Sunday, September 6, 2026

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(110)

 

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(110)

جواب از: شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ

جدہ دعوہ سنٹر۔حی السلامہ - سعودی عرب


سوال: میرا بھائی کا پیٹ کی طرف سے آپریشن ہوا ہے ، وہ کیسے نماز پڑھے جبکہ صحیح سے بیٹھ نہیں سکتا ہے ؟

جواب:جوآدمی  بیٹھ کر نماز نہ پڑھ سکے وہ لیٹے لیٹے پہلو کے بل نماز پڑھے ۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ جیسے میت کو قبر میں قبلہ رخ دائیں پہلو پر رکھتے ہیں، اسی طرح آدمی ہوجائے اور ٹھیک اسی طرح ہاتھ اٹھاکررفع یدین کرتے ہوئے تکبیرتحریمہ کہہ کرسینے پر ہاتھ باندھ لے۔ پھر قیام کے اذکار کے بعد تکبیر کہہ کررکوع کے لئے تھوڑا سر جھکائے، پھر سجدہ کے لئے کچھ زیادہ سر جھکائے پھر قیام کی طرف لوٹ آئے۔ اس طرح ایک رکعت ، دوسری رکعت نیز سلام پھیرنے تک مکمل نماز ادا کرے۔

جس کو پہلو پہ نماز ادا کرنے کی طاقت نہ ہو، وہ پیٹھ کے بل  چپ لیٹے ، پیراور چہرہ دونوں قبلہ رخ کرکے اوپر بیان کردہ طریقہ کے مطابق نماز ادا کرے۔

سوال: جب میری آنکھ کھلی تو سحری کا وقت ختم ہوئے دس بارہ منٹ ہو گئے تھے۔ اسی وقت مجھے خیال آیا کہ جمعرات کا دن ہے، روزہ رکھ لینا چاہیے لیکن پھر اس خیال کو بدل دیا کیونکہ شک پیدا ہوگیا تھا کہ رات کو ارادہ نہیں کیا تھا، کیا میں نے درست فیصلہ کیا؟

جواب: فرض روزہ کے لیے نیت فجر سے پہلے کرنا ہے، یہ شرط نفل روزہ کے لیے نہیں ہے۔ ظہر سے پہلے کبھی بھی نفل روزہ کی نیت کر سکتے ہیں بشرطیکہ فجر بعد سے روزہ باطل کرنے والا کوئی کام نہ کئے ہوں۔مذکورہ صورت میں آپ روزہ کی نیت کرسکتے تھے کیونکہ یہ نفل روزہ تھا ، ہاں نہیں کھاتے کیونکہ سحری کھانے کا وقت نکل چکا تھا۔

سوال: میت والے گھر میں میت کے لئے قرآن اور تسبیحات پڑھتے ہیں، مجھے علم ہے کہ اس کا ثواب میت کو نہیں ملتا ہے اور وہ سب گن گن کر پڑھتے ہیں۔ میرا بھی جانا ہوتا ہے تو کیا میں ان قرآنی پاروں میں سے اپنے لئے ثواب کی نیت سے پڑھ سکتی ہوں یا نہیں پڑھنا چاہیے؟

جواب: اگر آپ کو ایسی محفل میں بلایا جائے جہاں میت کے لئے قرآن پڑھا جائے اور ذکر کیا جائے تواس محفل میں جانا ہی نہیں ہے بلکہ ایسے لوگوں کو اس قسم کے عمل سے روکنے کی دعوت دی جائے گی۔ آپ روک نہ سکیں ، کوئی حرج نہیں ہے مگرحق بات کی  دعوت دینا اپنی ذمہ داری سمجھیں اور اس میں شرکت ہرگز نہیں کرنا ہے۔

سوال: اگر کوئی نابالغ سات یا آٹھ سالہ لڑکے کی وفات ہو جائے تو کیا اس کی ماں، بہن یا اس کی کوئی رشتہ دار عورت غسل اور کفن پہنا سکتی ہے اور کیا ان خواتین کو اس بچے کی ستر پوشی کا بھی اسی طرح اہتمام کرنا ہوگا جیسے بڑوں کے لئے ہوتا ہے؟

جواب: سات آٹھ سال کے لڑکے کو عورتیں غسل نہیں دے سکتی ہیں ، اس کو مرد ہی غسل دے گا۔  اگر بچہ یا بچی سات سال سے کم عمر کے ہوں تب مرد یا عورت میں سے کوئی بھی اسے غسل دے سکتے ہیں مگر سات سال کے بعد لڑکے کو مرد اور لڑکی کو عورت غسل دے گی۔

شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"سات سال سے کم عمر بچے یا بچی کو غسل دینا مرد اور عورت دونوں کے لیے جائز ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ نبی ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم بن محمد کو عورتوں نے غسل دیا تھا، کیونکہ ان کا انتقال دودھ پینے کی عمر میں، یعنی دودھ چھڑانے سے پہلے ہوا تھا۔ نیز سات سال سے کم عمر بچے کی شرمگاہ کا وہ حکم نہیں ہوتا جو بڑے افراد کی شرمگاہ کا ہوتا ہے۔"(الشرح الممتع على زاد المستقنع 5/268)

سوال: قرآنی دعاؤں کے ساتھ اضافی الفاظ لگا کر دعا مانگنا کیسا ہے جیسے لوگ [ربنا آتنا فی الدنیا حسنة و فی الآخرة حسنہ و قنا عذاب النار] کے بعد یہ اضافہ کرتے ہیں [و قنا عذاب القبر و قنا عذاب الحشر، وقنا عذاب المیزان]۔

جواب: بعض علماء نے قرآنی دعاؤں میں حسب حال ضمائر بدلنے اور الفاظ کا اضافہ کرنے کو جائز کہا ہے مگر ایک شرط کے ساتھ ، وہ شرط یہ ہے کہ جب محض دعا کی حیثیت سے قرآنی آیت پڑھی جائے اسی وقت اس کی اجازت ہے۔جبکہ دوسرے اہل علم قرآنی دعاؤں میں کچھ بھی بدلنے اور اضافہ کرنے کو ممنوع قرار دیا ہے۔

میرا رحجان بھی ممانعت کی طرف ہے کہ قرآنی دعاؤں میں اپنی مرضی سے الفاظ کا اضافہ نہ کیا جائے، نہ بدلا جائے۔قرآن کی  جو دعا جیسے وارد ہے، اسی طرح پڑھنا چاہیے۔

باقی دعا کا باب وسیع ہے، آدمی اپنی یا دنیا کی کسی بھی زبان میں جو چاہے دعا مانگ سکتا ہے لہذا من مرضی دعائیں اپنی زبان کی جائے۔

سوال:زمزم کا پانی کھڑے ہوکر پینا سنت ہے؟

جواب: زمزم ایک قسم کا پانی ہے اور اس کے لیے بھی وہی حکم ہے جو عام پانی کا حکم ہے یعنی اسے بیٹھ کر پینا چاہیے۔ اگر کوئی کھڑے ہو کر بھی پانی پی لیتا ہے تو اس میں حرج نہیں ہے اور زمزم بھی کھڑے ہو کر پی لیتے ہیں اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے لیکن کھڑے ہو کر زمزم پینے کو سنت کہنا یہ بے بنیاد بات ہے۔

سوال: ایک لڑکی کا یوایس میں رہنے والے لڑکے سے آنلائن نکاح ہوا اور دو مہینے کے بعد رخصتی کی بات ہوئی تھی لیکن نو مہینے ہو گئے ہیں ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی ہے کیونکہ لڑکے کچھ جاب کے مسئلے اور حالات کے تبدیل ہونے سے نہ وہ آپا رہا ہے اور نہ لڑکی کو بلا پا رہا ہے اور لڑکے کے زبردستی اصرار کی وجہ سے لڑکی سسرال میں رہ رہی ہے اسکے والدین کے ساتھ جبکہ نہ تو رخصتی ہوئی ہے اور نہ ہی ولیمہ، تو کیا اس طرح لڑکی کا سسرال میں رہنا درست ہے جبکہ نہ تو وہ راضی ہے نہ ہی اسکے والدین؟

جواب: شرعی طور پر نکاح ہونے کے بعد لڑکا اور لڑکی دونوں آپس میں میاں بیوی ہیں، اب لڑکا جو کہے لڑکی کو اس کی بات ماننی ہے یعنی اپنے شوہر کی فرمانبرداری کرنی ہے۔

اب اس لڑکی کا ذمہ دار اور نگراں اس کا شوہر ہے اور اس کے شوہر کے ذمہ ہے کہ اپنی بیوی کو اپنے ساتھ رکھے لیکن اگر کسی عذر کی وجہ سے ساتھ نہیں رکھ پا رہا ہے تو جس جگہ وہ رکھے لڑکی کو رہنا چاہیے۔ لڑکا اگر اپنے گھر میں رہنے کے لیے کہتا ہے تو اسے اپنے شوہر کی بات ماننی چاہیے اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس میں رخصتی اور ولیمہ کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ رخصتی کہتے ہیں، والد کے گھر کو چھوڑ کر دوسرے کے گھر چلے جانا، یہی رخصتی ہے۔ہاں لڑکے کی غیرموجودگی میں لڑکی کو وہاں کچھ خدشات اور غیرمطمئن کوئی چیز محسوس ہو تو اپنے شوہر سے بیان کرکے صحیح حل تلاش کرے۔

خلاصہ یہ ہے کہ اولا نکاح میں جلد بازی نہیں کرنا چاہئے یعنی آنلائن نکاح نہیں کرنا چاہئے۔ جب لڑکا واپس آجاتا پھر نکاح کرنا چاہئے۔ جب نکاح کرلیا گیا اور لڑکی کو سسرال بھیج دیا گیا تو پھر لڑکی اطمینان سے زندگی گزارے۔ جہاں مسائل ہوں اپنے شوہر کے ذریعہ حل کرے اور ادھر ادھر کی باتوں کے ذریعہ اپنارشتہ نہ خراب ہونے دے۔

سوال: وضو کرتے ہوئے ہر عضو کو دھوتے وقت دعائیں پڑھنا ثابت ہے؟

جواب: وضو کے شروع میں بسم اللہ اور وضو کے بعد، وضو کے بعد کی دعا پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے۔ وضو کے درمیان اعضاء دھلتے ہوئے اذکار یا دعاء پڑھنے کا ثبوت نہیں ملتا ہے۔

سوال: اگر کسی گیم کو کھیلنے پر پیسہ ملتا ہے تو ایسے گیم کھیلنا کیسا ہے اس بارے میں وضاحت فرمائیے، اگر یہ جائز نہیں ہے تو اس پر کوئی دلیل بھی درکار ہے تاکہ آگے کسی کو بتا سکیں؟

جواب: جس طرح آدمی محنت مزدوری کر کے روپیہ پیسہ کماتا ہے، اسی طرح اگر کوئی جائز محنت کرکے پیسہ کمائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر کوئی ایسا کھیل ہے جس میں شریعت کی کوئی مخالفت نہیں ہے، اس کھیل کے ذریعہ کوئی پیسہ کماتا ہے تو اس کی کمائی حلال ہے۔ یہ معاملہ ٹھیک اسی طرح سے ہے جیسے کوئی اجرت پہ کام کرتا ہے۔تاہم ،عام طور سے موبائل ایپ پر موجود اکثر کھیل لایعنی، وقت گزاری اور جوا یا سٹے بازی پر مبنی ہوتے ہیں۔

ہر وہ کھیل جو لایعنی ہو، وقت کی بربادی کا ذریعہ ہو اور فرائض و واجبات سے لاپرواہی کا سبب بنے ایسے کھیل کھیلنا جائز نہیں ہے خواہ اس میں جوا ہو یا نہ ہو۔ جب یہ لایعنی کھیل کھیلنا سرے سے جائز نہیں تو ایسے لایعنی کھیلوں کے ذریعے پیسہ کمانا بھی جائز نہیں ہے۔ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کسی شخص کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ لایعنی اور فضول باتوں کو چھوڑ دے۔(سنن ترمذی: 2317)

سوال: ہماری خالہ اپنے شوہر سے پچھلے بارہ سالوں سے علاحدہ رہتے تھے۔ ان کے درمیان کوئی ازدواجی تعلق نہیں تھا، اور نہ طلاق یا خلع ہوا تھا۔ اب خالو کا انتقال ہوگیا ہے تو کیا خالہ کو عدت کرنی ہوگی؟

جواب: جب میاں بیوی کے درمیان طلاق یا خلع نہیں ہوا تو وہ دونوں میاں بیوی ہی تھے۔ بارہ سالوں سے الگ رہنے کی وجہ سے رشتہ ختم نہیں ہوا۔ اب جب شوہر کا انتقال ہوگیا ہے تو بیوی کو چار ماہ دس دن کی عدت گزارنی چاہئے۔

دوسری بات یہ ہے کہ جب شوہر کو بیوی سے یا بیوی کو شوہر سے مسئلہ تھا، ایک ساتھ نہیں رہ سکتے تھے تو طلاق یا خلع سے الگ ہوجاتے ، ایسے ہی رشتہ میں رہ کر الگ الگ نہیں رہنا چاہئے۔

بہرکیف! شوہر چلا گیا، بیوی، اللہ سے اپنی غلطی کی معافی مانگے، شوہر کی مغفرت کے لئے بھی دعائیں کرے۔ نیز بیوی کو شوہر کی جائیداد ہو تو اس سے حصہ بھی ملے گا۔

سوال: لیڈیز جم میں عورتوں کے لئے جم کرنے جانا کیسا ہے؟

جواب: عورتوں کے لئے جسمانی ورزش کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن یہ ورزش اپنے گھر میں ہونا چاہئے۔ اگر کوئی مسلمان عورت جم کلب جانا چاہتی ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ دیکھے وہاں غیر شرعی امور تو نہیں پائے جاتے ہیں۔ عموما جم کلبوں میں چھوٹے، تنگ و چست لباس پہنا جاتا ہے، کلبوں میں نیم عریاں تصاویر بھی لگی ہوتی ہیں ، پھر وہاں موسیقی چلائی جاتی ہے، لوگ وہاں کی تصویر اور ویڈیوز بھی بناتے ہیں۔ اکثر جگہ اختلاط بھی ہوتا ہے۔ لیڈیز جم میں بھی کوچ، استاد وغیرہ کوئی نہ کوئی مرد بھی ہوا کرتا ہے۔ اس وجہ سے کلبوں والے جم سے عورتوں کو پرہیز کرنا چاہئے۔ اگر فتنے سے محفوظ اور شرعی حدود کی پابندی کے ساتھ کوئی جم کلب موجود ہے تو اس میں عورت جسمانی ورزش کے لئے مناسب وقت میں کچھ دیر کے لئے جاسکتی ہے۔

سوال: سعودی عرب میں  لازمی طور پرمیڈیکل انشورنس کروانا پڑتا ہے، اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب: اس میں دو باتیں ہیں۔

ایک بات یہ ہے کہ جب کسی کے لئے انشورنس کروانا مجبوری ہے یعنی ہرحال میں اسے انشورنس لینا پڑے گا تو آدمی یہاں معذور ہے، وہ انشورنس کروا سکتا ہے کیونکہ یہاں اپنا اختیار نہیں ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ سعودی عرب میں عموما تعاونی انشورنس ہے یعنی ہمارے ملکوں کی طرح تجارتی انشورنس نہیں ہے بلکہ تعاونی انشورنس ہے۔ تعاونی انشورنس جائز ہے کیونکہ یہ تعاون پر مبنی ہوتا ہے۔ اس فنڈ میں اہل خیر حضرات پیسے لگاتے ہیں تو اس پیسے سے علاج ہوتا ہے۔ اس کا نام تعاونی انشورنس ہے۔

سوال: اگر بچہ بستر پر پیشاب کردے یا خود کپڑے میں کرے اور اس کو گود لے لیں یا بستر پر بیٹھ جائے تو کیا کپڑا بدلنا ہوگا؟

جواب: نومولود اگر لڑکا ہے اور دوسال کے اندر کا ہے، اگروہ  کپڑے یا بستر پر پیشاب کردے تو اس پہ چھینٹا مارنا کافی ہے لیکن اگر بچی ہے تو اس جگہ کو دھلنا ضروری ہے جہاں پیشاب لگا ہے۔

آپ نے جو سوال کیا ہے اس میں دیکھنا یہ ہے کہ بستر پر بچہ کے بیٹھنے سے یا گود لینے سے وہاں پیشاب لگا ہے کہ نہیں؟ اگر اس جگہ پیشاب لگا ہے تو پھر دیکھیں کہ بچی ہے یا بچہ؟

بچہ(شیرخوار) ہے تو چھینٹا مارنا کافی ہے اور بچی ہے تو اس جگہ کو دھلنا ضروری ہے، پورا کپڑا یا بستر یا جسم دھلنے کی ضرورت نہیں ہے، محض پیشاب لگی جگہ کو دھلنا ہے۔

سوال :ایک گیم ہے جس میں کچھ پیسے دے کر اسے کھیلنا ہوتا ہے اور جو جیت جاتا ہے اسے مزید پیسے ملتے ہیں مطلب جو اس نے پیسے لگائے ہیں اس سے زیادہ پیسے ملتے ہیں کیا یہ کھیلنا جائز ہے؟

جواب: اسی کا نام جوا ہے جس میں کھیلنے والے سبھی رقم لگائیں اور کچھ کو نقصان ہو اور کچھ کو فائدہ ملے۔ یہ سراسر جوا ہے اور اسلام میں جوا کھیلنا حرام ہے۔

سوال: اگر کسی شادی ہال میں قبر ہو اور آس پاس کے لوگ وہاں منت وغیرہ کے لئے بھی آتے ہوں تو کیا وہاں کسی موحد کو کچھ گھنٹوں کے لئے شادی کے لئے رکنا جائز ہے؟

جواب: اگر کوئی مسلمان موحد اپنی شادی کرے تو وہ ایسا ہال بک نہ کرے جس میں قبر ہو اور وہاں لوگ منت کے لئے آتے ہوں۔ اسی طرح کسی موحد مسلمان کو ایسی جگہ آنے کی دعوت دی گئی ہو تو وہ ایسی دعوت قبول نہ کرے کیونکہ وہاں غیراللہ کی عبادت کی جاتی ہے۔ وہاں قبر ہے، اس میں موجود صاحب قبر کو پکارا جاتا ہوگا اور اس کے لئے منت مانی جاتی ہے۔ یہ شرکیہ جگہ ہے۔

سوال: کیا عورت اپنے نقاب کے اوپر کیپ لگا سکتی ہے؟

جواب: چھجے دار ٹوپی جسے کیپ کہتے ہیں اس کا استعمال عورتوں کے لئے باہر نکلتے وقت جائز نہیں ہے کیونکہ یہ لوگوں کی توجہ کا سبب ہے۔ نہ برقع کے اوپر جائز ہے اور نہ برقع کے بغیر جائز ہے۔ عورتوں کو گھر سے نکلتے وقت سادگی والے لباس جو ساتر ہو اور ڈھیلا ڈھالا ہو، پہن کر نکلنا چاہئے۔

عموما کیپ باہر نکلتے وقت ہی لگایا جاتا ہے تاہم اگر کوئی عورت گھر میں ہوتے ہوئے کیپ لگائے اپنے محرموں کے درمیان تو کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ ان پر زینت ظاہر کرنے میں حرج نہیں ہے بشرطیکہ اس میں مشابہت نہ پائی جاتی ہو۔

شیخ ابن عثیمینؒ فرماتے ہیں:اگر عورت اونچی ٹوپی صرف عورتوں یا اپنے محرم رشتہ داروں کے درمیان زیب و زینت کے لیے پہنتی ہے تو اس کے لیے شرط یہ ہے کہ اس میں مردوں کی مشابہت نہ ہو اور نہ ہی کافر عورتوں کی مشابہت پائی جائے۔لیکن اگر وہ اسے پہن کر نامحرم مردوں کے سامنے نکلتی ہے تو یہ تبرج (اظہارِ زینت) میں شمار ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى﴾"اور پہلی جاہلیت کے دور کی طرح اپنی زینت کا اظہار نہ کرو۔" (الأحزاب: 33)

ہر وہ چیز جس کے ذریعے عورت کا تبرج، اس کا نمایاں ہونا اور دیگر عورتوں سے الگ اور ممتاز نظر آنا اس انداز میں ہو کہ اس میں زیب و زینت کا اظہار پایا جائے، تو وہ حرام ہے اور عورت کے لیے جائز نہیں۔(فتاویٰ الشیخ ابن عثیمین:2/828)

سوال: غیر مسلم سے دوستی کا کیا حکم ہے، ایک مسلمان نے ہندو سے دوستی کر رکھی ہے ؟

جواب: دین اسلام نے ہمیں دوستی اور دشمنی کا معیار بتایا ہے۔ ایک مسلمان آدمی، صرف مومن کو اپنا دوست بنائے گا، کافر آدمی کسی مسلمان کا دوست نہیں ہو سکتا اور اگر کوئی مسلمان کافر کو اپنا دوست بناتا ہے تو وہ شریعت کے خلاف عمل کر رہا ہے۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ (سورة النساء:144)

ترجمہ: اےایمان والو! مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنادوست نہ بناؤ۔

کافروں سے دنیاوی حد تک معاملات رکھنے میں حرج نہیں ہے مگر کافر سے قلبی تعلق اور دوستی رکھنا جائز نہیں ہے۔
بات اپنی جگہ پر واضح ہے کہ جس مسلمان نے کافر کو اپنا دوست بنا رکھا ہے، اسے چاہیے کہ فوراً کافر سے اپنی دوستی ختم کرے اور اللہ رب العالمین سے توبہ بھی کرے کیونکہ اس نے معصیت کا کام کیا ہے۔

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔