Saturday, March 28, 2015

کیا بڑی جماعت کا ہونا حق پر ہونے کی دلیل ہے ؟

کیا بڑی جماعت کا ہونا حق پر ہونے کی دلیل ہے ؟

دیوبندی مقلدوں نے ایک ضعیف حدیث کا سہارا لیکر یہ واویلا کر رکھا ہے کہ وہ حق پر ہے ۔
ضعیف حدیث یہ ہے: (اتبعوا بالسواد الاعظم ) جب اختلاف دیکھو تو سوادِ اعظم کو لازم پکڑو ۔
 ٭امام ابوالحسن سندھی لکھتے ہیں یہ حدیث اور بھی طریقے سے مروی ہیں لیکن سب میں ضعف ہے لہٰذا حجت نہیں ۔ ( حاشیہ ابن ماجہ ابواب الفتن جلد دوم صفحہ ۴۶۴)

٭اگر اس حدیث کو صحیح مان بھی لیا جائے تواس حدیث کا تعلق قطعا دینی امور سے نہیں ہے ۔ اگر دینی امور سے ہو تو پھر ہر مسئلہ جس کو سوادِ اعظم صادر کرے دینی مسئلہ بن جائے گا اور یہ آیت الیوم اکملت لکم دینکم کے قطا منافی ہیں اس زمانے میں بریلویوں کی اکثریت ہیں پھر دیوبندیوں کو چاہیئے کہ بریلویوں میں شامل ہوجائے ۔

٭خیرالقرون کے صدیوں بعد تقریبا ہر زمانے میں حنفی اکثریت میں رہے ہے تو پھر یہ لوگ مالکیوں ، شافعیوں ، حنبلیوں کو دعوت کیوں نہیں دیتے کہ اس حدیث کی روشنی میں حنفی ہوجاؤ ۔ کیونکہ وہ تینو فرقے کبھی اس حدیث پر عمل کرنے کے لئے نہ تیار تھے اور نہ اب ہیں تو پھر وہ گمراہ کیوں نہیں ۔ سب سے اہم دلیل یہ ہے کہ یہ تو ظاہر ہیں مقلدین عہدِ رسالت میں نہیں تھے عہدِ صحابہؓ ، عہدِ تابعین میں بھی نہیں تھے ۔ ہر فرقے کی جب ابتداء ہوتی ہے تو وہ فرقہ اقلیت میں ہوتا ہیں پہلے فرقے کا بانی اکیلا ہوتا ہیں پھر دوہوتے ہے پھر تین ہوتے ہیں اسی طرح فرقہ ترقی کرتا چلا جاتا ہے مقلدین کے فرقے کی بھی آخر کوئی ابتداء ہے ۔ جو بقول شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کے چوتھی صدی ہے ۔ تو پھر وہ اس ابتداعی دور میں یقینا وہ اقلیت میں ہوں گے اور غیر مقلدین کی اکثریت مقلدین کی اقلیت اس حدیث کی مخاطب ہوگی ۔ یہ حدیث پکار پکار کر کہہ رہی ہوگی کہ اے مقلدین کی اقلیت اکثریت میں گم ہوجاؤ اگر وہ گم ہوجاتے تو آج ان کا وجود نہ ہوتا یہ ہیں موجودہ دور کے مقلدین کے پیشرو ۔ انہونے باطل پر رہ کر اپنے فرقے کو باقی رکھا ۔ یہی اقلیتی فرقہ جو اس وقت باطل پر تھا ۔ بڑھتے بڑھتے اکثریت میں تبدیل ہوگیا ۔ تو کیا پھر بھی انہیں اپنی موجودہ اکثریت پر ناز ہے ( العیاذباللہ ) ۔

٭حق کے معاملہ میں اکثریت ، اقلیت کوئی معیار نہیں بلکہ دلائل کی رو سے اقلیت کا حق پر ہونا زیادہ ظاہر ہیں۔

 اور وہ دلائل یہ ہیں:
وإن تطع أكثر من في الأرض يضلوك عن سبيل الله۔(سورة الأنعام)
مطلب یہی ہوا کہ اکثریت گمراہوں کی ہے ۔

(و قلیل من عبادی الشکور ۔(سورة سبا
میرے بندوں میں شکر گزار تھوڈے ہی ہوتے ہیں ۔

وإن كثيرا من الخلطاء ليبغي بعضهم على بعض إلا الذين آمنوا وعملوا الصالحات وقليل ما هم۔(سورة ص)
اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتیاں کرتے ہیں، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے ہیں ایسے لوگ تھوڈے ہی ہوتے ہیں یعنی مومنین ، صالحین کی تعداد کم ہی ہوتی ہیں ۔

و إن کثیراً من الناس لفسقون.(سورة المائدة)
بے شک کثیر لوگ فاسق ہوتے ہیں۔

اتبعوا ما أنزل إليكم من ربكم ولا تتبعوا من دونه أولياء قليلا ما تذكرون ۔ (سورة الأعراف)

قال أرأيتك هذا الذي كرمت علي لئن أخرتن إلى يوم القيامة لأحتنكن ذريته إلا قليلا ۔(سورة الإسراء)
شیطان بکثرت لوگوں کو گمراہ کرتا رہے گا ۔ البتہ تھوڑے سے لوگ بچ جائیں گے ۔۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ ( إنما الناس كالإبل المائة لا تكاد تجد فيها راحلة ) سواری کے قابل نہ ملے یعنی ناقص لوگوں سے اکثریت ہوگی ۔( صحیح بخاری و مسلم)

اللہ تعالی غالی مقلدوں کو ہدایت دے ۔ آمین


0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔