Saturday, March 5, 2016

نماز یا غیرنماز میں ٹوپی اور عمامہ کا استعمال ؟

نماز یا غیرنماز میں ٹوپی اور عمامہ کا استعمال ؟
===================
السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ علماء کرام کیا فرماتے ہیں مسئلہ ھذا کے تعلق سے
کیا ٹوپی یا عمامہ پہننا سنت ہے؟ چاہیے وہ عام حالات ہوں یا نماز کی حالت برائے مہربانی وضاحت فرمائیں .
جزاکم الله خيرا

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اصل میں عمامہ یا ٹوپی یہ عرب قوم کے کلچر میں سے ہے ۔ نبی ﷺ بھی اسے بطور کلچر یعنی عادت کے پہنتے تھے ، اسے سنت کہنا صحیح نہیں ہے اسے مباح کہیں گے ۔ مباح ہونے کی وجہ سے اس کا استعمال جائز ٹھہرے گا۔
ہمارے لئے ٹوپی یا عمامہ لگانا نماز ہو یا غیر نماز نہ تو واجب ہے اور نہ ہی سنت ، جس طرح جبہ یا ازارکا مسئلہ ہے۔
اس وقت عرب میں عمامہ نہیں بلکہ ٹوپی اور اس کے اوپر شماغ لگایاجاتا ہے ، یہ اِس وقت کی عادت ہے اسے سنت نہیں کہیں گے ۔
کسی مسلمان بھائی کو اس بات پہ تعجب نہیں کرنا چاہئے کہ یہ بڑی عجیب بات سن رہاہوں کہ عمامہ سنت نہیں بلکہ عادت ہے ۔ اگر آپ اس پہ سوال کریں گے تو میں کہوں پھر نبی ﷺ کا جبہ کیوں سنت نہیں ؟
نبی ﷺ کا ازار کیوں سنت نہیں ؟
نبی ﷺ کا گدھے پہ سواری کرنا کیوں سنت نہیں ؟
ظاہر سی بات ہے یہ سب عادتا تھیں ۔
نماز یا غیرنماز کے لئے نبی ﷺ نے لباس کی تعیین کردی ہے وہی سنت ہے ۔

واللہ اعلم
کتبہ

مقبول احمد سلفی


0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔