Monday, November 24, 2014

نماز میں قدم سے قدم ملانا

نماز میں قدم سے قدم ملانا


نماز میں پاؤں کے ساتھ پاؤں ملانا ایک مسنون عمل ہے ،جس کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ترغیب دی ہے۔احادیث میں صف بندی کا معیار یہ ہے کہ صف میں کھڑے ہوئے نمازیوں کے ٹخنے ایک دوسرے کے برابر ہوں صرف انگلیوں کے کناروں کا ملنا کافی نہیں ہے ، ٹخنے ملانے سے صفوں میں برابری بھی آتی ہے اور درمیان میں آنے والا خلا بھی پر ہو جاتا ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ۔
(1) صفوں کو سیدھا کرو ، کندھوں کو برابر کرو ، خلا کو پر کرو ، اپنے بھائیوں کے لئے نرم ہو جاؤ ، شیطان کیلئے صف میں خالی جگہیں نہ چھوڑو ، جس نے صف کو ملایا اللہ اس سے ملائے گا اور جس نے صف کو کاٹا اس سے تعلق کاٹ لے گا ۔ (ابوداؤد ، الصلوٰۃ : 666)

(2) ایک روایت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’
ایک دوسرے سے مضبوطی کے ساتھ مل جاؤ اور برابر ہو جاؤ‘‘۔ (مسند امام احمد ص 268 ج3 )
نمازیوں کے پاؤں مختلف ہوتے ہیں ، کسی کا پاؤں لمبا ہوتا ہے اور کسی کا چھوٹا ہوتا ہے لہٰذ صفوں کی درستی اور برابری ٹخنوں ہی سے ہو سکتی ہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا عمل حدیث میں آیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ٹخنوں کے ساتھ ٹخنے ملا کر کھڑے ہوتے تھے ۔

(3) چنانچہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا ہم میں سے ایک آدمی دوسرے کے ٹخنے کے ساتھ اپنا ٹخنا ملا کر کھڑا ہوتا تھا ۔ (صحیح بخاری ، تعلیقاً)

(4) حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک اپنا کندھا دوسرے کے کندھے کے ساتھ اور اپنا قدم دوسرے کے قدم کے ساتھ ملا کر کھڑا ہوتا تھا ۔ (صحیح بخاری ، الاذان : 725)

صف بندی میں مقصود یہ ہے کہ صفیں سیدھی اور برابر ہوں اور صفیں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ہوں ، کندھے سے کندھا اور ٹخنے سے ٹخنا ملا ہوا ہو ، اس کیلئے اپنے وجود کے مطابق پاؤں کھولنا چاہئیے ۔


0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔