Sunday, February 15, 2026

(94)آپ کے سوالات اور ان کے جواب

 (94)آپ کے سوالات اور ان کے جواب

جواب از: شیخ مقبول احمد سلفی حفطہ اللہ

جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ- سعودی عرب


سوال: شوہر اور سسرال والوں نے مجھے گھر سے نکال دیا ہے۔ شوہر دوسرے شہر میں ہوتا ہے، اس کی کمائی نہیں ہے۔ نئی دکان ہے مگر کام نہیں چل رہا ہے۔ میں اپنے ابو کے پاس رہتی ہوں، میری ایک ہی بیٹی ہے۔ ابو صبح کام پر جاتے ہیں اور رات کو دس بجے آتے ہیں۔ ابو روزمرہ کی ہرچیز لے دیتے ہیں لیکن میں عورت ہوں، کچھ ایسی ذاتی چیزیں ہیں جو میں ابو کو بتا کے نہیں لے سکتی، جب ان کے لیے ابو سے پیسے مانگتی ہوں، ابو کے پاس پیسے ہوتے ہیں لیکن وہ پوچھنے لگ جاتے ہیں کہ کیا لینا ہے۔ نہ بتا سکوں تو وہ پیسے نہیں دیتے ہیں۔ سوال ہے کہ ان کے پیسے پڑے ہوں تو میں چپ کر کے اٹھا لوں، ان کو نہ بتاؤں تو کیا میں چوری تو نہیں کر رہی ہوں؟

جواب: آپ کو اپنے ذہن میں یہ بات ہمیشہ رکھنی چاہیے کہ اس وقت اس کی کفالت کرنے والا اور نگراں آپ کے والد ہیں لہذا آپ جو کچھ بھی کریں، اپنے والد سے پوچھ کر اور ان کی اجازت سے کریں جیسے کہیں باہر جانا ہو یا کسی معاملے میں اجازت طلب کرنی ہو۔

دوسری بات یہ ہے کہ بغیر بتائے پیسہ لینا چوری ہی ہے اس لئے والد کی اجازت یا ان کی اطلاع کے بغیر پیسہ لینا درست نہیں ہے، اس طرح کرنے سے کبھی آپ پکڑی بھی جاسکتی ہیں اور جب آپ کے والد کو پتہ چل جائے کہ میری بیٹی پیسہ چوراتی ہے پھر آپ اپنے والد کی نظر سے گر جائیں گی، مزید برآں اس کے بعد کا مرحلہ آپ کے لیے تکلیف دے بھی ہو سکتا ہے اور ممکن ہے کہ تکلیف دہ طعنے بھی سننا پڑے۔

والد کی اجازت یا ان کی اطلاع کے بغیر ان کا پیسہ لینے سے بہتر ہے کہ آپ اپنے والد کو وہ چیز بتا دیں جس کے لیے پیسہ مانگ رہی ہیں، والد آپ کا اپنا ہے اور محرم ہے ان کو کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

یاد رہے کہ شادی کے بعد عورت کی زندگی شوہر کے ساتھ گزرنی چاہیے مگر ایک باپ شادی شدہ بیٹی کی کفالت کر رہا ہے، یہ بہت بڑی بات ہے اس لیے آپ کو اس بات کا احساس ہمیشہ رہنا چاہیے بلکہ اگر کوئی عزت والی نوکری کرنا ممکن ہو تو اس کے لئے کوشش کریں مگر شرط یہ ہے کہ والد کی اجازت ہو اگر وہ روک دیں تو پھر قدم نہ بڑھائیں۔

سوال:حاملہ عورت کو دورانِ حمل جو سفید پانی آتا ہے، اس کا کیا حکم ہے، کیا وہ پاک ہے یا ناپاک ہے؟

جواب:عورت کی شرمگاہ سے سفید قسم کی جو رطوبت خارج ہوتی رہتی ہے، یہ حمل کے دوران ہو یا حمل کے علاوہ دیگر ایام میں ہو اس کا حکم پاکی کا ہے یعنی یہ کپڑے پر لگ جائے تو اسے دھلنے کی ضرورت نہیں تاہم اس کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، نماز کے وقت وضو کرنے کی ضرورت پڑے گی۔

سوال:اگر کسی عورت سے رمضان کا روزہ چھوٹ گیا ہو اور بعد میں وہ روزہ کی قضاء نہیں کر پائی حمل اور بچے کی ولادت کی وجہ سے اور دو سال گزر گیا ہو۔ اب اگر وہ چھوٹے روزوں کی قضاء کرے گی تو اس کے ساتھ ایک مسکین کو کھانا بھی کھلانا ہوگا یا صرف روزہ رکھ لینا کافی ہوگا؟

جواب:عورت کو صرف چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرنی ہے، فدیہ دینے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ شریعت میں ایسی کوئی دلیل نہیں ہے کہ تاخیر سے روزہ قضا کرنے پر قضا کے ساتھ فدیہ بھی دینا ہے۔ اس سلسلے میں بعض علماء کے اقوال ملتے ہیں کہ روزوں کی قضا میں تاخیر ہو تو فدیہ بھی دے لیکن یہ غیر مرجوح قول ہے۔ صحیح اور درست بات یہی ہے کہ چھوٹے ہوئے روزوں کی فقط قضا کرنی ہے، فدیہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

سوال: کیا تحیۃ الوضوء والی نماز ممنوعہ اوقات میں بھی پڑھ سکتے ہیں جیسے فجر اور عصر کے بعد یا غروب آفتاب کے وقت؟

جواب: وضو کی سنت اسباب والی نمازوں میں سے ہے، یہ نماز دن و رات میں کبھی بھی اور کسی وقت پڑھ سکتے ہیں یعنی فجر کے بعد بھی، عصر کے بعد بھی اور غروب شمس کے وقت بھی۔ جیسے طواف کعبہ کے بعد دوگانہ کسی بھی وقت ادا کرسکتے ہیں۔

سوال: ہمارے بعض رشتہ دار بھنگار کا کاروبار کرتے ہیں اور اس بات کا اعتراف بھی کرتے ہیں کہ بنا جھوٹ بولے نفع حاصل نہیں کرسکتے ہیں تو کیا اس کا ہدیہ یا کھانا درست ہوگا؟

جواب:بھنگار کا کاروبار کرنا جائز ہے تاہم کاروباری کو امین اور سچا آدمی بن کر تجارت کرنا چاہئے، اس سے تجارت میں برکت ہوتی ہے۔ جب کوئی کاروبار میں جھوٹ بولتا ہے، دھوکہ دیتا ہے اور قسم کھاکر بیع کرتا ہے تو اس سے مال کی برکت اٹھالی لی جاتی ہے۔

جہاں تک سوال ہے کہ بھنگار والا جھوٹ بول کر نفع کماتا ہے، تو یہ اس کا عمل درست نہیں ہے۔ اس کو اس کی غلطی پر تنبیہ کرنا چاہئے۔ دعوت کھانے کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کی دعوت یا ہدیہ قبول کرسکتے ہیں کیونکہ کاروبار اپنی جگہ درست ہے۔

سوال: قرآن میں اللہ تعالی نے یتیم کے ساتھ رحم کرنے کا حکم دیا ہے۔ ایک عورت اپنے شوہر (جو یتیم ہے) کے ساتھ نرمی کرتی ہے اور شوہر کی ہر کوتاہی برداشت کرتی ہے مگر شوہر اپنی بیوی کی کوئی ضرورت پوری نہیں کرتا نہ مالی، نہ وقت دیتا، نہ ہی بیوی سے تعلق قائم کرتا، زیادہ سوتا رہتا، ناپاک رہتا اور نماز بھی قائم نہیں کرتا، بیوی ان سب باتوں سے پریشان ہے مگر یتیم سمجھ کر برداشت کرتی ہے۔کیا بیوی طلاق لے لے کیوں کہ اس کے شوہر سے بیوی کو کچھ حاصل نہیں بلکہ مزید بوجھ اور خرچ میں اضافہ ہے؟

جواب:کوئی شوہر یتیم نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ یتیمی کا تعلق عدم بلوغت سے ہے۔ وہ بچہ یتیم کہلائے گا جس کا باپ اس کی بلوغت سے پہلے وفات پاجائے مگر جب وہ بالغ ہوجائے اور اس کا باپ وفات پائے یا باپ پہلے وفات پا گیا ہو تو بلوغت کے بعد وہ اب یتیم نہیں کہلائے گا۔ اس لئے سائلہ نے جس کو یتیم سمجھا ہے وہ یتیم نہیں ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ ایک بیوی کو اپنے شوہر سے مختلف قسم کی شکایت ہیں اور ایسی شکایات بھی ہیں جن کی وجہ سے اس سے الگ ہونے کا جواز فراہم ہوتا ہے لہذا بیوی اگر ایسے شوہر سے طلاق یا خلع کے ذریعہ الگ ہونا چاہے تو الگ ہوسکتی ہے کیونکہ جو صورت بیان کی گئی ہے اس میں مرد میں خیر نہیں ہے۔ باقی اس شوہر کو یتیم نہیں سمجھنا ہے۔

سوال:اگر کسی کاروبار میں ہم پیسہ لگاتے ہیں، سال کا کنٹریکٹ ہے اور اس پہ ہر مہینہ نفع اور نقصان کے ساتھ پیسہ ملتا ہے مگر سال کے بعد جو پیسہ لگایا تھا وہ پورا کا پورا مل جاتا ہے تو اس میں سود تو نہیں ہوگا؟

جواب: کسی کاروبار میں پیسہ لگانے سے پہلے یقینی طور پر یہ جاننا ضروری ہے کہ حلال چیزوں کا کاروبار ہے کہ نہیں اور کاروبار جائز طریقے پر کیا جارہا ہے کہ نہیں؟

اگر حلال چیزوں کا کاروبار ہے اور کاروبار کرنے کا طریقہ بھی جائز ہے تو اس میں نفع و نقصان کی بنیاد پر انویسٹ کرسکتے ہیں۔ منافع فکس رقم کی صورت میں نہ ملے بلکہ فیصد کے اعتبار سے ملے۔

اس طرح سے انویسٹ کرتے ہیں تو صحیح ہے، اس کے خلاف ہے تو انویسٹ کرنا صحیح نہیں ہے۔

سوال: رات کو احتلام ہو جائے اور فجر کی نماز میں وقت کم ہو تو پہلے غسل کریں یا نماز پڑھیں گے؟

جواب:آپ پہلے غسل کریں گے پھر فجر کی نماز ادا کریں گے چاہے وقت کم ہو یا زیادہ ہو کیونکہ بغیر پاکی کے نماز نہیں ہوگی۔ نماز کے لئے پاک صاف ہونا شرط اول ہے۔

سوال: آدمی کے فوت ہونے کے بعد اس نیت سے وارثوں میں وراثت تقسیم نہ کرنا کہ شاید کوئی ادھار مانگنے والا نہ آجائے تو کیا کچھ مہینے انتظار کرلینا جائز ہے اور اگر اسی دوران وارث فوت ہوجائے تو کیا وبال ہوگا کیونکہ اسے حصہ نہیں دیا تھا جبکہ نیت دینے کی تھی؟

جواب: یہاں پر ایک مسئلہ یہ جاننا ضروری ہے کہ جب کوئی فوت ہوجائے تو وراثت کی تقسیم میں دیر نہیں کرنا ہے، سوال میں جو وجہ بیان کی گئی ہے اس وجہ سے بھی تاخیر نہیں کرنا ہے۔ میت کے حق سے متعلق جنازہ پر ہی بات واضح ہوجاتی ہے بلکہ کسی کا حق بھی ہوتا ہے تو وہ اس وقت معاف کردیتا ہے، نیز میت کے گھر والوں میں سے کسی کے علم میں میت کے ذمہ کوئی قرض نہ ہو تو پھر وراثت کی تقسیم میں کوئی دیر نہیں کی جائے گی۔


بہرکیف! اگر گھروالوں نے کسی مصلحت کے تئیں وراثت کی تقسیم میں تاخیر کی اور اس دوران کوئی وارث وفات پاگیا تو اس میں کسی کو گناہ نہیں ہوگا بشرطیکہ کسی نے جان بوجھ کر غلطی نہ کی ہو۔ ساتھ ہی جب وراثت تقسیم ہوگی تو اس وارث کا بھی حصہ نکلے گا پھر اس کا حصہ اس کے وارثوں میں تقسیم ہوگا۔

سواال: ایک بہن کے پاس آٹھ تولہ سونے کی رقم بنک میں جمع ہے اور یہ رقم بیٹی کو شرعی حق دینے کے لیے رکھی ہے۔ اس کا سوال ہے کہ اس رقم کی زکوۃ ہر سال جس کی رقم ہے اس کو ادا کرنا ہے یا جس کو شرعی حق دینا ہے، اس کو ادا کرنا ہے؟

جواب:سوال میں مذکور ہے کہ بیٹی کو شرعی حق دیا جائے گا، یہاں شرعی حق سے کیا مراد ہے؟ کیا اس سے مراد بیٹی کو شادی پہ زیورات دینا ہے؟

خیر! جو بھی صورت ہو، اس مسئلے کا جواب یہ ہے کہ ابھی جس کی ملکیت میں سونا کی رقم ہے اس کے ذمہ زکوۃ ہے یعنی اس سونے یا اس کی رقم کا مالک ماں ہے تو اس کی زکوۃ بھی ماں ہی ادا کرے گی۔ جب اس سونے یا رقم کا مالک بیٹی بن جائے تو اس وقت بیٹی کے ذمہ زکوۃ ہوگی۔

سوال: خنزیر اگر کسی برتن میں منہ ڈال دیا تو اس برتن کے استعمال کا کیا حکم ہے؟

جواب:کسی برتن میں خنزیر منہ ڈال دے تو اس کو پانی سے دھو کر صاف کردیا جائے جیسے عام نجاست کو زائل کرتے ہیں۔ ایک بار میں صاف ہوجائے یا ایک بار سے زائد مرتبہ پانی سے دھلنا پڑے، اس میں تعداد کی کوئی قید نہیں ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ جتنی بار میں صاف ہوجائے، برتن صاف کیا جائے، پھر اس برتن کو استعمال کر سکتے ہیں۔

بعض علماء نے خنزیر کو کتے پر قیاس کیا ہے اور کہا ہے کہ خنزیر کا جھوٹا سات مرتبہ صاف کیا جائے گا، آخری مرتبہ مٹی سے مگر یہ حکم کتے کے لئے آیا ہے ، یہ خنزیر کے لئے دلیل نہیں ہے اس وجہ سے عام نجاست کی طرح خنزیر کا جھوٹا پاک کیا جائے گا۔

سوال:جده كا مقيم جب ملک سے باہر جائے اور جب واپس آکر مکہ جانا ہو تو عمرہ ہی کرتے ہیں اس خیال سے کہ ہم میقات سے باہر گئے تھے- ایک بہن پاکستان سے دو ماہ بعد واپس آئی اور بغیر احرام کے مکہ گئی۔ اس کا کہنا ہے کہ مکہ میں عمرہ پر آئے ہوئے مہمان سے ملنا تھا، بعد میں کسی دن جاکر عمرہ کر لوں گی۔ کیا یہ درست ہے؟

جواب:جب کوئی مکہ یا جدہ یا کسی اور جگہ میقات کے اندر موجود ہے۔ جب وہ میقات سے باہر جائے تو واپس لوٹنے پر اس کے لیے احرام باندھنا اور عمرہ کرنا ضروری نہیں ہے۔ میقات پر احرام باندھنا تو اس کے لئے ہے جو عمرہ کا ارادہ کرے۔

اصل میں عوامی طور پر یہ بات مشہور ہوگئی ہے کہ میقات کے اندر رہنے والا جب میقات سے باہر جائے تو واپسی پر میقات سے احرام باندھنا ضروری ہے حالانکہ یہ بات غلط ہے۔ ایک غلط بات عوام میں مشہور ہوگئی ہے۔ لوگوں کو بتانے کی ضرورت ہے کہ اس بات کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

جدہ میں رہنے والی خاتون اپنے ملک گئی اور پھر اپنے ملک سے واپس آئی حتی کہ وہ بغیر احرام کے لوگوں سے ملنے مکہ گئی، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس کے اوپر احرام باندھنے کی کوئی پابندی نہیں تھی۔

سوال:اگر نکاح کے وقت ولی اپنی ولایت کسی اور کو دے دے یعنی کسی اور کو ولی بنا دے، چاہے وہ ولی اس لڑکی کا محرم ہو جیسے مامو وغیرہ یا غیر محرم ہو تو کیا یہ صحیح ہے؟ اور دولہے کو نکاح کے وقت گھوڑی پر بٹھانا یا سہرا باندھنا جو اپنے سماج میں ہوتا ہے، جائز ہے؟

جواب: ولی کسی صالح اور امین آدمی کو ولایت کا وکیل بنا سکتا ہے، اس میں حرج نہیں ہے خواہ وہ محرم ہو یا غیرمحرم۔ شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ کیا ولی کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی زیرِ ولایت عورت کے نکاح کے لیے کسی اور کو اپنا نائب مقرر کر دے، جبکہ وہ خود موجود ہو، مثلاً ماموں کو؟

شیخ نے اس کا جواب دیا کہ اس میں کوئی حرج نہیں، وہ کسی کو اپنا نائب بنا کر نکاح کروا سکتا ہے۔ مثلاً عورت کا باپ اس کے ماموں کو وکیل بنا دے، یا اپنے کسی سمجھدار اور بالغ بیٹے کو اپنا نائب مقرر کر دے کہ وہ اس کی طرف سے نکاح کرائے۔

اسی طرح ولی کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی بیٹی، بہن یا بھتیجی کے نکاح کے لیے کسی صالح اور سمجھدار شخص کو وکیل بنا دے، جیسے اس کا سمجھدار ماموں، بھائی یا چچا۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔

دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ دولہے کا گھوڑی چڑھنا یا سہرا باندھنا ہندوانہ رواج ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس لئے اس سے بچا جائے۔

سوال: کوئی آدمی ایک دوسرے ملک جیسے امریکہ میں رہتا ہے، وہاں سے انڈیا پیسے بھیجتا ہے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کو پتہ دیتا ہے کہ فلاں کو پیسہ دیدو، اس میں ہاتھوں ہاتھ معاملہ نہیں ہوتا ہے یعنی ایک جگہ ایک وقت ہے تو دوسری جگہ دوسرا وقت ہے۔ کیا یہ معاملہ درست ہے؟

جواب:اس سوال کے تعلق سے ایک قانونی مسئلہ یہ جان لیں کہ اس طرح سے پیسے بھیجنے کو ہنڈی کہتے ہیں اور یہ طریقہ ملکی قانون کے اعتبار سے جرم ہے۔ جو کوئی اس کام میں پکڑا جائے گا اس کو سزا ہوگی اور اس طرح کا پیسہ بلیک منی کہلاتا ہے لہذا جو کوئی اس قسم کا کاروبار کرتا ہے وہ اس سے باز آئے۔

دوسری بات یہ ہے کہ ایک آدمی اپنی ایک چیز کسی کے معرفت بھیجتا ہے جیسے کارگو یا پیسہ ، اس کا معاملہ اسی ملک میں طے پاجاتا ہے۔ بھیجنے کی فیس دے کر اس کا سامان یا پیسہ بھیج دیا جاتا ہے، پہنچنے میں جو وقت لگے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہاں اس معاملہ کا تعلق فقط اپنی چیز بھیجنے سے ہے۔

سوال: میرے پاس زکوۃ کی مقدار سے تھوڑا زیادہ سونا ہے اور میں اپنے شوہر سے الگ ہوگئی ہوں۔ میں تھوڑا بہت کما لیتی ہوں مگر اتنا نہیں کہ زکوۃ نکال سکوں اور میں اپنے مال کو بیچنا بھی نہیں چاہتی ہوں تاکہ مجھے مستقبل میں یہ مال کام آسکے۔ اپنے مال میں سے کچھ حصہ یعنی جتنے سے نصاب مکمل نہ ہو، اپنی ماں کو رکھنے دوں یہ کہہ کر کہ جب مجھے ضرورت پڑے واپس دیدو اور اگر ضرورت نہ پڑے تو آپ کی موت کے بعد یہ میرا مال میں لے لوں، آپ کی وراثت میں شامل نہیں کروں گی۔ کیا یہ طریقہ درست ہے؟

جواب:کسی کے پاس سونا یا چاندی نصاب بھر ہوجائے اور سال بھر موجود رہے تو سال مکمل ہونے پر اس کی زکوۃ ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔

آپ نے جو صورت بیان کی ہے کہ آپ شوہر سے الگ ہیں اور نصاب بھر سونا ہے مگر زکوۃ ادا کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ اس لئے اس میں سے کچھ ماں کو رکھنے کے لئے دینا چاہتے ہیں۔ اس کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ آپ ماں کو حقیقی طور پر سونا نہیں دینا چاہتے ہیں بلکہ مجازی طور پر ، بس ان کے پاس رکھنا چاہتے ہیں، اس سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے وہ آپ کی ملکیت ہے لہذا یہ کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

آپ کا معاملہ اللہ بہتر جانتا ہے ، آپ خود بھی محتاج ہیں لہذا جب زکوۃ دینے کی صلاحیت ہوجائے زکوۃ ادا کردیں ، زکوۃ دینے کی صلاحیت نہ ہو تو اللہ معاف کرنے والا ہے۔ اس طرح کئی قسم کے لوگ ہوتے ہیں جن کو کفارہ یا فدیہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے مگر وہ کفارہ/ فدیہ نہیں دے سکتے جیسے وہ غریب و ضعیف مسلمان جو روزہ نہیں رکھ سکتے ہیں، ان کے ذمہ ہر روزہ کے بدلے فدیہ ہے مگر استطاعت نہیں ہے تو فدیہ معاف ہوجائے گا۔

سوال: ایک لڑکی کی شادی ہوئی اور لڑکا ملک سے باہر رہتا ہے۔ شادی سے پہلے لڑکے والوں نےکہا کہ لڑکا جہاں رہے گا، وہیں ساتھ اپنی بیوی کو رکھے گا۔ جب شادی ہوگئی تو لڑکا اپنے ساتھ بیوی رکھنے کو تیار نہیں ہے۔ لڑکے کا کہنا ہے کہ اس کی اتنی آمدنی نہیں ہے کہ فیملی کو بلا کر رکھے اور نہ اپنے ملک واپس آنے کو تیار ہے اور لڑکی سسرال والوں کے ساتھ رہے اور ایک بچہ بھی ہے۔ سسرال والے بھی یہی چاہتے ہیں کہ لڑکی سسرال میں رہے اور لڑکا ملک سے باہر لیکن لڑکی ایسا نہیں چاہتی اُس کا کہنا ہےکہ یا تو شوہر اس کو ساتھ رکھے یا پھر ملک واپس آکر اپنی فیملی کے ساتھ رہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مرد کا پیسہ بھیج دینا کافی ہے، کیا اس نے شوہر اور باپ ہونے کے حق کو ادا کر دیا یا ایسی صورت میں کیا کیا جائے رہنمائی فرمائیں؟

جواب:جب میاں بیوی کے درمیان سسرال والے دخل اندازی کریں تو معاملہ بگڑ جاتا ہے۔ میاں بیوی کو ایک دوسرے کی ضرورت ہوتی ہے اور اصل یہی ہے کہ میاں بیوی ایک ساتھ رہیں۔ جب شوہر کو زیادہ دنوں کے لئے باہر جانے کی ضرورت پڑے تو اس کے لئے بیوی سے اجازت لینا ضروری ہے۔ بیوی اجازت دے تبھی شوہر سال دو سال باہر رہ سکتا ہے اور بیوی راضی نہ ہو تو شوہر، اپنی بیوی سے دور نہیں رہ سکتا ہے۔ یہ شرعی مسئلہ ہے مگر ہمارے معاشرے میں میاں بیوی کے درمیان سسرال والے حکم چلاتے ہیں۔ اس سے میاں بیوی کے تعلقات پر اثر پڑتا ہے اور بسا اوقات رشتہ بھی ٹوٹ جاتا ہے۔

بہرکیف! میاں بیوی کے درمیان سسرال والوں کو بولنے کا حق نہیں ہے، بیوی اپنا معاملہ شوہر سے حل کرے کیونکہ وہی اس کا نگراں و محافظ ہے۔ وہ صبر کرسکتی ہے تو صبر کرے اور صبر نہیں کرسکتی ہے تو اپنے شوہر سے اپنا حق زوجیت طلب کرے۔ شوہر انکار کرتا ہے تو اپنے خاندان والوں کے ذریعہ اور شوہر کے ساتھ بات کرکے معاملہ حل کرے۔ پھر اس کے حق میں جو بہتر ہو اس پر عمل کرے۔

آج کل بہت سارے حوادث اس وجہ سے بھی سامنے آتے ہیں کہ شوہر کئی کئی سال بیوی سے باہر رہتا ہے اور بیوی کے اصرار پر بھی وہ ضرورت کے مطابق گھر نہیں آتا۔

سوال: روزے میں دانتوں پر کور لگا سکتے ہیں؟

جواب:روزہ کی حالت میں دانتوں کو کور لگانا جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر علاج میں دانتوں یا منہ سے کچھ خون نکلے تو اس کو باہر پھینکنا ہے، نگلنا نہیں ہے ، ورنہ روزہ ٹوٹ جائے گا۔ یہاں ایک دوسری بات یہ ہے کہ اگر کور لگانے یا علاج کرنے میں دانتوں سے خون نکلنے کا امکان ہے تو بہتر ہے کہ اس عمل کو رات تک موخر کر لیا جائے۔

سوال: اگر خاتون شوہر سے اجرت طلب کرے اپنے بچوں کی رضاعت پر یعنی اپنے بچوں کو دودھ پلانے پر تو کیا یہ صحیح ہے جبکہ وہ شوہر کے ساتھ ہی ہے، اس کے نکاح میں؟

جواب:جب بیوی اپنے شوہر کے نکاح میں باقی ہو تو وہ اپنے بچے کو دودھ پلانے کی اجرت طلب نہیں کرسکتی ہے کیونکہ یہ اس کا کام اور ذمہ داری ہے کہ بچے کو دودھ پلائے جیساکہ اللہ تعالی نے فرمایا:

وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ(البقرة:233)

ترجمہ:اور مائيں اپنى اولاد كو مكمل دو برس دودھ پلائيں، جو رضاعت پورا كرنا چاہتا ہے، اور بچے كے والد پر ان عورتوں كا نان و نفقہ اور لباس معروف طريقہ كے مطابق ہے۔

اور اگر بیوی شوہر کے نکاح میں باقی نہ ہو بلکہ اسے طلاق ہوگئی ہو تو اس صورت میں اپنے شوہر سے بچے کو دودھ پلانے پر شوہر سے اجرت طلب کرسکتی ہے، اسی بارے میں اللہ کا یہ فرمان ہے:

فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ وَأْتَمِرُوا بَيْنَكُمْ بِمَعْرُوفٍ(الطلاق:6)

ترجمہ:اگر وہ تمہارے ليے دودھ پلائيں تو تم انہيں ان كى اجرت دے دو، اور آپس ميں ايك دوسرے پر نيكى كرو۔

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔