آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(93)
جواب از: شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ
جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ - سعودی عرب
سوال: خوشی کے موقع پر کوئی
پھولوں کا گلدستہ دے تو کیا یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف عمل ہے؟
جواب: اہل علم کا کہنا ہے کہ خوشی کے موقع پر ایک دوسرے
کو یا کسی کو پھولوں کا گلدستہ دینے میں حرج معلوم نہیں ہوتا ہے، یہ ایک تحفہ کے
قبیل سے ہے۔ اسلام میں تحفہ لینے دینے کا حکم دیا گیا ہے تاہم تحفہ اس قسم کا ہو
جس سے آدمی کچھ استفادہ کرسکے تو بہتر ہے۔ تحفہ دل میں محبت پیدا کرنے کا سبب ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ گلدستہ پیش کرنے سے بہتر کوئی مفید
چیز پیش کی جائے جس سے آدمی فائدہ اٹھا سکے جبکہ گلدستہ سے فائدہ نہیں اٹھایا
جاسکتا ہے، اسے یا تو پھینک دیا جاتا ہے یا گھر میں رکھ دیا جاتا ہے، نیز یہ کلچر
بھی مغرب سے اپنے یہاں آیا ہے۔
سوال: لوگوں نے ایک بات مشہور کر رکھی ہے
کہ نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا نہیں کرنا چاہیے بلکہ فرض یا سنت نماز کے سجدوں
میں قرآنی یا مسنون دعائیں کرنی چاہیے ، کیا یہ بات درست ہے ؟
جواب: فرض نماز کے بعد انفرادی طور پر ہاتھ اٹھا کر دعا
کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اپنے سماج میں اجتماعی طور پر ہاتھ اٹھا کر جو دعا
مانگی جاتی ہے، یہ شکل جائز نہیں ہے مگر انفرادی دعا مانگنے کو غلط نہیں کہا جا
سکتا اور اس سے کسی کو نہیں روکنا چاہیے۔
ساتھ ہی نماز کے سجدے میں بھی مسنون دعا کی جا سکتی ہے
خواہ فرض نماز ہو یا سنت و نفل نماز ہو اس میں بھی کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔
سوال: ایک بیوہ عورت نے دوسرا نکاح کیا
ہے۔ اس کے بیٹے کی عمر قریب سترہ سال اور
بیٹی کی عمر قریب سولہ سال ہے۔ اس نکاح
میں ان کی رضامندی بھی تھی اور یہ موجود بھی تھے لیکن باپ اور بھائیوں میں سے کوئی
موجود نہیں تھا اور نہ کسی کی رضامندی تھی بلکہ اس کے نکاح سے وٹہ سٹہ ہو گیا تھا
اور اس کے بھائی نے اپنی اہلیہ کو صرف اس نکاح کی وجہ سے طلاق دے دی ہے۔کیا یہ
نکاح ٹھیک ہے جبکہ اب بھی سب ناراض ہیں؟
جواب: شیخ ابن عثیمین
رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:ایک عورت کا نکاح
اس کے بیٹے نے کر دیا، جبکہ اس کا باپ موجود تھا، تو اس نکاح کا کیا حکم ہے؟آپ
رحمہ اللہ نے جواب دیا:ہم یہ دیکھیں گے
کہ عورت کا نکاح کرانے کا زیادہ حق کس کو ہے: باپ کو یا بیٹے کو؟
جواب یہ ہے کہ عورت کا نکاح باپ ہی کراتا ہے۔اگر بیٹے
نے باپ کی موجودگی میں نکاح کر دیا ہو تو:
اگر باپ دور دراز جگہ پر ہو اور اس سے رجوع ممکن نہ ہو،
تو اس میں کوئی حرج نہیں۔یا اگر باپ نے عورت کو ایسے شخص سے نکاح کرنے سے روک دیا
ہو جسے عورت پسند کرتی ہو، جبکہ وہ شخص دین اور اخلاق میں کفو (مناسب) ہو، تو ایسی
صورت میں بیٹا نکاح کرا سکتا ہے، اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔لیکن اگر باپ موجود ہو
اور اس نے نکاح سے انکار نہ کیا ہو، تو ایسا نکاح صحیح نہیں ہوگا، اور اسے دوبارہ
کرنا واجب ہے۔(لقاء الباب المفتوح، لقاء نمبر: 159)
سوال : میاں بیوی عمرہ کے لیے جارہے ہیں، ان کے ساتھ دوماہ کی بچی ہے۔اس بچی کے عمرہ
کی نیت کیسے کریں گے نیز دوران عمرہ اگر بچی بول وبراز کرتی ہے تو کیا احرام کی
حالت میں بچی کو وضو وغيرہ کروایا جائے گا؟
جواب:یہ صحیح ہے کہ بچے کی طرف سے بھی عمرہ صحیح ہے مگر
اصل مسئلہ یہ ہے کہ دو ماہ کی بچی سے عمرہ کرانے میں مشکلات آسکتے ہیں۔ عمرہ ایک
اہم عبادت ہے جس میں احرام کی حالت میں پابندیاں بھی ہیں، دو ماہ کی بچی سے یہ
پابندی مشکل ہے، اس لئے بہتر ہے کہ بچی جب بڑی اور باشعور ہوجائے پھر اس سے عمرہ
کرایا جائے۔
سوال: مجھے مجبوری میں بیڈ پر نماز پڑھنا
ہوتا ہے، وہاں سے لوگ بھی گزرتے ہیں تو کیا وہاں بھی سترہ رکھنے کی ضرورت ہے یا
اوپر ہونے کی وجہ سے سترہ رکھنے کی ضرورت نہیں ہے ؟
جواب: بستر پر نماز پڑھتے وقت بھی سترہ رکھنا چاہیے
یعنی اونچائی پر نماز پڑھنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سترہ کی ضرورت نہیں ہے۔ بیڈ پر
نماز پڑھتے ہوئے اگر اس بات کا خوف ہو کہ لوگ سامنے سے گزریں گے تو اپنے آگے بطور
سترہ کوئی لکڑی وغیرہ رکھ لیں۔سترہ کا حکم بعض علماء کے نزدیک وجوب کا ہے جبکہ بعض
علماء اسے مستحب قرار دیتے ہیں۔
سوال: کیا طواف کے لئے وضو ضروری ہے ؟
جواب: طواف کے لئے باوضو ہونا شرط ہے یعنی اگر آدمی
باوضو نہ ہو تو طواف نہیں کر سکتا ہے اور اسی طرح اگر وضو کرکے طواف کر رہا ہو،
درمیان میں وضو ٹوٹ جائے تو اسے جا کر پھر سے وضو کرنا ہے اور جہاں سے طواف چھوڑا
تھا وہاں سے باقی بچا طواف مکمل کرنا ہے تاہم سعی میں وضو کی شرط نہیں ہے، بغیر
وضو کے بھی سعی کی جا سکتی ہے۔
سوال: میں پیریڈ کی حالت میں تھی ، اس کے
بعد غسل کرکے نماز شروع کی تو مجھے پھر سے پیریڈ کی طرح ہمیشہ پانی کی طرح آتا
رہتا ہے تو میں نماز پڑھ سکتی ہوں۔ اگر پڑھ سکتی ہوں تو ہر وقت غسل کرکے نماز
پڑھنا ہوگا؟
جواب: اگر عورت حیض کے بعد پاکی دیکھ لے یعنی اسے حیض
سے پاک ہونے کا یقینی علم حاصل ہو جائے تو اب وہ غسل حیض کرسکتی ہے۔ پاک ہونے اور
غسل حیض کر لینے کے بعد اگر عورت کو داغ دھبے لگیں یا مٹیالے اور گدلے رنگ کا پانی
نکلے تو اس کو کچھ بھی شمار نہیں کرنا ہے اور اپنی نماز جاری رکھنی ہے، نیز دوبارہ
غسل کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ حیض سے پاک ہونے کے بعد گدلا پانی
یا رطوبت آنے پر ہر نماز کے وقت نیا وضو کرنا ہے لیکن غسل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
سوال: ایک خاتون کے یہاں بچی پیدا ہوئی،
ساتویں دن اس کا عقیقہ کر دیا گیا۔ اب بچی کچھ اور بڑی ہوگئی ہے تو خوشی میں پھر
سے فیملی ممبرس کو دعوت کرنا چاہتی ہے۔ اس دعوت کو رشتہ دار چلہ یا کوئی بدعتی رسم
نہ سمجھ لے اس ڈر سے اس دعوت کا نام عقیقہ دینا چاہتے ہیں تاکہ لوگ برا گمان یا
باتیں نہ کریں۔ کیا شرعی اعتبار سے اس میں کوئی حرج ہے؟
جواب: جس بچی کے نام سے ساتویں دن عقیقہ ہو چکا تھا اور
وہ اب کچھ بڑی ہو گئی ہے، اس وجہ سے گھر والے چاہتے ہیں کہ دوبارہ اس کے نام سے
خوشی پر جانور ذبح کیا جائے اور لوگوں کو دعوت دی جائے، یہ عمل صحیح نہیں ہے
کیونکہ اس طرح کا عمل ہماری شریعت میں موجود نہیں ہے۔اس دعوت کا نام عقیقہ رکھا
جائے تب بھی غلط ہے کیونکہ عقیقہ پہلے ہو چکا ہے اور اگر یہ دعوت لڑکی بڑی ہونے کی
خوشی میں کی جائے تو بھی غلط ہے۔
جو آدمی اس طرح کی دعوت کرنا چاہتا ہے مجھے لگتا ہے ان
کو اللہ تعالی نے مال و دولت سے زیادہ نوازا ہے، آپ ان کو نصیحت کریں کہ وہ یہ
دعوت نہ کرے اور اس دعوت میں جتنا روپیہ خرچ آئے، اس کا حساب لگا کر وہ پیسہ کسی
ضرورت مند اور غریب کو صدقہ و خیرات کر دے۔ بھلے اپنی اسی بیٹی کے نام سے صدقہ کرے
یا اپنے پورے گھر والوں کے نام سے کرے ، کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن ضرورت مندوں کے
نام صدقہ کر دے۔ اس سے ضرورت مندوں کا بھلا ہو جائے گا اور گھر والوں کو ثواب بھی
مل جائے گا مگر کھلانے پلانے سے دین کا کوئی فائدہ یا اس میں کوئی ثواب نہیں ملے
گا۔
سوال: کوئی عورت بچہ گود لے اور جب اس کے
شوہر کا انتقال ہو جائے تو اس سے بھی عدت میں پردہ کرنا پڑے گا ؟
جواب: اگر سوال یہ ہے کہ ایک عورت نے ایک لڑکا گود
لیا۔جس عورت نے لڑکا گود لیا اس عورت کا شوہر انتقال کر جائے تو کیا یہ عورت اپنے
لے پالک سے عدت میں پردہ کرے گی؟
اگر سوال یہی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ لڑکا اگر
پہلے غیر محرم تھا تو گود لینے کے بعد بھی وہ لڑکا غیر محرم ہی رہے گا اور اس لڑکا
سے ہمیشہ پردہ کرنا ہے، صرف عدت میں ہی نہیں بلکہ عدت کے علاوہ بھی ہمیشہ اس لڑکے
سے پردہ کرنا ہے کیونکہ وہ لڑکا اس عورت کے لیے غیرمحرم ہے۔
ہاں اگر اس لڑکے کو دو سال کی مدت میں پانچ مرتبہ پیٹ
بھر کر اس عورت نے دودھ پلایا ہو تب یہ رضائی بیٹا بن جائے گا پھر ایسی صورت میں
یہ محرم ہونے کی وجہ سے اس لڑکا سے عدت میں یا بغیر عدت کے کبھی بھی پردہ کرنے کی
ضرورت نہیں ہے۔
سوال: ایک ہندو آدمی ہے جس کے یہاں اولاد
نہیں ہے ،وہ ہم سے زمزم کا پانی مانگ رہا ہے اپنی بیوی کو پلانے کے لیے تو کیا ہم اسے
زم زم کا پانی دے سکتے ہیں ؟
جواب: ہاں، آپ اس ہندو
کو زمزم کا پانی دے سکتے ہیں ، اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ الحمد للہ زمزم میں بہت
فوائد ہیں۔ بیماروں کو شفا بھی نصیب ہوجاتی ہے۔ وہ ہندو خود بھی پئے یا اپنی بیوی
کو پلائے، کوئی بات نہیں ہے۔ ممکن ہے اس بہانے ان کے دل میں اسلام سے محبت پیدا
ہوجائے اور مسلمان ہونے کا سبب بن جائے۔ اللہ تعالی سے ان کی ہدایت کے لئے دعا بھی
کریں۔
سوال : اگر ہمارے یہاں مغرب کی اذان 5:20
اور فجرکی اذان 5:40 پر ہو رہی ہے تو عشاء
کی نماز کا وقت کب تک ہے اور تہجد کاوقت کب سےشروع ہوگا؟
جواب: جب سورج 5:20 پر ڈوب رہا ہے اور 5:40 پر طلوع فجر
ہے تو اس دوران رات کا مکمل دورانیہ بارہ گھنٹے بیس منٹ بنتا ہے۔ اس حساب سے آدھی
رات 11:30 تک ہے یعنی اس وقت تک عشاء کی نماز پڑھ سکتے ہیں۔ اور تہجد کا وقت تو عشاء
کی نماز کے بعد سے لے کرطلوع فجر تک ہے یعنی 5:40 سے پہلے پہلے تک تہجد پڑھ سکتے
ہیں۔
سوال: سورہ بقرہ کی آخری دو آیات لگاتار
تین دن تک تلاوت کرنے سے وہاں شیطان داخل نہیں ہوتا، تین دن پڑھنے بعد کوئی پڑھنا
چھوڑ دے تو کیا پھر شیطان گھر میں داخل ہو جائے گا ؟
جواب: سورہ بقرہ کی فضیلت سے متعلق مختلف قسم کی روایات
آتی ہیں، آپ کے سوال سے متعلق اس طرح حدیث آئی ہے کہ جس گھر میں سورہ بقرہ کی
تلاوت کی جائے اس گھر میں تین دن تک شیطان نہیں آتا۔(ابن حبان:780) اس حدیث کو بعض
علماء نے صحیح اور بعض نے ضعیف کہا ہے۔ اس بارے میں صحیح حدیث یہ ہے ۔
نبی ﷺ نے فرمایا:لَا
تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ، إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنَ الْبَيْتِ
الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ(صحیح مسلم: 780)
ترجمہ:اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، بے شک شیطان اس
گھر سے بھاگ جاتا ہے جس میں سورۃ البقرہ پڑھی جاتی ہے۔
اسی طرح سورہ بقرہ کی آخری دو آیات کی فضیلت میں یہ
حدیث ثابت ہے۔
عن أبي مسعود رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله
عليه وسلم:مَنْ قَرَأَ بِالْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي
لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ(صحيح البخاري: 5009)
ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :جس نے سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں
رات میں پڑھ لیں، اس کے لیے یہ دو آیتیں کافی ہو جاتی ہیں۔
بہرکیف! گھر کو شیطان سے محفوظ رکھنے کے لئے قرآن کی
تلاوت، ذکر و اذکار اور وہاں پر نماز کی پابندی کرنا چاہئے۔ صرف تلاوت سے کام نہیں
چلے گا حتی کہ گھر کو بری چیزوں سے جیسے ناچ گانے، موسیقی ، فلم بینی نیز دیگر
برائیوں سے بھی پاک رکھنا ہوگا۔
سوال: میں نے تجوید کا علم سیکھا ہے، مجھے الحمدللہ تلاوت
کرنا آتا ہے۔ پھر اساتذہ سے سن رہی ہوں کہ مجھے تجوید کا اڈوانس کورس کرنا پڑے گا
جو کہ میرے لئے بہت مشکل ہے ، آپ اس بارے میں رہنمائی کریں؟
جواب:تجوید کا علم حاصل کرنا مفید ہے اس سے آدمی قرآن
کو صحیح ڈھنگ پر پڑھ سکتا ہے، اس لیے ہم میں سے ہر کسی کو قرآن صحیح سے پڑھنے کی
تعلیم حاصل کرنی چاہیے۔رہا مسئلہ اڈوانس کورس کرنے کا تو مجھے اس کا علم نہیں ہے
کہ آپ کے اساتذہ کس اڈوانس کورس کی بات کر رہے ہیں۔
اصل میں آج لوگوں نے دینی تعلیم کو کسب معیشت سے اس قدر
جوڑ دیا ہے کہ اس میں مختلف چیزیں جوڑ کر اور غیر ضروری تکلفات و پروگرامنگ سیٹ
کرکے دینی کورس کو حصول مال و زر کا ایک اہم ذریعہ بنا لیا گیا ہے جبکہ ہونا یہ
چاہیے کہ دینی اور قرآنی علوم کو فی سبیل اللہ سکھایا جائے تاہم مناسب اجرت لینے
میں کوئی حرج نہیں ہے مگر لوگ اسے کسب معاش کا اہم ذریعہ بنا لیتے ہیں۔
اس بارے میں سب سے اہم بات اپنے لیے یہ سمجھ لیں کہ
تجوید کا کورس آپ کے لیے یا کسی مسلمان کے لیے واجبات اور فرائض میں سے نہیں ہے
یعنی آپ علم تجوید سیکھتے ہیں تو اچھی چیز ہے اور آپ نے اپنی تلاوت ٹھیک کر لی ہے
تو یہی کافی ہے، مزید آگے اڈوانس کورس کے لیے وقت لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔
سوال: ایک بیٹے کو باپ نے اعلی تعلیم
دلائی پھر وہ باہر کمانے کے لئے گیا۔ باپ نے گھر خریدا تھا اس میں مقروض تھا، اس
بیٹے نے قرض اتارنے کے لئے پیسہ دینے کا وعدہ کیا۔ کچھ پیسہ دیا تھا پھر اس نے
شادی کرلی اور وہ اپنی فیملی میں مشغول ہوگیا۔ پانچ چھ سال میں باپ کو کبھی خرچ
نہیں دیا، اب وہ گھر میں آج کے ویلیو کے حساب سے حصہ مانگتا ہے اور کہتا ہے کہ
میرا پیسہ لگا ہے، میں نے یہ قرض کی حیثیت سے دیا تھا جبکہ شروع میں ایسی کوئی بات
نہیں ہوئی اور نہ ہی بعد میں کبھی یہ بات کہی۔ باپ کہتا ہے کہ میری اور بھی اولاد
ہیں، میں صرف تمہیں کیسے حصہ دے سکتا ہوں۔ وہ اس بات پر باپ سے ناراض ہے۔ اس صورت
میں کیا کرنا چاہئے؟
جواب:سب سے پہلی بات یہ ہے کہ معاشرتی طور پر بھی
مشترکہ فیملی میں ایک دوسرے کے ساتھ لین دین کرنا تعاون مانا جاتا ہے، اسے قرض کے
زمرے میں نہیں مانا جاتا ہے الا یہ کہ شروع میں ہی کوئی معاملہ قرض کی حیثیت سے طے
پایا ہو۔
دوسری بات یہ ہے کہ جس بیٹے کا معاملہ ہے اس کی اعلی
تعلیم اور باہری سفر باپ کے پیسے سے ہی ہوا ہوگا پھر اس بیٹے نے مقروض باپ کا
تعاون کیا ، یہ تعاون ہے، اس کو قرض کا معاملہ نہیں مانا جائے گا۔ ضرورت کے وقت
باپ اپنے بیٹے کے مال سے لے سکتا ہے۔ جس گھر کے قرض میں بیٹے نے باپ کا تعاون کیا،
وہ گھر باپ کا ہوگا۔ اور باپ کی وفات کے بعد اس میں سے سارے ورثاء حق پائیں گے۔ اس
جگہ ایک حدیث ملاحظہ کریں تو بات سمجھنے میں آسانی ہوگی۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس مال
ہے اور والد بھی ہیں اور میرے والد کو میرے مال کی ضرورت ہے ۱؎ تو آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا: تم اور تمہارا مال تمہارے والد ہی کا ہے (یعنی ان کی خبرگیری تجھ
پر لازم ہے) تمہاری اولاد تمہاری پاکیزہ کمائی ہے تو تم اپنی اولاد کی کمائی میں
سے کھاؤ۔ (سنن ابي داود: 3530)
یہ حدیث بتاتی ہے کہ باپ ضرورت کے وقت بیٹے کے مال سے لے سکتا ہے،
بنابریں مقروض باپ کو بیٹے نے جو کچھ دیا وہ اپنے باپ کے ساتھ تعاون ہے، اس لئے
بیٹے کا مطالبہ درست نہیں ہے۔
سوال: اگر کسی کو احتلام ہوجائے یا میاں
بیوی کے درمیان جماع ہو اور صبح کے وقت غسل نہیں کیا جاسکتا ہو ، بارش یا ٹھنڈ کی
وجہ سے تو نماز فجر کیسے ادا کرے جبکہ غسل کی استطاعت نہ ہو؟
جواب:اگر کسی کو فجر سے پہلے احتلام ہوجائے یا وہ جنابت
کی حالت میں ہو تو اس کے اوپر غسل کرنا لازم ہے۔ آج کل ٹھنڈے پانی کو گرم کرنے کی
سہولت بھی موجود ہے لہذا موسم سرما میں ٹھنڈے پانی کو گرم کرکے بآسانی غسل کیا
جاسکتا ہے۔اگر پانی گرم کرنے کی سہولت نہ یا پانی کا استعمال صحت کے اعتبار سے
نقصان دہ ہو تب تیمم کرکے نماز فجر ادا کی جاسکتی ہے۔
سوال: اگر کسی سے شہوت کے ساتھ مذی خارج ہو جائے یا بغیر شہوت کے تو ایسی صورت
میں بغیر غسل کئے تلاوت کرنا کیسا ہے؟
جواب:شہوت کے ساتھ خارج ہونے والا گاڑھا مادہ منی
کہلاتا ہے یعنی جو شہوت بھڑکنے سے احساس شہوت کے ساتھ مادہ خارج ہو، وہ منی ہے اس
سے غسل لازم آتا ہے، یہ جنابت کی حالت ہے اور جنابت کی حالت میں تلاوت ممنوع ہے۔
شہوت کے بغیرپتلے پانی کی طرح لیس دار مادہ خارج ہو، اسے مذی کہتے ہیں ۔ مذی
ناپاک ہے، اس کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ جس کے بدن میں مذی لگی ہو پہلے وہ اس
کی صفائی کرے پھر تلاوت کرے کیونکہ مذی ناپاک ہے۔
سوال:ایک شخص دین کا بہت سارا کام کرتا
ہے جیسے پڑھنا پڑھانا اور درس و تدریس وغیرہ لیکن مسجد میں نماز نہیں پڑھتا سوائے
جمعہ کے کیونکہ مسجد گھر سے دور ہے ایسے شخص کا عذر جائز ہے؟
جواب:جو بندہ لوگوں کے درمیان دین کا بہت کام کرتا ہے،
لوگوں کو پڑھاتا اور درس بھی دیتا ہے ، آخر وہ لوگ کس قسم جگہ رہتے ہیں، کیا یہ سب
لوگ گھر گھر نماز پڑھتے ہیں، کیاوہاں کوئی مسجد نہیں ہے؟
جہاں پر مسلمان مرد حضرات موجود ہیں، وہاں کے لوگوں کو
نماز پڑھنے کے لئے مسجد قائم کرنا چاہئے اور جب تک وہاں مسجد نہیں ہوجاتی ہے، ایک
جگہ جمع ہوکر سارے مرد جماعت سے نماز ادا کریں گے۔
مردوں کے ذمہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا واجب ہے،
بغیر عذر کے ترک جماعت سے گناہگار ہوگا۔ جمعہ والی مسجد دور ہے تو دور رہنے والے
اپنی جگہ مسجد قائم کریں تاکہ پنج وقتہ نمازیں جماعت سے مسجد میں ادا کیا کریں۔
سوال: میں آن لائن قرآن پڑھاتی ہوں، اسلام
آباد لاہور میں کراچی سے نماز کا وقت مختلف ہوتا ہے۔ جب کراچی میں اذان ہوتی ہے تو
اس وقت قرآن سننا روک دیتی ہوں لیکن جو قرآن سنا رہی ہے، وہ بھی اس وقت قرآن کی
تلاوت روک دے؟
جواب:جو آدمی کہیں سے درس کا کام کررہا ہے، وہاں پر
اذان ہونے لگے تو اس مدرس کو تعلیم بند کردینا چاہئے تاکہ وہ اذان کا جواب دے ۔
مدرس اذان کا جواب بھی دے اور قرآن بھی سنے، یہ ٹھیک نہیں ہے۔ایک وقت میں ایک ہی
کام ہوسکتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اذان کا جواب دینا اس کے ذمہ ہے جو
اپنے کانوں سے مسجد کی اصل اذان سنے، کسی ایپ کے ذریعہ کہیں اذان کی آواز جائے تو
اس کے سننے والے پر اذان کا جواب دینا نہیں ہے۔
بہر کیف! اصل اعتبار مدرس کا ہوگا، ان کی جگہ اذان ہونے
لگے وہ درس بند کردےبلکہ درس کے لئے مناسب وقت کا انتخاب کرے جس سے وقت پر مدرس و طالب دونوں نماز ادا کرسکیں۔
سوال: ایک خاتون کے گھر میں کسی کا جنم
دن ہے، اس جنم دن کی خوشی میں اس کے گھر میں کچھ نیا بنا ہوا ہے اور سسرال والے
بہت سخت ہیں۔ اگر وہ جنم دن کی خوشی میں بنا ہوا کھانا نہیں کھائے گی تو بات بہت
خراب ہوسکتی ہے، لڑائی جھگڑا ہونے کا اندیشہ ہے۔ ایسے میں کیا وہ کھانا کھاسکتی ہے
جبکہ اس کی نیت بالکل صاف ہے، وہ جنم دن سمجھ
کر کھانا نہیں کھارہی ہے بلکہ ایک عام کھانا سمجھ کر کھارہی ہے؟
جواب:اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عورت اپنے سسرال میں
خصوصا جوائنٹ فیملی میں کمزور ہوتی ہے مگر ہر عورت کو یہ سمجھنا ہے کہ وہ سسرال
میں اپنے شوہر کی وجہ سے ہے۔ اس کا شوہر اس کا نگراں و محافظ ہے۔
مذکورہ مسئلہ میں جنم دن کا کھانا کھانا، یہ محض ایک
مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ کئی مسائل جڑے ہوئے ہیں۔ ایک مسئلہ تو یہ بھی ہے کہ
عورت کو جنم دن کا کھانا بھی بنانا پڑتا ہوگا، پھر گھر میں سارے لوگ نئے نئے کپڑے
پہنتے ہوں گے اور گھر کو سجایا جاتا ہوگا، اس میں وہ عورت بھی شریک ہوگی۔ اس کے
بعد اصل مسئلہ یہ ہے کہ گھر میں ایک غلط کام ہورہا ہے، اس کو روکنے والا کوئی نہیں
ہے، سبھی اسے جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
ان ساری باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک عورت اپنے
محافظ و نگراں یعنی شوہر کے ذریعہ اور پہلے اس کو منواکر اپنے گھر سے اس رواج کا
خاتمہ کرنے کی کوشش کرے۔ اس میں مشکل درپیش ہوسکتی ہے لیکن کوشش کرنے سے اللہ
تعالی نیک کام میں برکت دے گا اور گھر سے برائی ختم ہوسکتی ہے۔ اپنی کوشش جاری
رکھتے ہوئے ، جب تک عورت کمزور حالت میں ہے، وہ حکمت کا معاملہ کرے، رسم و رواج سے
بچے اور اس قسم کے کھانے میں شرکت نہ کرنے پر فتنہ کا اندیشہ ہو یا اس کے لئے کوئی
بڑا نقصان دہ مسئلہ ہو تو دل میں برا جانتے ہوئے کھالے مگر اس کے ذمہ جو دینی
فریضہ ہے، اسے انجام دینے کی کوشش کرتی رہے۔
سوال: میرا لڑکا داڑھی رکھتا ہے، ایک جگہ
جاب مل رہی ہے لیکن وہاں پر کچھ داڑھی کاٹنے کو کہا جارہا ہے، ایسے میں کیا کرنا
چاہئے؟
جواب:یہ اللہ کا شکر اور احسان ہے کہ آپ کے بیٹے نے
داڑھی رکھی ہے اور یہ داڑھی رکھنا اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی وجہ سے ہے لہذا
کسی انسان کی وجہ سے یا نوکری کی وجہ سے داڑھی کٹانے کے لیے نہ بولیں۔ آج تھوڑی سی
داڑھی کٹانے کے لیے کہا ہے، کل پوری داڑھی کٹانے کے لیے بھی کہہ سکتا ہے اور ویسے
بھی جو آدمی داڑھی کاٹنے لگتا ہے وہ اپنے دل سے داڑھی کی اہمیت کو بھلا بیٹھتا ہے۔
بعد میں وہ مونڈ بھی دے تو اس کے لئے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اللہ نے زمین کافی وسیع بنائی ہے، یہاں پر روزگار کی
کمی نہیں ہے۔ میرا مشورہ یہ ہوگا کہ دوسرے روزگار کو تلاش کرنے کہیں، جہاں پر
آسانی کے ساتھ دین پر عمل کرنے کی آزادی ہو۔
سوال: عورت کا ستر کھلا ہوا ہو یا سر کے
بال سے کپڑا ہٹا دیا تو کیا وضو باقی رہے گا؟
جواب:عورت کے سر پر دوپٹہ نہ ہو یا سر سے دوپٹہ سرک
جائے یا بال کا کچھ حصہ ظاہر ہو جائے، ان سب باتوں سے عورت کا وضو نہیں ٹوٹتا ہے،
وضو اپنی جگہ پر باقی رہتا ہے حتی کہ جسم کا کوئی اور ستر ظاہر ہو جائے اس سے بھی
وضو نہیں ٹوٹتا ہے۔
وضو کرتے وقت عورت کے سر پر دوپٹہ نہ ہو، تب بھی اس کا
وضو درست ہے اور وضو کرنے کے بعد سر پہ دوپٹہ نہ ہو تب بھی اس کا وضو قائم رہتا
ہے۔
سوال: کیا عورت غیرمحرم جو دیور یا
بہنوئی ہو، اس کے ساتھ دور کا سفر کرسکتی ہے؟
جواب:کسی اجنبی مرد کو کسی خاتون کی تنہائی میں رہنے سے
منع کیا گیا ہے، غیر محرم کے ساتھ عورت کا سفر کرنا اور بھی بڑا گناہ ہے۔
نیز عورت کے لیے اس کا دیور انتہائی خطرناک ہے، دیور کو
عورت کے لیے موت قرار دیا گیا ہے۔ ٹھیک اسی طرح عورت کے لیے اس کا بہنوئی بھی ہو
سکتا ہے۔
جب ایک عام غیرمحرم کے ساتھ عورت کا سفر کرنا ممنوع ہے
پھر جو عورت کے لیے موت کے برابر ہو اس کے ساتھ سفر کرنا انتہائی زیادہ سنگین ہے
اس وجہ سے عورت کو اس طرح دور کا سفر کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
سوال: ایک عورت کے پاس سونے کے زیورات
ہیں لیکن وہ زکوۃ نہیں ادا کر سکتی، اس نے یہ زیور ابنے بچیوں کی شادی کے لئے رکھا
ہے، وہ خود بھی زیادہ نہیں پہنتی۔ اب وہ یہ چاہتی ہے کہ ان زیورات کو
بچیوں کے نام تھوڑا تھوڑا تقسیم کر دے تاکہ نصاب سے کم ہو جائے اور وہ خود بھی
بچیوں کی چیز نہیں استعمال کرے گی، کیا ایسا کرنا درست ہے؟
جواب:کسی خاتون کا محض اس ڈر سے اپنے زیورات بچیوں کے
نام تقسیم کرنا تاکہ زکوۃ نہ دینا پڑے درست نہیں ہے۔ البتہ یہ معاملہ درست ہے کہ
عورت اپنے زیورات بچیوں کی شادی میں دینا چاہتی ہے تو اپنے زیورات کو بچیوں کے نام
مختص کر دے تاکہ یہ واضح رہے کہ یہ حصہ فلاں بچی کے نام ہے، یہ حصہ فلاں بچی کی
نام ہے۔اس طرح تقسیم کرنے کے بعد کسی کا زیور نصاب تک نہ پہنچے تو پھر زکوۃ دینے
کی ضرورت نہیں ہے۔
سوال: اگر کسی عورت کو سونے کی انگوٹھی
پڑی ملے تو کیا وہ اس کی قیمت نکال کر غریب رشتہ داروں میں تقسیم کردے اور کچھ رقم
اپنے بچوں کو دے سکتی ہے یا ایسی چیز کا کیا کرنا چاہئے؟
جواب:اگر کسی کو اپنے قرب و جوار اور محلہ میں قیمتی
چیز جیسے سونے کی انگوٹھی ملے تو ظاہر سی بات ہے کہ یہ اسی محلے میں موجود کسی کی
ہوسکتی ہے لہذا محلے والوں میں سے سب سے پوچھا جائے گا اور جس کی انگوٹھی ہو اس کو
لوٹانا پڑے گا۔
اگر قریبی جگہ نہ ہو بلکہ راستہ ، بازار اور چوراہوں پر
ملے تو اس کا لوگوں میں ایک سال تک اعلان کرے یعنی انگوٹھی اٹھاکر اپنے پاس نہیں
رکھ لینا ہے بلکہ اسے لوگوں کے مجمع میں اعلان کرکے بتانا ہے کہ کسی کی انگوٹھی گم
ہوگئی ہے۔ ایک سال تک پہچان کرائے ، ایک سال تک کوئی لینے کے لئے نہ آئے تو اس
انگوٹھی کو اٹھانے والا اپنے لئے استعمال کرسکتا ہے تاہم وہ اس کی صفت یاد رکھے
کیونکہ یہ چیز اس کے ذمہ میں ہوگی۔ جب صاحب انگوٹھی کسی دن آجائے خواہ پانے والے
نے بیچ بھی دیا ہو تو اسے اس کی قیمت یا انگوٹھی واپس کرنی پڑے گی۔ ایک سال تک
پہچان کرانے کے بعد اس کو اپنے مصرف میں استعمال کرسکتے ہیں یا اگر اس کے نام سے
صدقہ کرنا چاہے تو صدقہ بھی کرسکتا ہے۔
سوال:میرا بھائی کعبہ کے قریب تھا، اس کو
ایک آدمی نے اپنی انگوٹھی بڑھا یا،تاکہ وہ کعبہ سے مس کراکر دے، اس نے ایسا کردیا
، کیا یہ صحیح تھا؟
جواب: ایسا کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ قرآن و حدیث میں
اس کی کوئی دلیل نہیں ملتی ہے اس وجہ سے اس عمل کو بدعت کہیں گے۔ آپ کے بھائی کو
چاہئے تھا کہ وہ اس آدمی کو اس کام سے منع کرے، انگوٹھی کعبہ سے مس کراکر نہیں
دینا تھا بلکہ اس بندے کو صحیح بات بھی بتانی تھی کہ ایسا کرنا غلط ہے۔ اگر اس
بندے نے شفا کی نیت سے ایسا کروایا ہوگا تو یہ شرکیہ عمل ہوجائے گا۔
سوال: ایک آدمی اپنے مرحومین کی طرف سے
صدقہ کرتا ہے جیسے دادا کی طرف سے سو ریال ، دادی کی طرف سے سو ریال ، فلاں کی طرف
سے سو ریال ۔ کیا ایسا کرنا درست ہے اور صدقہ کرنے والے کو صدقہ کرنے کا اجر ملے
گا؟
جواب : ہاں ایسا صدقہ کرنا جائز ہے، اس میں حرج نہیں ہے
بلکہ بہتر ہے کہ وہ جتنا ریال صدقہ کرنا چاہتا ہے وہ اتنا ریال فقراء و مساکین میں
ان سب کی اکٹھے نیت کرکے تقسیم کردے۔ اس طرح صدقہ کرنے سے صدقہ کرنے والے کو بھی
اجر ملے گا۔
سوال: ایک آدمی امریکہ میں ایک سال کے
لئے وزٹ ویزہ پر ہے مگر وہ کام بھی کرتا ہے، کام محنت سے اور صحیح کام کرتا ہے تو
کیا اس کی کمائی حلال ہے؟
جواب: جو آدمی امریکہ میں وزٹ ویزہ پر ہے، وہ ایک طرح
سے اس ملک کے نظام کی پابندی کرتے ہوئے رہنے کا عہد بھی کیا ہوگا مگر اس عہد کی
مخالفت کرتے ہوئے کام کررہا ہے ۔ یہ قدم اس کا غلط ہے اور حکومت کے نظام کے خلاف
ہے ، وہ ایک قسم کی بدعہدی کررہا ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ مسلمان اپنی شرطوں یعنی
عہدوں کی پابندی کرتا ہے۔ گوکہ حلال طریقے سے کمانے پر اس کی کمائی فی نفسہ حلال
ہے مگر اس کا یہ عمل ملکی نظام اور اس کے ساتھ کئے گئے عہد کے خلاف ہے لہذا وہ اس
عمل سے باز آجائے۔ اگر وہاں کمانا ہے تو نظامی طور پر کمائے ورنہ جس مقصد کا ویزہ
ہے اس کے مطابق وہاں رہائش اختیار کرے۔
سوال: لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ سے نیک لوگوں کا واسطہ یا وسیلہ دے کر کیوں نہیں
مانگ سکتے ہیں جبکہ ہم بھی تو ذریعہ اور وسیلہ ہی سے پیدا ہوئے ہیں، ان کو کیسے
سمجھائیں؟
جواب:اس میں پہلی بات یہ ہے کہ دین عقل پر مبنی نہیں ہے
کہ کوئی اپنی عقل سے دینی مسئلہ نکالے جیسے کوئی کہے ہم تو ایسے پیدا ہوئے ہیں تو
فلان دینی کام بھی ایسے کرنا چاہئے۔ نہیں ہرگز نہیں۔ دین، کتاب اللہ اور سنت رسول
پر مبنی ہے لہذا عقل سے دین کو نہیں تولیں گے بلکہ یہ دیکھیں کہ اللہ کی کتاب میں
کیا لکھا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی سنت میں کیا لکھا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اللہ کی شان سب سے بلند اور سب سے
نرالی ہے، اللہ کے اوصاف میں سے ایک صفت ہے، "لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ"
(الشوری:11) یعنی اللہ کے جیساکہ کوئی بھی نہیں ہے۔ اس آیت میں اللہ نے ایک قاعدہ
بیان کیا ہے کہ اس جیسا، اس کے برابر اور اس کے مثل کوئی بھی چیز نہیں ہے۔ اس وجہ
سے ہم اپنے معاملات میں اللہ کی مثال نہیں بیان کریں گے جیسے ہم یہ نہیں کہیں گے
کہ ہم تو وسیلہ اور ذریعہ سے پیدا ہوئے تو اللہ سے کیوں نہیں وسیلہ سے مانگ سکتے
ہیں؟ اللہ کی شان بہت بلند ہے، ہمارا اللہ سے کوئی مقابلہ ہی نہیں بنتا، ہم اپنے
معاملات پر اللہ کو قیاس ہی نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ اس کے جیساکہ کوئی بھی نہیں
ہے۔
چونکہ دین کتاب اللہ اور سنت رسول پر مبنی ہے تو ہم
دیکھیں کہ قرآن و حدیث میں رب کو کیسے پکارنے کو کہا گیا ہے؟
قرآن کہتا ہے: وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ
لَكُمْ (غافر:60)
ترجمہ: اور تمہارے رب نے کہا کہ مجھ سے دعا کرو ، میں
تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا۔
قرآن میں ہم سب کا خالق و مالک خود ہی حکم دیتا ہے کہ
تم مجھے ہی براہ راست پکارو، تمہیں کسی وسیلہ کی ضرورت نہیں ہے۔ جب یہ ہمارے رب کا
حکم ہے، پھر انسان اپنی عقل سے رب کے بارے میں غلط مثال پیش کرتا ہے اور انسان غلط
طریقے سے رب کو کیوں پکارتا ہے۔ ہمارا رب تو بڑی شان والا ہے، وہ دور و نزدیک میں
سے ہر کسی کی بولی سنتا، سمجھتا اور جواب دیتا ہے پھر اس شان والی ذات کے لئے
وسیلہ لگانے کی ضرورت کیوں ہے؟
انسان کمزور مخلوق ہے، انسانوں کو اپنے دنیاوی کاموں
میں کہیں کہیں وسیلہ کی ضرورت پڑتی ہے، کیونکہ وہ انسان ہے، وہ مخلوق ہے مگر اللہ
تو ہمارا خالق ہے۔ کیا ہم خالق کو بھی اپنے جیساسمجھ رہے ہیں۔ لاحول ولا قوۃ۔
اسی طرح ہم سب کے پیارے حبیب محمد ﷺ فرماتے ہیں:
إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ
فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ(سنن ترمذي:2516)
ترجمہ:جب تم کوئی چیز مانگو تو صرف اللہ سے مانگو، جب
تو مدد چاہو تو صرف اللہ سے مدد طلب کرو۔
یہ حدیث بھی ہمیں بتاتی ہے کہ ہمیں صرف اور صرف اللہ سے
مانگنا چاہئے، نیز اس میں کسی آدمی، بزرگ یا نبی و ولی کے وسیلہ کی کوئی ضرورت
نہیں ہے۔ جو لوگ دعاؤں میں نبیوں ، ولیوں اور بزرگوں کا وسیلہ لگاتے ہیں وہ اللہ
اور اس کے رسول کے حکم کے خلاف عمل کرتے ہیں۔ اللہ ایسے لوگوں کو سیدھے راستے کی
ہدایت فرمائے۔ آمین
اس بارے میں آخری بات یہ ہے کہ ہم اللہ کو اس کے اسمائے حسنی کے ذریعہ پکار
سکتے ہیں اور دعا میں اپنے نیک اعمال کا وسیلہ بھی لگاسکتے ہیں کیونکہ قرآن و حدیث میں اس کا
ثبوت ملتا ہے، اسی طرح زندہ آدمی سے دعا
کے لئے درخواست کر سکتے ہیں مگر دعا میں میت کا وسیلہ نہیں لگاسکتے کیونکہ وہ وفات
پاگئے اور میت نہ سنتا ،نہ وجواب دیتاہے
اور نہ میت کا وسیلہ لگانے کی کوئی صحیح دلیل نہیں ملتی ہے۔
سوال: میرا بیٹا انڈیا کے نیشنل
انسٹیٹیوٹ میں پڑھتا ہے ہاسٹل میں رہ کر کے جو حکومت کے ماتحت ہے اور الحمد اللہ
ہر طالبِ علم کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی ہے، پنج وقتہ نماز مسلمان بچے
ہاسٹل ہی کے کسی خالی کمرے میں جماعت بنا کر ادا کرلیتے ہیں اور جمعہ کے لیے قریبی
مسجد چلے جاتے ہیں، لیکن ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ انسٹیٹیوٹ کا فیسٹ چل رہا تھا تو
تین دن تک کسی کو باہر جانے کی اجازت نہیں تھی اور اس دوران جمعہ آگیا تو ہاسٹل کے
ایک خالی کمرے میں بچے جمع ہوے اور ایک لڑکے نے خطبہ دیا اور جمعہ کی نماز پڑھائی،
کیا یہ عمل درست ہے؟
جواب:ویسے جماعت اور جمعہ ساری نمازیں مردوں کو مسجد
میں حاضر ہوکر جماعت سے ادا کرنا چاہئے لیکن کہیں پر عذر کے باعث ایک جگہ جمع ہوکر
لوگ جماعت قائم کرسکتے ہیں، جب مسجد کچھ دوری پر ہو۔
دوسری بات یہ ہے کہ عذر کے باعث ہاسٹل میں جمع ہوکر جمعہ
کی نماز اداکرلی گئی، اس میں حرج نہیں ہے لیکن یہ خیال رہے کہ جمعہ مسجد میں حاضر
ہوکر ہی پڑھنے کی کوشش کی جائے۔
سوال:اگر کوئی کسی کو یہ نیت کرکے زکوۃ
دیتا ہے کہ اگر یہ انسان ہمارا قرض واپس نہ کرپائے تو اس کو اگلے سال کی زکوۃ میں
شمار کرلیں گے، اور اس سے قرض واپس نہیں لیں گے۔ کیا یہ عمل جائز ہے؟
جواب:قرض کا معاملہ الگ ہے اور زکوۃ کا معاملہ الگ ہے، اس وجہ سے کوئی آدمی قرض دیتے وقت یہ
نیت نہیں کرسکتا ہے کہ اگر یہ قرض واپس نہ کرسکے تو اسے زکوۃ میں شمار کریں گے۔
نہیں ۔ یہ بالکل بھی درست نہیں ہے اور ایسے زکوۃ ادا نہیں ہوگی۔
کسی کو قرض دیتے ہیں اور اس کے لئے ادا کرنا مشکل ہو تو
مزید اس کو مہلت دیں، پھر بھی نہ دے سکے تو معاف کرسکتے ہیں، اس میں اجر ہی اجر
ہے۔
زکوۃ کا معاملہ یہ ہے کہ جب مال زکوۃ پر سال مکمل ہوگا،
اسی وقت زکوۃ کی رقم مستحقوں میں تقسیم کرنا ہے۔ زکوۃ دینے میں، زکوۃ دیتے وقت
مستحق کو مال دے کر اس کا مالک بنایا جاتا ہے، اس وجہ سے قرض کو زکوۃ نہیں مان
سکتے ہیں۔
سوال: ایک بھائی کا بیگ کا کاروبار ہے،
سال کے آخر پہ سو کے قریب بیگ بچ گئے ہیں تو کیا وہ ان کو زکوٰۃ کے طور پر ایک
ادارے کو دے سکتا ہے جہاں بچیوں کی شادی ہوتی ہے؟
جواب:جو کوئی بیگ کی تجارت کرتا ہے، اگر وہ بطور زکوۃ
بیگ کو ہی دینا چاہتا ہے تو اس میں حرج نہیں ہے یعنی سامان تجارت کو بھی زکوۃ میں
دے سکتے ہیں۔
رہا مسئلہ ایسے ادارہ کو زکوۃ دینا جو لڑکیوں کی شادی
کراتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر وہ ادارہ غریب و مسکین اور ضرورت مند لڑکیوں
کی شادی کراتا ہے تو اس ادارہ کو بیگ دے سکتے ہیں۔ غریب و امیر ہر قسم کی لڑکیوں
کی شادی کراتا ہے تو اس شرط پہ اس کو بیگ دیا جاسکتا ہے کہ اس کو صرف محتاج لڑکیوں
کی شادی میں دیا جائے۔
دوسری بات یہ ہے کہ زکوۃ دینے والے آدمی کو دیکھنا ہے
کہ اس کی زکوۃ کتنی بنتی ہے، جتنی زکوۃ بنتی ہے اس حساب سے زکوۃ دے گا، ایسے ہی
اندازہ سے نہیں۔ ہاں زکوۃ کچھ زیادہ نکل جائے، اس میں حرج نہیں ہے مگر زکوۃ کم نہ
نکلے۔
سوال: بنک اور میوچل فنڈز کے انویسٹمنٹ
سے آنے والی رقم کو حکومتی ٹیکس ادا کرنے میں دے سکتے ہیں کیونکہ انڈیا میں ٹیکس
دینا مجبوری ہے جیسے جی ایس ٹی اور روڈ ٹیکس کے علاوہ۔ ہر سال ہماری آمدنی کا
چالیس پچاس فیصد سے زیادہ حصہ ٹیکس میں چلا جاتا ہے جبکہ اس کے علاوہ ہم مسلسل
زکوۃ اور صدقہ بھی ادا کرتے ہیں؟
جواب:بنک میں اکاؤنٹ ہونا اس وقت ایک بڑی مجبوری ہے اس
لئے اس میں مسئلہ نہیں ہے لیکن میوچل فنڈ میں پیسہ لگانا اپنی مرضی کا کام ہے، یہ
تو پیسہ کمانے کے لئے کیا جاتا ہے لہذا کسی کے لئے میوچل فنڈ میں پیسہ جمع کرنا
جائز نہیں ہے، یہ سودی معاملہ ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ بنک سے جو سود ملے اس کو اپنے معاملہ
میں استعمال نہیں کرسکتے ہیں خواہ کسی قسم کا ٹیکس کیوں نہ ہو۔ ٹیکس حکومت کا
علاحدہ معاملہ ہے، اور صدقہ و زکوۃ الگ معاملہ ہے۔ سودی پیسے کو انتہائی فقیر و
مسکین کو دیں یا سماجی اور رفاہی کام میں صرف کردیں۔
سوال: اگر کسی نے جنابت کی حالت میں قرآن
کا کچھ حصہ پڑھ لیا ہو یا کسی بچی کو قرآن کا سبق پڑھا لیا، تو وہ کیا کرے، صرف
استغفار کافی ہے یا کوئی کفارہ دینا ہوگا ؟
جواب:صرف استغفار کرنا کافی ہے، کسی قسم کا کفارہ دینے
کی ضرورت نہیں ہے۔

