Sunday, March 29, 2015

عورت کا مہر مؤخر اس کی وفات کی صورت میں اس کے وارثین کو ملے گا

عورت کا مہر مؤخر اس کی وفات کی صورت میں اس کے وارثین کو ملے گا
سوال: فتوى نمبر:12258

میری اہلیہ فوت ہوگئی اور اس کا مہر صومالی کرنسی میں ایک ہزار شلن تھا، یعنی پندرہ سعودي ريال کی مالیت، میں نے اپنے ملک کے ایک مولانا صاحب سے پوچھا تو انہوں میری ساس کو دینے کا فتوی دیا، تو کیا یہ فتوی درست ہے؟ اور اگر درست نہیں ہے تو مجھے کیا کرنا چاہئے؟

جواب : بیوی کا وہ مہر جو چھوڑ کر فوت ہوئی ہے ترکہ میں شامل ہے، اور ترکہ میں سب سے پہلے قرض کی ادائیگی ہے اگر قرض ہے، اس کے بعد شرعی وصیت کی تکمیل ہے، اس کے بعد شرعی تقسیم کے مطابق باقی مال وارثین کو ملے گا۔ وباللہ التوفيق۔ وصلى الله على نبينا محمد، وآله وصحبه وسلم۔

علمی تحقیقات اور فتاوی جات کی دائمی کمیٹی

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔