Sunday, February 15, 2026

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(98)

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(98)

جواب از: شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ

جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ - سعودی عرب


سوال: ایک بہن کے پہلے بھی بچے ہیں اب پھر وہ حاملہ ہے لیکن اب اس میں بچہ پیدا کرنے کی ہمت نہیں رہی تو کیا وہ حمل کو ضائع کروا سکتی ہے، کیا ایسا کرنے سے وہ گنہگار ٹھہرے گی؟

جواب: جس کسی عورت کے اندر کمزوری پیدا ہو جائے اس کے لئے حمل روکنے کی تدبیر کرنا جائز ہے۔ جہاں تک مسئلہ ہے کہ عورت کے اندر کمزوری ہے اور حمل بھی ٹھہر گیا ہے ایسی عورت کو ماہر طبیب سے رجوع کرنا چاہیے اور وہ اس حمل سے متعلق کیا مشورہ دیتا ہے اس صورتحال کو کسی عالم سے بتاکر رہنمائی حاصل کرے۔

بہرحال! حمل ایک جان اور ایک نفس ہے ، بلاضرورت اس کا ساقط کرنا بچے کا قتل ہے بلکہ اس میں مختلف احکام اور مراحل ہیں جس کا ذکر میں نے اپنے ایک مضمون میں کیا ہے۔ "اسقاط حمل پہ دیت و کفارہ کا حکم" پڑھیں۔

سوال: کیا مسجدالحرام کے قریب رہائش رکھنے والے اپنی سب نمازیں مسجد میں ادا کریں اور ہم پاکستان میں اپنے گھر کے قریب کی مسجد میں نماز ادا کریں، تو دونوں کا اجر رہائش کے اعتبار سے برابر ھوگا؟

جواب:سب سے پہلی بات یہ ہے کہ مسجد حرام کا موازنہ دنیا کی کسی مسجد سے نہیں کیا جا سکتا ہے حتی کہ سعودی عرب کی دوسری مساجد سے بھی نہیں۔ اس مسجد میں جو کوئی بھی نماز پڑھے گا خواہ سعودی عرب کا رہنے والا ہو یا دنیا کے کسی اور ملک سے یہاں آنے والا ہو، ان سب کو مسجد حرام میں نماز پڑھنے کا اجر ایک لاکھ نماز کے برابر ملے گا۔

دوسری بات یہ ہے کہ مسجد حرام اور دنیا کی دیگر مساجد میں نماز پڑھنے کا مسئلہ رہائش کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ مسجد کی افضلیت کا مسئلہ ہے یعنی مکہ میں رہنے والا کوئی رہائشی مسجد حرام میں نماز پڑھے یا باہر سے آنے والا اس میں نماز پڑھے، ان دونوں کو ایک لاکھ ثواب ملے گا لیکن آپ اپنے ملک میں اپنے گھر کے پاس کی مسجد میں نماز پڑھیں، تو مسجد حرام جیسا ثواب نہیں ملے گا۔

سوال: کیا خواتین کے لئے بھی تراویح ہے۔ بہت ساری خواتین یہ سمجھتی ہیں کہ خواتین کے لیے تراویح کا حکم نہیں ہے؟

جواب:شریعت میں ایک قاعدہ ہے کہ جو حکم مردوں کے لیے ہے وہی حکم تمام معاملات میں عورتوں کے لیے بھی ہے سوائے ان بعض معاملات کے جن میں عورتوں کے لئے استثناء وارد ہے۔

رمضان کا روزہ اور اس کی تمام عبادات جیسے مردوں کے لیے ہیں عورتوں کے لیے بھی ہیں۔ تراویح کی نماز بھی عورتوں کے لئے ہے بلکہ اس مسئلہ کو یوں سمجھیں کہ تراویح کی نماز کو تہجد اور قیام اللیل بھی کہتے ہیں اور یہ وہی نماز ہے جو سال بھر پڑھی جانے والی نماز ہے۔ کیا عورتوں کے لیے تہجد اور قیام اللیل نہیں ہے، بلا شبہ ہے۔ مردوں کی طرح عورتیں بھی سال بھر قیام اللیل کرسکتی ہیں، اسی طرح رمضان میں بھی قیام اللیل کرسکتی ہیں۔ اسی قیام اللیل کو رمضان میں تراویح بھی کہا جاتا ہے تاہم قیام اللیل اور تراویح دونوں ایک ہی چیز ہے۔

سوال: دہلی میں ایک آف لائن اور آن لائن ورک ہے، اس میں ایک ہی بار انویسٹ کرنا ہوتا ہے ۷،۰۰۰ سے لیکر ۲۲،۰۰۰ تک، کورسس پیکیج سے کرنا ہوتا ہے جس میں ہنر والے کام ہوتے ہیں جیسے شادی کا کارڈ، اسکول میں کام آنے والے کارڈ، ویڈیو بنانا، دعا اسٹیکر ، انگریزی ہجری کلینڈر ، 3d ایڈیٹس،مارک شیٹ، اسلامی بیانات ایڈیٹ کرنا، عالمہ کی ویڈیو چہرہ چھپاکر بنانا وغیرہ یعنی اس میں اسلامی چیزیں بھی سکھائی جاتی ہیں۔ اس کے بعد وہیں سے آن لائن کلائنٹس کے ذریعہ ہم کمائی بھی شروع کر سکتے ہیں۔ سوال ہے کہ کیا اس طرح کی کمائی حلال ہوگی جبکہ ہم انویسٹ کرکے خود پہلے سیکھ کر پھر دوسروں کو سکھا رہے ہیں؟

جواب:حلال کام کرکے کمائی کرنے میں قطعا کوئی حرج نہیں ہے لیکن کسی کام میں فی نفسہ اگر غیرشرعی پہلو بھی ہو تو پھر اس کام کے ذریعہ کمائی کرنا جائز نہیں ہے جیسے جاندار کی ویڈیوز بنانا یا ایسے کارڈز بنانا جن میں غلط چیزیں درج ہوں یا غلط چیزوں کو پروموٹ کرتے ہوں۔
اس میں سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ یہاں پر کمائی کا لالچ دے کر ہنر سکھانے کے نام پر زیادہ فیس لی جاتی ہیں، پھر کام میں غیر شرعی پہلو ہو تو وہ الگ مسئلہ ہے۔

یہاں آپ کو جو اہم بات سمجھنی ہے وہ یہ ہے کہ۔ایک ہے، کام سکھانا اور دوسرا کام ہے، کمائی کرنا۔

اس لحاظ سے اس میں اصل خرابی یہ ہے کہ یہاں دو کام کے نام پر فیس لی جاتی ہے جبکہ ہونا یہ چاہیے کہ آپ کو ایک جائز ہنر سیکھنا ہے، مثال کے طور پر پانچ ہزار روپیہ فیس دے کر وہ ہنر سیکھیں پھر وہاں سے نکل کر جہاں چاہیں، آپ جائز طریقے سے کمائی کریں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

ہاں اگر یہ ادارہ ہنر سکھانے کے ساتھ اپنے افراد کو کمائی کی سہولت بھی دیتا ہے تو اس میں حرج نہیں ہے مگر ایک شرط ہے۔ شرط یہ ہے کہ اس کمائی کے نام پر وہ سیکھنے والے سے پیسہ نہیں لے سکتا لیکن جو صورتحال میں دیکھ رہا ہوں اس میں ہنر سکھانے کے نام پر جو فیس لی جاتی ہے اس میں دو کاموں کا ایک ساتھ پیسہ لیا جاتا ہے۔

آپ اگر اپنی محنت سے کچھ کماتے ہیں تو اس کمائی میں سے ایک روپیہ بھی ہنر سکھانے والے کو نہیں ملنا چاہیے جبکہ وہ فیس کے نام پر شروع میں زیادہ پیسہ لیتا ہے۔

آپ کے ذہن میں یہ بات ہے کہ یہاں پر اسلامی چیزیں بھی سکھائی ہیں اس لئے بہت اچھی جگہ ہے، میں یہ کہتا ہوں کہ اسلامی چیزوں کے لیے ضروری ہے کہ طریقہ بھی درست ہو۔

ساتھ ساتھ آپ کے علم میں یہ رہے کہ اسلام کے نام پر بھی بہت سارے کام کیے جاتے ہیں، جیسے آپ مسلمان کے لئے شادی کارڈ بنائیں گے، اس میں بارات کی دعوت لکھی ہوتی ہے۔ شریعت میں بارات کا کوئی تصور نہیں ہے پھر آج کل بارات میں عورت اور مرد دونوں ایک جگہ جمع ہوتے ہیں بلکہ بہت ساری جگہوں پر دلہن کو اسٹیج پر بٹھایا جاتا ہے۔ اب اگر ایسا کارڈ بنا کر کمائی کرتے ہیں تو اس گناہ میں آپ شریک ہیں کہ نہیں؟

عورت کی ویڈیو بنانا خواہ دعوت و تبلیغ کی ویڈیو ہی کیوں نہ ہو، جائز نہیں ہے، چاہے آپ چہرہ چھپاکر بنائیں یا چہرہ دکھاکر بنائیں۔ اگر آپ ایسی ویڈیو بنانا سیکھتے ہیں اور یہ کام کرتے ہیں تو آپ اس گناہ میں شریک ہوں گے کہ نہیں؟

یہ میں نے چند مثالیں دی ہیں اس طرح سے بہت سارے امور آپ کو ملیں گے جن کے بارے میں آپ کو شرعی حکم جاننے کی ضرورت ہے۔

سوال: مغرب کے بعد سورہ ملک اور سورہ لقمان پڑھ سکتے ہیں؟

جواب:سورہ ملک کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ اسے رات میں پڑھ سکتے ہیں، رات کا وقت مغرب کے بعد شروع ہوجاتا ہے لہذا سورہ ملک پڑھنا چاہیں تو مغرب کے بعد یا عشاء کے بعد پڑھ سکتے ہیں لیکن سورہ لقمان پڑھنے کے سلسلے میں کوئی حدیث نہیں ہے۔ یونہی بطور تلاوت، سورہ لقمان بھی پڑھتے ہیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن کسی خاص ضرورت کے لیے سورہ لقمان پڑھیں یا روزانہ خاص کر کے اس سورت کو پڑھیں تو یہ صحیح نہیں ہے۔

سوال: کیا ایک حافظ قرآن عورت نماز تراویح کے لیے اپنے گھر میں جماعت کروا سکتی ہے جبکہ وہاں مسجد میں بھی عورتوں کو تراویح کی نماز پڑھنے کی سہولت موجود ہو؟

جواب:حافظ قرآن عورت اپنے گھر میں تراویح کی نماز میں عورتوں کی جماعت کرا سکتی ہے اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ اور عورتوں کی نماز مسجد سے بہتر اپنے گھر میں ہے لہذا ان کے لیے اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ مسجد میں تراویح ہو رہی ہے یا نہیں ہو رہی ہے، ان کی افضل نماز اپنے گھر میں ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی عورت مسجد میں مردوں کے ساتھ تراویح پڑھنا چاہے تو اس میں بھی کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ اور کچھ عورتیں مسجد میں تراویح پڑھنے کے لیے جاتی ہوں اور کچھ عورتیں گھر میں تراویح پڑھیں تو اس میں بھی کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔

سوال:ایک عورت عمرہ پر روانہ ہے، اس کا سوال ہے کہ اس کی مقعد سے ایک قسم کا پانی خارج ہوتا رہتا ہے، وضو باقی نہیں رہتا۔ حرم سے باہر آنے کے بعد واپس اندر حرم میں جانے نہیں دیتے، ایسی صورتحال میں وہ عورت پاکی کے لئے کہا کرے؟

جواب: عورت یا مرد کی اگلی یا پچھلی شرماگاہ سے جو کچھ بھی خارج ہو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ جس عورت کے پچھلے حصے سے برابر پانی نکلتا ہے اس عورت کے حق میں یہ ہے ایک نماز کے وقت ایک بار وضو کرے اور اس وضو سے ایک وقت کی ساری عبادات انجام دے سکتی ہے اور اس قسم کی عورت کو ہر نماز کا وقت داخل ہونے پر نیا وضو کرنا پڑے گا۔ اور جب ایک وقت وضو کر لے تو اس وضو سے ایک وقت کی ساری عبادات انجام دے سکتی ہے خواہ اس دوران پچھلے حصے سے پانی بھی نکلتا رہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا یعنی وضو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب دوسری نماز کا وقت آئے گا اس وقت نیا وضو کرنا پڑے گا۔

سوال: ایک عورت گاؤں میں رہتی ہے، اس کا شوہر سعودی عرب میں رہتا ہے اور سعودی عرب میں ہی اس کا انتقال ہو گیا ہے۔ تدفین ایک ہفتے کے بعد ہوئی ہے۔ وہ خاتون پوچھتی ہے کہ اس کی عدت کب سے شروع ہوگی، تدفین سے یا وفات سے؟

جواب: جس دن سعودی عرب میں آدمی کا انتقال ہوا ہے، اسی دن سے عدت شمار کی جائے گی۔ عدت شروع کرنے میں تدفین کا اعتبار نہیں کیا جائے گا بلکہ جس دن وفات ہوئی ہے اس دن کا اعتبار کیا جائے گا۔ اس وقت سے یعنی سعودی عرب میں شوہر کی وفات کے دن سے لے کر چار ماہ دس دن تک بیوہ عدت گزارے گی۔

سوال: کیا بغیر عذر کے ویل چیئر پر طواف اور سعی کرنا درست ہے؟

جواب:بغیر کسی عذر کے ویل چیئر پر طواف اور سعی کی جاسکتی ہے لیکن افضل اور بہتر یہی ہے کہ جس کو کوئی عذر نہ ہو وہ بغیر کسی سہارے کے خود سے طواف اور سعی کرے، یہ اجر کے اعتبار سے بہتر اور زیادہ ہے۔

ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک روایت میں منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے عمرہ کے بارے میں فرمایا: ”لیکن اس کا ثواب بقدر تمہارے خرچ کے یا بقدر تمہاری مشقت کے ملے گا۔“(مختصر صحيح بخاري/حدیث: 871)

سوال: ایک وہ بیوہ خاتون کو دو لڑکے اور ایک لڑکی ہیں۔ الحمدللہ بیٹے ماں کو سنبھالتے ہیں اور خاتون کو شوہر کی پنشن بھی آتی ہے۔ اس طرح وہ بیٹوں پر بار نہیں ڈالتی، ابھی وہ بیٹوں کے ساتھ ہی رہتی ہے ۔ خاتون کے پاس ایک پلاٹ ہے اور شاید اس پر دو روم بنے ہوئے ہیں، اسی میں سے بیٹی کا حصہ بھی دیا ہے ، اس جگہ پر ابھی بیٹی رہتی ہے۔ پلاٹ رہنے کی نیت سے لیا گیا تھا وہ اب تک اس کی زکوٰۃ نکالتی تھی لیکن اب مشکل ہورہا ہے۔ میں نے کہا گھر میں رہتے ہوئے گھر پر زکوٰۃ نہیں ہوتی، پھر وہ پوچھتی ہے کہ اگر میں وہاں رہنے چلی جاؤں تو زکوٰۃ نہیں نکالنی پڑے گی؟

جواب: جو گھر رہائشی طور پر بنا ہوا ہے خواہ اس میں آدمی رہتا ہو یا نہیں رہتا ہو، اس گھر کی یا اس پلاٹ کی زکوۃ دینے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ زکوۃ تو اس صورت میں ہوگی جب اس کو بیچنے کے لیے رکھا جائے۔ گھر کی حیثیت سے اس پر کوئی زکوۃ نہیں ہے لہذا اس گھر میں وہ بیوہ خاتون رہے یا نہ رہے زکوۃ نہیں دینا ہے کیونکہ یہ رہائشی گھر ہے۔

سوال: کیا جنت میں ہر کوئی اللہ سے کلام کر سکے گا؟

جواب: سلف سے یہ بات منقول ہے کہ اللہ رب العالمین اہل جنت سے کلام فرمائے گا۔ شیخ ابن باز رحمہ الله نے کہا ہے کہ :"اہل سنت و الجماعت بھی اللہ کے کلام کرنے پر ایمان رکھتے ہیں، اور عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ جنت والوں سے کلام فرمائے گا، قیامت کے دن اپنے بندوں سے بات کرے گا، ان کا کلام سنے گا، اور جنت والوں پر سلام بھی کرے گا۔"(مجموع فتاویٰ ابن باز :28/39)

سوال: ایک شخص پیشے کے اعتبار سے بلڈر ہے۔ وہ اس طرح کام کرتا ہے کہ وہ ایک گھر تعمیر کرتا ہے، اسی گھر میں خود رہائش اختیار کر لیتا ہے، کچھ عرصے بعد اس گھر کو منافع کے ساتھ فروخت کر دیتا ہے، پھر اس رقم سے دوسرا گھر بناتا ہے، اس میں رہتا ہے اور بعد میں اسے بھی منافع کے ساتھ بیچ دیتا ہے یعنی عملی طور پر یہ اس کا مستقل کاروبار بن گیا ہے مگر ہر گھر میں وہ خود رہائش بھی رکھتا ہے اور بعد میں اسے فروخت بھی کرتا ہے۔ اس سلسلے میں میرے سوالات یہ ہیں کہ ابتدا میں وہ گھر رہائش کے لیے ہوتا ہے لیکن بعد میں فروخت کی نیت سے بیچا جاتا ہے تو کیا ایسے گھر کو تجارت کی نیت والا مال شمار کیا جائے گا؟ پھر اس صورت میں اس شخص پر زکوٰۃ کب لازم ہوگی؟ کیا ہر گھر پر سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ ہوگی یا صرف فروخت کے بعد حاصل ہونے والی رقم پر زکوٰۃ لازم ہوگی؟

جواب: جو آدمی گھر فروخت کرنے کو پیشہ کے طور پر اپنایا ہو اس کا گھر، مال زکوۃ میں شمار ہوگا جیسے کوئی اپنی دکان میں سامان تجارت رکھتا ہے، اس کے دکان کی بیچنے والی ساری چیزیں مال تجارت ہیں اسی طرح اس شخص کا وہ گھر بھی مال تجارت ہے جس کو اس نے بیچنے کا ارادہ کیا ہے۔
وہ ہرسال اس گھر کی موجودہ قیمت کے حساب سے زکوۃ نکالے گا، اگر گھر بک گیا، اور پیسہ آگیا تو اس پیسے پر سالانہ اعتبار سے زکوۃ نکالے گا۔ یہاں پر زکوۃ کی ٹھیک وہی صورت ہوگی جیسے ایک دکاندار دکان کی زکوۃ نکالتا ہے۔ سال بھر تک گھر رہے تو گھر کی زکوۃ دے گا اور اگر اس سے پہلے گھر بک جائے تو اس پیسے پر زکوۃ دے گا مگر سالانہ اعتبار سے۔ گھر میں وہ خود رہے یا نہ رہے، اس کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اصل مسئلہ گھر بیچنے کی نیت کا ہے، یہی کافی ہے۔

سوال: سونے کی قیمت بہت بڑھ گئی، اس حساب سے زکات بھی ہر سال زیادہ دینی پڑتی ہے تو اگر زیور بچوں کو دے دیا جائے جو سات تولے تک ہو تو کیا ہم کو اس کی زکوۃ ادا نہیں کرنی پڑے گی کیونکہ زیور اسی نیت سے رکھا ہے کہ کل بچوں کی شادیاں ہوگی تو دے دوں گی؟

جواب: گھر میں موجود زیورات اگر بچوں کے لیے رکھے گئے ہوں تو انہیں بچوں میں تقسیم کرکے ہر ایک کے نام سے حصہ مختص کر دیا جائے۔ جب الگ الگ حصہ نصاب تک نہ پہنچے تو زکوۃ دینے کی ضرورت نہیں ہے یعنی ایسی صورت میں سب کو ملا کر زکوۃ نہیں دیں گے بلکہ ہر ایک کے نام کے حساب سے دیکھا جائے گا کہ الگ الگ طور پر نصاب تک پہنچتا ہے یا نہیں۔ جس کا زیور نصاب تک پہنچے گا اس میں زکوۃ ہوگی اور اگر کسی کا بھی حصہ نصاب تک نہ پہنچے تو کسی میں زکوۃ نہیں۔

سوال: اگر نماز میں یاد نہ ہو کہ دو سجدے کئے یا نہیں پھر ایک اور سجدہ کرلیں پھر سجدہ سہو کریں، سلام پھیرنے سے پہلے تو کیا نماز درست ہوگی یا نہیں؟

جواب: اگر کسی کو نماز کی کسی رکعت میں سجدہ سے متعلق شک ہوجائے کہ ایک سجدہ کیا یا دو سجدہ کیا تو ایسی صورت میں وہ ایک سجدہ ہی شمار کرے اور دوسرا سجدہ کرے پھر ساتھ ہی سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ سہو کر لے۔ اس طرح اس کی نماز درست ہے، اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

سوال:عورت کا انتقال ہوجائے تو میت کو کھلے آسمان کے نیچے کھلی جگہ پر غسل دیا جاسکتا ہے؟

جواب: آج لوگوں نے ہر قسم کے کاموں کے لئے گھر بنا لیا ہے جبکہ پہلے زمانے میں لوگ اکثر کام کھلے میں ہی کرتے تھے جیسے آسمان کے نیچے، کھلی فضا ہی میں نہاتے بھی تھے، قضائے حاجت بھی کرتے تھے اور میت کو غسل بھی دیتے تھے۔ یہ سب کام کھلے آسمان کے نیچے، کھلی فضا میں ہوا کرتا تھا۔ اس میں بالکل بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے بشرطیکہ پردہ ہو۔

میت کو بھی کھلے آسمان کے نیچے، کھلے میدان یا کھلی جگہ میں نہلا سکتے ہیں، شرط یہ ہے کہ نہلاتے وقت چاروں طرف سے پردہ کر دیا جائے تاکہ لوگوں کی نظر نہ پڑے۔ عموماً اکثر جگہ اونچے اونچے مکانات بنے ہوتے ہیں ، اوپر سے نظر پڑ سکتی ہے اس لئے کھلی جگہ میں عورت کو نہلاتے وقت چاروں طرف پردہ کے ساتھ اوپر بھی پردہ کیا جائے تاکہ کہیں سے میت نہ دکھے۔

سوال: ایک شخص کو دو بیوی ہو تو کیا ایک بیوی کا داماد، دوسری بیوی کے لیے محرم ہوگا؟

جواب: ایک عورت کا اپنا حقیقی داماد ہی محرم ہوتا ہے، اس عورت کا داماد، دوسری عورت یعنی سوکن کے لئے محرم نہیں ہے بلکہ غیر محرم ہے۔

سوال:میک اپ کرتے ہوئے کریم یا فیس پاوڈر لگانے سے چہرے کے تل چھپ جاتے ہیں۔ ان تلوں کو کالے کاجل یا کالے لائنر اور میک اپ سے واضح اور ڈارک کرنا شرعی اعتبار سے کیسا ہے؟

جواب:زیب و زینت کا تعلق معاملات سے ہے اور معاملات میں اصل اباحت ہے یعنی زیب و زینت کی تمام چیزیں استعمال کرنا جائز ہیں سوائے اس کے جس کی کسی دلیل سے ممانعت ثابت ہوتی ہو۔

اس اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی عورت کا میک اپ کی چیزوں سے اپنے چہرے پر زینت کے واسطے تل کا نشان بنانا جائز ہے کیونکہ اس کے ممانعت کی کوئی خاص دلیل نہیں ہے۔

اگر کوئی عورت داغ کر اپنے چہرے پر تل بنائے جیسے ٹیٹو بنایا جاتا ہے تو یہ عمل جائز نہیں ہے۔ اسی طرح دھوکہ دینے کی نیت سے مصنوعی تل بنانا جیسے منگنی کے موقع پر شادی کی غرض سے تل بنانا یا اس میں فاحشہ عورت اور کفار کی مشابہت اختیار کرنا جائز نہیں ہے۔

سوال: ایک آدمی ایک کمپنی میں بلڈنگ کا سامان خریدنے کی نوکری کرتا ہے۔ اور وہ دوسرے شخص کے ساتھ سائیڈ بزنس بھی کرتا ہے۔ وہ کاروباری شخص اس کمپنی کو اپنا سامان بیچنا چاہتا ہے، اس آدمی کے ذریعہ کیا وہ اس پہ کمیشن لے سکتا ہے جبکہ یہ بات کمپنی کے علم میں نہ ہو؟

جواب: جو آدمی کسی کمپنی میں نوکری کرتا ہے اور اس کا کام کمپنی کے لیے سامان خریدنا ہے، وہ جس کسی سے بھی اپنی کمپنی کے لیے سامان خریدے، اس آدمی کے لیے اس سپلائر سے کمیشن لینا یا ہدیہ تحفہ لینا جائز نہیں ہے کیونکہ وہ اپنے کام کا معاوضہ کمپنی سے لے رہا ہے، وہ الگ سے کسی اور سے اپنے کام پر ہدیہ، تحفہ، کمیشن یا معاوضہ نہیں لے سکتا ہے۔ ہاں اگر کمپنی کا مالک اس کی اجازت دیتا ہے تو اس کی اجازت کے ساتھ کمیشن یا ہدیہ لے سکتا ہے۔

سوال: ہم چاول کا چھوٹا سا کاروبار کرتے ہیں۔ دکان نہیں ہے۔ گھر سے ہی لوگ لے جاتے ہیں۔ ابھی اکتوبر میں سب چاول بک گئے۔ نومبر میں نئی ستر بوری لی ہے۔ کیا ان کی زکوۃ دینی ھوگی کب اور کیسے دینی ہوگی؟

جواب: کوئی آدمی گھر میں تجارت کرے یا بازار میں اور کسی دکان میں رہ کر تجارت کرے، ان سب تجارت کا ایک ہی مطلب ہے۔

اور جو کوئی چاول کا کاروبار کرتا ہے، اس کے لیے چاول، سامان تجارت ہے لہذا وہ سالانہ اعتبار سے اپنی تجارت پر زکوۃ ادا کیا کرے گا۔ وہ جب تجارت شروع کیا تھا، اس حساب سے جب سال مکمل ہوگا، اس وقت اس کے پاس جو پیسہ ہوگا اور جو سامان ہوگا، ان دونوں کو جوڑ کر زکوۃ ادا کرے گا حتی کہ سال مکمل ہونے پر کچھ مہینہ پہلے بھی جو نئے سامان آئے ان سب کو جوڑ کر زکوۃ کا حساب کرنا ہے۔

سوال: میں رمضان میں ریاض سے عمرہ کرنے کے لیے جا رہی ہوں ، میں جس ٹور سے ہوں وہ ٹور والے زیارت کے لئے جعرانہ اور طائف بھی لے جاتے ہیں۔ اگر میں وہاں جاتی ہوں تو کیا لازما احرام باندھ کر عمرہ کرنا ضروری ہوگا کیونکہ لوگ کہتے ہیں کہ جعرانہ سے اور طائف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا تھا اس لیے وہاں جانے پر احرام باندھ کر عمرہ کرنا پڑے گا، ورنہ دم دینا پڑے گا۔ کیا یہ صحیح ہے؟

جواب: جو کوئی عمرہ کرنے آیا اور اپنا عمرہ مکمل کر لیا تو اس کے ذمہ اب کوئی دوسرا عمرہ ضروری نہیں ہے بلکہ ہمارے اسلاف سے یہی ثابت ہے کہ وہ ایک سفر میں ایک ہی عمرہ کیا کرتے تھے۔ ایک عمرہ کرنے کے بعد آپ جعرانہ جائیں یا طائف جائیں، آپ کو وہاں سے واپس مکہ آنے پر احرام باندھنا اور عمرہ کرنا کوئی ضروری نہیں ہے اور اگر عمرہ نہیں کرتے ہیں تو دم دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جس کسی نے آپ سے یہ بات بیان کی ہے کہ عمرہ پر آنے والا آدمی اگر جعرانہ یا طائف جائے تو واپسی پر اسے ہرحال میں عمرہ کرنا پڑے گا، ورنہ دم لازم آئے گا۔ یہ بات بالکل غلط ہے، اس کی شرعا کوئی حقیقت نہیں ہے اور ایسی بات بیان کرنے والے کو اس معاملہ میں شریعت کا علم نہیں ہے۔

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔