صفائی کی چیز مثلا صابن،شیمپواور پیسٹ وغیرہ میں خنزیر کی چربی
دائمی
کمیٹی سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں بعض چیزوں میں خنزیر کی ملاوٹ ہونا مشہور ہے ،
اس کا کیا حکم ہے ؟ تو کمیٹی کا جواب تھا:
الحمد
لله وحده، والصلاة والسلام على رسوله وآله وصحبه ۔۔۔ وبعد
اول:
ہم کسی باوثوق طریقوں سے اطلاع نہیں پہنچتے ہيں کہ صفائى کے لئے بعض چیزوں میں سور
کی چربی شامل ہوتا ہے، مثال طور پر کیمی صابن، پالمیو صابن، کولگیٹ ٹوتھـ
پیسٹ، اور ہم سے یہى بات پہنجتے ہيں کہ یہ صرف پروپیگنڈا ہے۔
دوم:
اصل ایسی چیزوں میں طہارت اور ان کا استعمال حلال ہےحتی کہ کسی باوثوق طریقوں سے
یہ معلوم ہو جائے کہ ان میں سور کی جربی کی آمیزش یا نجاست ميں کوئی اور وجہ ہے
اور ان سے فائدہ اٹھانا حرام ہے، تو پھر ایسی صورت میں ان کا استعمال حرام ہوگا۔
ورنہ خبر کی سوائے پروپیگنڈہ کے کوئی زیادہ حیثیت نہ ہوگی، اور یہ بات ابھی تک
ثابت نہیں ہوئی اس لئے اس کے استعمال سے اجتناب كرنے كو واجب نہیں۔
سوم:
اور جس کے پاس یہ بات ثابت ہے کہ صفائى کی چیزوں میں سور کی چربی کی آمیزش ہے تو
اسے چاہئے کہ ان کے استعمال سے اجتناب کرے، اور ان سے جو چیز الودہ ہوئی اس کو
دھوئے، اور جہاں تک ان کے استعمال کے دنوں میں اس کی نمازوں کی ادائے گی کا تعلق
ہے تو علما کے صحیح قول کے مطابق اس پر ان کا دوباره لوٹانا نہیں ہے۔
وباللہ
التوفیق۔ وصلى الله على نبينا محمد، وآله وصحبه وسلم۔
علمی
تحقیقات اور فتاوی جات کی دائمی کمیٹی
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔