Sunday, February 15, 2026

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(97)

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(97)


جواب از: شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ

جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ - سعودی عرب


سوال: ایک کمپنی ہے، اس میں سات ہزار انویسٹ کرنے پر روزانہ پانچ سو روپے ملتے ہیں اور صرف تیس سیکنڈ کی ایک ویڈیو دیکھنی پڑتی ہے۔ یہ ویڈیو بھی غیراخلاقی نہیں ہوتی بلکہ صرف کمرشیل ہوتی ہے جیسے صابن یا کسی بزنس سے متلعق وغیرہ، اس طرح کی کمائی کا کیا حکم ہے؟

جواب:کسی بھی قسم کی کمپنی اور تجارت میں پیسہ لگاکر متعین طور پر منافع کی شکل میں رقم لینا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ سودی معاملہ کہلائے گا۔

اس وجہ سے اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ معاملہ سودی ہے اور دوسری بات یہ کہ اس میں ویڈیوز دیکھنی پڑتی ہے، ان ویڈیوز میں نہ جانے کتنی غیر شرعی چیزیں بھی ہوسکتی ہیں جیسے جاندار کی تصویر، موسیقی یا خواتین کی تصویر، اسی طرح اشیاء یا کمپنیوں کی بیجا تعریف و جھوٹ۔ ساتھ ساتھ ان ویڈیوز میں جن تجارتی چیزوں کا اشتہار ہوگا ان میں سے نہ جانے کتنی تجارتیں شریعت کے خلاف ہوں گی جن کے بارے میں آپ نہیں جانتے ہوں گے۔ آج کل تو بہت ساری آن لائن تجارت فرضی ہوتی ہیں، لوگوں کو جھانسہ دے کر پیسہ لوٹنا رہتا ہے۔

بہر کیف! پیسہ لگانے اور متعین طور پر رقم لینے نیز ویڈیوز دیکھنے، ان دونوں صورتوں کے اعتبار سے کمائی کا یہ ذریعہ صحیح نہیں ہے۔

سوال: عورتوں کے لئے غائبانہ نماز جنازہ کا کیا حکم ہے؟

جواب:نماز جنازہ غائبانہ ایک مختلف فیہ مسئلہ ہے۔ بعض اہل علم یہ کہتے ہیں کہ کسی خاص آدمی کی نماز جنازہ غائبانہ ادا کی جاسکتی ہے جن کی خدمات ہوں جبکہ بعض اہل علم یہ کہتے ہیں کہ عام مسلمان میت کی بھی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جاسکتی ہے۔ حدیث سے اس بات کا ثبوت تو ملتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی بادشاہ کے لئے صحابہ کرام کے ساتھ مل کر غائبانہ نماز جنازہ ادا فرمائی لیکن عورتوں کے لیے الگ سے غائبانہ نماز جنازہ کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ہے۔

دین میں اور خصوصا عبادات کے باب میں اتنا ہی عمل کرنا ہے جتنا ثبوت ملتا ہے۔ عورتوں کے لئے مردوں کے ساتھ مل کر غائبانہ نماز جنازہ پڑھنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

سوال: لیڈیز اسپورٹ شوز عورت پہن سکتی ہے کہ نہیں۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس میں مردوں کی مشابہت ہے؟

جواب:عورتوں کے لیے مخصوص طور پر بنے ہوئے جوتا پہننے میں حرج نہیں ہے اور اس میں مردوں کی مشابہت نہیں ہے۔ وہ جوتا جو مردوں کے لیے خاص طور پر بنا ہوا ہو اس کا عورتوں کے لیے پہننا منع ہے، اسی طرح لباس میں بھی جو مردوں کے لئے خاص ہو اس کا عورتوں کے لیے پہننا یا جو عورتوں کے لیے خاص ہو، اس کا مردوں کے لیے پہننا منع ہے۔

سوال: اگر کوئی وارث یہ کہہ دے کہ مجھے پیسوں میں حصہ نہیں چاہیے، تم لوگ رکھ لو، مجھے کیا کرنا ہے تو کیا اس وارث کا حصہ رکھا جاسکتا ہے؟

جواب:میت کے جتنے وارثین جائیداد کے حقدار ہیں، ان تمام کا حصہ نکالا جائے گا اور کسی کے کہنے سے کہ ہم نہیں لیں گے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ در اصل اس کا بھی حصہ نکالا جائے گا پھر چاہے تو وہ اپنا حصہ لے، ورنہ جسے چاہے وہ ہدیہ دیدے یا اس کی اجازت سے فقراء و مساکین میں صدقہ کر دیا جائے لیکن حصہ ہرحال میں نکالا جائے گا۔ اور اس کا حصہ اس کی مرضی سے ہی کسی کو دیا جاسکتا ہے۔

سوال: میری بہن امریکہ میں رہتی ہے، وہ عمرہ کرنا چاہتی ہے مگر اس کے ساتھ امریکہ کے سفر سے دبئی تک کوئی محرم نہیں ہے۔ دوبئی میں بھائی رہتا ہے، اس کے ساتھ جدہ جائے گی۔ کیا ایسے سفر کرسکتی ہے، اخراجات کی وجہ سے خاوند اور بیٹا ساتھ نہیں آسکتے؟

جواب:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو بغیر محرم کے سفر کرنے سے منع کیا ہے یعنی عورت ہرحال میں اپنے محرم کے ساتھ سفر کرے۔ ایک شخص کو جہاد میں جانا تھا لیکن جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو محرم کے ساتھ سفر کرنے کا حکم دیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی بیوی کے بارے میں دریافت کیا کہ میری بیوی حج کرنا چاہتی ہے اور میں جہاد کرنا چاہتا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ جاؤ اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔

المہم ایک عورت کو جب محرم میسر ہو تب ہی وہ عمرہ کا سفر کرے، ورنہ سفر نہ کرے خواہ حج و عمرہ کا سفر ہو یا کوئی اور سفر ہو۔ ہاں جو سفر کرنا عورت کے لیے ہرحال میں ضروری ہو مگر اس سفر کے لیے محرم میسر نہ ہو تب بھی وہ سفر کر سکتی ہے۔

سوال: نماز پڑھتے ہوئے دوسری رکعت میں سورة الرحمن تئیس آیت تک تلاوت کی پھر جب دوسری رکعت میں تلاوت شروع کی تو بھول سے چوبیس کے بجائے بتیس آیت سے تلاوت کرلی، سجدے میں جاتے ھوئے خیال آیا کہ غلطی ہوگئی ہے۔ اس کے لئے سجدہ سہو کرلئے۔ کیا یہ درست ہے؟

جواب:پہلی رکعت میں جتنا پڑھے تھے، اس کے بعد دوسری رکعت میں کوئی ضروری نہیں ہے کہ اس کے بعد سے آپ تلاوت کریں۔ آپ پورے قرآن سے کہیں سے بھی جو میسر ہو تلاوت کر سکتے ہیں۔ جیسے دیگر نمازوں میں ایک رکعت میں کہیں سے تلاوت کرتے ہیں اور دوسری رکعت میں کہیں دوسری جگہ سے تلاوت کرتے ہیں۔ تلاوت کرنے کے لیے بالکل ضروری نہیں ہے کہ آپ پہلی رکعت میں جہاں پر چھوڑے تھے، دوسری رکعت میں وہیں سے تلاوت کریں، اس پابندی کی کوئی ضرورت نہیں ہے، نہ ہی آپ کو اس پر سجدہ سہو کرنے کی ضرورت تھی۔

نماز میں قرات کا مطلب ہے کہ جہاں سے آپ کو آسانی ہے وہاں سے تلاوت کریں۔ ہاں اتنی رعایت رکھیں کہ پہلی رکعت میں آپ نے جہاں سے تلاوت کی تھی، دوسری رکعت میں تلاوت کرتے ہوئے قرآنی ترتیب کا خیال رکھیں اور اس سورت کے یا ان آیات کے بعد ہی کہیں سے تلاوت کریں یعنی تلاوت میں سورتوں کی ترتیب کا خیال رکھنا افضل ہے تاہم کبھی انجانے میں ترتیب بدل جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

سوال: مرغیوں کو عموما پاکستان میں جو غذا دی جارہی اس کے بارے میں یہی تحقیق ہے کہ وہ حرام پر مبنی ہے۔ ایسی صورت میں کیا ہم مرغی کا گوشت کھا سکتے ہیں؟

جواب:جن مرغیوں کو مصنوعی غذاؤں پر پالا جاتا ہے، ان کا کھانا حلال ہے۔ اور اصل میں مرغی کے حلال ہونے کا سبب اللہ کی طرف سے حلال ہونا ہے۔ نبی ﷺ نے مرغی کھائی ہے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حلال ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو چیز ہمارے لئے حلال ہے اس کے کھانے میں مضائقہ نہیں ہے۔

جب جانورکا اکثر و بیشتر کھانا نجاست ہو تو اس کو جلالہ کہتے ہیں یعنی نجاست کھانے والا جانور۔ ایسے جانور کو تین دن باندھ کر رکھا جائے گا تاکہ اس کا پیٹ صاف ہوجائے اور گندگی کی بو اس کے گوشت سے جاتی رہے۔ پھر اس کو کھاسکتے ہیں۔ مرغیوں کا معاملہ یہ ہے کہ انسانی نجاست تو نہیں کھاتی ہے، ان کو انسانی نجاست کے علاوہ حلال و حرام مرکبات سے بنی خوراک کھلائی جاتی ہے، اس وجہ سے اس پر جلالہ پوری طرح صادق نہیں آتا ہے لہذا ایسی مرغیوں کے کھانے میں حرج نہیں ہے کیونکہ غذاء میں ملنے والی چیز خالص حرام نہیں ہے، نیز اس کی ماہیت بھی تبدیل ہوجاتی ہے۔ بنابریں مرغی کھانے میں حرج نہیں ہے۔ یہاں پر شیخ ابن عثیمیں رحمہ اللہ کا ایک بیان دیکھیں۔ شیخ نے الشرح الممتع (11/298) میں فرمایا ہے:“جَلَّالَہ اس جانور کو کہتے ہیں جس کی خوراک میں زیادہ تر نجاست شامل ہو۔اس کے بارے میں علماء کے دو اقوال ہیں:ایک قول یہ ہے کہ وہ حرام ہے، کیونکہ اس نے نجس چیز کھائی ہے جس کا اثر اس کے گوشت پر پڑا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ وہ حلال ہے، اور یہ قول نجاست کے استحالہ (تبدلِ ماہیت) کے ذریعہ پاک ہو جانے پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو نجاست اس نے کھائی، وہ خون، گوشت اور دیگر ایسی چیزوں میں تبدیل ہو گئی جن سے جسم کی نشوونما ہوتی ہے، لہٰذا وہ پاک شمار ہوگی۔

سوال: کیا اگر گناہ کبیرہ ہوجائے تو اس کی معافی مل جاتی ہے، ہم انسان ہیں، کبھی شیطان گمراہ کردیتا اور بہکادیتا ہے اور پتہ بھی ہے کہ اللّٰہ نے اس گناہ سے منع فرمایا ہے پھر بھی گناہ ہو جائے۔ نیز جب اللہ تعالیٰ سےمعافی مانگ لیں پھر کچھ عرصے بعد وہ گناہ ہوجائے تو کیا اللہ بار بار معاف کر دے گا؟

جواب:سچے دل سے، توبہ کی شرطوں کے ساتھ اللہ سے معافی مانگتے ہیں تو اللہ معاف فر مادے گا حتی کہ باربار بھی توبہ کرنے سے گزیر نہیں کرنا چاہئے، اللہ بہت معاف کرنے والا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ گناہ اس نیت سے کریں کہ توبہ کرلیں گے ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ بلکہ سچے دل سے توبہ کریں ۔ اللہ دل اور نیت دیکھتا ہے۔ بندہ جب جب سچے دل سے توبہ کرے گا اللہ تب تب معاف کردے گا لیکن سچے دل سے اور خالص نیت کے ساتھ توبہ نہ کی جائے تو اس توبہ کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

سوال: ایک گھرانہ کے پاس زیور تو اتنا ہے کہ وہ نصاب تک پہنچ جاتا ہے لیکن اس کے پاس آمدنی اتنی نہیں ہے کہ وہ زکوۃ ادا کر سکے۔ دو سال سے یہ لوگ کچھ نہ کچھ زیور بیچ کر زکوۃ ادا کرتے ہیں۔ اس سال بھی یہی معاملہ ہے۔ کیا اس کے اوپر اسی طرح ہرسال زیور بیچ کر زکوۃ نکالنا ضروری ہے؟

جواب:استعمال کے زیورات میں زکوۃ دینے سے متعلق علماء کے درمیان اختلاف ہے، بعض کہتے ہیں کہ اس میں زکوۃ نہیں ہے اور بعض کہتے ہیں کہ اس میں بھی زکوۃ ہے تاہم افضل و بہتر یہی ہے کہ استعمال والے زیورات میں زکوۃ دی جائے بلکہ احتیاط کا تقاضا بھی یہی ہے کیونکہ نصوص سے اس بات کو تقویت ملتی ہے۔

زیورات کا مالک پورے گھر والے نہیں ہوتے ہیں بلکہ جس خاتون کے حصے میں زیورات ہیں، وہ اس کی مالک ہوتی ہے۔ زکوۃ دینا اس خاتون کے ذمہ ہے۔ اب زکوۃ دینے کی ایک صورت یہ ہے کہ ان زیورات کی زکوۃ الگ سے پیسوں سے ادا کرے یا انہی زیورات میں سے کچھ بیچ کر زکوۃ دے یا اس خاتون کی طرف سے گھر کا کوئی آدمی زکوۃ دیدے تب بھی زکوۃ ادا ہوجائے گی۔ بہت ساری فیملی غریب ہوتی ہے، اس گھر میں کسی خاتون کے پاس نصاب بھر زیورات تو ہوتے ہیں مگر گھر کا گزر بسر بمشکل ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات یہ مدد کے بھی محتاج ہوتے ہیں، ایسی صورت میں اس خاتون کے لئے اپنے زیورات کی زکوۃ دینا دشوار ہوتا ہے۔ جب صورت حال ایسی ہو تو اللہ سے آسانی کے لئے دعا کرے، جب زکوۃ دینے کی سہولت میسر ہو تب زکوۃ دے، اس وقت زکوۃ دینے کی طاقت نہیں ہے تو ابھی انتظار کرے اور ویسے بھی بعض اہل علم کہتے ہیں کہ استعمال کے زیورات میں زکوۃ نہیں ہے کیونکہ ان زیورات کا مقصد تجارت نہیں ہوتا ہے بلکہ فقط استعمال کرنا ہوتا ہے۔

شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ ایک ایسی عورت جس کے پاس زیورات میں زکوۃ دینے کی استطاعت نہ ہو وہ کیا کرے تو شیخ نے جواب دیا:"اگر عورت کے پاس زکاۃ ادا کرنے کے لیے زیورات کے سوا کچھ نہ ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ زیورات میں سے کچھ بیچ دے یا قرض لے کر زکاۃ ادا کرے۔ اور اگر اس کی اجازت سے اس کا شوہر یا کوئی اور اس کی طرف سے زکاۃ ادا کر دے تو اس میں کوئی حرج نہیں"۔

سوال: انڈیا میں بہت سی جگہوں پر اذان نہیں ہوتی ہے جبکہ اذان کے کلمات کا دہرانا اور اس کا جواب دینا بڑے ثواب کا کام ہے تو کیا انسان موبائل پہ اذان سن کر اس کا جواب دے سکتا ہے؟

جواب:جو حقیقی اور اصل اذان ہوتی ہے جو وقت پر مسجد میں دی جاتی ہے، اسی اذان کا جواب دیا جائے گا، موبائل ، ٹی وی یا ریڈیو سے ہونے والی اذان کا جواب نہیں دیا جائے گا کیونکہ یہ اصل نہیں ہے بلکہ نقل ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر انڈیا میں کہیں اذان کی آواز نہیں آرہی ہے تو کیا ہوگیا، دوسری عبادات تو ہیں۔ آپ سارا سارا دن عبادت کریں، تلاوت کریں، ذکر و دعا میں مشغول رہیں، عبادات کی کمی ہے، ان عبادات کو ہی ٹھیک سے ادا نہیں کرسکتے ہیں۔ جو عبادت ہمارے ذمہ ہے، ہم اس کی انجام دہی کی فکر کریں، یہی ہم سے مطلوب ہے۔ اصل اذان سننے پر اس کا جواب دینا چاہئے، جب اذان سنائی نہ دے تو اس کا جواب دینا ہمارے ذمہ نہیں ہے۔

سوال: ایک عورت جو اپنی اور اپنے شوہر کی رضامندی کے ساتھ اپنے ایک بچے(لڑکے) کو اپنے شوہر کی بہن کو دے دیاجس کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ اس معاملہ کے لئے کوئی معاہدہ طے نہیں ہوا تھا، بس ماں نے اپنی خوشی سے بچے کو جو کہ صرف چالیس دن کا تھا اپنی نند کے حوالے کردیا۔ اب بچے کی عمر بارہ سال کی ہے اور جس نے پرورش کی اس کو ہی ماں سمجھ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اب بچے کی حقیقی ماں بچے کو اس عورت سے واپس مانگ رہی ہے جس نے پرورش کی ہے۔ یہ عورت سخت صدمے سے دوچار ہے، ایسی صورت میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

جواب:کسی بچے کو گود لینا یا اس کی پرورش کرنا، ایک قسم کی امانت ہے، اس کو کفالت بھی کہیں گے مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کسی نے اپنا بچہ کسی کی ملکیت میں دے دیا۔ اس لحاظ سے جس نے اپنا بچہ کسی کو گود لینے کے لئے دیا، اس سے اپنا بچہ واپس لے سکتا ہے خصوصا جب کسی قسم کی متعین مدت کے لئے کوئی معاہدہ نہ ہوا ہو۔ جب کوئی معاہدہ ہوا رہتا تو اس کی پابندی کی جاتی مگر یہاں کوئی معاہدہ مذکور نہیں ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ بچہ دینے والے کو بچہ واپس لینا جائز ہے مگر اس میں اصلا بچے کی مصلحت کو مذنظر رکھا جائے گا، نہ کہ کسی کی خواہش کو۔

اگر بچے کا ، گود لینے والے کے یہاں رہنا دینی، اخلاقی اور ذہنی مصلحت کے تئیں بہتر ہے تو بچہ فی الوقت وہیں رہنا چاہئے اور اگر مصلحت کا نقاضا ہے کہ جس کا بچہ ہے اس کے پاس واپس آنا چاہئے، تو بچہ واپس لیا جاسکتا ہے۔ ان دونوں صورتوں میں سے کسی صورت میں تنازع اور اختلاف پیدا ہوجائے تو آپس میں بیٹھ کر کسی عالم کی رہنمائی میں مناسب تجویز و حل پر عمل کیا جائے۔نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:«لا ضرر ولا ضرار»

ترجمہ:نہ کسی کو نقصان پہنچانا جائز ہے، اور نہ خود نقصان اٹھانا جائز ہے۔

سوال:ایک عورت ہمیشہ مانگتی تھی، میں کچھ نہ کچھ دیا کرتی تھی، باربار مانگنے کی وجہ سے میں نے اسے منع کردیا اور کہا کہ آؤ تجوید سکھادوں ، اس کے ذریعہ کچھ کمائی کرلینا مگر وہ نہیں آئی۔ ایسے میں کیا میرے منع کرنے سے اللہ کو برا لگے گا؟

جواب؛کسی کا مانگنا اس کی حالت پر منحصر ہے، اگر کسی عورت کی حالت مانگنے والی ہے یعنی اس کا کوئی مرد کفیل نہیں ہے نیز کام کرنے میں بھی عذر ہے اور وہ مانگ کر کھاتی ہے تو اس میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ آپ سے اگر کوئی تعاون مانگے خواہ ایک بار مانگے یا بار بار مانگے، اس صورت میں آپ اپنی حالت کو اور مانگنے والی کی حالت کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔ مانگنے والا حق بجانب ہے اور ہمارے پاس دینے کے لیے کچھ ہے تو دے دیں اور اگر دینے کے لیے کچھ نہیں ہے تو معذرت کر دیں۔ ساتھ ہی اگر مانگنے والا، مانگنے کے قابل نہ ہو تو اسے نصیحت کر دیں یہ ہماری دینی ذمہ داری ہے۔

آپ نے جس کسی خاتون کو دینے سے منع کیا، اگر اس میں دل دکھانے والا انداز رہا ہو تو اس سے معافی مانگ لیں کیونکہ آپ نے اس کا دل دکھایا ہے۔ اپنے پاس دینے کے لیے نہ ہو تو معذرت کر لینا ایک الگ بات ہے لیکن کسی مانگنے والے کو غلط انداز میں منع کرنا یہ تکلیف کا باعث ہے۔ اللہ نے سائل کو جھڑکنے سے منع کیا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ یہ بندے کا معاملہ ہے، بندے کا معاملہ بندے کے ذریعہ ہی حل ہوتا ہے جیساکہ ہم حقوق العباد کے سلسلے میں علم رکھتے ہیں۔ بندوں کے بارے میں ظلم، اللہ معاف نہیں کرے گا جب تک کہ بندہ معاف نہ کرے لیکن اگر آپ نے اس کا دل نہیں دکھایا ہے تو آپ کے ذمہ کچھ بھی نہیں ہے۔

سوال: ایک عمرہ کرنے کے بعد دوسرا عمرہ جعرانہ سے کرسکتے ہیں؟

جواب: عمرہ پر آنے والا ایک سفر میں ایک عمرہ کرے یہی مسنون ہے لیکن اگر زیادہ دن مکہ میں ٹھہرتا ہے تو چند دنوں کے وقفہ کے ساتھ جیسے ہفتہ عشرہ کے وقفہ کے ساتھ حدود حرم سے باہر جاکر کہیں سے احرام باندھ کر دوبارہ عمرہ کر سکتا ہے جیسے جعرانہ یا عرفات یا مسجد عائشہ وغیرہ سے احرام باندھا جاسکتا ہے۔

سوال: کیا بائیں ہاتھ پر تسبیح پڑھ سکتے ہیں؟

جواب:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام کام دائیں جانب سے کیا کرتے تھے جیسے کنگھی کرنا، جوتے پہننا، طہارت کرنا اور دیگر تمام کام وغیرہ بلکہ خصوصیت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق سے دائیں ہاتھ پر ذکر کرنے کا ثبوت بھی ملتا ہے۔ لہذا ہمیں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنے کام دائیں جانب اور دائیں ہاتھ سے کرنا چاہیے۔ اس لحاظ سے افضل اور بہتر یہی ہے کہ ہم ذکر و اذکار دائیں ہاتھ پر کریں لیکن اگر کوئی بائیں ہاتھ پر بھی ذکر کرتا ہے تو اس میں حرج نہیں ہے گوکہ بہتر و افضل دایاں ہاتھ ہے۔

سوال: کچھ لوگ الکٹرانک سگریٹ کا استعمال کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ اس میں نشہ نہیں ہوتا اس لئے استعمال کرتے ہیں۔ کیا یہ صحیح ہے؟

جواب:الیکٹرانک سگریٹ (e-cigarette / vape) کی بہت ساری قسمیں ہیں، ان سب میں نکوٹین کے ساتھ کیمیکلز اور فلیورز شامل ہوتے ہیں جو پانی یا گلیسرین کے ساتھ بخارات میں تبدیل ہوتے ہیں اور اسے استعمال کرنے والا ان بخارات کو سانس کے ذریعہ اپنے جسم میں جذب کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سگریٹ صحت کے لئے نقصان دہ ہے، اس کے استعمال سے اعصابی نظام، اور دل و دماغ متاثر ہوتے ہیں بلکہ یہ پھیپھڑوں اور سانس کی بیماریوں کے ساتھ دل اور شریانوں کی بیماری کا سبب بھی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کا کہنا ہے کہ "الیکٹرانک سگریٹ محفوظ نہیں ہے اور یہ صحت کے لیے خطرات پیدا کر سکتا ہے۔" اور امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن (CDC) کی رپورٹ میں ہے کہ "ویپنگ (الیکٹرانک سگریٹ کا استعمال) آپ کے پھیپھڑوں اور دل کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے، خاص طور پر نوجوانوں اور حاملہ خواتین کے لیے۔"

جب سائنس اور طب کا ماننا ہے کہ یہ الیکٹرانک سگریٹ انسانی صحت کے لئے نقصان دہ ہے تو اس کا استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔ خواہ اس میں نشہ پایا جاتا ہو یا نہ پایا ہو، اس کا مضرصحت ہونا ہی اس کے عدم جواز کے لئے کافی ہے۔

سوال: تہجد کی نماز دو چار رکعت پڑھ کر زیادہ سے زیادہ وقت دعا میں لگا سکتے ہیں، اور تہجد کا آخری وقت کب تک ہوتا ہے جس میں دعا کی قبولیت ہو؟

جواب:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے زندگی اور عبادات کے تمام مراحل میں مکمل اور بہترین نمونہ ہیں۔ رات کی عبادت کے سلسلے میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کا نمونہ ہمارے لیے بالکل واضح ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت قیام اللیل کیا کرتے تھے بلکہ رات کی عبادت سے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہاں تک تذکرہ ملتا ہے کہ آپ اس قدر رب کی بندگی کرتے ہیں کہ آپ کے قدموں میں ورم آجاتا۔ ہم میں سے جس کسی کو بھی رات میں اٹھ کر عبادت کرنے کی توفیق ملے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت پر عمل کرے یعنی وہ گیارہ رکعت قیام اللیل پڑھنے کی کوشش کرے۔ یہ نماز رات کی سب سے اہم عبادت ہے بلکہ اس عبادت پہ فرشتے حاضری لگاتے ہیں یعنی مشاہدہ کرتے ہیں۔ اور نماز ایک ایسی عبادت ہے جس میں دعا بھی شامل ہے بلکہ نفل نماز کے سجدے میں جس قدر دعائیں کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔ لہذا آپ کے لیے بھی وہی بہتر ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کر کے دکھایا ہے۔

اور تہجد کا وقت عشاء کے بعد سے لے کر فجر سے پہلے تک ہے۔ باقی دعا دن و رات میں کبھی بھی کرسکتے ہیں اور رات کے آخری پہر میں بھی اور تہجد کے وقت بھی کرسکتے ہیں۔ کوئی ایسا وقت نہیں ہے جس وقت دعا قبول نہ ہوتی ہو۔ اللہ تعالی ہمہ وقت بندے کی دعا کو سنتا ہے اور قبول بھی کرتا ہے یعنی ہم جس وقت بھی دعا کریں، ہماری کوئی بھی دعا رائیگاں نہیں جاتی۔ یہ بھی ایک اہم بات ہے کہ اللہ تعالی رات کے آخری پہر میں آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور مانگنے والوں کو عطا فرماتا ہے۔

سوال: والد کی جائیداد میں سے عورت کا یعنی بچوں کی ماں کا کتنا حق ہوگا ہم نے اکثر سنا ہے کہ عورت کا حق کم ہوتا ہے۔ یہ حق بیٹے کے برابر یا بیٹی کے برابر ہوتا ہے یا اس سے بھی کم ہوتا ہے؟

جواب:عورت کی ایک حالت نہیں ہے بلکہ مختلف حالات ہیں۔ عورت کی حیثیت کبھی بیوی کی تو کبھی بیٹی کی اور کبھی بہن کی بھی ہوتی ہے بلکہ اور بھی مختلف حالات ہوتے ہیں۔ ان مختلف حالات میں عورتوں کے مختلف احکام ہیں۔

بیوی کی حیثیت سے جب اولاد ہو تو اسے آٹھواں حصہ اور اولاد نہ ہو تو چوتھا حصہ ملتا ہے اور بیٹی کی حیثیت سے بیٹے کے مقابلے میں اسے آدھا حصہ ملتا ہے۔

بہرحال! اللہ رب العالمین اپنے بندوں کی حکمت کو وہ بہتر جانتا ہے تاہم ہمارے علم میں ہونا چاہیے کہ اللہ تعالی نے عورت کے ذمے معاشی کفالت کی ذمہ داری نہیں ڈالی ہے بلکہ کفالت کی ذمہ داری مردوں کے سر پر ہے اس لیے مردوں کا حصہ زیادہ نظر آتا ہے۔

سوال: مجھے ایک بیٹی ہے اور چار مرتبہ مس کیریج ہوگیا ہے۔ پیٹھ پیچھے لوگ کافی باتیں کرتے ہیں، کچھ کہتے ہیں روحانی مسائل ہیں۔ ڈاکٹر کے یہاں کوئی وجہ نہیں نظر آتی ہے۔ میں اپنے شوہر کو کہتی ہوں کہ دونوں علاج کرالیں مگر وہ نہیں مانتے ہیں۔ ایسے میں مجھے کیا کرنا چاہئے؟

جواب:سب سے پہلی بات یہ ہے کہ آپ لوگوں کی باتوں پر نہ جائیں، معاشرے میں جہالت زیادہ ہے اور دینداری کم ہے اس وجہ سے لوگ جہالت اور نادانی والی باتیں زیادہ کرتے ہیں۔ ساتھ ہی لوگوں کی اس بات پر بھی آپ کو دھیان دینے کی ضرورت نہیں ہے کہ کچھ روحانی مسائل ہیں، یہ جاہلوں کا تکیہ کلام ہے کہ جب بھی کسی کے ساتھ کوئی پریشانی دیکھے تو فوراً اسے روحانی مسائل سے جوڑ دیتے ہیں۔

جہاں تک مسئلہ ہے مس کیریج کا تو اس کے لیے آپ ماہر سے ماہر ڈاکٹر سے رابطہ کریں اور اگر آپ کو علاج کی ضرورت محسوس ہو تو آپ اپنا بہتر سے بہتر علاج کرائیں اس کے لیے آپ کو اپنے شوہر کا علاج کرانے کی ضرورت نہیں ہے، نہ شوہر کو منوانے کی ضرورت ہے۔ مس کیریج کا معاملہ آپ کے ساتھ ہے، تو اس کے لیے آپ اپنا علاج کرا سکتے ہیں اس میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی علم میں رہے کہ اولاد دینے والا اللہ رب العالمین ہے، وہ جب جس کو چاہتا ہے اولاد عطا کرتا ہے اس لیے اللہ پر کامل توکل رکھیں اور اس سے دعا مانگتے رہیں۔

سوال: غسل خانہ میں بالٹی، غسل خانہ کے فرش پر رکھا ہوا ہے۔ بدن پاک ہو یا ناپاک۔ غسل کے پانی کے قطرے اس میں پڑتے ہیں اور کئی مرتبہ صابون جو بدن کو لگا ہے، وہ بھی بالٹی میں گرجاتا ہے تو کیا اس بالٹی والے پانی سے غسل ہوجائے گا ؟

جواب:وضو یا غسل کرنے والے کے بدن سے جو پانی ٹپکتا ہے وہ پاک ہوتا ہے اس وجہ سے وہ اگر بالٹی میں گرجائے یا نہاتے ہوئے صابن کا کچھ قطرہ بالٹی میں گرجائے حتی کہ صابون بھی بالٹی میں گر جائے تو اس کا پانی ناپاک نہیں ہوگا۔ پانی پاک ہی رہے گا اور اس پانی سے وضو بھی کرسکتے ہیں اور غسل بھی کرسکتے ہیں۔ اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہاں ایک مسئلہ اور یاد رکھیں کہ اگر استعمال شدہ پانی یا اس کے چھینٹے دوسرے برتن میں رکھے صاف پانی میں گرکر اس کا رنگ یا بو یا مزہ بدل دے یعنی پانی کا اصلی وصف تبدیل کردے تو پھر اس پانی سے طہارت حاصل نہیں کریں گے۔

سوال: کیا حیض کی حالت میں عورت مسجد میں کسی نکاح کی تقریب میں شامل ہوسکتی ہے؟

جواب:عورت حیض کی حالت میں مسجد میں نہیں ٹھہر سکتی ہے چاہے نکاح کی تقریب میں شامل ہونے کے لیے ہو یا اجتماع میں شامل ہونے کے لیے ہو یا درس و تدریس کے لیے ہو۔ کسی بھی صورت میں عورت حیض کی حالت میں مسجد میں ٹھہر نہیں سکتی ہے۔

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔