Sunday, February 15, 2026

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(96)

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(96)

جواب از: شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ

جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ - سعودی عرب


سوال: ایک لڑکا جس کے باپ کی آمدنی کم ہے، کیا اس کی یونیورسٹی کی تعلیم کے لئے زکوۃ دی جا سکتی ہے۔ اس کی تعلیم سے گھر کے حالات بدل سکتے ہیں، باقی بچوں کے لئے وہ باپ کا بازو بن سکتا ہے؟

جواب:دینی تعلیم کے لیے ایسے غریب بچے پر خرچ کیا جا سکتا ہے جو محتاج اور ضرورت مند ہو اور تعلیم حاصل کرنے کے لیے اس کے پاس مال نہ ہو البتہ وہ بچے جو دنیاوی تعلیم حاصل کرتے ہیں ان کے لیے زکوۃ کی رقم نہیں دی جا سکتی ہے۔جہاں تک مسئلہ ہے گھر کے حالات بدلنے کا یا بیوی بچوں کی پرورش، گھروالے  اور والدین کی کفالت کا تو اس کے لیے دنیاوی تعلیم ہی ضروری نہیں ہے، بغیر تعلیم کے بھی  ہزاروں کام پائے جاتے ہیں۔ تعلیم کی اپنی جگہ اہمیت ہے لیکن اسلام میں فوقیت شرعی تعلیم کو دی جائے گی۔

سوال: کیا زکوۃ اور صدقہ کے پیسے سے کسی مزدور کو عمرہ کروایا جاسکتا ہے؟

جواب:اللہ تعالی نے زکوۃ کے مصارف متعین کر دیے ہیں، زکوۃ کو صرف انہی مصارف میں خرچ کیا جائے گا اس سے کوئی دوسرا کام نہیں لیا جائے گا۔اس لئے زکوۃ کے پیسوں سے کسی مزدور کو عمرہ نہیں کرایا جاسکتا ہے البتہ صدقہ کے پیسے سے عمرہ کرا سکتے ہیں، اس میں حرج نہیں ہے۔

سوال: میری بیٹی بچوں کے ساتھ عمرہ ویزہ پر آرہی ہے، اس کا شوہر جدہ میں نوکری کرتا ہے، وہ اپنے  بیوی بچوں کو لا رہا ہے۔ کیا اس کو ایرپورٹ سے ہی عمرہ کا احرام باندھنا ضروری ہے یا جدہ گھر آکر دو دن کے بعد وہاں سے عمرہ کرسکتی ہے؟

جواب:پہلی بات یہ ہے کہ ویزا عمرہ کا ہے اور ارادہ بھی عمرہ کا ہے جیسا کہ سوال میں مذکور ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب آدمی کی نیت پہلے سے عمرہ کرنے کی ہو اور عمرہ کے ارادے سے یہاں آرہے ہوں تو ایسی صورت میں میقات سے احرام باندھنا ضروری ہے۔ جہاز سے آنے والے احرام کا لباس ایئرپورٹ پر ہی لگا لیتے ہیں اور میقات کے ٹھیک اوپر آنے کے بعد عمرہ کی نیت کرکے احرام میں داخل ہو جاتے ہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر بیوی شوہر کے پاس ٹھہرنے کی نیت سے آرہی ہے اور دل میں عمرہ کا بھی ارادہ ہو مگر یقینی نہ ہو کہ جاکر ایک دو دن آرام کرکے عمرہ کرنا ہے بلکہ دل میں یہ ارادہ ہو کہ جب موقع ملے عمرہ کر لیں گے تو ایسی صورت میں احرام باندھ کر جدہ آنے کی ضرورت نہیں ہے یعنی وہ بغیر احرام کے ہی جدہ آجائے پھر جب مرضی ہو جدہ سے احرام باندھ کر عمرہ کرلے گی گویا کہ ایسی صورت میں وہ عمرہ کے لئے اپنی نیت پکی نہیں کرنی ہے۔

سوال: بعض کریموں میں الکوحل ہوتا ہے تو کیا ایسا کریم استعمال کر سکتے ہیں؟

جواب:کریم میں الکوحل موجود ہو تو اس کو لگانے میں حرج نہیں ہے کیونکہ اس کریم کو داخلی طور پر استعمال نہیں کرنا ہے بلکہ خارجی طور پر بدن میں لگانا ہے۔ الکوحل والی وہ چیز ممنوع ہے جس کو ہم حلق کے نیچے اتاریں یعنی کھانے پینے کی شکل میں استعمال کرنا منع ہے کیونکہ اس سے عقل متاثر ہوتی ہے اور اس میں فتور پیدا ہوتا ہے۔

سوال: میرے مرحوم شوہر کی جائیداد سے حاصل ہونے والی آمدنی سے میں حسب توفیق صدقہ اور ضرورت مند لوگوں کی باقاعدگی سے مدد کرتی ہوں، تو کیا اس کا ثواب میرے مرحوم شوہر کو ملے گا، اگر چہ اس کے متعلق ان کو وصیت کرنے کی مہلت نہ مل سکی جبکہ میں جو بھی کسی کی مدد کرتی ہوں وہ مرحوم شوہر کی کمائی سے کرتی ہوں؟

جواب:جب میت مال چھوڑ کر دنیا سے جاتا ہے تو اب اس مال کے مالک وہ لوگ قرار پائیں گے جو وارثین ہیں اور وراثت والے مال سے صدقہ کرنے پر اصل میں اس آدمی کو ثواب ملے گا جو صدقہ کر رہا ہے لیکن اللہ کے فضل سے امید ہے کہ اس اجر میں وہ میت بھی شامل ہوگا جو اپنے وارثین کے لیے مال چھوڑ کر گیا ہے۔اس جگہ میں ایک مشورہ دوں گا کہ اگر صدقہ و خیرات کرتے وقت میت کی بھی نیت کر لیں تو زیادہ بہتر ہے۔

سوال: ایک بہن کے پاس آٹھ تولہ سونا ہے مگر اس کے شوہر نہیں کماتے ہیں تو کیا اس کو زکوۃ دے سکتے ہیں؟

جواب:اگر اس عورت کے پاس سونے کے علاوہ کوئی ذریعہ آمدنی نہ ہو اور وہ بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لیے محتاج اور ضرورت مند ہو تو ایسی صورت میں اس کو زکوۃ سے تعاون کر سکتے ہیں۔مرد کمانے کے لائق ہو پھر بھی نہ کمائے تو اس کو کمانے کی ترغیب دی جائے گی  کیونکہ طاقتور کماکر کھانے والوں کے لئے زکوۃ نہیں ہے۔

سوال: اگر طواف کے دوران انسان زخمی ہو جائے اور پاؤں کے انگوٹھے کا ناخن ٹوٹ جائے، اس میں سے خون نکل آئے اور انسان یہ سوچے کے میں طواف کر رہی ہوں، اب اس کو چھوڑ کر تو وضو نہیں کرسکتی دوبارہ اور وہ اسی طرح طواف کرتی رہے تو کیا وہ طواف ہو جائے گا کیونکہ وضو تو ٹوٹ گیا تھا؟

جواب:طواف کے دوران اور احرام کی حالت میں آپ خود ناخن ٹوٹ جائے تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ اسی طرح پیر میں چوٹ لگنے سے خون نکلنے لگےتو اس سے بھی وضو نہیں ٹوٹتا ہے لہذا آپ اپنا طواف جاری رکھیں اور اپنا طواف مکمل کریں، آپ کو وضو کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جس کسی نے ناخن ٹوٹنے یا چوٹ لگنے پر طواف مکمل  کرلیا اس کا طواف اپنی جگہ درست و صحیح ہے۔

سوال: عقیقہ کون کون سے دن کر سکتے ہیں؟

جواب:ہفتہ کے ساتوں دن عقیقہ کرسکتے ہیں،اس میں کسی دن کی ممانعت نہیں ہے۔ عقیقہ کرنے میں اصل یہ ہے کہ جب بچہ پیدا ہو اس کے ساتویں دن عقیقہ کیا جائے، وہ جو بھی دن ہو کوئی مسئلہ نہیں ہے مگر ساتواں دن ہونا چاہیے۔جب کسی مجبوری کی وجہ سے ساتویں دن عقیقہ نہ کیا جاسکے تو بعد میں بھی اس کی طرف سے عقیقہ دیا جا سکتا ہے۔

سوال: اگر نماز کی کسی رکعت میں دوسرا سجدہ بھول کر چھوٹ جائے لیکن سلام پھیرنے سے پہلے اپنی غلطی کا یقین ہو جائے تو کیا کرنا ہے؟

جواب:جب کبھی نماز میں کسی رکعت میں ایک سجدہ یا دونوں سجدہ بھول جائیں تو اس رکعت کو شمار نہیں کرنا ہے بلکہ اس کی جگہ ایک دوسری رکعت ادا کرنا ہے اور سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کرنا ہے، پھر دوبارہ سلام پھیرنا ہے۔

سوال: ایک خاتون نے قرض لیا تھا جس کی وجہ سے وہ کافی پریشان ہے، اس نے قرض لینے کے لئے سونا رہن پر دیا تھا اور وہاں سے جو قرض لیا وہ سود پر قرض لیا تھا۔ اب اس کی ادائیگی کے لئے وہ بہت مشکل میں ہے۔ کیا اس کو انٹرسٹ کا پیسہ دے کر رہن لینے میں تعاون کرسکتے ہیں جبکہ اس نے دوبارہ سودی معاملہ نہ کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے؟

جواب:ہاں، اس طرح کی مشکل میں انٹرسٹ کا پیسہ اس خاتون کو دے سکتے ہیں تاکہ وہ اپنی مشکل حل کر لے، ساتھ ہی اس سے آئندہ کے لیے سچی توبہ کرائیں تاکہ وہ دوبارہ اس طرح کا معاملہ نہ کرے۔

سوال: کسی نے اس قسم کی بات شیئر کی ہے ، کیا یہ درست ہے کہ "رزق عورت کے نصیب میں لکھا ہوتا ہے اور اولاد مرد کے مقدر کی بات ہوتی ہے، اس لیے کوئی عورت رزق کے لالچ میں مرد نہ بدلے اور کوئی مرد اولاد کی خواہش میں بیوی مت چھوڑے"؟

جواب:ان باتوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے، یہ جھوٹ پر مبنی ہے۔ قرآن و حدیث میں نہ اس بات کے لئے کوئی دلیل ہے کہ رزق صرف عورت کا نصیب ہے اور نہ اس بات کے لئے دلیل ہے کہ اولاد مرد کا نصیب ہے۔ اللہ تعالی ماں کے پیٹ میں ہی ہر کسی کا رزق لکھ دیتا ہے خواہ وہ لڑکا ہو یا لڑکی ہو۔ اور حصول اولاد کے تعلق سے بھی میاں بیوی دونوں کی حصے داری ہوتی ہے۔ اگر میاں بیوی میں سے کوئی ایک بانجھ یعنی کسی ایک میں  بھی بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت نہ ہو، تو بچہ پیدا نہیں ہوگا، اولاد کے لئے میاں بیوی میں سے دونوں کا اس قابل ہونا ضروری ہے بلکہ مومن کا اصل عقیدہ یہ ہے کہ اولاد دینے والا اللہ تعالی ہے، وہ جسے چاہے اولاد سے نوازتا ہے اور جسے چاہے بے اولاد بناتا ہے۔
بہرحال !جب اوپر والی دونوں باتوں کے بارے میں جان لئے کہ یہ جھوٹ ہیں ، باقی نکاح تو ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارنے کا نام ہے، دونوں سکھ دکھ میں ایک دوسرے کا سہارا بن کر زندگی کزاریں خواہ اولاد ہو یا نہ ہو، اور وسائل زندگی کی فراوانی ہو یا نہ ہو۔ میاں بیوی قناعت اختیار کرتے ہوئے زندگی گزارے۔

سوال: احرام میں اگر گندگی لگ جائے تو کیا اسے بدل سکتے ہیں؟

جواب:حج یا عمرہ میں جو لباس پہنا جاتا ہے وہ احرام نہیں کہلاتا ہے، اسے احرام کا لباس کہا جاتا ہے۔ اس لباس میں گندگی لگ جائے تو اس کو دھل سکتے ہیں یا کوئی اس کو بدلنا چاہے تو بدل سکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

سوال: کیا دعائے قنوت کے آخر میں " وصلی اللہ علی النبی" کہنا حدیث سے ثابت ہے اور ہم اسے پڑھ سکتے ہیں؟

جواب:دعائے قنوت کے آخر میں وصلی اللہ علی النبی کے کلمات ثابت نہیں ہیں تاہم قنوت نازلہ پر قیاس کرتے ہوئے بعض اہل علم نے کہا ہے کہ وصلی اللہ علی النبی کہنے میں حرج نہیں ہے۔ اس وجہ سے تراویح کی نماز میں دعائے قنوت کے آخر میں عموما یہ کلمات پڑھے جاتے ہیں بلکہ دعائے قنوت میں اضافی دعائیں بھی قنوت نازلہ پر قیاس کرتے ہوئے کی جاتی ہیں۔

سوال: عقیقہ کر نے کا صحیح طریقہ کیا ہے، کیا گھر پر مہمان بلا کے دعوت کی جائے یا گوشت ہی بانٹ دیا جائے؟

جواب:عقیقہ کرنے کے بعد اس کا گوشت خود بھی کھانا چاہیے اور دوسروں کو بھی یعنی اپنے اہل و عیال کے علاوہ رشتہ دار، پڑوسی اور فقراء و مساکین کو بھی کھلانا چاہیے۔ عقیقہ کا گوشت تقسیم کرنے کے لیے کوئی مخصوص طریقہ نہیں ہے۔ آدمی اپنی سہولت کے اعتبار سے کچا گوشت بھی تقسیم کر سکتا ہے یا پکا کر دعوت کی شکل میں بھی کھلا سکتا ہے ۔

سوال: ایک فیملی والے کے پاس اتنا زیور ہے کہ زکوۃ ان کو نکالنی ہے اور وہ ہر سال زکوۃ نکالتے ہیں، اپنا زیور پیچ کر کیونکہ اتنی آمدنی نہیں ہوتی ہے کہ زکوۃ دے سکیں تو ان کو اپنا زیور تھوڑا بیچنا پڑتا ہے۔ اور اب ان کو ایک بائیک کی ضرورت ہے جو کوئی ان کو زکوۃ کے پیسے سے دلا کر دے رہا ہے، ستر اسی ہزار کی ہے کیونکہ وہ نہیں خرید سکتے ہیں۔ ان کے پاس اتنی بچت نہیں ہوتی۔ سوال یہ ہے کہ کیا  زکوۃ کے پیسوں سے بائیک لے سکتے ہیں؟

جواب:کسی ضرورت مند کو گاڑی خرید کر دے سکتے ہیں یا نہیں اس سلسلے میں اہل علم کے مختلف اقوال ہیں۔وہ مسکین جو گاڑی کے ذریعہ کماکر اپنا گزر بسر کرسکے ایسے شخص کو گاڑی خریدنے میں زکوۃ کے مال سے تعاون کرنے میں حرج نہیں ہے کیونکہ وہ اس کے ذریعہ اپنی غریبی دور کرسکتا ہے، اسی طرح معذور شخص کو بھی چلنے کے لئے الکٹرانک گاڑی کے لئے زکوۃ  دے سکتے ہیں  لیکن وہ شخص جو گاڑی، اپنی روز مرہ کی زندگی میں استعمال کرنے کے لئے لے گا، تو اس مسئلہ میں اختلاف ہے کیونکہ گاڑی انسان کی بنیادی ضروریات میں سے نہیں ہے۔ ویسے بھی آج کل ہرجگہ اور ہر محلہ میں بلکہ گلی گلی میں مختلف قسم کی سواریاں پائی جاتی ہیں، آدمی ضرورت پڑنے پر معمولی خرچ کرکے کرایہ والی سواری استعمال کرسکتا ہے اور سواری کا استعمال کبھی کبھار ہوتا ہے، ہمیشہ نہیں۔کھانے پینے کی تنگی ہو تو اس میں ضرورت بھر زکوۃ دے سکتے ہیں یا سواری کے لئے مناسب حد تک کرایہ کے طور پر پیسہ بھی دے سکتے ہیں لیکن زکوۃ کے پیسے سے گاڑی خرید کر دینا صحیح نہیں ہے پھر اس کے لیے پٹرول کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ زکوۃ کی ادائیگی میں ایک معاملہ یہ بھی ہے کہ آدمی زکوۃ کے پیسے سے کوئی چیز خرید کر نہیں دے سکتا ہے بلکہ زکوۃ میں مستحق کو مال دیا جاتا ہے۔

سوال: جو کمیٹی کی رقم انسان کے مرنے کے بعد تین چار ماہ بعد ملے تو کیا اس رقم کو بھی تقسیم کرنا ہوگا بطور وراثت اور کیا بیوہ کے ذمہ ہے کہ وہ اس رقم میں ساس کا حصہ نکالے؟

جواب: کمیٹی میں لگائی گئی رقم اگر میت کی تھی تو وہ رقم بھی میت کی وراثت میں شامل کرکے تمام وارثوں میں تقسیم کی جائے گی۔اور اگر وراثت پہلے تقسیم ہوگئی ہو تھی ، بعد میں کمیٹی والی رقم نکلی ہو تو اس کمیٹی والی رقم کو بھی اسی طرح تقسیم کریں گے جیسے پہلے تمام وارثوں میں جائیداد تقسیم کی گئی تھی۔ میت کی ماں زندہ ہے تو اس میں سے ماں کا بھی حصہ نکلے گا۔

سوال: میرے بھائی کو پانچ جوان بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے مگر وہ پچھلے چند ماہ سے بے روزگار ہیں۔ بیٹے کا اپنا کام ہے اور اتنا کما لیتا ہے کہ گھر کا گزر بسر چل سکے، اپنا گھر اور گاڑی بھی ہے ۔بیٹیاں آن لائن ٹیوشنز سے اپنے ذاتی اخراجات پورے کرلیتی ہیں۔ رمضان کے بعد دو بیٹیوں کی شادی طے پائی ہے۔ بیٹیاں اپنے ہی پیسوں سے جہیز کی تیاری کر رہی ہیں۔ ایک بیٹی کا سسرال کی طرف سے بھی جہیز لینے میں تعاون ہو رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ شادی کے کھانے اور ہال کے انتظام کے لیے کیا بھائی کی زکوۃ کی رقم سے مدد کی جا سکتی ہے؟

جواب:زکوۃ کا مال ایک بہت بڑی امانت ہے، جس کا استعمال زکوۃ کے آٹھ مصارف میں امانت داری کے ساتھ ہونا چاہیے۔ ہم سب کو معلوم ہے کہ شریعت کی روشنی میں جہیز دینا، بارات لے جانا، بارات کی دعوت کرنا اور بارات کے لئے ہال بک کرنا یہ سارے کام غیراسلامی اور غیرشرعی ہیں۔ اس مقام پر غور کرکے دیکھیں کہ ایک تو جو لوگ شادی میں یہ سارے کام کر رہے ہیں، وہ شریعت کی خلاف ورزی کر ہی رہے ہیں نیز اس میں اگر آپ زکوۃ دیتے ہیں تو آپ نہ صرف زکوۃ کا غلط جگہ استعمال کر رہے ہیں بلکہ غیر شرعی کام میں آپ شریک ہو رہے ہیں، اس پر تعاون بھی کر رہے ہیں۔

ہماری اصل ذمہ داری یہ ہونی چاہیے تھی کہ ان سب لوگوں کو نصیحت کرکے اور غیر شرعی کاموں کو ختم کرکے سنت کے مطابق شادی کرنے کی ترغیب دیتے۔ سنت کے مطابق شادی کرنے میں لڑکی کی طرف سے کسی بھی طرح کا کوئی خرچہ نہیں ہے بلکہ جو بھی خرچ ہونا ہے وہ لڑکا کی طرف سے ہے یعنی وہ اپنی بیوی کو مہر ادا کرے گا اور رخصتی کے بعد ولیمہ کرے گا۔

اسلام میں نکاح کرنے پر کوئی خرچ نہیں ہے، فقط لڑکی کے ولی کے ذریعہ لڑکے سے ایجاب و قبول کروانا ہے۔ اسی سے نکاح ہوجاتا ہے۔

اس مقام پر یہ یقینا کہا جاسکتا ہے کہ سنت کے مطابق لوگ نکاح کرنے والے نہیں ملتے ہیں یا یہ کہ آدمی کو مجبور ہو کر رسم و رواج اور غیر شرعی کام کرنے پڑتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم اگر نکاح میں دینداری دیکھ کر نکاح کرتے ہیں تو یقینا سنت کو نافذ کرنے میں آپ کو آسانی ہوگی لیکن اگر دینداری نہیں دیکھتے ہیں تو یقینا آپ کو رسم و رواج کے مطابق شادی کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑے گا۔خلاصہ یہ ہے کہ غیرشرعی کاموں کے لئے زکوۃ کی رقم دینا درست نہیں ہے۔

سوال: میں نے کسی سے زیور ادھار لیا ہو اس وقت اس کی قیمت دو لاکھ تھی، اب وہ دس لاکھ بنتے ہیں، ہم اب انہیں پیسے دیں گے تو دس سال پہلے والی قیمت واپس کریں گے یا پھر دس لاکھ ہی دینے ہوں گے اور اتنی استطاعت بھی نہ ہو کہ دس لاکھ دے سکیں تو اس بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب:سونا اور چاندی سے متعلق ایک مسئلہ یہ جان لیں کہ سونا اور چاندی ادھار خرید و فروخت نہیں کرسکتے ہیں یعنی جب بھی ہم سونے یا چاندی کا زیور خریدیں گے تو اسے ہاتھوں ہاتھ خریدیں گے، ادھار میں خریدنا سودی معاملہ ہے اور سودی معاملہ کرنا حرام ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ سونے یا چاندی کا زیور قرض لیا جاسکتا ہے۔ قرض لینے کا مطلب یہ ہے کہ بدلے میں اسی طرح کا زیور اسی وزن میں واپس کرنا پڑے گا۔لہذا آپ نے جو زیور جتنے وزن کا ادھار لیا تھا اتنے وزن کا زیور اسے واپس کریں گے چاہے اس کی قیمت جو بھی ہو یعنی زیور کا بدلہ ہو بہو زیور واپس کرنا ہے۔

سوال: لمياء یا لامياء کا کیا مطلب ہے اور کیا یہ نام رکھے جاسکتے ہیں؟

جواب:معجم المعانی میں لمیاء کا مطلب ہے: ایسی لڑکی جس کے ہونٹوں میں خوبصورت سی سانولی رنگت ہو۔ (تفصیل کے لیے لفظ "لمى" دیکھیں)۔"اللمياء" اُس خوبصورت، نازک اور ہلکی جسم والی عورت کو کہا جاتا ہے جس کے بدن میں خون کم ہو۔بعض لوگ ہمزہ کو ہلکا کر کے "لماء" بھی کہتے ہیں۔اور لمیاء بنت محمد القزاز نویں صدی ہجری کی ایک حدیث کی عالمہ (محدثہ) تھیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ" لمیاء" نام رکھا جاسکتا ہے۔

سوال: پاکستان سے عمرہ کے لئے آنے پر نیت ایرپورٹ پر کرنی ہوگی یا جہاز میں میقات پر نیت کرنا ہے اور طواف کی نفل ایرپورٹ پر ہی پڑھنی ہوگی کیونکہ احرام تو وہاں سے ہی پہن کر آرہے ہیں؟

جواب:پاکستان سے عمرہ پر آنے والے لوگ احرام کا لباس ایئرپورٹ پر ہی لگا لیں گے لیکن نیت جہاز میں میقات کے پاس کریں گے اور اسی عمرہ کی نیت کو احرام کہا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ احرام میں داخل ہونے کی کوئی نماز نہیں ہے، لوگوں نے احرام کی دو رکعت نماز مشہور کر رکھی ہے، یہ غلط ہے، اس کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں ہے۔

سوال: ایک بیوہ خاتون ہے، اس کے پاس کل سرمایہ پچاس ہزار ہے جو کہ کسی کو اس نے تین سال پہلے قرض دیا تھا اور ابھی تک واپس نہیں ملا ہے۔ ابھی وہ کرایہ کے گھر میں ہے اور زیور کے نام پہ صرف دو کنگن بالیاں ہیں۔ سوال ہے کہ کیا پچاس ہزار میں اس کو زکوۃ دینا ضروری ہے؟

جواب:قرض کی دو شکل ہوتی ہے، ایک شکل یہ ہے کہ قرض لینے والا یقینا قرض واپس کر دے گا یعنی قرض واپسی کی واثق امید ہو تو ایسی صورت میں اس قرض کی سالانہ اعتبار سے زکوۃ نکالنی ہوگی۔قرض کی دوسری صورت یہ ہے کہ اگر اس کی واپسی کی امید نہیں ہے تو ایسی صورت میں اس وقت قرض کی زکوۃ ادا نہیں کی جائے گی، جب قرض واپس مل جائے گا اس وقت تمام سالوں کی زکوۃ ادا کی جائے گی۔ چونکہ قرض اور زکوۃ کا معاملہ بیوہ سے جڑا ہوا ہے، اس بیوہ کو جب قرض واپس مل جائے، اس وقت اس بیوہ کی کیا صورت حال رہتی ہے اس کو بیان کرکے دوبارہ وہ اپنا مسئلہ اہل علم سے معلوم کرلے۔

سوال: کیا مرد چاندی کی انگوٹھی کے علاوہ چاندی کا براسلیٹ یا چین پہن سکتا ہے؟

جواب:مرد کا براسلیٹ، چین اور ہار وغیرہ پہننا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ چیزیں مردوں کے استعمال کی نہیں ہیں، عورتوں کی زینت ہیں اور مردوں کو عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اگر مرد ان چیزوں کو تعویذ کی صورت میں استعمال کرے تب یہ شرکیہ عمل ہوجائے گا۔

سوال: کیا وضو کے بعد چھینٹا مارنا ضروری ہے اور مجھے کبھی کبھی نماز میں پیشاب کے قطرے کا شک ہوتا رہتا ہے ، پتہ نہیں قطرہ نکلتا ہے یا نہیں مگر شبہ ہوتا ہے۔ ایسے میں کیا کیا جائے؟

جواب:یہ بات صحیح ہے کہ وضو کے بعد شرمگاہ پر چھینٹے مارنے کا حکم ہوا ہے، یہ اس شخص کے لئے ہے جس کو وضو کے بعد قطرہ نکلنے کا وسوسہ پیدا ہو یا اسی طرح نماز کے اندر قطرہ نکلنے کا وسوسہ پیدا ہو، دراصل یہ شیطانی وسوسہ ہے اور آدمی کو اپنے اس وسوسہ کو دور کرنے کے لیے وضو کے بعد شرمگاہ پر چھینٹے مار لینا چاہیے۔ اس بارے میں ایک دو حدیثیں ملاحظہ کریں پھر یہ مسئلہ آپ کو سمجھ میں آجائے گا۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کسی نے سوال کیاکہ میں نماز میں ہوتا ہوں تو شرمگاہ پرتری کا خیال پیدا ہوتا ہے تو آپ نے جواب دیا :
قاتل الله الشيطان إنه يمس ذكر الإنسان فى صلاته ؛ ليريه أنه قد أحدث ، فإذا توضأت فانضح فرجك بالماء فان وجدت قلت هو من الماء ففعل الرجل ذلك فذهب (مصنف عدالرزاق:583)

ترجمہ: اللہ شیطان کو غارت کرے کہ وہ نماز میں انسان کی شرم گاہ کو چھوتا ہے تاکہ اسے یہ خیال دلا سکے کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا ہے، جب تم وضو کرو تو اپنی شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے مار لیا کرو۔اس کے بعد اگرایسا خیال پائے تو یہ سمجھ لینا کہ یہ پانی ہے۔ اس آدمی نے ایسے ہی کیا تو یہ وسوسہ دورہوگیا۔

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا:

علَّمني جبرائيلُ الوضوءَ وأمرني أن أنضَحَ تحت ثوبي لما يخرُجُ من البولِ بعد الوضوءِ(صحيح ابن ماجه:380)

ترجمہ: جبرائیل علیہ السلام نے مجھے وضو سکھایا، اور مجھے اپنے کپڑے کے نیچے (شرمگاہ) پر چھینٹے مارنے کا حکم دیا کہ کہیں وضو کے بعد پیشاب کا کوئی قطرہ نہ آگیا ہو (تاکہ چھینٹے مارنے سے یہ شبہ زائل ہو جائے).

یہ چھینٹے نجاست دور کرنے کے مقصد سے نہیں ہیں بلکہ محض وسوسہ دور کرنے کے لئے اور وہ بھی صرف وسوسہ پیدا ہونے والوں کے لئے۔لہذاان احادیث کی روشنی میں آپ وضو کرنے کے بعد شرمگاہ پہ چھینٹے مار لیں ، اس کے بعد کسی طرح کے شک و شبہ پہ دھیان نہ دیں۔

سوال: اگر کوئی خاتون رمضان کے مہینے میں حالت احرام میں مکہ پہنچتی ہے جبکہ وہ حالت حیض میں بھی ہے دن کے کسی حصے میں اسے پاکی آجائے اور وہ غسل کر کے عمرہ کر لے جبکہ روزے کی حالت میں بھی وہ نہیں ہے تو کیا اس کو رمضان میں کئے گئے عمرے کا ثواب مل جائے گا یا رمضان میں عمرہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ روزے کی حالت میں بھی ہو؟

جواب:پہلی بات یہ ہے کہ عمرہ کی صحت کے لیے روزہ دار ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر کوئی رمضان میں بھی بغیر روزہ کے عمرہ کرتا ہے تو یقینا اسے عمرہ کا ثواب ملے گا بلکہ رمضان میں عمرہ کرنے کے سبب اسے حج کے برابر ثواب ملے گا۔بہت سے ضعیف و معذور لوگ بغیر روزہ کے بھی رمضان میں عمرہ کرتے ہیں، انہیں یقینا عمرہ کا ثواب ملے گا بلکہ رمضان میں مغرب سے لے کر فجر سے پہلے تک جتنے لوگ بھی عمرہ کرتے ہیں وہ سب بغیر روزہ کے ہی عمرہ کرتے ہیں اور یہ سارے عمرہ اپنی جگہ درست ہیں۔

سوال: ایک خاتون رمضان میں عمرہ پر جا رہی ہے، وہ دمام سے بہو اور بیٹے کے ساتھ سفر کرے گی۔ کیا وہ روزہ چھوڑ سکتی ہے اور کیا بغیر روزہ رکھے وہ عمرہ کرے تو اس کو رمضان میں عمرہ کا اجر و ثواب ملے گا یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا اجر؟

جواب:سفر میں روزہ چھوڑنے کی شریعت میں رخصت موجود ہے لہذا دمام سے مکہ کے لیے بغرض عمرہ سفر کرنے والی خاتون روزہ چھوڑنا چاہے تو اس میں حرج نہیں ہے۔ یہاں یہ بھی علم میں رہے کہ سفر میں اگر روزہ رکھنے کی آسانی ہو تو روزہ بھی رکھا جا سکتا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ عذر کی وجہ سے روزہ چھوڑنا جائز ہے اور ایسے آدمی کا عمرہ اپنی جگہ پر بالکل درست ہے اور اس کا رمضان میں کیا ہوا عمرہ حج کے برابر شمار ہوگا۔

سوال: سورہ توبہ کے شروع میں بسم اللہ نہیں پڑھنا ہے لیکن اگر بیچ میں کہیں سے شروع کریں تو اس وقت بسم اللہ پڑھ سکتے ہیں یا تب بھی نہیں پڑھنا ہے؟

جواب:قرآن کی تلاوت کے آداب میں سے یہ ہے کہ اگر آپ شروع سورت سے تلاوت کرتے ہیں تو تعوذ کے بعد بسم اللہ پڑھیں گے پھر اس کے بعد تلاوت شروع کریں گے لیکن اگر درمیان سورت سے پڑھتے ہیں تو تعوذ پڑھ کر ڈائریکٹ قرآن کی تلاوت شروع کر دیں گے۔ یہ مسئلہ سورہ انفال اور تمام سورتوں کے لیے برابر ہےتاہم اگر کوئی بسم اللہ بھی پڑھنا چاہے تو حرج نہیں ہے لیکن درمیان سورت سے تلاوت کرنے پر تعوذ پڑھنا کافی ہے، بسم اللہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

سوال: کیا تراویح پڑھنا ضروری ہے ، اگر کوئی نہ پڑھے تو اس کو گناہ ملے گا؟

جواب:تراویح ، صلاۃ اللیل ، قیام اللیل اور تہجد ایک ہی نماز کے مختلف نام ہیں۔ نماز نفل ہے اور پورے سال مشروع ہے۔ نہ یہ رمضان میں پڑھنا ضروری ہے اور نہ ہی دوسرے مہینوں میں پڑھنا ضروری ہے۔ہاں یہ بات ضرور ہے کہ رمضان میں قیام اللیل جسے تراویح بھی کہتے ہیں اس کا اجر و ثواب بہت زیادہ ہے اس وجہ سے رمضان میں تراویح کا اہتمام کرنا چاہیے لیکن اگر کوئی نہیں بھی پڑھے تو اس کو گناہ نہیں ہوگا۔ رمضان کچھ دنوں کے لیے آتا ہے اوریہ  عبادت کا مہینہ ہے، اس میں عبادت کرنے والا خوش نصیب اور عبادت سے غفلت برتنے والا بد نصیب انسان ہے۔

سوال: ایک غیرمسلم نے کئی لاکھ روپئے سود پہ قرض لیا تھا، اس کو اتارنے کی طاقت نہیں ہے۔ قرض دینے والا دھمکی دے رہا ہے کہ تمہاری ایک بیٹی اٹھالوں گا۔ کیا مسلمان ہونے کی حیثیت سے اس کی مدد کرسکتے ہیں، گردن آزاد کرانے میں  غیرمسلم کا کیا معاملہ ہے؟
جواب:یہاں پر ایک مسئلہ  خوب سمجھ لیں کہ زکوۃ صرف مسلمانوں کا حق ہے، یہ غیر مسلم کو نہیں دی جا سکتی ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ جس غیر مسلم کے ساتھ یہ مشکل پیش آئی ہے اس کو زکوۃ کے علاوہ دوسرے مال سے مدد کر سکتے ہیں یہاں تک کہ بینک سے ملنے والےاضافی پیسے یعنی  سود سے بھی مدد کر سکتے ہیں۔آخری بات یہ ہے کہ گردن آزاد کرنے کا مسئلہ اصل میں مسلمانوں سے متعلق ہے، لیکن اگر کوئی غیر مسلم بھی اس طرح کی صورتحال سے دوچار ہو تو اس کی مدد کرنا اس پر احسان اور اس کے ساتھ حسن سلوک ہے۔

سوال: میت کے گھر میں عورتیں جماعت بناکر عام نماز کی طرح امامت کروا کر نماز جنازہ ادا کرسکتی ہیں اور کیا  عورت اکیلی بھی پڑھ سکتی ہے، خواہ جنازہ گھر پر موجود ہو یا نہیں ہو؟

جواب:عورت اکیلی یا جماعت کی شکل میں میت کے گھر میں جمع ہوکر جنازے کی نماز ادا کر سکتی ہے، اس میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے تاہم نماز جنازے کے لیے میت کا وہاں موجود ہونا ضروری ہے۔ شریعت میں نماز جنازہ کی یہی ایک شکل ملتی ہے کہ میت کے پاس نماز جنازہ ادا کی جاتی ہے حتی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے جنازہ پڑھنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے میت مسجد میں طلب کیا۔ میت کے بغیر نماز جنازہ پڑھی جاتی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا مسجد میں میت طلب نہیں کرتیں۔

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔