس کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔ سوال میں آپ کو یہ بات واضح کرنا ضروری
تھا کہ پہلے آپ کا حیض منقطع ہو چکا تھا، اس کے کئی مہینوں یا کئی سالوں کے بعد
ابھی آیا ہے یا اب تک حیض جاری ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ ہر قسم کے خون کو حیض نہیں مانا
جائے گا۔ حیض ہر ماہ آتا ہے اور وہ اپنے صفات یعنی سیاہ پن، گاڑھاپن اور بدبو سے
پہچانا جاتا ہے۔
اگر آپ کا حیض پہلے منقطع ہو چکا تھا اور کئی سالوں کے
بعد ابھی محض اسپاٹنگ ہوئی ہے تو یہ حیض نہیں ہے، یہ دم فاسد ہے اس میں آپ کو نماز
پڑھنا ہے۔
اور اگر آپ کو اب تک حیض آتا رہا ہے اور یہ اسپاٹنگ حیض
کے ایام میں ہوئی ہے یعنی اسپاٹنگ حیض کے ساتھ ہے، کچھ دن حیض آیا پھر متصلا
اسپاٹنگ بھی ہوئی تھی تو یہ سب حیض کے ایام شمار کئے جائیں گے۔
دوسری بات یہ ہے کہ مانع حیض دوا استعمال نہ کریں، ہاں
اگر بیماری کا خون معلوم ہوتو اس کا علاج کرانا اپنی جگہ درست ہے۔
سوال:ایک بہن کو گھر سے باہر جاتے ہوئے
عبایا پہننا ہوتا وہ بلیک کلر کا ہونا چاہیے یا کسی اور کلر کا بھی پہن سکتی ہے
اور اس پر کوئی پرنٹ بنا ہو سکتا ہے یا ایک ہی کلر کا پلین عبایا پہن کر جا سکتی
ہیں ؟
جواب:کسی بھی قسم کا عبایا پہنا جا سکتا ہے، خاص کالے
رنگ کا عبایا پہننے کی کوئی خاص دلیل نہیں ہے۔ اصل مقصود پردہ ہے اور پردہ کے لیے
لباس سادہ ہو، بیل بوٹے اور ڈیزائن کے ذریعے لباس بھڑکیلا نہ بنایا گیا ہو خواہ وہ
کسی رنگ کا ہو۔ پہنا جا سکتا ہے۔نیل بوٹے ، نقش ونگاراور بھڑکیلا لباس لوگوں کی
توجہ کا سبب ہےاس لئے اس سے بچنا ہے تاہم پلین کپڑا یا پلیں اور عام پرنٹ کپڑا
پہننے میں حرج نہیں ہے۔
سوال: میرے پاس دس ہزارروپے ہیں اور دس
ہزار کا میرے اوپر قرض بھی ہے تو مجھ پر پہلے قرض اتارنا لازم ہے یا صدقہ دے دیا
جائے اور قرض اگلے مہینے اتار دیا جائے؟
جواب:سوال میں مذکور دو کاموں میں سے ایک کام ضروری اور
ایک کام غیر ضروری ہے یعنی قرض واپس کرنا آپ کے ذمہ واجب و ضروری ہے جبکہ صدقہ
کرنا آپ کے ذمہ ضروری نہیں ہے۔ اس وجہ سے آپ کو وہ کام کرنا چاہئے جو آپ کے ذمہ
ضروری ہے یعنی قرض ادا کرنا چاہئے۔ جب صدقہ کے لئے بھی الگ سے پیسے ہوجائیں تو اس
وقت صدقہ کریں۔
سوال:میں گھر میں بچوں کو قرآن پڑھاتی
ہوں اسکی فیس نہیں لیتی لیکن جو آن لائن پڑھاتی ہوں اسکی فیس لیتی ہوں تو یہ میرے
لیے فیس لینا جائز ہوگا اور فیس لینے کے بعد مجھے اسکا اجر ملے گا ؟
جواب: دنیا بھر میں علماء قرآن و حدیث پڑھاتے ہیں اور
اس پہ اجرت لیتے ہیں۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔آپ پڑھانے کی مناسب فیس لے سکتے ہیں
اس میں حرج والی کوئی بات اور گناہ نہیں ہے اور اپنی نیت خالص رکھیں ، آپ کو ثواب
بھی ملے گا۔ ان شاء اللہ۔ یہ الگ بات ہے کہ فی سبیل اللہ تعلیم دینا افضل اور اجر
وثواب کے اعتبار سےبہتر سے بہتر ہے کیونکہ اس میں خلوص و للہیت زیادہ ہوسکتی
ہےبشرطیکہ کے دکھاوا اورشہرت سے بچا جائے۔
سوال: ماں باپ اگر بیٹا اور بیٹی کو
زندگی میں جائداد تقسیم کر دے تو کیا برابر برابر دینا چاہیے؟
جواب: جائیداد کے معاملے میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ آدمی
کو اپنی زندگی میں جائیداد تقسیم نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس سے اللہ کے نظام میں
خلل واقع ہوتا ہے۔ اللہ نے وراثت کا جو نظام بنایا ہے اس نظام کی مخالفت ہوتی ہے
اور اللہ یا اس کے رسول نے جائیداد کو زندگی میں تقسیم کرنے کا کسی کو حکم نہیں
دیا ہے اس لیے کسی کو بھی اپنی جائیداد زندگی میں تقسیم نہیں کرنی چاہیے۔
اگر کسی کے لیے بہت بڑی مجبوری درپیش ہو، اولاد کے
درمیان تقسیم کے حوالے سے فتنہ کا بڑا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں آدمی جائیداد
تقسیم کر سکتا ہے اور جائیداد تقسیم کرتے ہوئے پھر سب کو برابر برابر عطا کرے گا
کیونکہ یہ ہدیہ و تحفہ کی شکل ہوگی اور ہدیہ دینے میں برابری کا خیال کیا جائے گا
یعنی ایک کو ایک پلاٹ دے تو دوسرے کو بھی ایک پلاٹ دے گویا لڑکا اور لڑکی کو بھی
برابر برابر دے گا۔
سوال: بعض لوگ کہتے ہیں کہ عزیز مصر کی
بیوی کا نام زلیخا تھا ، اس کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ جو
خاتون حضرت یوسف علیہ السلام کی محبت میں گرفتارہوئی تھی۔ان کا نام زلیخا نہیں تھا
۔ ان کا نام کچھ اور تھا ۔ اللہ نے ان کے نام کا ذکر قرآن میں نہیں کیا البتہ کچھ
لوگوں نے تفسیر میں اسے خود سے لکھا ہے ۔دوسری بات یہ ہے کہاگر انسان گناہ کر کے
معافی مانگ لیتا ہے تو پھر کیسے ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ اس کا گناہ سب کو بتا دیں
۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو گناہ گار انسانوں کے گناہوں کی پردہ پوشی کرتے ہیں ۔
مہربانی فرما کر اس کے بارے میں دونوں رخ سے رہنمائی کر دیں ۔ اللہ کا گناہ کی
پردہ پوشی کے حوالے سے بھی ؟
جواب:اس بات کو خلاصہ میں یہ سمجھیں کہ قرآن میں یا
مستند تفسیر میں یا حدیث میں کہیں پر بھی زلیخا کا نام نہیں آیا ہے۔ اسرائیلی
روایات سے منقول ہو کر زلیخا نام لوگوں میں مشہور ہو گیا ہے۔قرآن میں اللہ تعالی
نے اس عورت کو عزیز مصر کی بیوی کہا ہے اور کوئی نام مذکور نہیں ہے۔
جہاں تک معاملہ ہے اس عورت کے جرم کو بیان کرنے کا تو
اللہ تعالی نے گزشتہ اقوام کے قصوں کو قرآن میں ہماری عبرت و نصیحت کے طور پر بیان
کیا ہے۔ صرف یہی ایک معاملہ نہیں ہے بلکہ بہت سارے قصے مذکور ہیں۔
سوال:اگر کسی کے پیدائشی سر کے بال نہ ہوں
،کیا وہ علاج کے ذریعے بال لگوا سکتا ہے۔ اسی طرح جسم کے دیگر اعضاء میں بھی اگر
کوئی نقص ہوتو اسے علاج کے ذریعے فطرت پر لانا جائز ہے ؟
جواب:اسلام میں عیب اور مرض کو دور کرنے کے لیے علاج
کرانا جائز ہے۔ تاہم یہاں پر دو باتوں کا علم ضروری ہے۔
اگر آپ کسی مرض یا عیب کو دور کرنے کے لیے علاج کراتے
ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ علاج کا طریقہ بھی درست ہو اور جس چیز سے علاج کیا
جا رہا ہے وہ چیز بھی شرعاً حلال اور جائز ہو۔
اس بنیاد پر اگر کسی مرد یا عورت کو پیدائشی طور پر سر
میں بال نہ ہو تو وہ جدید طریقے علاج کا استعمال کر کے عیب دور کرنے کی حد تک
بالوں کی پیوند کاری کر سکتا ہے۔اور اسی طرح جسم کے کسی اور حصے میں کوئی عیب پیدا
ہو جائے تو اس عیب کو دور کرنا بھی جائز ہے مگر اوپر والی دونوں باتیں دھیان میں
رکھنا ضروری ہے۔
سوال: سجدۂ تلاوت کے لئے قبلہ رو ہونا
ضروری ہے ؟
جواب:سجدہ تلاوت کے لیے قبلہ رخ ہوتے ہیں تو افضل اور
بہتر ہے لیکن اگر غیر قبلہ بھی سجدہ تلاوت کر لیا جائے تو اس سے سجدہ ادا ہو جائے
گا یعنی سجدے تلاوت کے لیے قبلہ رخ ہونا شرط نہیں ہے۔
سوال:کیا زندہ لوگوں کے نام کا عمرہ کر
سکتے ہیں؟
جواب:عمرہ ایک فریضہ ہے جیسے حج ایک فریضہ ہے لہذا عمرہ
وہی کرے گا جس کے پاس عمرہ ادا کرنے کی مالی اور جسمانی استطاعت ہو۔ جس کے پاس
مالی استطاعت نہ ہو اس کی طرف سے عمرہ نہیں کیا جائے گا لیکن اگر کسی کے پاس عمرہ
کرنے کی مالی استطاعت ہے مگر جسمانی استطاعت نہیں ہے یعنی وہ مکہ نہیں پہنچ سکتا
ہے تو ایسی صورت میں اس کی طرف سے کوئی دوسرا عمرہ بدل کر سکتا ہے۔ اس کی دلیل یہ
ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے حجۃ
الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مسئلہ پوچھا کہ یا رسول
اللہ! اللہ کا جو فریضہ جو اس کے بندوں پر ہے (یعنی حج) میرے والد پر بھی فرض ہو
چکا ہے لیکن بڑھاپے کی وجہ سے ان کی حالت یہ ہے کہ وہ سواری پر نہیں بیٹھ سکتے، تو
کیا میں ان کی طرف سے حج ادا کر سکتی ہوں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
کہ ہاں کر سکتی ہو۔(بخاری:4399)
سوال:ایک شخص نے اپنے والد کی بیماری کے
پیشِ نظر ان کی طرف سے صدقہ کرنے کے لیے کچھ رقم اپنی والدہ کے حوالے کی۔ والدہ کے
ایک دوسرے بیٹے پر قرض تھا اور وہ مالی تنگی کا شکار تھا، نیز بچوں کی فیس ادا
کرنے میں بھی پریشانی تھی۔ اس ضرورت کو دیکھتے ہوئے والدہ نے والد کے صدقے کے لیے
دی گئی رقم میں سے تقریباً ستر فیصد (70%) رقم چھوٹے بیٹے کو اس کی ضرورت پوری
کرنے کے لیے دے دی، جبکہ یہ کام بڑے بیٹے سے اجازت لیے بغیر کیا۔سوال یہ ہے کہ کیا
والدہ کا ایسا کرنا شرعاً درست ہے؟ کیا صدقے کے لیے مخصوص کی گئی رقم کو بغیر دینے
والے کی اجازت کسی اور مصرف میں خرچ کیا جا سکتا ہے؟ اگر یہ عمل درست نہیں، تو اس
کی شرعی تلافی کی کیا صورت ہے؟
جواب:بیٹے نے اپنی والدہ کو والد کی طرف سے صدقہ کرنے
کے لیے رقم دی اور کسی قسم کی شرط نہیں لگائی تو ایسی صورت میں والدہ کا اپنے
ضرورت مند بیٹے پر صدقہ کرنا بالکل درست ہے بلکہ رشتہ دار کو صدقہ دینے میں دہرا
اجر ہے اور اس میں تلافی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
ہاں اگر بیٹے نے صدقہ تقسیم کرنے کے ساتھ شرط لگائی ہو
کہ مجھ سے پوچھے بغیر کسی کو صدقہ نہیں دینا ہے تو ایسی صورت میں والدہ نے غلطی کی
ہے لیکن پھر بھی صدقہ اپنی جگہ ادا ہو چکا ہے کیونکہ صدقہ مستحق کو دیا جاتا ہے
اور جس کو دیا گیا وہ مستحق ہے۔
سوال:میری ایک سہیلی ہے جسکے پاس تقریباً
25 تولہ سونا ہے اور 65 تولہ چاندی بھی ہے ان کے شوہر کی تنخواہ ایک لاکھ ماہانہ
ہے۔ تین بچے ہیں جن میں سے دواسکول جاتے ہیں ۔ ان کو اب زکوٰۃ نکالنے میں بہت مشکل
پیش آ رہی ہے تو میری دوست کے شوہر کہہ رہے ہیں کہ تم سونا بیچ کر ڈائمنڈ خرید لو
۔کیا زکوٰۃ نہ نکالنے کے ڈر سے ایسے کر سکتے ہیں؟
جواب:پہلی بات یہ ہے کہ جس خاتون کے شوہر کی تنخواہ ایک
لاکھ ماہانہ ہو، اس کے لیے سال میں ایک مرتبہ زکوۃ نکالنے میں کوئی مسئلہ نہیں
ہونا چاہیے۔ اپنی آسانی کے لیے اگر چاہے تو سال لگنے سے پہلے ماہانہ تھوڑا تھوڑا
زکوۃ نکال کر سال لگنے تک مکمل زکوۃ دے دے۔
دوسری بات یہ ہے کہ زکوۃ ادا کرنے کے خوف سے سونے کو
ڈائمنڈ میں تبدیل کرنا غلط ہے کیونکہ اللہ نے زکوۃ فرض کر کے بندوں پر ظلم نہیں
کیا ہے جو اس طرح زکوۃ سے بچنے کے لیے کام کیا جائے گا۔ایک لاکھ ماہانہ کمانے والا
اگر زکوۃ کا خوف محسوس کرتا ہے پھر معاشرے کے غریب، مسکین، یتیم اور ضرورت مند لوگ
کیسے اپنا گزارا کر سکتے ہیں جن کے پاس دو وقت کی روٹی کا انتظام تک نہیں ہوتا۔
حالانکہ یہی ایک لاکھ کمانے والا اپنے شوق پر ایک وقت میں کھانے پینے، کپڑے اور
زینت کی چیزوں میں ہزاروں ہزار خرچ کرتا ہوگا۔بہرکیف! ایسا کرنے سے انہیں پرہیز
کرنا چاہئے۔
سوال:لڑکی شیعہ فرقے سے اور لڑکا مشرک
فرقے سے ہے اور ان دونوں میں شادی ہے اور ولیمہ کی دعوت دی گئی ہے اور لڑکے والوں
کی حلال کمائی ہے مگر ایمان صحیح نہیں ہے اور شادی میں رسم و رواج بھی ہوتے ہیں
اور لوگوں سے رشتہ بھی قریب ہے، کیا اس ولیمے کی دعوت میں شریک ہونا صحیح ہوگا؟
جواب:مشرک سے آپ کی مراد شاید بریلوی ہے تو بریلوی لفظ
لکھا کریں کیونکہ اس طرح علی الاطلاق بریلوی کو مشرک یا کافر نہیں کہیں گے۔ اس کے
اصول و ضابطے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ بریلوی عموما شرک کرتے ہیں اور شرک
کرنے والوں سے بیزاری اختیار کرنا چاہئے یعنی ان کی ایسی مجلس، دعوت اور پروگرام
میں شرکت سے پرہیز کرنا چاہئے جس سے ہمارے ایمان کو خطرہ ہو۔
آخری بات یہ ہے کہ بریلوی، شیعہ لڑکی سے شادی کررہا ہے
جبکہ شیعہ سے شادی کرنا جائز نہیں ہے پھر ایسے میں آپ کے لئے کسی بھی ناحیہ سے اس
میں شریک ہونا درست نہیں ہے۔ اور نہ ہی ایسے لوگوں سے اس قسم کی رشتہ داری نبھائی
جائے گی۔
سوال:بیٹی کا نام نور حرم نام رکھ سکتے
ہیں ؟
جواب:یہ نام رکھنے میں حرج نہیں ہے لیکن بہتر ہے کہ سلف
کے نام پر یعنی صحابہ، صحابیات اور ان کے بعد والے اچھے لوگوں کے نام پر اپنے بچوں
کے نام رکھنا چاہیے۔لفظ حرم اور نور صحابہ کے زمانے میں بھی موجود تھا مگر سلف میں
اس طرح کا کوئی نام نہیں ملتا ہے۔
سوال: کئی سال پہلے میرے والد اور بھائی
کا انتقال ہو گیا ہے، میں کبھی قبرستان نہیں گئی مگر صبر نہیں آرہا تھا تو اپنے
شوہر کی معیت میں ،ساتھ میں اپنی چار سالہ بیٹی کو لے کر ان کی قبر کی زیارت کے
لیے میں گئی کیا اپنے ساتھ بچی کو لے جانا صحیح تھا؟
جواب: گوکہ بعض علماء نے عدم جواز کا فتوی دیا ہے مگر
قوی موقف یہ ہے کہ عورتوں کے لئے بھی قبرستان کی زیارت مسنون ہے مگر کبھی کبھی
یعنی عورتیں بکثرت زیارت نہیں کرسکتیں تاہم کبھی کبھار قبرستان کی زیارت کے لئے
جاسکتی ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ آپ کے ساتھ چار سال کی بچی بھی
قبرستان گئی ، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ چار سال کے لڑکے بہت سارے قبرستان جاتے
رہتے ہیں۔ اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
سوال: کیا میت کی طرف سے لوح قرآنی یا
دینی کتب جیسے چندسورتوں کا مجموعہ وغیرہ میت کے نام سے صدقہ کرسکتے ہیں کیونکہ
میت کے نام سے صدقہ کرنے کی حدیث وارد ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ جو بھی اسے پڑھے گا
ہرحرف پر میت کو نیکی ملے گی؟
جواب:یہاں پر پہلی بات یہ سمجھیں کہ میت کی طرف سے صدقہ
کرنا جائز ہے، صدقہ کرنے سے میت کو ثواب ملتا ہےمگر کیا چوری کا پیسہ میت کی طرف
سے صدقہ کرسکتے ہیں یا حرام مال میت کی طرف سے صدقہ کرسکتے ہیں، اس سے میت کو ثواب
ملے گا؟ نہیں۔
اسی طرح لوح قرآنی بناکر اسے خاص ضرورت میں پڑھنا غلط
کام ہے، ۔ جب لوح قرآنی بنانا ، اس کو شفا کے لئے پڑھنا غلط کام ہے تو اس غلط چیز
کو میت کی طرف سے کیسے صدقہ کریں گے۔ صحیح چیز میت کی طرف سے صدقہ کریں گے جیسے
قرآن ہے یا صحیح تفسیر ہے، یہ میت کے نام سے ہدیہ کرسکتے ہیں۔
اس بات کو ایسے بھی سمجھ سکتے ہیں کہ دین کے نام پر جو
کتابیں لکھی جاتی ہیں وہ دو قسم کی ہوتی ہیں۔ایک کتاب وہ ہے جو قرآن و حدیث کے
مطابق بالکل درست ہو۔دوسری کتاب وہ ہے جو دینی تو ہو مگر قرآن و حدیث کی روشنی میں
اس میں غلطیاں ہوں۔آپ میت کی طرف سے صرف وہی دینی کتاب صدقہ کر سکتے ہیں جو قرآن و
حدیث کی روشنی میں صحیح ہو۔
ایک بات اور سمجھ لیں کہ بدعتی لوگوں کے درمیان قرآن کے
نام پر بہت ساری غلط کتابیں رائج ہیں جیسے پنج سورہ یا سبع سورہ یا لوح قرآنی
وغیرہ۔
کسی خاص
پریشانی اور مصیبت کو دور کرنے کے لیے مخصوص طریقے پر اور مخصوص اوقات میں یہ
کتابیں پڑھی جاتی ہیں جبکہ یہ کتابیں درست نہیں ہیں۔
میت کی طرف سے کتابیں صدقہ کرنا ہو تو صرف وہی کتاب
صدقہ کریں جو کتاب و سنت کی روشنی میں مسند ہو، قرآن دینا چاہیں تو مکمل قرآن دیں
یا تفسیر دینا چاہیں تو سلفی تفسیر دیں۔
سوال:کیا استخارہ ایسے ہی کیا جا سکتا ہر
کام میں یا کوئی خاص مقصد ہو تو تب ہی کرنا ہوتا ہےاورکیا استخارہ کی جو چھوٹی دعا
ہے اس کو تسبیحات میں شامل کر سکتےمطلب صبح شام کے اذکار میں سو دفعہ مثلا؟
جواب:ہرایک کام کے لئے استخارہ نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ
اہم کام جس میں آپ کو تردد ہورہا ہو کہ کرنا چاہئے یا نہیں کرنا چاہئے اس وقت
استخارہ کرنا چاہئے۔ واضح امور میں استخارہ کی ضرورت نہیں ہے جیسے آپ وضو بنانے کے
لئے استخارہ نہیں کریں گے کیونکہ یہ وہ معاملہ ہے جس کی تعلیم کتاب سے حاصل کریں
گے۔
ہاں شادی کا معاملہ ہو اور دو لڑکے نظر میں ہوں، ایسے
میں استخارہ کرسکتے ہیں۔استخارہ نماز کا نام ہے، اس کی دعا کو صبح و شام میں سو
دفعہ نہیں پڑھنا ہے۔ کبھی کبھار کوئی اس دعا کی خیر و برکت حاصل کرنے کے لئے پڑھ
لے تو کوئی حرج نہیں ہے مگر اسے کسی وقت اور تعداد کے ساتھ خاص کرنا صحیح نہیں ہے۔
سوال:ہمارے یہاں کی مسجد کے امام عموما
خطبہ میں قرآنی آیات میں اعرابی غلطی کرتے ہیں اور کبھی کچھ الفاظ چھوڑ دیتے ہیں
اسی طرح حدیث میں بھی کرتے ہیں ۔اس بارے میں ہمیں کیا کرنا چاہئے آپ ان کے لئے کچھ
نصیحت کردیں جو میں ان تک پہنچا سکوں ؟
جواب:اس معاملہ میں بہتر طریقہ یہ ہے کہ امام صاحب تک
رسائی ہے تو ان کو براہ راست یہ پیغام دیا جائے کہ آپ سے آیات و احادیث پڑھنے میں
غلطی ہوتی ہے۔ اس کے لئے باقاعدہ ثبوت پیش کرے کہ کب انہوں نے غلطی کی ہے اور کیا
غلطی کی ہے۔ آج سہولت ہے کچھ رکارڈنگ کرسکتے ہیں۔ جب خود ہی معلوم نہ ہو کہ انہوں
نے کیا غلطی کی ہے تب نہیں ٹوکا جائے گا۔ ثبوت کے ساتھ ٹوکا جائے اور ان کو نصیحت
کی جائے کہ جو نصوص ازبر نہ ہوں ، انہیں کاغذ پر لکھ کر لے جائیں تاکہ غلطی نہ ہو۔
عرب میں تو لکھا ہوا خطبہ پڑھا جاتا ہے۔
امام صاحب تک رسائی نہ ہو تو ذمہ داران میں سے کسی
امانت دار کو یہ ذمہ داری سونپی جائے کہ وہ امام صاحب کو تنہائی میں اس کی نصیحت
کرے۔ یاد رہے کہ اس معاملہ میں حکمت اور صحیح رویہ اپنایا جائے ورنہ امام صاحب کے
پیچھے ایک فتنہ کھڑا ہوسکتا ہے، لوگ انہیں ذلیل کرسکتے ہیں۔ بہت سارے کینہ پرور
لوگ اس قسم کے موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں۔
سوال: باجماعت نماز کے دوران ایک نمازی،
سجدہ سے معذوری کے باعث کرسی بر بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے، لیکن قیام اور رکوع میں
کوئی عذر نہ ہونے کے باعث وہ انکو جماعت کے ساتھ مل کر ادا کرتا ہے۔ کیا اس طرح
نماز پڑھنے سے وہ صف کو توڑنے کا باعث بن جاتا ہے اورکیا اسکی نماز باطل ہو جاتی
ہے؟
جواب:عذر کی بنا پر کرسی کے سہارے نماز پڑھی جاسکتی ہے
اور مرد آدمی ہو تو ظاہر سی بات ہے کہ وہ مسجد میں ہی نماز ادا کرنے جائے گا۔ مسجد
میں صف کے درمیان بھی کرسی رکھی جاسکتی ہے۔اس سے نہ صف ٹوٹے گی اور نہ نماز باطل
ہوگی۔
بہتر ہے کہ کرسی پر بیٹھنے والا صف کے کنارے ہو خواہ
دائیں جانب ہو یا بائیں جانب ہوتاہم درمیان صف میں بھی کرسی رکھ کر نماز پڑھنے میں
حرج نہیں ہےالبتہ کرسی اس طرح رکھے کہ آگے یا پیچھے نماز پڑھنے والے کو دقت نہ ہو۔
سوال: اپنے رشتہ داروں میں کسی کو پیسے
کی ضرورت پڑ جائے جیسے اس کی بچی کی طبیعت خراب ہو، اسپتال میں ہائی ویلنٹیئر پہ
ہو تو کیا میں زکوۃ کی نیت سے اس کو دے سکتی ہوں یعنی زکوۃ کی مدت سے قبل زکوۃ دے
سکتی ہوں؟
جواب:اگر آپ کسی چیز کی زکوۃ دیتے ہیں اور زکوۃ کا ابھی
وقت نہیں ہوا ہے لیکن کسی ضرورت مند کو مدد کرنا چاہتے ہیں تو زکوۃ کا وقت آنے سے
پہلے آپ زکوۃ دے سکتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جب آپ سال مکمل ہونے پر زکوۃ
دینے لگے تو جتنی زکوۃ آپ نے ابھی دی ہے، اتنا کم زکوۃ دیں گے۔
سوال: ایک عورت کے ذمے قرض تھا اس کا
انتقال ہو گیا اور یہ قرض غیر مسلم کو دینا ہے تو کیا بینک کے سود سے میت کا قرض
اتار سکتے ہیں؟
جواب: جس عورت کے ذمہ قرض باقی ہے اور اس کے پاس اپنا
پیسہ یا جائیداد یا کوئی مال ہے تو میت کے اپنے مال سے قرض کی ادائیگی کی جائے گی۔آپ
نے کہا کہ یہ بہن زندگی میں زکوۃ ادا کرتی تھی اس کا مطلب زکوۃ والی چیز اس خاتون
کے پاس ہوگی اس چیز کے ذریعے قرض اتارا جائے۔اگر میت کے ذمہ کوئی مال نہ ہو تو
زکوۃ کے فنڈ سے قرض کی ادائیگی کی جائے گی، سودی پیسہ استعمال نہیں کیا جائے گا۔
سوال:اگر والدین سنت پر عمل کرتے ہوئے
بیٹی کو جہیز نہ دیں، لیکن اس کی وجہ سے شوہر اور سسرال والے اسے طعنے دیں اور اس
کی گی مشکل بنا دیں، تو کیا ایسی صورت میں والدین بیٹی کی ضرورت کا خیال کرکے کچھ
گھریلو سامان بطور تحفہ دے سکتے ہیں؟میں نے اپنے بیٹے کی شادی میں کچھ بھی نہیں
لیا مگر یہاں تو شادی کے وقت بتا دی جاتی ہے کہ جہیز حرام ہے مگر پھر بھی بعد میں
اس پر کوئی پورا نہیں اترتا اور لڑکی کو طرح طرح سے طعنے دیتا ہے۔ اس مسئلے میں
شریعت سے رہنمائی فرمائیں؟
جواب:جیسے آپ نے اپنے بیٹے کی شادی کی اور لڑکی والوں
سے کچھ بھی جہیز نہیں لیا تو آپ جیسے لوگ سماج میں ابھی بھی موجود ہیں ایسا نہیں
کہ سماج میں ایسے لوگ بالکل بھی نہیں ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ زیادہ تر لوگ جہیز کے
لالچی ہوتے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ ہم پہلے سے یہ نہیں سوچیں گے کہ
بیٹی کو جہیز نہیں دینے پر ہماری بیٹی کے ساتھ ایسا ویسا ہوگا۔ مستقبل کے بات کوئی
نہیں جانتا ماسوا اللہ کے
ہم شادی کرتے وقت لڑکے والے سے دینداری اور امانت داری
کی بنیاد پر بات چیت کریں گے۔ اور دینداری کی بنیاد پر لڑکے کا انتخاب کریں گے۔ آپ
کو فیملی ممبر اور گھر والوں سے زیادہ سروکار نہ ہو بلکہ اصل لڑکے کو فوکس کرنا ہے
کہ وہ دین دار ہے یا دیندار نہیں ہے۔
لڑکا دیندار ہے اور وہ لڑکی کا تعاون کرنے والا ہو تو
پھر کوئی بھی لڑکی کو کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن لڑکا ہی تعلیم یافتہ اور دیندار نہ
ہو تو پھر اس گھر میں جہیز دینے کے بعد بھی مسئلے مسائل رہتے ہیں۔
اللہ تعالی نے ہمیں حکم دیا کہ اللہ سے اتنا ڈرو جتنا
تمہیں استطاعت ہے۔ استطاعت کے مطابق اور دینداری اور امانت داری اور اللہ کے سامنے
جوابدہی کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی بچی کا رشتہ طے کریں گے۔ شادی کے موقع سے خوشی
سے بچی کو ہدیہ و تحفہ دینے میں حرج نہیں ہے لیکن اس میں سماجی رسم و رواج، دکھاوا
اور کسی کی زور زبردستی نہیں ہونی چاہیے۔
سوال: ساتویں پر عقیقہ کی استطاعت نہ ہو
تو کیا اکیسویں دن بھی عقیقہ دے سکتے ہیں یا کبھی بھی دینا چاہیے؟
جواب: بچہ پیدا ہونے کے بعد اس کے ساتویں دن عقیقہ کرنا
مسنون ہے۔ اگر اس دن عقیقہ کرنے کی استطاعت نہیں ہو تو پھر زندگی میں کبھی بھی
استطاعت ہونے پر عقیقہ کر سکتے ہیں، ساتویں دن کے بعد پھر اور کوئی دین خاص نہیں
ہے، سات کے بعد کسی بھی دن عقیقہ دے سکتے ہیں۔ چودہویں یا اکیسویں دن والی حدیث
ضعیف ہے۔
سوال:کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام
کے ساتھ یا لگا سکتے ہیں اور اسی طرح بعض ایسے نشید موجود ہیں جس میں الفاظ
استعمال ہوتے ہیں،یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے آپ سے محبت ہے، کیا ان کو
سننا یا پڑھنا صحیح ہے ؟
جواب:یا اصل میں وہاں استعمال کیا جاتا ہے جہاں سامنے
کوئی موجود اور زندہ ہو یعنی ہم اس کو سنا سکتے ہوں کیونکہ یا کے ذریعہ زندہ اور
موجود انسان کو پکارا جاتا ہے۔
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے موجود نہیں
ہیں، آپ زندہ بھی نہیں ہیں تو پھر آپ کے لیے یا رسول اللہ کہنا اس عقیدے کے ساتھ
کہ ہم آپ کو پکار رہے ہیں، جائز نہیں ہے بلکہ یہ شرکیہ پکار ہے اور عام طور سے
صوفی اور بریلوی لوگ اسی عقیدے کی بنیاد پر یا رسول اللہ کہتے ہیں۔ ہمیں اپنے
معاشرے میں ایسے الفاظ کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس کے پیچھے تصوف کا
شرکیہ عقیدہ پایا جاتا ہے۔
جہاں تک نشید کی بات ہے تو یہ کم علم لوگوں کی نشید ہے،
اس قسم کی کوئی نشید کسی جید اور سلفی علماء کی آپ نہیں پائیں گے۔ عموماً شعر و
شاعری کم علموں کا کام ہوتا ہے۔
سوال:کچھ لڑکیوں کودین کی معلوماتِ دینا
ہے ۔ وہ دین سے بہت دور ہیں تو انہیں سب سے پہلے کون سی چیز بتائیں جس سے ان کا
رجحان دین سے وابستہ ہو جائے؟
جواب:دین میں سب سے اول اور سب سے پہلی چیز عقیدہ اور
ایمان ہے۔ اس وجہ سے جب بھی ہمیں کسی کے لیے تعلیم کی شروعات کرنی ہے اور بنیادی
کوئی چیز سکھانی ہے تو اس کے لیے علم توحید سے آغاز کرنا ہے۔ جب تک ایمان اور
عقیدہ درست نہیں ہوگا تب تک کوئی بھی عمل قبول نہیں ہوگا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم
نے اپنی دعوت کا آغاز بلکہ تمام انبیاء کی سب سے پہلی دعوت یہی توحید ہے اور اسی
کی بنیاد پر عمل قبول ہوتا ہے، اور اسی کی بنیاد پر انسان کو آخرت میں نجات ملے
گی۔شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب نجدی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب "کتاب
التوحید" کا ترجمہ بلکہ اس کی متعدد شروحات موجود ہیں، اس کتاب سے تعلیم کی
شروعات کریں، بہتر ہے۔
میرے اپنے یوٹیوب چینل پر بھی عقیدہ وعبادت سے متعلق
مکمل ایک سیریز ہے، آپ وہاں سے بھی درسوں کی تیاری سلسلہ وار کر کے درس دے سکتے
ہیں۔
سوال: ہاتھوں پر مہندی لگانا یا اس کا
علم سیکھنا تاکہ اس کے ذریعے پیسے کمائیں کیا یہ جائز ہے اس میں ہمیں گناہ ملے گا؟
جواب:عورتوں کے لیے مہندی لگانے میں شرعا کوئی حرج نہیں
ہے لیکن مہندی لگانے کا پیشہ اختیار کرنا اور اس سے پیسہ کمانا خاص طور سے اس دور
میں مفاسد سے خالی نہیں ہے۔اگر آپ کسی عورت کے ہاتھ پر مہندی لگاتے ہیں اور وہ
عورت اپنے ہاتھوں کی نمائش کرتی ہےجس عورت کی فطرت کے بارے میں آپ جانتے ہیں یا اس
کے ذریعے کسی کو لبھاتی ہے اور گناہ کا کام کرتی ہے تو ایسی صورت میں مہندی لگانے
والی عورت کو بھی گناہ ملے گا اس میں کوئی شک نہیں ہے۔
اور ایسی بہت کم عورت آپ کو ملے گی جس کے ہاتھوں پر
مہندی لگائیں اور وہ اپنی زینت کو اجنبی سے چھپائے بلکہ اکثر عورتیں ہاتھوں میں
مہندی لگا کر سب کو دکھاتی پھرتی ہیں اور غیروں پر اپنی زینت ظاہر کرتی ہے اور یہ
ایسا کرنا اس عورت کے حق میں جائز نہیں ہے اور اس کا گناہ مہندی لگانے والی پر بھی
آئے گاجبکہ پہلے سے کسی عورت کے کردارکا پتہ ہو۔
سوال:کیا حدیث کا علم حاصل کرنے کے لیے
ضروری ہے کہ ہم ایسے شخص سے پڑھیں جو علمِ حدیث میں ماہر ہو، مثلاً مصطلحِ حدیث،
تخریجِ حدیث اور دیگر علومِ حدیث جانتا ہو، یا محدث ہو؟
جواب:علم حدیث سے متعلق دو قسم کے مسائل ہیں۔ ایک ہے
حدیث کا معنی و مفہوم اور اس کے مسائل و فقہ کو جاننا۔ یہ عمل مدارس سے فارغ ہونے
والے بطور خاص علم حدیث میں شغف رکھنے والے انجام دیتے ہیں۔ ایسے علماء سے علم
حدیث اور کتب حدیث بلا شبہ پڑھ سکتے ہیں۔دوسرا مسئلہ ہے تحقیق حدیث کا، یہ کام بطور
خاص محدث کا ہے یعنی جنہیں فن حدیث پر درک حاصل ہوتا ہے۔
عموما عام لوگوں کو فن حدیث کی تعلیم کی ضرورت نہیں ہے
بلکہ حدیث کا معنی و مفہوم اور اس سے مستنبط ہونے والے مسائل کی جانکاری حاصل کرنا
ہوتا ہے۔ یہ مدارس سے فارغ ہونے والے اور حدیث سے شغف رکھنے والےجید علماء سے سیکھ
سکتے ہیں۔
سوال: میرے سسر بہت زیادہ بوڑھے، کمزور
اور لاچار ہو گئے ہیں۔ اپنی طہارت کا بھی خیال نہیں رکھ سکتے جبکہ ان کے چار بیٹے
ہیں۔ میں سب کو کہہ کہہ کے تھک گیی ہوں لیکن وہ اپنے باپ کو صاف ستھرا نہیں کرتے
،کیا اسلام مجھے اجازت دیتا ہے کہ میں ان کے ستر کی حدود تک انہیں صاف کروں ؟
جواب:ماں باپ کی خدمت اصل میں اولاد کی ذمہ داری ہے
خواہ بیٹا ہو یا بیٹی ہو۔ کسی معذور مرد کی صفائی ستھرائی کے لیے بیٹا یا بیٹی
تیار نہیں ہے یا کوئی مرد نہیں ہے تو ایسی صورت میں بہو اپنے سسر کی صفائی ستھرائی
کا کام کر سکتی ہے کیونکہ یہ تو عذر کا معاملہ ہے۔
ستر کا خیال کرتے ہوئے اور ہاتھوں پر دستانہ لگا کر آپ
اپنے سسر کی صفائی کر سکتے ہیں اور ویسے بھی سسر بہو کے لیے محرم میں شمار ہوتا
ہے۔
سوال: اگر ہم اپنی زندگی میں پروپرٹی
اپنے ایک بیٹے اور ایک بیٹی کو دینا چاہیں تو کیا یہ جائز ہے جب کہ مرنے کے بعد
لڑکے کو دو حصہ اور لڑکی کو ایک حصہ آتا ہے؟
جواب: اللہ اور اس کے رسول نے کہیں پر ہمیں یہ حکم نہیں
دیا ہے کہ آپ اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اولاد کے درمیان تقسیم کریں۔ اللہ تعالی
نے جائیداد کی تقسیم کا نظام بنا رکھا ہے، جب آدمی (مرد/عورت) کی وفات ہوتی ہے، اس
کے بعد وراثت تقسیم کی جاتی ہے۔ وراثت کا اپنا ایک شرعی نظام ہے، اس نظام کے تحت
جائیداد تقسیم کی جاتی ہے۔ اس نظام میں بیٹے کو بیٹی کے مقابلے میں دہرا حصہ ملتا
ہے۔اس وجہ سے آپ اللہ کے بنائے ہوئے نظام کی خلاف ورزی نہ کریں، اپنی جائیداد کو
اسی حال پہ رہنے دیں، زندگی میں کھائیں پییں اور آپ کے بعد جو جائیداد بچے گی، آپ
کی اولاد شریعت کے مطابق تقسیم کر لیں گی۔
سوال:حمل کے آخری مہینے میں شرمگاہ سے
مسلسل پانی کا اخراج ہورہا ہو تو ایسے میں وضو قائم رہنے کا کیا حکم ہوگااورکیا یہ
مذی شمار ہوگی؟
جواب:شرمگاہ سے سفید پانی نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اس
سلسلے میں یہ حکم ہے کہ جب بھی نماز کا وقت داخل ہوگا نیا وضو کرنا پڑے گا اور ایک
وضو سے ایک وقت کی ساری نماز پڑھ سکتے ہیں جیسے مستحاضہ کا مسئلہ ہے۔
لیکن یہاں یہ بھی بات یاد رکھیں کہ رطوبت حکما پاک ہے
لیکن اس کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔یہ مذی نہیں ہے، اسے رطوبت کہتے ہیں جو
لیکوریا کی علامت ہے۔

0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔