آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(111)
جواب از شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ
جدہ دعوہ سنٹر، سعودی عرب
سوال: ایک بھائی دوسرے بھائی کا حصہ لے لے پھر مطالبہ پر انکار کرے اور
ساتھ ہی خود بات چیت بند کردے تو سامنے والا بھی اب سلام کے علاوہ سب کچھ بند کردے
تو کیا یہ قطع رحمی ہوگی؟
جواب: صلہ رحمی سے متعلق حدیث دیکھیں تو اس سوال کا
جواب بالکل واضح ہو جائے گا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کسی کام کا بدلہ دینا صلہ رحمی نہیں ہے بلکہ صلہ رحمی
کرنے والا وہ ہے کہ جب اس کے ساتھ صلہ رحمی کا معاملہ نہ کیا جا رہا ہو تب بھی وہ
صلہ رحمی کرے۔(صحيح البخاري: 5991)
اس حدیث سے ہمیں معلوم ہوا کہ ایک طرف سے رشتہ توڑا
جاتا ہو اور دوسری طرف سے رشتہ جوڑنے کی کوشش ہو، اس کو رشتہ جوڑنا کہتے ہیں۔ جو
آپ سے رشتہ توڑے اور آپ بھی رشتہ توڑیں تو یہ قطع تعلق ہے۔ ہماری کام رشتہ جوڑنا
ہو خواہ دوسرا آدمی رشتہ کیوں نہ توڑنا چاہے۔
سوال: کیا محرم کے چاند میں اپنے گھر
کھچڑا بناکر نہیں کھانا چاہیے ؟
جواب:محرم کی مناسبت سے کھچڑا بناکر کھانا بدعت ہے
کیونکہ اسلام میں ایسی کوئی دلیل نہیں ملتی ہے لیکن اگر کوئی یونہی بغیر کسی
مناسبت کے کھچڑا بناکر کھائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
اور چونکہ محرم میں بدعتی لوگ عموماً کھچڑا بناکر کھاتے
ہیں اس وجہ سے عام مسلمانوں کو ان دنوں کھچڑا بناکر کھانے بچنا چاہیے تاکہ عام
لوگوں میں غلط فہمی پیدا نہ ہو۔ یعنی شبہ کی جگہوں اور شبہ والے امور سے بچنا
چاہیے ۔
سوال: ماہانہ تنخواہ پر گھر میں کام کرنے
کے لیے ایک خاتون رکھی ہے، ابھی وہ چار پانچ دن سے کام پر نہیں آرہی ہے۔ جس وقت
کام پر رکھے تھے ،یہ طے ہوا تھا کہ دو یا دو سے زیادہ دن نہیں آئے تو پیسے کٹیں
گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا چار یا پانچ دن کے پیسے صدقہ کی نیت کر کے دے سکتے ہیں؟
جواب: صدقہ بغیر معاوضہ کی نیت سے دینا ہے ، اس کے لئے
پانچ دن کی اجرت کا خیال نہیں کرنا ہے۔ غیر حاضری کے سلسلے میں جو اتفاق ہے اس پر
عمل کریں تاہم صدقہ اللہ کی رضامندی کے لیے بغیر کسی معاوضہ کے اور بغیر کسی دن کا
اعتبار کئے ہوئے دینا ہے۔
سوال: گھروں میں جو بھیک مانگنے والیاں
آتی ہیں، صحت مند ٹھیک ٹھاک ہوتی ہیں مگر ان کا یہ روز کا کام ہوتا ہے، ہر چوتھے
پانچویں دن آتی ہیں ،کیا ان کو خیرات دینا چاہیے؟
جواب: بھیک مانگنا پیشہ نہیں ، ضرورت ہے۔ جس کو بھیک
مانگنے کی ضرورت ہو، وہ بھیک مانگے اور جو ضرورت مند نہ ہو وہ بھیک نہ مانگے۔ اس
سلسلے میں ایک حدیث دیکھیں۔عبداللہ بن
عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ
مالدار کے لیے حلال نہیں اور نہ طاقتور اور مضبوط آدمی کے لیے (حلال
ہے)۔(ابوداؤد:1634)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو مالدار ہو یا کماکر کھا
سکتا ہو اسے بھیک نہیں مانگنا چاہیے۔آپ کے پاس جو اکثر بھیک مانگنے آتا ہے اس کے
بارے میں مالی حالت پتہ لگائیں اور ضرورت معلوم ہو تو بھیک دیں اور ضرورت نہ ہو تو
بھیک مانگنے سے ڈرائیں۔ اس بارے بڑی وعید آئی ہے۔
سوال: دواؤں میں بعض دوائیاں ایسی ہوتی
ہیں جو کیپسول کی شکل میں ہوتی ہیں اور ان کا کیپسول جیلاٹین سے بنا ہوتا ہے اور
جیلاٹین جانور کی ہڈیوں اور چمڑے وغیرہ کی یخنی سے بنایا جاتا ہے۔ ان میں سے بعض
جیلاٹین گائے، بکری بھیڑ وغیرہ سے بنتے ہیں لیکن پتہ نہیں کہ حلال طریقے سے ذبح
ہوا کہ نہیں۔ ایسی دواؤں کا ویجیٹیرین ورزن نہیں ملتا ۔ ایسی صورت میں کیا کرنا
چاہئے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر اوپر کا کور نکال کر پھینک دیں تو اندر کی دوا
کھاسکتے ہیں کیونکہ جیلاٹین اسی کور میں ہوتا ہے؟
جواب:جیلاٹین سے بنی وہی دوائیں یا کھانے پینے کی وہی
اشیاء کھا سکتے ہیں جس میں حلال جانور کا حصہ شامل ہو وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ
اسے شرعی طور پر ذبح بھی کیا گیا ہو۔
وہ دوائیں جن میں حرام جانوروں کے اجزاء شامل ہوں ان کا
استعمال جائز نہیں ہے اور اسی طرح وہ دوائیں جن میں حلال جانور کے اجزاء ہوں مگر
یہ معلوم نہ ہو کہ جانور شرعی طور پر ذبح کیا گیا ہے یا نہیں تو ایسی دوا بھی
استعمال نہ کی جائے کیونکہ یہ مشکوک ہوگئی۔
آج کے ترقی یافتہ زمانے میں ایک بیماری کے لیے متعدد
دوائیاں ملتی ہیں اور مختلف قسم کے علاج بھی موجود ہیں۔ اگر کوئی ایسی بیماری جس
کے لئے کوئی دوسری دوا نہ ہو، جیلاٹین مکس ہی ہو تو مجبوراً استعمال جائز ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اگر یقینی طور پر معلوم ہو کہ کور
میں ہی جیلاٹین ہوتا ہے تو اس کو ہٹاکر اندر کی دوا کھاسکتے ہیں، اس میں حرج نہیں
ہے۔
سوال: کیا میری بڑی امی سے میرے بھائیوں
کا پردہ ہوگاجبکہ بڑے ابو سے ہم لوگ پرہ نہیں کرتے ہیں یعنی ہمارے سگے بڑے ابو اور
سگی بڑی امی مراد ہیں۔ اور میری امی کو میری پھوپھی کے بیٹوں سے پردہ کرنا ہوگا؟
جواب: چچی سے نکاح کرنا جائز ہے اور اصول یہ ہے کہ جس
سے نکاح جائز ہے اس سے پردہ کرنا ہے اس لئے آپ کے بھائی کے لیے چچی سے پردہ ہے۔آپ
کی امی کے لیے بھی اپنی نند کے بیٹے سے پردہ ہے۔
سوال: جب ایک عورت عدت پوری کرلیتی ہے تو
عدت کے بعد دعوت کرے اور کھانا کھلائے تو کیا یہ جائز ہے؟
جواب: عدت پوری ہونے پر عورت کے لیے دعوت کرنے کی کوئی
ضرورت نہیں ہے۔ دین اسلام میں کہیں بھی یہ بات مذکور نہیں ہے کہ عدت پوری ہونے پر عورت
کودعوت کرنا ہے۔ اگر کوئی عورت اس طرح کا کام دین سمجھ کر کرتی ہے تو یہ بدعتی عمل
ہے، اس پر گناہ ملے گا۔ لہذا اس قسم کی دعوت سے پرہیز کیا جائے۔
سوال: ایک عورت جس کو چار بچے ہیں۔ شوہر
رکشہ چلاتا ہے مگر مشکل سے گزارا ہوتا ہے اور اس کا گھر کچا ہے، کیا اس کو زکوۃ لگتی ہے اور اس کو زکوۃ دے سکتے ہیں؟
جواب: اس میں اصل مسئلہ یہ دیکھا جائے گا کہ کیا اس کی
بنیادی ضروریات میں سے کسی ضرورت کی تکمیل میں اسے پریشانی لاحق ہے مثلاً اناج،
گیس، بجلی، دوا اور کرایہ وغیرہ۔انسان کی بنیادی ضروریات میں سے کسی ضرورت کی
تکمیل کے لیے اسے پریشانی لاحق ہے تو اس ضرورت کی تکمیل کے لیے اسے زکوۃ دے سکتے
ہیں لیکن اگر وہ اپنی ضروریات خود بخود پوری کر لیتے ہیں تو زکوۃ دینے کی ضرورت
نہیں ہے۔
سوال: ایک بزرگ عمرہ کرنا چاہتے ہیں لیکن
انہیں پیشاب پر کنٹرول نہیں- کیا وہ پیمپر کے ساتھ حرم میں داخل ہو سکتے ہیں اور
شریعت کے مطابق کیا احتیاط کرنا ہوگا؟
جواب: جس آدمی کے ساتھ پیشاب کا مسئلہ ہے، اس کو قطرات
آتے ہیں، ایسا آدمی احرام کی حالت میں پمپر پہن سکتا ہے اور وہ اس حالت میں حرم
شریف کے اندر بھی داخل ہو سکتا ہے تاکہ قطرات نہ گریں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
سوال: آج کل مارکیٹ میں ایسے نقلی ناخن
ملتے ہیں جو جیولری کی طرح استعمال ہوتے ہیں یعنی سٹیکر کی طرح لگا کر اسےاتار
سکتے ہیں۔ اس پر موتی وغیرہ لگے ہوتے یعنی جیولری کی طرح ایک دفعہ پہن لیں پھر اسےاتارلیں
اوروہ دوبارہ بھی استعمال ہوجاتے ہیں، کیا ایسے ناخن پہننا
جائز ہے؟
جواب: مصنوعی ناخن کے استعمال کی دو صورتیں ہیں۔
پہلی صورت یہ ہے کہ اگر کسی کو مصنوعی ناخن لگانے کی
ضرورت ہو جیسے اس کا ناخن ٹوٹ گیا ہو تو وہ مصنوعی ناخن لگا سکتا ہے کیونکہ یہ
علاج کے طور پر ہے۔ ایک صحابی کی ناک کٹ گئی تھی تو انہوں نے سونے کی ناک لگوائی
تھی۔
مصنوعی ناخن لگانے کی دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی عورت
زینت اور فیشن کے طور پر اپنے ناخن کو لمبا کرنے کے لیے مصنوعی ناخن لگائے۔ یہ
صورت جائز نہیں ہے کیونکہ اس میں دھوکہ ہے اور اللہ کی تخلیق میں تبدیلی ہے۔نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ناخن کاٹنے کی تعلیم دی ہے نہ کہ اسے بڑھانے
کی۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے) روایت کیا کہ پانچ
چیزیں ختنہ کرانا، موئے زیر ناف مونڈنا، بغل کے بال نوچنا، ناخن ترشوانا اور مونچھ
کم کرانا پیدائشی سنتوں میں سے ہیں۔ (صحيح البخاري:5889)
اسی طرح عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
اللہ تعالیٰ نے گودنے والیوں پر اور گدوانے والیوں پر اور چہرے کے بال اکھاڑنے
والیوں پر اور خوبصورتی پیدا کرنے کے لیے سامنے کے دانتوں کے درمیان کشادگی کرنے
والیوں پر جو اللہ کی پیدائش میں تبدیلی کرتی ہیں، لعنت بھیجی ہے پھر میں کیوں نہ
ان پر لعنت بھیجوں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے اور وہ
اللہ کی کتاب میں موجود ہے۔ (صحيح البخاری: 5943)
نیز اس میں فاسق و فاجر عورتوں کی مشابہت بھی ہے اس وجہ
سے کسی مسلمان عورت کو اس طرح کا مصنوعی ناخن بطور شوق وزینت نہیں استعمال کرنا چاہیے۔
سوال:میری ایک نند دکان سے اپنا حصہ بھائیوں کے نام کر چکی
ہے۔ اب اس دکان سے جو کرایہ حاصل ہو رہا ہے، کیا اس کرایے میں اس (بہن) کا بھی
شرعی حصہ بنتا ہے یعنی کیا بھائیوں پر لازم ہے کہ وہ اس کرایے میں سے اپنی بہن کو
حصہ دیں جبکہ دکان ان کے نام منتقل ہو چکی ہے؟
جواب: اصل میں اپنے سماج میں بہنوں کو وراثت سے حصہ
دینے کا رواج نہیں ہے تو بعض جگہوں پر بہنیں اپنا حصہ لینے سے شرماتی ہیں اور
سمجھتی ہیں کہ اگر میں نے حصہ لے لیا تو میرے بھائی زندگی بھر کے لیے ناراض ہو
جائیں گے اس لیے مجبورا اپنا حصہ چھوڑ دیتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر بہن کہے کہ میں نے اپنا حصہ چھوڑ
دیا پھر بھی حصہ نکال کر بہن کو دے دینا چاہیے۔اگر بہن کا حصہ نکال کر بہن کو دے
دیا گیا، اور اس کے بعد بہن نے اپنے حصہ کسی بھائی کو ہدیہ کر دیا تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
ایسی صورت میں وہ حصہ جس کو دیا گیا وہ اس کا ہو گیا اب اس میں بہن کا حصہ نہیں
رہا لیکن اگر بہن نے مجبورا حصہ چھوڑا ہے یا بھائیوں نے حصہ نکالا ہی نہیں تو ایسی
صورت میں بہن کا حصہ ابھی بھی اس میں موجود ہے اور کرائے سے بہن کو حصہ دینا پڑے
گا۔
سوال: کیا عقیقہ کی دعوت اور شادی یا
ولیمے کی دعوت ایک ہی کھانے میں کی جا سکتی ہے؟
جواب: عقیقہ کا مطلب یہ ہے کہ جب بچہ پیدا ہو تو پیدائش
کے ساتویں دن اس کی طرف سے عقیقہ کیا جائے۔ جب ساتویں دن عقیقہ کرنے کی استطاعت نہ
ہو تو بعد میں جب بھی استطاعت ہو عقیقہ دیا جاسکتا ہے۔ عقیقہ دیتے وقت شادی کا
موقع ہو تو عقیقہ کا گوشت ولیمہ میں کھلایا جاسکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
سوال: کیا بے نمازی کی نمازجنازہ پڑھی
جائے گی؟
جواب: بے نمازی کے حکم میں اہل علم کے درمیان اختلاف
پایا جاتا ہے، اکثر اہل علم اس جانب گئے ہیں کہ بے نمازی کو نہ غسل دیا جائے ، نہ
کفن دیا جائے ، نہ نماز جنازہ پڑھی جائے اور نہ ہی مسلمانوں کے قبرستان میں دفن
کیا جائے گا۔ بعض اہل علم اس جانب گئے ہیں کہ اگر وہ نماز کی فرضیت کا قائل تھا
اور سستی کی وجہ سے پابندی کے ساتھ پنج وقتہ نمازوں کی ادائیگی نہیں کرتا تھا تو
مسلمان کی طرح اس کو دفن کیا جائے گا لیکن اس کے جنازہ میں صالح افراد شامل نہ ہوں
۔
سوال: میرے گاؤں میں مسجد بنامینار کے
بنا ہوا ہے، کیا ہم اپنا گھر دہری منزلہ بناسکتے ہیں یعنی مسجد سے اونچا اپنا گھر
بناسکتے ہیں؟
جواب:مسجد کے لئے مینار ہونا کوئی ضروری نہیں ہے اس لئے
اگر کسی مسجد میں مینار نہیں ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔اور اس میں بھی کوئی
حرج نہیں ہے کہ کسی کاگھر مسجد سے اونچا ہوجائے خواہ اس میں مینار ہو یا نہ ہو۔ آپ
اپنا گھر مسجد سے اونچا بنا سکتے ہیں، گوکہ مسجد میں مینار نہ ہو۔
سوال: کہا جاتا ہےکہ جو مال بہنوں پر خرچ کیا جاتا ہے اس کی پوچھ
نہیں ہوگی کہ مال کہاں سے آیا اور کیسے آیا یعنی اس کے بارے میں کوئی بھی سوال نہیں ہوگا، کیا یہ
بات درست ہے؟
جواب: ایک آدمی جیسے بھی مال جمع کرتا ہے اور جس طرح
اور جہاں جہاں خرچ کرتا ہے، ان سب کے بارے میں آخرت میں حساب ہوگا۔ یہ معاملہ
مردوں کے ہی ساتھ نہیں ہے بلکہ عورتوں کے لئے بھی یعنی عورت بھی مال جمع کرے یا
خرچ کرے اس کے بارے میں بھی سوال ہوگا۔شریعت میں ایسی کوئی دلیل نہیں ہے کہ بہن پر
خرچ کیا جائے تو اس بارے میں سوال نہیں ہوگا۔ انسان جہاں بھی خرچ کرے گا اس کے
بارے میں آخرت میں حساب ہوگا۔
سوال: بار بار نیچے جھکتی ہوں تو پیشاب
کی تکلیف شروع ہو جاتی ہے جو کبھی گھنٹہ بھر رہتی ہے، اس لئے میں سجدہ کی بجائے
(قیام و رکوع کے بعد)کرسی پر بیٹھ کر سجدہ اشارے سے تھوڑا جھک کر کر لیتی ہوں۔ کیا
یہ میرے لیے درست ہے یا میں بیٹھ کر ساری نماز پڑھوں؟
جواب: اگر زمین پر سجدہ کرنے سے پیشاب خارج ہو جاتا ہے
جبکہ کھڑے رہنے میں اس کی شکایت نہیں ہے تو آپ کھڑے ہو کر قیام کریں اور رکوع بھی
اصل صورت میں کرسکتے ہیں تو رکوع بھی کریں اور کرسی پر جس قدر جھک سکتے ہیں، جھک
کر سجدہ کرلیں اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
سوال: لوگ بولتے ہیں کہ مغرب کے بعد کسی
کو پیسہ یا کچھ دینے سے نقصان ہوتا ہے، کیا یہ صحیح ہے؟
جواب: یہ جھوٹی بات ہے کہ مغرب کے بعد پیسہ دینے سے
نقصان ہوتا ہے کیونکہ شریعت میں ایسی کوئی دلیل نہیں ہے۔ آپ دن و رات کبھی بھی کسی کو پیسہ یا کوئی سامان دے سکتے ہیں اور لے سکتے ہیں، اس
میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
سوال: اکثر بچوں کے نام کے بعد ان کا سر
نیم جیسے قریشی یا عباسی یا ان کے دادا کا نام لگایا جاتا ہے۔ کیا یہ صحیح ہے جبکہ
حکم یہ ہے کہ بچوں کو ان کے سگے باپ کے نام کے ساتھ پکارو؟
جواب: بچوں کے نام میں یا بڑے لوگوں کے نام کے آخر میں
ذات اور برادری کی نسبت ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ نام الگ چیز ہے اور لقب، تخلص
، قبیلہ کی طرف نسبت الگ چیز ہے۔ نام کے ساتھ برادری لکھنے سے آدمی کی ولدیت نہیں
بدل جاتی ہے، ولدیت اپنی جگہ وہی رہتی ہے، بس ساتھ میں قبیلہ کی نسبت بھی ہوتی ہے۔
اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ ٹھیک ویسے ہی ہے جیسے کوئی اپنے نام کے ساتھ تخلص
یا لقب لگاتا ہے۔
ہاں اگر کوئی اپنی ولدیت کی جگہ کسی دوسرے کو باپ لکھتا
ہے یا بولتا ہے یا کہلواتا ہے ، تو یہ حرام ہے۔
سوال: آج کل نوجوان بچے اپنی پسند کے
کھلاڑیوں اور ملکوں کے نام کے ٹی شرٹس پہنتے ہیں، اس کا کیا حکم ہے؟
جواب: ہمارے آئیڈیل محمد ﷺ ہیں اس وجہ سے لباس وپوشاک، بال اور وضع قطع میں نبی ﷺ کی سنت کی
پیروی کرنی چاہئے،عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :انسان اس کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھتا
ہے۔(بخاری:6168)
دیکھیں کل قیامت میں وہ آدمی اس کے ساتھ ہوگا جس سے
محبت کا اظہار کرتا ہے، ایسے میں ایک مسلمان کو رسول اللہ سے محبت ہونی چاہئے تاکہ
اس کا حشر بھی رسواللہ ﷺ کے ساتھ ہو۔آپ ہمارے لئے تمام معاملات میں آئیڈیل ہیں۔لباس
کے معاملہ میں بھی ہمیں کھلاڑی اور ہیرو کی نقل نہیں کرنا چاہئے کیونکہ وہ ایک
مسلمان کے لئے آئیڈیل نہیں ہوسکتے۔
سوال: کیا سوتیلی ماں کو ماں کہنا فرض ہے
یا ہم کسی اور لقب سے پکار سکتے ہیں جیسے آنٹی وغیرہ؟
جواب: جو ماں کے درجہ میں ہو، ان کو آنٹی کیسے کہیں گے،
ان کو ہرحال میں ماں ہی کہنا ہے کیونکہ وہ ماں ہے، آنٹی نہیں ہے۔ نکاح سے بھی رشتہ
بنتا ہے، یہاں والد کے نکاح سے رشتہ بن رہا ہے۔ گوکہ حقیقی ماں نہیں ہے مگر وہ ماں
کے درجے میں ہے اور ماں ہی کہنا ہے۔
سوال: اگر وتر کی نماز رات میں ادا نہ
کرسکیں تو دن میں اس کی قضا جفت کی شکل میں کرنی ہوتی ہے، اس مسئلہ کو دلیل سے
سمجھائیں جبکہ وتر کو وتر کی شکل میں پڑھنا چاہئے؟
جواب: عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ
رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ إِذَا فَاتَتْهُ
الصَّلَاةُ مِنَ اللَّيْلِ مِنْ وَجَعٍ أَوْ غَيْرِهِ، صَلَّى مِنَ النَّهَارِ
ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً (صحیح مسلم:746)
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آپ کی رات کی نماز بیماری یا کسی اور وجہ سے رہ جاتی
تو دن کو بارہ رکعتیں پڑھ لیتے۔
اس حدیث سے اہل علم نے یہ مسئلہ بیان فرمایا ہے کہ جب
کسی کی وتر کی نماز فوت ہوجائے، رات میں نہ پڑھ سکے تو دن میں اس کی قضا جفت کی
شکل میں کرلے یعنی ایک رکعت وتر پڑھتا تھا تو دو رکعت پڑھے اور تین رکعت پڑھتا تھا
تو دو دو کرکے چار رکعت ادا کرلے۔ اب سوال یہ ہے کہ وتر کو طاق ہونا چاہئے جفت
کیوں پڑھتے ہیں ، اس کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺنے رات کی نماز دن میں قضا کرتے
وقت جفت کی شکل میں ادا فرمایا ہے، اسی لئے ہم رسول اللہ ﷺ کی اتباع میں ایسے کریں
گے۔ یہ قضا کا معاملہ ہے، جب آپ اپنے وقت پر وتر پڑھیں گے تو یقینا طاق کی شکل میں
ہی ادا کریں گے۔
سوال: محرم میں کیا پڑھنا چاہئے؟
جواب:محرم حرمت کا مہینہ ہے، اس میں ظلم و زیادتی نہیں
کرنا ہے اور روزہ رکھنے کے اعتبار سے افضل مہینہ ہے۔ یہ کچھ پڑھنے والا مہینہ نہیں
ہے جیسے بریلوی حضرات،مرثیہ، قوالی ، فاتحہ اور قل وغیرہ پڑھتے ہیں، نذر مانتے ہیں،
تعزیہ مناتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ یہ سب بدعتی اعمال ہیں۔ ان سب اعمال سے دور رہنا ہے۔
سوال: کیا ظہر، عصر اور مغرب کی نمازوں
میں سنت اور نفل نماز میں قرآن پاک کو دیکھ کر سورتیں پڑھ سکتے ہیں؟
جواب: اللہ تعالی نے حکم دیا ہے کہ قرآن سے جو بھی پڑھنا
میسر ہو، وہ تلاوت کرو۔ فرض نماز یا سنت ونفل نماز میں جو بھی قرآن سے یاد ہو، اس کی تلاوت کریں گے۔ مصحف سے دیکھ
کر نہیں پڑھیں گے۔ اگر کسی کو چند سورتیں
یاد ہوں تو وہی سورتیں دہراکر پڑھے تاہم اتنی سورتیں ہر کسی کو ضرور یاد ہونا
چاہئے جس سے وہ آسانی سے پانچ اوقات کی
نماز ادا کرسکے۔
سوال: میرے کچھ عزیز پاکستان سے عمرہ کے
لئے آئے، پہلے مدینہ گئےپھرمکہ آئےاور عمرہ کیا- دو دن بعد مسجد عائشہ گئے اور پھرعمرہ
کیا- اب وہ جدہ آئے ہیں، ایک دو دن کے لئے، یہاں سے نیت کریں گے عمرہ کی اور عمرہ
کریں گے- جدہ اور مسجد عائشہ سے عمرہ صحیح ہے؟
جواب: ایک سفر میں ایک عمرہ کرنا مسنون ہے ، بار بار
اور جلدی جلدی عمرہ کرنا خلاف سنت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام عمرہ
کے لیے مکہ آتے تو ایک ہی عمرہ کرکے واپس چلے جاتے۔
دوسری بات یہ ہے کہ مکہ زیادہ دن ٹھہرنے پر کچھ دنوں کے
فاصلہ کے بعد مثلا ہفتہ دس دن بعد دوبارہ عمرہ کرلے تو حرج نہیں ہےکیونکہ دو عمرہ
سے درمیان کے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں مکہ میں رہنے والا مسجد عائشہ سے
احرام باندھ سکتا ہے، اسے کسی میقات پر جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
تیسری بات یہ ہے جب آدمی کہیں سے جدہ آئے اور یہاں آنے
کے بعد عمرہ کا ارادہ ہوا تو اس وقت جدہ سے احرام باندھ سکتا ہے، عمرہ کے لیے۔غرض
یہ کہ آدمی جہاں ہوگا، احرام اسی جگہ کے اعتبار سے باندھے گا۔ساتھ ہی جلدی جلدی
عمرہ سے پرہیز کیا جائے گا۔
سوال: بچے کو پیلا یرقان ہوجائے تو ہمارے
یہاں دھاگے پر دم کرکے اس میں چھوٹی چھوٹی لکڑی کے حصے پرو ،دیتے ہیں اور بچے کے
گلے میں ڈال دیتے ہیں جس سے آرام آجاتا ہے۔ کیا یہ طریقہ صحیح ہے؟
جواب: یہ تعویذ گنڈے کی ایک شکل ہے، ایسا کرنا منع ہے۔ نبی
ﷺ نے کوئی چیز لٹکانے سے منع فرمایا ہے۔اسی طرح عہد جاہلیت میں لوگ بیماری کے وقت
کڑا پہننے تھے تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا، آپ نے اس سے منع
فرما دیا۔
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی
صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے بازو میں پیتل (تانبے) کا ایک کڑا دیکھا، نبی
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارے بھئی! اس نے بتایا کہ یہ بیماری کی وجہ سے ہے،
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے تمہاری کمزوری میں مزید اضافہ ہی ہوگا،
اسے اتار کر پھینکو، اگر تم اس حال میں مرگئے کہ یہ تمہارے ہاتھ میں ہو، تو تم
کبھی کامیاب نہ ہوگے۔ (مسند احمد: 20000)
بیماری کے علاج کے لیے جائز سبب اختیار کیا جائے، نہ کہ
شرکیہ طریقہ۔ ممکن ہے کہ غلط طریقے سے کسی کو فائدہ پہنچ جائے مگر یاد رہے کہ
فائدہ پہنچانے والی ذات اللہ تعالی ہی ہے۔ صحیح طریقہ اختیار کرنے میں کوئی گناہ
نہیں ہے مگر غلط طریقہ سے خود کو فائدہ پہنچانے میں گناہ ہے۔
سوال: جس طرح ہر مسجد میں عورتوں کو حیض
کی حالت میں جانا منع ہے اس طرح مسجد الحرام میں بھی داخل ہونا منع ہے یا اس کا
حکم مختلف ہے کیونکہ حالت حیض میں سعی کے لئے عورت حرم کے اندر جاسکتی ہے اور سعی
کر سکتی ہے تو کیا حرم کی کسی اور جگہ بھی جا سکتی اور وہاں وقت گزار سکتی ہے ؟
جواب: دنیا کی تمام مساجد میں حائضہ عورت کا ٹھہرنا منع
ہے۔ مسجد حرام میں بھی حائضہ عورت ٹھہر نہیں سکتی ہے۔ مسعی جو سعی کی جگہ ہے وہ
مسجدحرام کا حصہ نہیں ہے اس وجہ سے حائضہ اس حصے میں رہ سکتی ہے یا سعی کرسکتی ہے۔
باقی پوری مسجد کا وہی حکم ہے یعنی ممانعت والا۔
سوال: کیا تکبیر قنوت لازمی ہے اور نہ
کرنے پر سجدہ سہو کرنا ہوگا؟
جواب: نماز وتر میں دعائے قنوت سے قبل نبی ﷺ سے تکبیر
کہنے کی کوئی دلیل نہیں ملتی ہے اس لئے بغیر تکبیر کہے دعائے قنوت پڑھنی چاہئے۔
تکبیر کہنے سے متعلق مصنف ابن ابی شیبہ اور بعض دیگر
کتب میں بعض صحابہ سے آثار ملتے ہیں جن میں صحت وضعف کا بھی مسئلہ ہے۔ اس بنیاد پر
اگر کوئی دعائے قنوت سے پہلے تکبیر کہے تو حرج نہیں ہے تاہم نہ کہنا افضل و اولی
ہے۔
آپ کا سوال یہ ہے کہ کیا تکبیر کہنا لازمی ہے اور نہ
کہے تو سجدہ سہو کرنا ہوگا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ تکبیر کہنا لازمی نہیں ہے بلکہ اس
کو سنت بھی نہیں کہیں گے اور تکبیر نہ کہنے پر کوئی سجدہ سہو نہیں کرنا ہے۔
سوال: قرع اندازي یا پینشن يا بيوٹی پالر
کی تنخواہ کے پیسوں سے حج یا عمرہ کرسکتے ہیں؟
جواب: قرع اندازی کی نوعیت غیرواضح ہے۔ تاہم اس معاملہ
میں یہ دھیان رہے کہ صرف حلال مال سے حج و عمرہ کرنا چاہئے، اس میں حرام مال کی
ملاوٹ نہ ہو، قرع اندازی حرام طریقے پر ہو تو اس کا پیسہ بھی حرام ہوگا۔ پنشن حلال ہے سوائے اس کے جو اس میں سود
کی حیثیت سے زیادہ رقم ہوتی ہے۔ بیوٹی پارلر میں حلال کام کرکے جو کمائی حاصل ہو
وہ حلال ہے لیکن جو حرام کام کرکے حاصل ہو وہ کمائی حرام ہے۔
ان سب باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ آدمی دیکھے اس کی آمدنی
کا کون سا حصہ حلال ہے، اسے سے حج وعمرہ کرے بلکہ آدمی تو یہ بھی کوشش کرے کہ حرام
کا کوئی پیسہ نہ قبول کرے اور نہ کمائے۔
سوال: میں AI کے استعمال
کے بارے میں سوال کرنا چاہتی ہوں، خاص طور پر ترجمہ کے کام میں۔ کچھ لوگ مکمل
اسلامی کتب کو AI کے ذریعے ترجمہ کرواتے ہیں اور پھر ماہرین سے اس کی تصحیح کرواتے
ہیں جبکہ کچھ لوگ اسے ماہرین سے چیک بھی نہیں کرواتے۔ یہ طریقہ کس حد تک مناسب ہے۔
میں ذاتی طور پر زیادہ تر AI کو صرف dictionary کی طرح مشکل الفاظ سمجھنے کے لیے استعمال کرتی ہوں، نہ کہ بطور
مکمل مترجم؟
جواب: اے آئی کے مفید پہلو سے فائدہ اٹھانے میں حرج
نہیں ہے، اس سے ترجمہ کرنے ، اس کے ذریعہ لفظی معنی پوچھنے اور علمی مواد حاصل
کرنے میں۔
آپ اے آئی سے اپنی جانکاری کے لئے ترجمہ بھی کرسکتے
ہیں، لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے اس کا کیا ہوا ترجمہ بھی لے سکتے ہیں۔ تاہم
ایک بات کا ضرور دھیان رہے کہ اے آئی کا لکھا ہوا مضمون یا اے آئی کا ترجمہ لے کر
اس پر اپنا نام لکھنا یا اپنے نام کے ساتھ کسی ادارہ کو مقالہ یا مجلہ کو مضمون
دینا درست نہیں ہے کیونکہ وہ آپ کا اپنا نہیں ہے، یہ آے آئی کا ہے۔ اس لئے
امانتداری نبھانی چاہئے۔
آپ کوئی عربی کتاب پڑھ رہے ہیں یا انگلش کا کوئی جملہ
ہے جو سمجھ میں نہیں آرہا ہے ، آپ نے اے آئی سے ترجمہ کرلیا، اس میں کوئی حرج نہیں
ہے۔
سوال: ہمیں دس محرم کے ساتھ نو محرم کا
روزہ رکھنا ہے یا پھر گیارہ محرم کا رکھنا ہے نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا
کہ میں اگر اگلے سال رہوں گا تو ضرور نو کا روزہ رکھوں گا ایسے میں سوال یہ ہے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو مدینہ میں یہودیوں کے ساتھ اتنے سال رہے پھر ایسے
کیسے ممکن ہے کہ آخری سال یہ بات معلوم ہوئی کہ یہود موسی علیہ السلام کی محبت میں
روزہ رکھتے ہیں؟
جواب: عاشوراء کا روزہ رکھنا ہے اور عاشوراء دس تاریخ
کو کہتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس محرم کا روزہ رکھا ہے اس لئے دس محرم
کا روزہ رکھنا چاہیے تاہم ساتھ میں نو محرم کا بھی روزہ رکھتے ہیں تو یہ افضل
واولی ہے یعنی نو اور دس محرم کا روزہ۔ دس کے ساتھ گیارہ محرم کا روزہ نہیں رکھنا
ہے کیونکہ اس سلسلے میں وارد حدیث ضعیف ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ آتے ہی یہودیوں کی بات
معلوم ہوگئی تھی کیونکہ حدیث میں یہ بات
موجود ہے کہ آپ نے مدینہ آتے ہی یہ بات معلوم کرلی تھی۔جہاں تک اس حدیث کا معاملہ
ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگلے سال نو کا روزہ رکھوں گا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مصلحت
کے تئیں شروع کے سالوں میں یہودیوں کی مخالفت کا حکم نہیں دیا لیکن جب صحابہ کی
طرف سے آخری عمر میں مطالبہ آگیا تو آپ نے یہود کی مخالفت میں نو کا روزہ بھی
رکھنے کا ارادہ کیا۔ بس یہ معاملہ ہے۔
سوال:اگر کسی علاقے میں شیعہ حضرات کی
دکان یا کاروبار ہو تو ہم احتیاطاً ان کے گھر کا کھانا پینا یا دعوت وغیرہ قبول
نہیں کرتے لیکن اگر کوئی مسلمان نوجوان ان کی دکان، کمپنی یا کاروبار میں ملازمت
کرتا ہو اور اس کی تنخواہ اسی ملازمت سے ملتی ہو تو کیا ایسی ملازمت کرنا شرعاً
جائز ہے اور اس کی کمائی حلال ہے جبکہ ان کا کاروبار بذات خود حلال ہو؟
جواب: غیرمسلم، مشرک ہو یا یہودی ہو، یانصاری ہو یا شیعہ ہو، اس کے ساتھ دنیاوی
معاملہ کرنے، تجارتی لین دین کرنے اور اس کے یہاں حلال کاروبار کے تحت مزدوری کرنے
میں کوئی حرج نہیں ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے بھی
کافروں سے لین دین کیا ہے اس سلسلے میں بہت سارے دلائل ملتے ہیں ، دو چند دلیل ملاحظہ کریں۔
(1)عبدالرحمٰن
بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
خدمت میں موجود تھے کہ ایک مسٹنڈا لمبے قد والا مشرک بکریاں ہانکتا ہوا آیا۔ آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ یہ بیچنے کے لیے ہیں یا عطیہ ہیں؟ یا آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ (یہ بیچنے کے لیے ہیں) یا ہبہ کرنے کے لیے؟ اس
نے کہا کہ نہیں بلکہ بیچنے کے لیے ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک
بکری خرید لی۔ (صحيح البخاري:2216)
(2)عبداللہ
بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کا اجارہ آدھوں
آدھ بٹائی پر یہودیوں کو دیا تھا۔ پھر یہی ٹھیکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور
ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ تک رہا۔ اور عمر رضی اللہ عنہ کے بھی شروع خلافت
میں۔ اور کہیں یہ ذکر نہیں ہے کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی
اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد نیا ٹھیکہ کیا ہو۔
(صحيح البخاري:
Q2285)
(3)رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ہجرت کے موقع پر
ایک کافر کے ساتھ راستہ کی راہنمائی کے لئے اجرت پرمعاملہ طے کیاتھا۔ (صحیح
البخاری:2263)
شیعہ کا کاروبار حلال ہے تو اس کے یہاں مسلمان مزدوری
کرسکتا ہے، اس کی مزدوری (کمائی) حلال ہوگی بشرطیکہ تجارت بھی حلال طریقے پر کی
جاتی ہو، اس میں فریب ، سود اور جوا وغیرہ شامل نہ ہو۔
سوال: مجھے شادی سے پہلے تین یا چار دن
حیض آتا تھا اور ساتویں دن غسل کرکے پاک ہوجاتی تھی۔ اب دس دنوں تک ہلکا گدلا پانی
آتا رہتا ہے، ایسے میں دس دن تک انتظار
کرنا ہوگا یا ساتویں دن غسل کرکے نماز و روزہ کا اہتمام کرسکتی ہوں؟
جواب: آپ کے سوال میں دو صورتیں ہوسکتی ہیں۔
پہلی صورت: جب ماہواری آتی ہو اور دس دنوں تک لگاتار
گدلا رنگ آتا ہو تو اس کو بھی حیض ہی ماننا ہے یعنی شروع میں چند دن حیض کا گاڑھا
خون آئے پھر پتلے پانی کی طرح دس دنوں تک گدلا پانی آئے، یہ عمل بغیر انقطاع کے لگاتار
ہو۔ یہ سارے دن حیض کے ہیں۔ ان دنوں نماز و روزہ سے رکنا ہے۔
دوسری صورت: اگر چند روز حیض کی طرح گاڑھا خون آئے پھر
پاکی اور خشکی حاصل ہو جائے پھر ایک دو دن یا چند دنوں بعد گدلا پانی آئے تو پہلے
کے ایام حیض والے ہیں۔ خشکی ظاہر ہونے پر غسل کرکے نماز کی پاپندی کریں۔ بعد میں
آنے والا گدلا پانی حیض نہیں ہے ، اس کو کچھ بھی شمار نہ کریں۔ ان دنوں نماز پڑھنا
ہے۔
سوال: جو لوگ اپنا مال ایک ملک سے دوسرے
ملک بھیج کر تجارت کرتے ہیں لیکن حکومت اس پہ ٹیکس لیتی ہے اس وجہ سے کچھ لوگ ٹیکس
دینے کی بجائے وہ کسٹم آفیسر کو کچھ پیسے دے دیتے ہیں تاکہ ان کا مال ایک طرف
ہوجائے حکومت کو پتہ نہ چلے اور ان سے اس پر ٹیکس وصول نہ کیا جائے تو کیا ایسا
کرنا جائز ہے ؟
جواب: ٹیکس سے بچنے کے لئے کسٹم آفیسر کو کچھ دے کر
اپنا مال ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنا جائز نہیں ہے۔ اس میں ایک تو حکومت کے ساتھ
دھوکہ ہے تو دوسری طرف رشوت والا حرام کام بھی ہے۔
اسلام میں کسی کو دھوکہ دینا جائز نہیں ہے ، حکومت کو
دھوکہ دینا بھی جائز نہیں ہے چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غلے کی ایک ڈھیری کے پاس سے گزرے تو آپ نے اپنا ہاتھ
اس میں داخل کیا، آپ کی انگلیوں نے نمی محسوس کی تو آپ نے فرمایا: غلے کے مالک! یہ
کیا ہے؟ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس پر بارش پڑ گئی تھی۔ آپ نے فرمایا: تو
تم نے اسے (بھیگے ہوئے غلے) کو اوپر کیوں نہ رکھا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیتے؟ جس نے
دھوکا کیا، وہ مجھ سے نہیں۔ (صحيح مسلم:284)
اسی طرح اسلام میں رشوت لینا دینا دونوں حرام ہیں۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر اللہ کی لعنت ہے۔ (سنن ابن
ماجه:2313)
سوال: کیا صرف گیارہ محرم کا روزہ رکھ
سکتے ہیں، اگر دس اور گیارہ دو دنوں کا روزہ کسی وجہ سے نہیں رکھ سکیں؟
جواب: صرف گیارہ کا روزہ نہیں رکھنا ہے ، اس کو عاشوراء
کہتے ہی نہیں ہیں۔ عاشوراء کہتے ہیں دس تاریخ
کو۔اس وجہ سے صرف دس کا روزہ رکھیں یا نو اور دس محرم دونوں کا روزہ رکھیں۔
سوال: ایجینس کے ذریعے جاب حاصل کرنا
جائز ہے، اس میں ایجینس والے ویزہ دیتے اور انٹرویو کرواتے ہیں جس کی فیس لیتے ہیں
اور ہر ماہ تنخواہ میں بھی اپنا کمیشن رکھتے ہیں اور یہ ایک سال کا کنٹریکٹ ہوتا
ہے، اس کے بعد کہیں اور جاب کرسکتے ہیں؟
جواب: ویزہ کے کاروبار سے متعلق اس ادارہ کا فیس لینا
جائز ہے لیکن ملازم کی نوکری میں سے ایک سال تک کے لئے کمیشن لینا جائز نہیں ہے
کیونکہ ملازم کے عمل میں اس کا کوئی دخل نہیں ہے۔ملازم کی اپنی محنت کی کمائی ہے۔
ادارہ کا دخل محض ویزہ کا کام کروانے تک ہے، اس کے بعد اس کا عمل دخل ختم ہوجاتا
ہے۔لہذا ایسے ادارہ والے سے ویزہ کا کام نہ کروایا جائے کیونکہ اس کی کمائی کا
طریقہ غلط ہے۔

0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔