Sunday, February 15, 2026

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(95)

 

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(95)

جواب از: شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ

جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ - سعودی عرب


سوال: کیا ابن رجب ؒ کی بات درست ہے،وہ کہتے ہیں:" وصداع الرأس من علامات أهل الإيمان وأهل الجنة" یعنی سر درد اہلِ ایمان اور اہلِ جنت کی علامات میں سے ہے؟

جواب:ابن رجب رحمہ اللہ کی یہ بات لوگوں کے درمیان کافی مشہور ہے اور دراصل یہ بات ایک حدیث سے کشید کی گئی ہے۔ اس حدیث کو اور دیگر نصوص کو سامنے رکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے وہ گناہوں کا کفارہ ہے اور مومن اور کافر کی زندگی میں فرق یہی ہے کہ مومن کی زندگی میں ابتلا اور آزمائش ہوتی ہے اور کافر کی زندگی میں آزمائش نہیں ہوتی، اصل اس حدیث کا یہ مفہوم ہے۔کلی طور پر یہ نہیں کہاجاسکتا ہے کہ جس کو سردرد ہے وہ جنتی ہے اور جس کو سردرد نہ ہو، وہ جہنمی ہے  بلکہ مفہوم یہ ہے کہ مومن کی زندگی سراپا آزمائش والی ہے اور کافر وں کی زندگی میں عموما آزمائش نہیں ہوتی۔

سوال: میں بچوں کی اصلاح و تربیت کے لئے کارٹون بنانا چاہتا ہوں اور اسی طرح لوگوں کے سوالوں کے جواب کے لئے انیمیشن طرز پر ویڈیوز بنانے کا ارادہ ہے، یہ میری کمائی کا ذریعہ بھی ہوگا۔ کیا اس طرح کا کام کرسکتے ہیں؟

جواب:جاندار کی تصویر سے ہٹ کر غیر جاندار تصاویر کے ذریعہ ویڈیو بنائی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اس سے ویڈیو بنانا اور اس سے کمائی کرنا حلال ہے بشرطیکہ اس ویڈیو میں غیرشرعی چیزیں نہ پیش کی جائیں۔جہاں تک مسئلہ ہے، جاندار کی تصویر بنانے کا خواہ کارٹون بنایا جائے یا جاندار کی تصویر سے انیمیشن تیار کیا جائے یہ شرعی طور پر جائز نہیں ہے۔ اس کا حکم وہی ہے جو تصویر بنانے کا حکم ہے خواہ تصویر کا جو بھی حصہ بنایا جائے، سر ہو، ہاتھ ہو یا جسم اور پیر وغیرہ ہو۔

سوال: آب زم زم کھڑے ہوکر پینا سنت ہے اور کیا یہ صرف حرم میں کھڑے ہوکر پینا ہے یا جو شخص جہاں رہتا ہو وہاں کھڑے ہوکر پینا ہے اور قبلہ رخ ہوکر؟ نیز کھڑے ہوکر قبلہ رخ ہوکر پینا آخر ایسا کیوں  ہےجبکہ قلبہ رخ تو عبادت کے لئے خاص ہے اور زم زم ایک پینے کی چیز ہے اگرچہ یہ عام پانی جیسا نہیں، اس کی فضلیت موجود ہے لیکن پانی بیٹھ کر پینے کی فضلیت آئی ہے پھر زم زم کو کھڑے ہوکر اور قبلہ رخ ہوکر پینے کی کیا وجہ ہے ؟

جواب: نہ زمزم کھڑے ہو کر پینا سنت ہے، نہ قبلہ کی طرف ہو کر پینا سنت ہے۔ سوال میں مذکور دونوں باتیں غلط ہیں۔ جب یہ دونوں باتیں غلط ہیں تو پھر اس کے بعد جو سوال کیا گیا ہے اس سوال کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا ہے۔زم زم  بھی ایک قسم کا پانی ہے، اس کو بھی اسی طرح سے پیا جائے گا جیسے عام پانی پیتے ہیں۔اس کے پینے کا کوئی خاص طریقہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے نہیں بتایا ہے۔

سوال:میری والدہ اپنے بیٹے کے پاس رہتی ہیں اور وہ روزے نہیں رکھ سکتی تو کیا وہ بیٹا اپنی والدہ کے روزوں کا فدیہ اپنی بہن یعنی ماں کی بیٹی کو دے سکتا ہے؟

جواب:اگر اس بھائی کی بہن ضرورت مند ہو یعنی مسکین اور محتاج میں شمار ہوتی ہو تو بھائی اپنی بہن کو ماں کے روزوں کا فدیہ دے سکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

سوال: کیا بغیر سحری کے روزہ رکھا جاسکتا ہے کیونکہ میں نے اپنے قضا روزے سارے زیادہ تر بغیر سحری کے رکھا ہے۔ میری آنکھ ہمیشہ فجر کی اذان کے بعد کھلتی ہے تو کیا بغیر سحری کھائے روزہ رکھا جاسکتا ہے؟

جواب:روزہ رکھنے کے لیے سحری کھانا مسنون ہے، سحری کھانے سے روزہ دار کو روزہ رکھنے میں طاقت و قوت ملتی ہے اور سحری میں برکت ہے۔ اگر کوئی آدمی بغیر سحری کھائے روزہ رکھ لیتا ہے تو اس کا روزہ اپنی جگہ درست ہے۔ روزہ میں اصل یہ ہے کہ آپ کو نیت کرنا پڑے گا، آپ نے نیت کر لی ہے تو بغیر سحری کے بھی روزہ رکھ سکتے ہیں۔

فرض اور قضا روزوں کی نیت فجر سے پہلے پہلے کرنا ضروری ہے اور نفل روزہ ہے تو فجر کے بعد بھی یعنی ظہر سے پہلے کسی وقت نفل روزہ کی نیت کر سکتے ہیں بشرطیکہ صبح صادق کے بعد سے روزہ کی نیت کرنے تک روزہ توڑنے والا کوئی کام نہ کیا گیاہو۔

سوال: ایک بیٹے نے اپنی والدہ کو گولڈ(سونا) دیا ہے۔ والدہ نے کہا کہ جب تک میری حیات ہے، میں اسے استعمال کروں گی ، میرے انتقال کے بعد آپ واپس لے لینا، سوال یہ ہے کہ اس سونے کی زکوۃ کس پر ہے؟

جواب: اس میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ اگر بیٹا اپنی ماں کو سونا گفٹ کرتا ہے تو یہ ماں کی ملکیت ہو جائے گی اس سونے پر بیٹے کا حق نہیں ہوگا۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر بیٹا اپنی ماں کو سونا رکھنے کے لیے دیتا ہے، ہدیہ اور تحفہ کی شکل میں نہیں دیتا ہے تو ایسی شکل میں یہ بیٹے کی امانت اس کی ماں کے پاس ہے۔ بیٹا جب چاہے اپنی ماں سے وہ چیز لے سکتا ہے۔ اور پھر ایسی صورت میں وہ سونے کی زکوۃ بیٹے کے ذمہ ہوگی۔

لیکن اگر بیٹا ماں کو سونا ہدیہ کی شکل میں دیتا ہے تو یہ ماں کی ملکیت ہوگی اس صورت میں اس کی زکوۃ ماں کو ادا کرنا ہے۔

سوال: فرض اور سنت نماز کے درمیان وقفہ کرنے کا کیا حکم ہے، کیا رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کو ملانے سے منع فرمایا ہے اور ان دونوں کے درمیان "کچھ بات کر لینے یا جگہ بدل لینے" کا حکم ہے؟

جواب:اصل یہ ہے کہ جس وقت آپ فرض نماز ادا کریں گے تو سنت نماز بھی فرض ادا کرنے کے وقت ہی ادا کریں گے کیونکہ یہ سنت اس فرض کے تابع ہے۔

فرض پڑھنے کے بعد سنت ادا کرنے سے پہلے کچھ تاخیر ہو جائے یا کسی سے بات کر لی جائے تو اس میں کوئی حرج اور کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں ہے یعنی فرض پڑھ کر سنت پڑھنے سے پہلے بات کرنے کی ممانعت نہیں ہے۔نیز فرض پڑھنے کے بعد سنت دوسری جگہ پڑھنا مستحب  ہے یعنی ایک جگہ آپ نے فرض پڑھا ہے تو سنت جگہ بدل کر پڑھنی چاہیے لیکن سنت بھی اسی جگہ پڑھ لیتے ہیں جہاں فرض پڑھے تھے تو اس میں بھی حرج نہیں ہے۔

سوال: ایک عمر دراز خاتون ہے جس کی دماغی حالت صحیح نہیں ہے۔ شوہر کا انتقال ہوا ہے، انہیں ذرا بھی ہوش تک نہیں ہے تو کیا ان پر عدت کے سارے احکام ادا کرنا ضروری ہے؟

جواب: ان کے اوپر بھی عدت گزارنا ہے البتہ یہ اپنے حسب حال عدت گزاریں یعنی جو استطاعت ہے اسی کے مطابق ان کے اوپر عدت کے ایام گزارنا ہے۔عدت کیا ہے، گھر میں رہنا ہے اور زینت کی چیزوں سے پرہیزکرنا ہے۔ اس معاملہ میں گھر کے لوگ بیوہ  کی مدد کریں۔

سوال: کیا بیوی کے والدین اور بہن بھائیوں کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے، اگران کو زکوٰۃ لگتی ہو تو کیا فطرانہ اور فدیہ بھی دیا جا سکتا ہے؟

جواب:ایک آدمی اپنی ساس اور سسر کو زکوۃ دے سکتا ہے اور اسی طرح اپنے بھائی اور بہن کو بھی زکوۃ دے سکتا ہے اور ان سب کو فطرانہ بھی دے سکتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ یہ لوگ محتاج اور ضرورت مند ہوں۔

سوال: کرایہ دار ایڈوانس کی رقم مالک مکان کے پاس ڈپازٹ کرواتا ہے اور اس ڈپازٹ کی رقم سے مالک مکان انویسٹمنٹ کر لے اور اس رقم سے جو پرافٹ ہوگا، کیا وہ رقم مالک مکان کے لئے حلال آمدنی ہوگی؟

جواب:ڈپازٹ کی جو رقم ہوتی ہے وہ امانت کی حیثیت سے ہوتی ہے، یہ پیسہ مکان مالک کے پاس محفوظ رہنا چاہیے۔ اس میں کسی طرح کا تصرف کرنا جائز نہیں ہے اور اس پیسے کو کاروبار میں لگا کر اس سے نفع کمانا بھی اس کے لیے جائز نہیں ہے۔

سوال: صحیح بخاری (242) میں ہے کہ پینے کی ہر وہ چیز جو نشہ لانے والی ہو حرام ہے۔ اس کی روشنی میں سوال ہے کہ آج کل اکثر دواؤں میں نشہ ہوتا ہے تو کیا ان دواؤں کا استعمال حرام ہے، اصل میں بچوں کا ختنہ ہوتا ہے تو درد زیادہ ہوتا ہے، اس میں ڈاکٹر اس قسم کی دوائی دیتے ہیں، کیا اس صورت میں جائز ہے یا اس کے متبادل کیا کیا جائے؟

جواب:ہر وہ دوا جس میں نشہ آور مادہ ملا ہوا ہو اس کا استعمال کرنا جائز نہیں ہے خواہ قلیل مقدار میں ہو یا کثیر مقدار میں ہو۔ نبی ﷺ نے حرام چیزوں سے علاج کرنے سے منع فرمایا ہے،نبی ﷺ کا فرمان ہے :

إنَّ اللهَ تعالى خلق الدَّاءَ و الدَّواءَ ، فتداووْا ، و لا تتداووْا بحَرامٍ(صحيح الجامع:1662)

ترجمہ: بے شک اللہ تعالی نے بیماری اور علاج دونوں پیدا کیا ہے پس تم لوگ علاج کرو اور حرام چیزوں سے علاج نہ کرو۔

ختنہ میں استعمال ہونے والی دوا جس کو زخم پر لگایا جائے، اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ یہاں پر دوا کو خارجی طور پر استعمال کرنا ہے۔ وہ نشہ آور دوا جو حلق کے ذریعہ نیچے اتاری جائے اس کا استعمال ممنوع ہے کیونکہ اس سے عقل میں فتور پیدا ہوتا ہے۔اور کسی بیماری کی ایسی دوا جس کے اندر کچھ نشہ کا مادہ ہو اور اس دوا کا کوئی بدل بھی موجود نہ ہو تو اضطراری صورت میں اس دوا کا استعمال جائز ہوگا۔

سوال: کیا مرد سرخ رنگ کا اور زرد یعنی پیلے رنگ کا لباس پہن سکتا ہے؟

جواب:مردوں کے لئے خالص لال رنگ کا کپڑا اور زعفرانی کپڑا منع ہے، لال رنگ میں مکس کرکے کپڑے کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔

علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کے چھلوں، ریشمی کپڑوں، سرخ زین، جَو اور گیہوں کے شراب سے منع فرمایا۔(سنن نسائي:5171)

انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی مرد زعفران کے رنگ کا استعمال کرے۔ (صحيح البخاري:5846)

سوال: اگر میں نے اللہ تعالی سے یہ عہد کیا کہ میں فلاں غلط کام نہیں کروں گی، اگر کیا تو اپنی محبوب چیز صدقہ کر دوں گی لیکن انسان کا نفس غالب آجائے اور وہ کام کر بیٹھے تو کیا اپنا عہد میں واپس لے سکتی ہوں یعنی عہد کو قسم کے معنوں میں لے کر اس کا کفارہ دے سکتی ہوں؟

جواب:جس چیز کے لیے نذر مانی گئی اس کا پورا کرنا ہرحال میں ضروری ہے اس وجہ سے جس نے یہ نیت کی کہ فلاں کام نہ کرنے کی وجہ سے کوئی محبوب چیز قربان کرے گی اور اس نے وہ کام کر لیا تو اس کے ذمہ اس چیز کی قربانی ضرور ی ہے جس کی نیت کی گئی ہے، اس کو بدلا نہیں جائے گا۔اللہ کا فرمان ہے: "وليوفوا نذورهم" یعنی وہ اپنی نذروں کو(واجبی طورپر) پورا کریں۔

سوال: ایک دینی پروگرام کے بارے میں شرعی رہنمائی درکار ہے: ایک آن لائن ادارہ نبی کریم ﷺ کی سنتوں پر عمل کی ترغیب کے لیے روزانہ حدیث کی بنیاد پر چھوٹے بڑے سب کے لئے چند عملی ٹاسک مقرر کرتا ہے جیسے سلام کہنا، آسان اذکار پڑھنا یا کسی سادہ سنت پر عمل کرنا۔یہ چودہ دنوں پر مشتمل پروگرام ہے، اس میں روزانہ بائیس گھنٹے کے درمیان پوچھے گئے اعمال کے بارے میں مثبت یا منفی طور پر جواب دینا ہے اور لوگوں کی حوصلہ افزائی کے لیےروزانہ کے طورپردولوگوں کے لئے انعامات بھی رکھا گیا ہے بلکہ پورے چودہ دنوں میں حصہ لینے والوں کے درمیان بھی کچھ لوگوں کو قرعہ اندازی سے انعام دیا جائے گا۔کیا اس طرح ٹاسک اور انعامات کے ذریعہ سنتوں پر عمل کی ترغیب دینا شرعاً درست ہے اور اگر کوئی شخص ابتداء میں انعام کی نیت سے ان سنتوں پر عمل کرے تو کیا اسے شرعی اجر حاصل ہوگا یا پھر مسابقہ میں شرکت کس طرح کی جا سکتی ہے؟

جواب:یہ چودہ دن کا انعامی ٹاسک ہے، ان چودہ دنوں میں ہر روز 22 گھنٹے کے اندر ٹاسک کا جواب دینا ہے، ٹاسک روزانہ کے دینی عمل یعنی مومن کے شب و روز کے عمل سے متعلق ہے۔ اس میں چھوٹے بڑے گھر کے سبھی لوگ شامل ہوسکتے ہیں، پھر اپنے دینی عمل کی بنیاد پر شامل ہونے والوں کوانعام دیا جائے گا۔

اس طرح کا انعامی ٹاسک دینا جائز نہیں ہے اور اس قسم کے انعامی ٹاسک میں شامل ہونا بھی جائز نہیں ہے کیونکہ یہ خالص مومن کے ذاتی عمل سے متعلق ہے، یہاں پر آدمی انعام کے لالچ میں نیک کام کرے گا، اس نیکی کا فائدہ نہیں ہوگا بلکہ وہ نیکی ریاکاری میں داخل ہوگی کیونکہ کسی کو اپنی نیکی کے بارے میں بتانا ہوگا اور یہ انعام کے لالچ میں بھی ہوگا، نہ کہ اللہ کی رضا کے لئے۔اس میں کسی کو حصہ نہیں لینا چاہئے بلکہ شریک ہونے والوں کو منع کرنا چاہئے اور جو یہ کام کروارہا ہے اس کو بھی اس سے منع کرنا چاہئے اور کوئی بہتر کام کرنے کا مشورہ دینا چاہئے۔

سوال: ایک عورت بچے کو دودھ پلانے کی وجہ سے حمل کو روکنے والی دوا استعمال کررہی ہے۔ کبھی کبھی روزانہ استعمال والی دوا بھول جانے پر وہ ایمرجنسی پل(emergency pill) لیتی ہے۔ اس کا سوال ہے کہ اس طرح ایمرجنسی پل لینا صحیح ہے؟

جواب:اس میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ جب مصلحت اور ضرورت پڑے تو مانع حمل گولی کا استعمال کرنا جائز ہے اور رضاعت کے وقت بھی بچے کو صحیح سے دودھ پلانے اور اچھی پرورش کی نیت سے مانع حمل گولی استعمال کی جاسکتی ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ جماع کے بعد ایمرجنسی مانع حمل گولی کھانا جائز ہے کیونکہ یہ گولی حمل ساقط کرنے والی نہیں ہے، اس کے کھانے سے جنین کا قتل نہیں مانا جائے گا۔ میرے علم کے مطابق اس گولی میں یہ خصوصیت ہے کہ بیضے کو بارآور ہونے سے روکے یا اس میں رکاوٹ پیدا کرسکے نیز نطفے کو ملنے سے روکنے کے ساتھ اگر بارآوری ہوچکی ہو تو اسے رحم میں چپکنے سے بھی روکتی ہے۔

اگر مسئلہ یہ ہو کہ ایمرجنسی مانع حمل گولی میں بارآور بیضے کو رحم میں چپکنے سے روکنے کی صلاحیت ہو تو اس قسم کی گولی سے پرہیز اولی ہے، گوکہ یہ ہنگامی اور کبھی کبھار کھانے والی ہی دوا ہے۔ بیضہ بارآور ہوجانے کے بعد وہ رحم سے چپکتا ہے اور حمل ٹھہرتا ہے۔

سوال: ایک بہن کا بائی پاس ہے، وہ صدقہ دینا چاہتی ہے یعنی ایک بکرا جان کے بدلے جان تو کیا یہ عمل حدیث کی روشنی میں صحیح ہے یا پھر بکرے کی قیمت صدقہ کرے اور بکرے کی قیمت دو مستحقین کو دے سکتے ہیں؟

جواب:صدقہ میں بکرا بھی دے سکتے ہیں لیکن یہ کہنا کہ جان کے بدلے جان دینا چاہیے ،درست بات نہیں ہے۔ بہتر یہ ہے کہ بکرے کی قیمت فقراء و مساکین میں تقسیم کر دی جائے اس سے غریبوں کو زیادہ فائدہ ہوگا۔بکرے کی قیمت دو آدمی کو دیں یا دو سے زیادہ آدمی کو دیں یا ایک  ہی آدمی کو دیں اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔

سوال: ایک خاتون کے  شوہر کام کاج نہیں کرتے ہیں۔ کبھی کر لیا کبھی نہ کیا۔ چھ ماہ سال تک فارغ رہتے ہیں۔ کبھی کوئی کام ملے تو کر لیتے ہیں وگرنہ نہیں ( انکے والدین بھی وفات پا چکے اور اولاد بھی نہیں ہے دونوں میاں بیوی ہی ہوتے ہیں)، اس کا پوچھنا ہے کہ کیا وہ صدقہ لے سکتی ہے  یا زکوٰۃ وغیرہ کی رقم استعمال کر سکتی ہے؟

جواب:مرد بیمار ہو، کمزور ہو یا کام کرنے کی طاقت نہ ہو تو یہ ایک مجبوری ہے اس کی وجہ سے آدمی صدقہ و خیرات لے سکتا ہے مگر جب مرد طاقتور ہو، کما کر کھانے کی اس میں صلاحیت ہو تو ایسے مرد کو کما کر کھانا چاہیے اور کماکراپنے مال سے  اپنے گھر والوں کی کفالت کرنی چاہیے۔
کام کرنے والوں کے لیے دنیا بڑی ہے اور کام نہ کرنے والوں کے لیے دنیا چھوٹی لگتی ہے۔سوال سے متعلق یہ بنیادی مسئلہ ہے۔

 دوسری بات یہ ہے کہ جب تک اس خاتون کے ساتھ کھانے پینے میں اور بنیادی ضروریات کی تکمیل میں دشواری ہو تو اپنی ضرورت کی تکمیل کے لیے صدقہ اور زکوۃ لے سکتی ہے، ساتھ ساتھ وہ یہ بھی کوشش کرے کہ اگر اس کا شوہر کمانے کی طاقت رکھتا ہے تو اسے کمانے کے لیے مجبور کرے کیونکہ طاقت رکھنے والوں کے لیے زکوۃ کھانا جائز نہیں ہے۔

سوال: کیا یا ذو الجلال والاکرام پڑھنے کی فضیلت ہے یعنی اس کلمے کو پڑھ سکتے ہیں؟

جواب:امام ترمذی رحمہ اللہ نے کتاب الدعوات یعنی مسنون دعاؤں کے باب میں "ياذا الجلال والإكرام" سے متعلق ایک حدیث ذکر کی ہے۔انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"أَلِظُّوا بِيَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ" یعنی "يا ذا الجلال والإكرام" کو لازم پکڑو یعنی اپنی دعاؤں میں برابر پڑھتے رہا کرو۔حوالہ: سنن ترمذی : 3525، اسے شیخ البانی ؒ نے صحیح قرار دیا ہے۔

اس حدیث کی روشنی میں آدمی اپنی دعاؤں میں کثرت سے "ياذا الجلال والإكرام" پڑھ سکتا ہے۔

اس جگہ یہ بھی بیان کرنا مناسب ہوگا کہ بدعتی لوگ خاص حاجت کے لئے اس وظیفہ کو مخصوص طور پر پڑھتے ہیں بلکہ تعداد متعین کرکے پڑھتے ہیں، یہ عمل درست نہیں ہے۔ ہمیں کثرت سے دعاؤں میں اس کا ذکر کرنا چاہئے۔

سوال: ایک شہر میں کسی عالمہ کو مدعو کیا گیا ہے، وہاں پر ہال بک کیا گیا ہے جس کے کرایہ کے لئے صدقہ اور زکوۃ کی مد سے بھی لوگ رقم دے رہے ہیں۔ کیا اشاعت دین کے لئے زکوۃ دینا صحیح ہے؟

جواب:صدقہ و خیرات کی رقم اس میں لگاسکتے ہیں مگر اس میں زکوۃ کی رقم نہیں لگانا چاہئے کیونکہ صدقہ میں تو وسعت ہے مگر زکوۃ صرف آٹھ مصارف میں صرف کرنا ہے، آٹھ مصارف میں دینی پروگرام یا جلسہ یا اس کے لئے ہال بک کرنا شامل نہیں ہے۔

سوال: میری بھانجی عمرہ  ویزہ پر دمام آرہی ہے، اپنے شوہر کے پاس تو کیا انڈیا سے ہی احرام باندھنا ضروری ہے۔ ایک سالہ بیٹا ساتھ میں ہے، وہ کچھ دنوں بعد عمرہ کرنا چاہتی ہے، اس بارے میں رہنمائی فرمائیں؟

جواب:جو خاتون انڈیا سے اپنے شوہر کے پاس دمام آرہی ہے، اس کے لئے ایک ضروری کام یہ ہے کہ وہ محرم کے ساتھ سفر کرے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اس کو انڈیا سے احرام باندھنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ جب دمام آئے گی تو میقات سے باہر ہی رہے گی، میقات کے اندر داخل ہونے کا مسئلہ نہیں ہے۔

وہ انڈیا سے بغیر احرام کے دمام آجائے، پھر جب عمرہ کرنا ہو، دمام سے طائف کے راستے عمرہ کرے گی، اس کو طائف کی میقات قرن المنازل پر احرام باندھنا ہے، اس سے پہلے احرام باندھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

سوال: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ھم زلف تھے اور تھے تو کس ام المومنین کے رشتے سے ہیں اور معاویہ رضی اللہ عنہ کی زوجہ کا نام بھی بتا دیں؟

جواب:حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے برادر نسبتی ہیں، ہم زلف نہیں ہیں۔ امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کی باپ شریک (علاتی بہن) ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ، نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ ہیں۔

امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے والد ابوسفیان رضی اللہ عنہ ہیں مگر ان دونوں کی مائیں الگ الگ ہیں۔

امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا نام ہندہ رضی اللہ عنہا ہے جبکہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان کی والدہ صفیہ بنت ابوالعاص ہیں۔

امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کی بیوی کا نام میسون بنتِ بحدل ہے۔

سوال: ایک سال پہلے ایک خاتون کا نکاح ہوا تھا مگر رخصتی نہیں ہوئی تھی، ابھی اس کے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے تو عورت پر عدت گزارنا ضروری ہے؟

جواب:جب شرعی طور پر نکاح ہوا ہو اور رخصتی نہ بھی ہوئی ہو تب بھی شوہر کے انتقال پر بیوی کو عدت گزارنا لازم ہے کیونکہ وہ شرعی طور پر میت کی بیوی ہے۔ وہ لازمی طور پر چار ماہ دس دن عدت گزارے۔

سوال: ایک ساٹھ سالہ خاتون ہے ، اس کا ابھی تک عقیقہ نہیں ہوا ہے۔ کیا وہ اپنا عقیقہ کرسکتی ہے؟

جواب:ساٹھ سالہ خاتون جس کا ابھی تک عقیقہ نہیں ہوا ہے، وہ اپنا عقیقہ کرنا چاہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ وہ اپنا عقیقہ کرسکتی ہے۔ بڑی عمر میں بھی عقیقہ کیا جاسکتا ہے۔

سوال:اگر کسی بچے کی ماں مر جائے تو وہ یتیم کہلاتا ہے یا صرف جن بچوں کے باپ فوت ہو جائیں ان کو ہم یتیم کہتے ہیں؟

جواب:ماں کے مرنے سے بچہ یتیم نہیں کہلائے گا ، صرف باپ کے مرنے سے بچہ یتیم کہلائے گا، وہ بھی جب بچہ بالغ نہ ہوا ہو۔ بلوغت کے بعد یتیمی ختم ہوجاتی ہے۔

سوال: اگر ایک بڑی بالٹی میں ایک دو قطرہ پیشاب گرجائے ، اور نہ رنگ بدلے، نہ بو بدلے اور نہ مزہ بدلے تو ایسی صورت میں کیا پانی ناپاک نہیں ہوگا؟

جواب:پانی میں نجاست گرنے سے متعلق قاعدہ یہی ہے کہ اگر نجاست گرنے سے پانی کا نہ رنگ بدلے، نہ مزہ بدلے اور نہ اس سے بو آئے تو وہ پانی پاک ہے خواہ وہ پانی کم ہو یا زیادہ ہو۔تاہم اگر کسی نے اپنی آنکھوں سے یہ دیکھا ہو کہ ایک بالٹی پانی میں قطرہ دو قطرہ پیشاب گرا ہے مگر پانی کا رنگ، بو اور مزہ میں سے کچھ نہیں بدلا پھر بھی احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ اس پانی کو انڈیل دیا جائے اور دوسرے پانی سے طہارت حاصل کی جائے۔

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔