آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(112)
جواب از: شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ
جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ - سعودی عرب
سوال: اگر کوئی شوہر اپنی
بیوی کے ساتھ ہمیشہ بدزبانی کرتا ہو، اسے گالیاں دیتا ہو، مارپیٹ کرتا ہو اور اس
کے ساتھ سخت بدتمیزی سے پیش آتا ہو تو کیا ایسی صورت میں بیوی کو بھی اتنا ہی جواب
دینے کی اجازت ہے یعنی کیا بیوی شوہر کو اسی طرح گالیاں دے سکتی ہے، اس کے ساتھ
سخت لہجے میں بدتمیزی کر سکتی ہے اور اس کے رویے کا ویسے ہی جواب دے سکتی ہے؟
جواب: ایک عام آدمی بھی گالی دے، بدتمیزی کرے اور برا
سلوک کرے تو اس کے ساتھ اسی طرح کا برتاؤ کرنے کا حکم نہیں ہے۔ ہمیں اپنا اخلاق و
کردار بلند رکھنا ہے۔ شوہر تو بیوی کا نگران ہے، جب وہ گالی دے اور بدتمیزی کرے تو
اس کے ساتھ ویسے ہی برا معاملہ نہیں کرنا ہے اور نہ جوابی طور پر مارنا ہے۔
عموما شوہر اپنی بیوی کو کسی بات سے منع کرتا ہے مگر وہ
وہی حرکت کرتی ہے تو ناراض ہوتا ہے۔ ایسے میں عورت دیکھے کہ کیا اس کی طرف سے شوہر
کی ناراضگی اور عدم متابعت والا کوئی کام ہو رہا ہے۔ اگر بیوی سے غلطی ہو رہی ہو
تو وہ اپنی اصلاح کرے، معاملہ خود بخود درست ہوجائے گا۔ جب بیوی کی طرف سے غلطی نہ
ہو، شوہر کی طرف سے غلطی ہو تو اس کو سمجھائے، منع کرے اور نصیحت کرے۔ اس سے باز
نہ آئے تو کسی دوسرے فرد کے ذریعہ میاں بیوی کے درمیان والا معاملہ حل کرائے، عالم
دین ہوں تو زیادہ بہتر ہے۔ اور غلط سلوک پر صبر کرتی ہے اور بھی بہتر ہے۔ صبر ،
پیار اور اچھے سلوک کے ذریعہ شوہر کا غلط رویہ بدلا جاسکتا ہے۔
سوال: اگر کوئی شخص اپنے میت رشتہ دار کی
طرف سے صدقۂ جاریہ کا کوئی کام کروائے اور اس منصوبے پر میت کے نام کی تختی
لگوائے، تو کیا یہ ریاکاری (دکھاوے) میں شمار ہوگا؟ کیا اس سے اجر ضائع ہونے کا
اندیشہ ہے؟ اگر نام کی تختی لگانے کا مقصد یہ ہو کہ اس منصوبے سے فائدہ اٹھانے
والے لوگ مرحوم کے لیے دعا کریں، تو کیا ایسی نیت کے ساتھ نام لگوانا جائز ہے؟
جواب:میت کی طرف سے کسی چیز کا صدقہ کرکے اس پہ میت کا
نام لکھوانا درست نہیں ہے، صدقہ کرنے سے میت کو صدقہ کا اجر ملے گا ہی، پھر اس پہ
نام لکھوانے کی کیا ضرورت ہے؟ ظاہر سی بات ہے کہ اس میں شہرت کا پہلو نظر آتا ہے۔
نبی ﷺ نے ہمیں دکھاوا سے منع کیا ہی ہے، ساتھ ہی مشتبہ امور سے بھی بچنے کا حکم
دیا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حلال واضح ہے، اور حرام (بھی)
واضح ہے، ان کے درمیان شبہ والی کچھ چیزیں ہیں۔ (سنن نسائي:5713)
دل کا حال تو اللہ جانتا ہے تاہم جو عمل دکھاوا کا
ذریعہ ہو یا دکھاوا کا ذریعہ نہ ہو مگر اس تک پہنچا جا سکتا ہو تو سد ذریعہ کے طور
پر اس عمل سے رک جانا چاہیے۔
سوال: کیا مسلمان میت عورت کا چہرہ کافر
مشرک عورتیں دیکھ سکتی ہیں؟
جواب:جو معاملہ زندگی میں جائز ہے وہ وفات کے بعد بھی
جائز ہے۔ کیا جیتے جی کوئی کافر عورت، مسلم عورت کا چہرہ نہیں دیکھ سکتی ہے؟ جی
بالکل دیکھ سکتی ہے۔ پھر وفات کے بعد کیا مسئلہ ہے۔ وفات کے بعد بھی کافرہ ، مسلم
عورت کا چہرہ دیکھ سکتی ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
سوال: قربانی کے گوشت میں رشتے داروں کے
لئیے گوشت رکھا تھا لیکن وہ گوشت گھر میں ہی استعمال کرلیا، بعد میں اس کو لگا کہ
یہ غلط ہو گیا ہے۔ اب کیا وہ اتنا گوشت خرید کر تقسیم کرے یا کوئی کفارہ ادا کرے؟
جواب: قربانی کا گوشت رشتہ دار کے نام سے فریج میں
رکھنے والی چیز نہیں ہے۔ قربانی کا مطلب ہے لوگوں کا حصہ لوگوں میں تقسیم کردیا
جائے، اسے فریج میں اسٹور نہ کیا جائے۔ قربانی کرنے والے کو نیت کے بقدر اجر ملے
گا۔ اس کا کوئی کفارہ نہیں ہے۔
سوال: میرا بیٹا سوفٹ ویئر انجینئر ہے
اسے HDFC بینک سے جاب آفر آئی ہے۔ بینک سے ہٹ کر دوسرے پروجیکٹس بھی رہتے
ہیں، اس پروجیکٹ پر سوفٹ ویئر انجینئر کے لئے اسے آفر آئی ہے ۔کیا اس میں جاب کرنا
درست ہے؟
جواب: سودی بنک سے متعلق کسی بھی قسم کا کام کرنا جائز
نہیں ہے کیونکہ یہ سود پر تعاون ہوگا اور اللہ تعالی نے برائی کے کام پر تعاون
کرنے سے منع کیا ہے۔ پھرتنخواہ کا پیسہ بھی سودی پیسوں سے یعنی حرام پیسوں سے ملے
گا۔ لہذا اس قسم کی نوکری کرنا جائز نہیں ہے۔
سوال: اگر سورہ توبہ درمیان سے شروع کریں
تو بسم اللہ کا کیا حکم ہے جیسے آدھی سورہ ایک دن پڑھی اور آدھی دوسرے دن؟
جواب: اس مسئلے کو ایک جملے میں اس طرح سمجھیں کہ قرآن
میں جہاں بسم اللہ لکھا ہے، وہاں بسم اللہ پڑھیں گے اور جہاں بسم اللہ نہیں لکھا
ہے، وہاں بسم اللہ نہیں پڑھیں گے۔جیسے کوئی سورہ بقرہ شروع سے تلاوت کرے تو شروع
میں بسم اللہ لکھا ہوا ہے لہذا اعوذ باللہ کے بعد بسم اللہ پڑھنا ہے لیکن اگر کوئی
کسی دن درمیان سورت سے سورہ بقرہ پڑھے جبکہ وہاں بسم اللہ نہیں لکھا ہے لہذا
درمیان سورت سے تلاوت شروع کرتے وقت صرف تعوذ پڑھے اور تلاوت شروع کرے۔ یہی جواب
سورہ توبہ کے سلسلے میں بھی ہے۔
سوال: اگر اذان ہورہی ہو اور سر پہ دوپٹہ
نہ لیں تو کیا گناہ ہوگا؟
جواب:دو پٹہ کا اذان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دو پٹہ کا
پردہ اور حجاب سے تعلق ہے یعنی سامنے اور آس پاس اجنبی مرد ہو تو اس سے پورے جسم
اور سر و چہرہ کا پردہ کرنا ہے۔اذان ہورہی ہے اس سے دوپٹہ کا کوئی مسئلہ نہیں ہے
کہ سر پہ ہے یا نہیں ہے۔ پاس میں کوئی غیر محرم نہ ہو ، محرم ہو یا عورت اکیلی ہو
تو سر کھلا رکھنے میں حرج نہیں ہے خواہ اذان ہی کیوں نہ ہو رہی ہو اور اس میں کوئی
گناہ نہیں ہے۔عورت جب اجنبی مرد سے چہرہ نہ چھپائے، اس وقت عورت کو گناہ ملے گا۔
سوال: میرے گھر میں کام کرنے والی ایک
خاتون نے مالی تنگی کی وجہ سے اپنے بچوں کا عقیقہ نہیں کیا تھا۔ اب اس کا بیٹا
کمانے لگا ہے اور اپنا عقیقہ کرنا چاہتا ہے۔ کیا اس کے لیے دو بکرے ذبح کرنا ضروری
ہے، یا اگر صرف ایک بکرے کی استطاعت ہو تو ایک بکرے کا عقیقہ کر سکتا ہے، ویسے بھی
یہ صدقہ کی حیثیت سے ہی ہوگا؟
جواب:بڑے ہو کر بھی عقیقہ دیا جاسکتا ہے ، یہ صدقہ
نہیں، عقیقہ ہی شمار ہوگا۔ لڑکے کی طرف سے دو جانور عقیقہ کرنا ہے، اگر دو جانور
کی طاقت نہیں ہے تو عقیقہ نہ کرے۔ جب حیثیت ہو جائے پھر عقیقہ کرے۔
سوال: ایک خاتون کو ایسی ملازمت کرنے پر
مجبور کیا جا رہا ہے جس میں مرد و خواتین کی کالز وصول کرنا اور انہیں معلومات
فراہم کرنا شامل ہے۔ وہ یہ ملازمت نہیں کرنا چاہتیں، لیکن گھر والے خصوصاً والدہ
اور بھائی ان پر شدید دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ایسی صورت میں شریعت کی رو سے انہیں کیا
کرنا چاہیے؟
جواب:یہ کام اس لڑکی کے لئے جائز نہیں ہے اور جو کام
کسی عورت کے لئے جائز نہیں ہے اس معاملہ میں ماں باپ کی بھی بات نہیں ماننی ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:اللہ کی معصیت میں
مخلوق کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔
ویسے بھی عورت کمانے کے لیے نہیں ہے، عورت شادی سے قبل
والد کی کفالت میں اور شادی کے بعد شوہر کی کفالت میں ہوتی ہے اس لئے نوکری کی
ویسے بھی ضرورت نہیں ہے۔
سوال: شوہر مدرسہ میں پڑھانے سے منع کرتا
ہے جبکہ پہلے سے وہ پڑھاتی آئی ہے اور مدرسہ بھی پاس میں ہے، ایسے میں کیا کرنا چاہیے؟
جواب:شادی سے پہلے کیا معاملہ تھا اس سے شوہر کو غرض
نہیں ھے، البتہ شادی کے بعد عورت کے ذمہ شوہر کی اطاعت ہے۔ شوہر گھر سے نکلنے کی
اجازت نہیں دیتا یا کسی مدرسہ میں جاکر پڑھانے کی اجازت نہیں دیتا تو وہ اپنے شوہر
کی بات مانے۔
الحمدللہ بیوی کے سر کمانے کی ذمہ داری نہیں ہے ، اس کا
شوہر ذمہ دار ہے اس لیے اس ناحیہ سے عورت بے فکر رہے۔
رہا دین کی خدمت اور تعلیم کا معاملہ تو شوہر کی اجازت
سے اور اس کے تعاون سے دین کا کام کرے۔ اس کی اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکلے۔ منع
کرتے کے پیچھے وجہ ہوا کرتی ہے۔ شوہر سے اس معاملہ میں پیار و محبت سے بات کرے،
شوہر دیندار ہو تو نیک کام پر ضرور تعاون کرے گا۔
سوال: آج کل بینک ایسے کریڈٹ کارڈ پیش کر
رہے ہیں جن پر مختلف برانڈز اور دکانوں کی طرف سے اچھی رعایتیں (Discounts) دی جاتی ہیں، بعض اوقات 40٪ تک رعایت مل جاتی ہے۔ ان کریڈٹ کارڈز پر
سود صرف اس وقت لیا جاتا ہے جب بل کی ادائیگی مقررہ وقت پر نہ کی جائے، جبکہ وقت
پر مکمل ادائیگی کرنے کی صورت میں کوئی سود نہیں لیا جاتا۔ یہ تاخیر کی فیس کسی حد
تک بجلی وغیرہ کے بل کی تاخیر پر لگنے والے جرمانے کی طرح ہوتی ہے۔ کیا ایسی صورت
میں ان کریڈٹ کارڈز کا استعمال جائز ہے؟
جواب:کریڈٹ کارڈ ایک قسم کا سودی معاملہ ہے۔ جب آپ یہ
کارڈ حاصل کرتے ہیں اس وقت آپ بنک سے ایک معاہدہ کرتے ہیں کہ تاخیر سے پیسہ جمع
کرنے پر سود دوں گا۔ دراصل یہ معاہدہ کرنا ہی غلط ہے، بھلے آپ وقت سے پیسہ جمع
کردیں۔گویا تاخیر سے لون جمع کرکے سود دینا تو غلط ہے ہی، یہ بھی غلط ہے کہ کوئی
کسی سے سودی معاہدہ کرے۔
دوسری بات یہ ہے کہ سودی لون کا بجلی بل سے کوئی تعلق
نہیں ہے۔ لون یعنی قرض کے معاملہ میں کسی طرح کا نفع رکھنا سودی معاملہ ہے، اس
معاملہ کا بجلی بل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
سوال:ایک قبر ہے جو گاؤں جیسے علاقے میں
ہے جہاں کچھ وقتوں تک دوسرے میت اس میں دفن نہیں ہوتے۔ وہ قبر کبھی کبھار ڈھہ جاتی
ہے یا پھر گرمیوں کے دن میں کتے اسے کھود کر ساری مٹی نکال دیتے ہیں۔ اس صورت حال
میں کیا اس قبر پر مٹی ڈال کر اسے برابر کردیں اور اس کے اوپر ہلکا سا سمنٹ سے
پلستر کردیں، مقصد صرف یہ ہے کہ قبر کتے نہ کھودیں یا مٹی نہ ڈھہ جائے؟
جواب:سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ قبر کو پکی کرنے سے
منع کیا گیا ہے اس لئے جب میت کو دفن کیا جارہا ہو اس وقت چونا گاڑھا اور سمنٹ کا
استعمال جائز نہیں ہے۔ قبر کو عام مٹی سے ڈھکا جائے گا۔
آپ کا سوال ہے کہ کسی جگہ پر تدفین کے بعد قبر دھنس
جاتی ہے، اوپر سے مٹی ختم ہوجاتی ہے تو کیا اس کو دوبارہ مٹی سے ڈھک دیا جائے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ جب میت کی تدفین ہوتی ہے، قبر پر
بس اسی وقت مٹی ڈالی جائے گی کیونکہ یہاں مقصد میت کو چھپانا ہے اور ایک مدت کے
بعد مٹی میں مل کر میت کا جسم ختم ہوجاتا ہے، اس وقت قبر بھی دھنس جاتی ہے، ایسے
میں پھر سے مٹی نہیں چڑھانی ہے، اور سمنٹ یا چونا گاڑھا تو کبھی بھی استعمال نہیں
کرنا ہے۔ مٹی جسم چھپانے کے وقت ضرورت تھی، اب اس کی ضرورت نہیں ہے۔
ہاں!اگر کوئی قبر دھنس جانے سے، اندر سے جسم یا باقیات
جسم میں سے کچھ حصہ نظر آئے تو اس کو مٹی سے ڈھک دینا ہے اور جب کچھ نظر نہ آئے تو
اس کی ضرورت نہیں ہے۔
سوال:میری پڑوسی نے میرے پاس اپنی بہن سے
چھپ کر سات ہزار روپئے رکھوائی تھی لیکن اب وہ وینٹی لیٹر پر ہے اور ڈاکٹروں نے جواب
دے دیا ہے، اب میں وہ رقم اس کی بہن کو دوں یا اس کی طرف سے صدقہ کردوں؟
جواب:کسی کی امانت اس کی وفات کے بعد ترکہ ہے۔ اس کو اس
کے وارثوں کے حوالے کیا جائے اور وارثوں کو خبر کردی جائے تاکہ ترکہ میں شامل کرکے
اس کو بھی تقسیم کیا جائے۔ ہاں، اگر اس خاتون کے علاج کے تعلق سے ہاسپٹل کو رقم
دینا پڑے تو اس کام میں بھی دیا جا سکتا ہے۔
سوال:کیا مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ کارٹون تصاویر یا ویڈیوز کے ذریعے دین کی دعوت و
تبلیغ کرنا جائز ہے، خصوصاً ایسے لوگوں تک دینی پیغام پہنچانے کے لیے جو عام طور
پر دینی مواد میں دلچسپی نہیں رکھتے لیکن کارٹون اور بصری مواد شوق سے دیکھتے ہیں؟
اگر مقصد لوگوں کی اصلاح اور دین کی طرف رغبت دلانا ہو، تو شرعی نقطۂ نظر سے اس
طریقۂ تبلیغ کا کیا حکم ہے؟
جواب:دین کی تبلیغ کے لئے تبلیغ کا طریقہ و منہج بھی
کتاب و سنت کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ اگر کوئی دین کی تبلیغ کرے مگر اس کا طریقہ
غلط ہے تو اسلام میں اس طرح تبلیغ کرنے کی اجازت نہیں ہے گوکہ اس میں بظاہر فائدہ
ہی کیوں نہ نظر آتا ہو۔
اسلام میں جاندار کی تصویر بنانا جائز نہیں ہے، بڑی
سختی کے ساتھ اس کی ممانعت آئی ہوئی ہے بلکہ اس پہ بڑی بڑی وعیدیں ہیں لہذا کسی کے
لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اشاعت دین کے لئے جاندار کا کارٹون بنائے کیونکہ یہ تصویر
کشی کی حرمت میں شامل ہے۔ ایک ناحیہ سے دیکھا جائے تو یہ بہت ہی زیادہ شدید حرمت
والا کام ہے کیونکہ یہاں تو جاندار کی شکل میں حد درجہ تبدیلی کی جاتی ہے یعنی
فطری تخلیق سے الگ قسم کی تخلیق ہوتی ہے۔ اسلامی واقعات میں انبیاء، فرشتے اور
اسلاف کے نام آتے ہیں تو ان لوگوں کی نمائندگی کرنے والے فوٹو استعمال کئے جاتے
ہیں جبکہ وہ خیالی تصاویر ہوتی ہیں۔ اس قسم کی خیالی تصاویر (جاندار والی) بنانا
اور اللہ کی تخلیق میں اس طرح کی تبدیلی کرکے کارٹون بنانا بڑے گناہ کا باعث ہے۔ اللہ
تعالی کا فرمان ہے:
فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا ۚ
فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۚ
لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ۚ
ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ(الروم:30)
ترجمہ:لہٰذا (اے نبی!) یکسو ہو کر اپنا رخ دین پر مرتکز
کر دو۔ یہی فطرت الٰہی ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی اس خلقت میں
کوئی ردوبدل نہیں ہوسکتا یہی درست دین ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے
فرمایا:"إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
الْمُصَوِّرُونَ".(بخاری:5950)
ترجمہ: اللہ کے پاس قیامت کے دن تصویر بنانے والوں کو
سخت سے سخت تر عذاب ہوگا۔
آج کل اے آئی سے اور کارٹون والی ویڈیو بنانے والے عموما
پیسہ کمانے کے لئے ویڈیو بناتے ہیں، ان کو اس قسم کے عمل سے باز رہنا چاہئے اور
اللہ سے ڈرنا چاہئے۔
سوال:اگر کوئی شخص ہمیں حج کی خوشی میں
منعقدہ دعوت میں مدعو کرے تو کیا اس میں شرکت کرنا جائز ہے؟ اگر شرکت مناسب نہ ہو
تو دعوت دینے والے کو کس انداز سے معذرت کی جائے؟
جواب:آپ سے ہوسکے تو حج کی دعوت کرنے والے کو اس سے
روکیں اور ان سے کہیں کہ حج بڑی عظیم عبادت ہے، اس کی قبولیت کے لئے اللہ سے دعا
کریں۔ تشہیر کرنے سے اخلاص ختم ہوگا اور عمل میں اخلاص نہیں ہوگا تو وہ عبادت قبول
نہیں ہوگی۔
اگر وہ آپ کی بات مان لیتے ہیں تو ٹھیک ہے، ورنہ آپ ان
سے کہیں کہ میں اس میں شریک نہیں ہوسکتی۔ آپ سے پوچھے کیوں؟ تو آپ کہیں کہ اس عمل
کی کتاب و سنت میں دلیل نہیں ہے۔ نبی ﷺ نے اور صحابہ کرام نے حج کیا تو کیا انہوں
نے حج کی دعوت کی تھی؟ اگر انہوں نے دعوت نہیں کی ہے تو آپ کیوں دعوت کررہے ہیں۔
حج تو عبادت ہے، اس میں اخلاص چاہئے، دکھاوا، شہرت اور ریاونمود سے عمل ضائع
ہوجاتا ہے۔
سوال: آج کل اسکولوں اور سمر کورسز میں
بچوں کو مصنوعی ذہانت (AI) سکھائی جا رہی ہے، اور ہوم ورک میں تصاویر اور کارٹونز کے ذریعے
مختلف سرگرمیاں بھی کروائی جاتی ہیں۔ کیا بچوں کے لیے ایسی تعلیم حاصل کرنا اور ان
سرگرمیوں میں حصہ لینا شرعاً جائز ہے؟
جواب:پہلی بات یہ ہے کہ چھوٹے بچوں کے لئے اے آئی نہیں
ہے، یہ بڑے لوگوں کے لئے ہے۔ بچوں کو اپنے استاد کی رہنمائی میں کتابوں کے ذریعہ
علم حاصل کرنا چاہئے۔ اپنے بچوں کو اے آئی کی دنیا سے دور رکھیں۔
اسکول کے ضروری اسباق میں تصاویر ہوں ان کو بنانے میں
بچوں کے لئے حرج نہیں ہے مگر ایسے کسی سمر کورس اور اختیاری معاملات میں بچوں کو
نہ داخل کرائیں جہاں اے آئی سکھایا جائے ، کارٹون اور جاندار کی تصاویر بنانے کو
کہا جائے۔
سوال:اگر کسی عورت پر غسلِ جنابت یا غسلِ
حیض واجب ہو اور غسل کرنے سے پہلے اس کا انتقال ہو جائے، تو کیا میت کو دو غسل دیے
جائیں گے یا ایک غسل ہی کافی ہوگا؟
جواب:غسل کا کیا مطلب ہے؟ جسم کو پاک کرنا۔اب عورت حیض
سے تھی یا جنابت سے تھی، اس نے غسل کرلیا، اس کی نجاست دور ہوگئی ۔ یہی حال وفات
کے وقت غسل کا ہے۔ میت کو غسل دے دیا جائے اس کا جسم پاک ہوگیا خواہ وہ کیسی بھی
حالت میں رہا ہو۔ غسل کے وقت ایک بار، دو بار ، تین بار یعنی جتنے بار پانی
استعمال کرنے کی ضرورت ہو، پانی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
سوال:آج کل محرم الحرام میں شیعہ حضرات کی
دیکھا دیکھی بعض سنی مسلمان بھی نذر و نیاز کا اہتمام کرتے ہیں، پھر لوگوں کو
کھانے کی دعوت دیتے ہیں۔ اگر کوئی دعوت میں نہ جائے تو کھانا گھر بھیج دیتے ہیں۔
ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟ کیا وہ کھانا کسی اور کو دے دیا جائے تاکہ رزق ضائع
نہ ہو؟
جواب:حق پرست اور سچے موحد ہونے کے ناطے ہماری بہت بڑی
ذمہ داری ہے کہ ہم توحید کی حفاظت کریں اور ہر قسم کے شرک سے بچیں۔رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا:تم میں سے جو کوئی
برائی دیکھے، اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے، اور
اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل میں اسے برا جانے، اور یہ ایمان کا کمزور ترین
درجہ ہے۔
غیر اللہ کے نام پر نذر و نیاز کرنا شرک ہے، اور شرک وہ
عظیم ترین گناہ ہے جسے اللہ تعالیٰ توبہ کے بغیر کبھی معاف نہیں فرمائیں گے۔
لہٰذا اگر ہمارے کسی رشتہ دار یا جاننے والے کی طرف سے
ایسا عمل ہو تو ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ:سب
سے پہلے استطاعت کے مطابق اسے اس برائی سے روکنے کی کوشش کریں۔اگر طاقت نہ ہو تو
حکمت اور خیرخواہی کے ساتھ زبانی نصیحت کریں۔حق بات پہنچانا ہماری شرعی ذمہ داری
ہے، خواہ سامنے والا قبول کرے یا نہ کرے، تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے بری الذمہ
ہو جائیں۔اگر ہم اپنے عزیز و اقارب کو شرک سے منع ہی نہ کریں تو آخرت میں اس بارے
میں بھی ہم سے سوال ہو سکتا ہے۔
خلاصۂ کلام:غیر اللہ کے نام پر کی جانے والی نذر و نیاز
کی دعوت قبول کرنا یا اس کا بھیجا ہوا کھانا لینا درست نہیں، کیونکہ یہ گناہ اور
شرک کے کام میں تعاون کے مترادف ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ نے گناہ کے کاموں میں تعاون
سے منع فرمایا ہے۔
ایک سچے مسلمان اور موحد کی شان یہ ہے کہ وہ توحید کے
معاملے میں غیرتِ ایمانی کا مظاہرہ کرے، حق بات واضح کرے، اور ایسی شرکیہ دعوتوں
اور کھانوں کا بائیکاٹ کرے۔
سوال:میری والدہ کا 7 محرم کو انتقال ہوا
ہے، دعا ہے کہ ان کے لیے دعا فرمائیں۔ ہمارے خاندان میں وفات کے بعد دسواں، بیسواں
اور چالیسواں کرنے کا رواج ہے۔ میں نے سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ امور کتاب و سنت
سے ثابت نہیں، لیکن میری بات نہیں مانی جا رہی۔براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ
مرحومہ کے لیے ایصالِ ثواب کی نیت سے کسی بھی دن جانور ذبح کرکے لوگوں کو کھانا
کھلانا کیسا ہے؟ نیز اگر گھر والے "دسواں" کرتے ہیں تو اس موقع پر تیار
کیا جانے والا کھانا کھانا جائز ہے یا نہیں؟ اور اس کے لیے الگ سے فاتحہ خوانی کا
کیا حکم ہے؟
جواب:میت کی طرف سے دسواں ، بیسواں اور چالیسواں کرنا
جائز نہیں ہے کیونکہ کتاب و سنت میں اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ آپ نے اپنے گھر
والوں کو اس بارے میں سمجھایا، آپ نے اپنی ذمہ داری ادا کردی۔ اب اگر وہ لوگ میت
کے نام سے دسواں یا بیسواں یا چالیسواں کرتے ہیں تو آپ برات کا اظہار کریں اور
کہیں کہ میں نے آپ لوگوں کو اس کام سے منع کیا تھا مگر آپ لوگ نہیں مان رہے ہیں۔
میں ایسا کھانا کیسے کھاؤں جس کی دلیل قرآن و حدیث میں نہیں ہے۔
یہ بدعت کا کام ہے، اگر کسی کو بدعت کرنے سے روک نہیں
سکتے تو کم ازکم خود کو اس کام سے دور تو رکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ کے لئے وہ کھانا
کھانا مجبوری بن جائے ورنہ آپ کے لئے بڑا فتنہ کھڑا ہوسکتا ہے تو اس نیت سے کہ اے
اللہ میرا دل نہیں چاہتا ہے مگر مجبوا یہ کھارہا ہوں۔ اس نیت سے کھالیں۔
میت کے لئے سب سے اہم چیز اس کی مغفرت کی دعا کرنا ہے۔
اللہ تعالی آپ کی والدہ کی مغفرت فرمائے اور جنت
الفردوس میں داخلہ نصیب فرمائے۔ آمین
سوال:میرے بیٹے کی شادی ایک سال بعد
متوقع ہے، اس لیے ہم سونا خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ایک سنار کی اسکیم یہ ہے کہ
اگر ہم 10 گرام سونا ایک سال تک اس کے پاس جمع رکھیں تو سونا خریدتے وقت میکنگ
چارج صرف 3٪ لیا جائے گا، جبکہ فی الحال میکنگ چارج 16٪ ہے۔کیا ایسی اسکیم میں حصہ
لینا شرعاً جائز ہے؟
جواب:سونا / چاندی کی خریدو فروخت کا معاملہ نقد اور
ہاتھوں ہاتھ ہونا چاہئے کیونکہ یہ سودی اشیاء میں سے ہیں۔
آپ سونار سے سونا ایک بیٹھک میں ہی خرید سکتے ہیں یعنی
اپنا معاملہ ایک سال تک لٹکاکر نہیں رکھ سکتے ہیں۔
اگر آپ ایک ہی بیٹھک میں سونا خرید لیتے ہیں یعنی پیسہ
چکاکر اپنا سونا حاصل کرلیتے ہیں پھر اسی سونار کے پاس اپنا سونا چھوڑ دیتے ہیں یا
اپنے پاس سے سونار کو دس گرام سونا دیتے ہیں تاکہ ایک سال بعد میکنگ چارج کم آئے
تو یہ سودی معاملہ ہے۔
سونا خریدنے کے لئے ضروری ہے کہ ایک طرف سے پیسہ دیں
اور دوسری طرف سے اسی وقت سونا حاصل کریں۔ اس قسم کے مسائل کی تفصیلی جانکاری کے
لئے ربوی احکام سے متعلق میرا بیان سنیں۔

0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔