مضاربت کے احکام
مضاربت کی تعریف : مضاربت یہ ہے کہ ایک فریق سرمایہ فراہم کرے
اوردوسرااس سرمایہ سے کاروبارکرے اس معاہدے کے تحت کہ اسے کاروبارکے نفع میں ایک متعین
نسبت سے حصہ ملے گا۔
مضاربت کی صورت میں مال فراہم کرنے والے اورکاروبارکرنے والے
متعددافراد ہو سکتے ہیں اس کی کئی صورتیں ہیں۔
۱۔سرمایہ چندافرادمل
کرفراہم کریں اوراس سے چندآدمی مل کرکاروبارکریں۔
۲۔سرمایہ ایک فردکاہواوراس
سے چندافرادمل کرکاروبارکریں۔
۳۔چندآدمی مل کرسرمایہ
فراہم کریں اوراس سرمایہ سے ایک فردکاروبارکریں۔
یہ تمام صورتیں جائزہیں۔
مضاربت کی قسمیں :
مضاربت کی دوقسمیں ہیں ایک مقید دوسری مطلق
مقید مضاربت : اس مضاربت کوکہتے ہیں جس میں روپیہ دینے والاکسی
خاص جگہ کی یاکسی خاص مدت کی یاکسی کاروبارکی قیدلگادے یعنی یہ کہہ دے کہ اس روپیہ
سے تم صرف لکھنؤیالاہورہی میں کام کرسکتے ہودوسری جگہ نہیں یاصرف یہ کہہ دے کہ ایک
سال کیلئے مضاربت پردے رہاہوں یایہ کہہ دے کہ یہ روپیہ صرف کپڑے ہی کے کام میں لگائے
جائیں دوسراکام نہ کیاجائے۔
مطلق مضاربت : وہ ہے جس میں ان میں سے کوئی قیدنہ لگی ہوبلکہ
مضارب یعنی محنت کرنے والے کو کاروبارکی آزادی دی گئی ہو۔
مضاربت کے شرائط:
مضاربت کے صحیح ہونے کے لئے ان باتوں کاپایاجاناضروری ہے۔
۱۔ایک یہ کہ روپیہ
لگانے والے اورروپیہ دینے والے دونوں کاعاقل ہوناضروری ہے عاقل ہونے کامطلب یہ ہے دونوں
معاملات اورنفع ونقصان کوسمجھتے ہوں۔
۲۔جوکچھ رقم مضاربت
کے لئے مقررکی جائے وہ فوراًمضارب یعنی محنت کرنے والے کے حوالے کردی جائے مثلاًرب
المال نے مضارب سے کہاپانچ سوروپیہ ہم دیتے ہیں اس میں تجارت یااورکوئی کام کرو تو
پانچ سوروپئے کام کرنے والے کے قبضے میں دے دیناچاہئے صرف وعدہ سے مضاربت نہیں ہوتی۔
۳۔تیسرے یہ کہ جتنی
رقم سے کام شروع کرنے کاارادہ ہووہ اسی وقت بتادی جائے اگر مجمل رکھا تو مضاربت صحیح
نہ ہوگی یعنی یہ واضح کردیاجائے کہ سودوسویاپانچ ہزاریادس ہزارسے کام شروع ہوگا۔
۴۔چوتھے یہ کہ منافع
طے ہوناچاہئے یعنی یہ کہ کتناسرمایہ لگانے والے کوملے گااورکتنا مضارب کو؟ اگر رب المال
نے صرف یہ کہاکہ ہم دونوں فائدے میں شریک رہیں گے تواس سے یہ سمجھاجائے کہ آدھانفع
رب المال کااورنصف مضارب کا۔اگرصرف یہ کہاجائے کہ اچھاجوہوگا اس میں مناسب طورپرتقسیم
کرلیاجائے گاتومضاربت فاسدہوجائے گی کیونکہ اس میں اختلاف کا خدشہ ہے بلکہ حصہ کے اعتبارسے
منافع کی تقسیم طے ہوجانی چاہئے۔
۵۔دونوں تحریری طورپرمعاملہ
کے شرائط لکھ کراپنے اپنے پاس رکھ لیں توبہترہے تاکہ بعد میں اختلاف نہ ہو۔اگربغیرتحریرکے
بھی اطمینان کی کوئی صورت ہوجائے توکوئی حرج نہیں ہے۔
۶۔مطلق مضاربت میں
دونوں یہ بھی طے کرلیں کہ کتنے دنوں کے بعدحساب وکتاب کرکے منافع تقسیم ہوگا،ایک سال،دوسال
یاایک ماہ،دوماہ۔
کتبہ
مقبول احمد سلفی
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔