Tuesday, April 1, 2025

رمضان سے متعلق چند باطل افکاروعقائد کا علمی جائزہ

 

رمضان سے متعلق چند باطل افکاروعقائد کا علمی جائزہ

تحریر: مقبول احمد سلفی

جدہ دعوہ سنٹر- السلامہ-سعودی عرب

رمضان ایک مبارک و محترم اور عظمت و فضیلت والا مہینہ ہے ، سال میں ایک بار اللہ رب العالمین مسلمانوں کو قلب وروح کی تطہیر ، سیئات کی مغفرت، حسنات میں اضافہ اور اعلی درجات کے حصول کا موقع فراہم کرتا ہے۔ قابل مبارک باد ہیں وہ لوگ جو رمضان کے فیوض وبرکات سے مستفید ہوتے ہیں اور حسرت وافسوس ایسے لوگوں پرجو ماہ مبارک کی سعادت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ اس تحریر کے ذریعہ میں رمضان سے متعلق لوگوں میں پائے جانے والے چند باطل عقائد کی تردید کے ساتھ چندباطل افکار ونظریات کو واشگاف کروں گاجن میں بعض شہبات کاازالہ بھی شامل ہوگا۔ سب سے پہلےآپ کی خدمت میں            چند باطل عقائد کی حقیقت  پیش کرتا ہوں ۔

(1) رمضان کے استقبال میں روزہ رکھنے کی ممانعت: رمضان کے استقبال سے مراد یہ ہے کہ آپ رمضان کی آمد سے قبل توبہ کرلیں، اللہ کی طرف لوٹ جائیں اور رمضان میں کثرت کے ساتھ عبادات کرنے کے لئے خود کو تیارومتفرغ کرلیں ۔ اور یاد رکھیں کہ رمضان کے استقبال کا کوئی مخصوص طریقہ نہیں ہے، اس کی کوئی مخصوص دعا نہیں ہے اور نبی ﷺ نے رمضان کے استقبال میں اس کی آمد سے قبل روزہ رکھنے منع فرمایا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا يَتَقَدَّمَنَّ أَحَدُكُمْ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمَهُ فَلْيَصُمْ ذَلِكَ الْيَوْمَ(صحیح البخاری:1914)

ترجمہ: تم میں سے کوئی شخص رمضان سے پہلے (شعبان کی آخری تاریخوں میں) ایک یا دو دن کے روزے نہ رکھے البتہ اگر کسی کو ان میں روزے رکھنے کی عادت ہو تو وہ اس دن بھی روزہ رکھ لے۔

اس وجہ سے اگر کوئی رمضان کے استقبال میں ایک یا دو دن پہلے روزہ رکھتا ہے تو اس کا روزہ باطل ولغو ٹھہرے گاالایہ کہ اگر کسی کو روزہ کی عادت ہو تو اپنی عادت کے مطابق روزہ رکھ سکتا ہے جیسے کوئی سوموار یا جمعرات  کا روزہ رکھتا ہویا ایام بیض کا روزہ مہینہ کے آخر میں رکھتا ہو، یا نذر یا کفارہ یا قضا کا روزہ بھی رکھ سکتا ہے ۔

(2)روزہ کی فرضیت کا انکار: آج زمانے میں الحاد وکفر اس قدر تیزی سے پھیل رہا ہے کہ اس کے اثرات مسلمانوں میں بھی پائے جاتے ہیں اور بہت سارے لوگ  نام کے مسلمان نظر آتے ہیں جبکہ ان کا عمل وکردار ہرگز مسلمانوں جیسا نہیں ہوتا۔ روزہ کے تعلق سے دیکھیں تو بہت سارے مسلمان کہنے والے بغیرکسی عذر کے کبھی بھی رمضان کا روزہ نہیں رکھتے گویا رمضان کے روزہ سے ان کو کوئی سروکار نہیں ہے۔ بعض بے دین اپنی زبان سے صراحت کے ساتھ  روزہ کا انکاربھی کرتے ہیں جبکہ بعض زبان سے نہیں  بولتے ہیں مگر عملی طور سے ظاہرکرتے ہیں کہ وہ روزہ کے منکر ہیں ۔ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن روزہ بھی ہے ، جو کوئی اس رکن کا انکار کرے وہ مسلمان نہیں ہے۔ مسلمانوں میں روزہ چھوڑنے کے اعتبار سے کئی اقسام ہیں، ان سب کا حکم جاننے کے لئے شیخ ابن باز ؒکا ایک فتوی نقل کرتا ہوں ۔

شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ ایسے مسلمان کا کیا حکم ہے جو بغیر شرعی عذر کے کئی سالوں سے روزہ کا فریضہ ادا کرنے میں کوتاہی کرتا ہے جبکہ وہ دیگر فرائض کا التزام کرتا ہے۔ کیا اس کے اوپر قضا یا کفارہ ہے اور اگر اس کے اوپر قضا ہے تو ان تمام مہینوں کی کیسے قضا کرے گا؟

اس پر شیخ نے جواب دیا کہ جس نے رمضان کا روزہ ترک کیا اس حال میں کہ وہ مکلف ہو مرد یا عورت میں سے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی اور کبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا ،اس کے اوپر اس عمل سے توبہ کرنا ہے اور اس کی قضا کے ساتھ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا بھی کھلانا ہے اگر کھلانے کی طاقت رکھتا ہے اور اگر محتاج ہے یعنی  کھلانے کی استطاعت نہیں رکھتا تو اس کے لیے قضا اور توبہ ہی کافی ہے کیونکہ رمضان کا روزہ فرض ہے، اللہ تعالی نے مکلف مسلمانوں پر فرض قرار دیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پانچ ارکان میں سے ایک رکن قراردیا ہے۔ جو اسے چھوڑتا ہے اسے تعزیرا سزا دی جائے گی ، اس کے معاملہ کو ولی الامر یا هيئة الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر تک پہنچایا جائے گا، اگر وہ رمضان کے وجوب کا انکار نہیں کرتا اور اگر وہ رمضان کے وجوب کا انکار کرتا ہے تو وہ کافر ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کا انکار کرنے والا ہے، شرعی عدالت میں قاضی کی جانب سے توبہ قبول کروایا جائے گا، اگر توبہ کر لیتا ہے تو ٹھیک اور اگر توبہ قبول نہیں کرتا ہے تو وہ واجب القتل ہے مرتد ہونے کی وجہ سے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے جو اپنا دین بدل دے اس کو قتل کر دو۔ ہاں اگر کوئی مرض یا سفر کی وجہ سے روزہ چھوڑتا ہے تو اس کے اوپر کوئی حرج نہیں ہے البتہ اس پر واجب ہے کہ جب تندرست ہو جائے یا سفر سے واپس آئے تو اس کی قضا کرے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:جو بیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں یہ گنتی پوری کرنی چاہیے۔(ویب سائٹ شیخ ابن باز)

اس مقام پر ایک اور شرعی مسئلہ جان لیتے ہیں کہ بعض لوگ روزہ تو رکھ لیتے ہیں مگر وہ نماز نہیں ادا کرتے جبکہ روزہ کی طرح نماز بھی اسلام کا ایک رکن ہے بلکہ کلمہ کے بعد سب سے زیادہ نماز کی ہی اہمیت ہے۔ جو نماز کی فرضیت کا انکار کرے وہ مسلمان نہیں ہے ایسا آدمی روزہ رکھ لے تو اس کے روزہ کا کوئی فائدہ نہیں یا یوں کہیں کہ اس کا روزہ قبول نہیں ہوگا۔ جو زبان سے نماز کی فرضیت کا انکار نہ کرے مگرعمل بے نمازی والا ہواس کا روزہ بھی بے فائدہ ہےالبتہ جو سستی کی وجہ سے کبھی نماز پڑھے اور کبھی نہ پڑھے اس پر کافر کا حکم نہیں لگے گا تاہم فرائض میں کوتاہی کی وجہ سے کبائرکا مرتکب ماناجائے گا، ایسے شخص پرتوبہ  کرنا ضروری ہے۔

(3)آمدرمضان کی خوشخبری دینا:  رمضان کی آمد کی خبر دینے میں کوئی حرج نہیں ہے مگر لوگوں میں ماہ رمضان کی آمد سے قبل یہ خبرگردش کرتی ہے کہ " جس نے سب سے پہلے رمضان کی خبردی اس پر جہنم کی آگ حرام ہوگئی"۔ یہ جھوٹی خبر ہے مگر اسے رسول اللہ ﷺ کی طرف نسبت کی جاتی ہے جبکہ یہ اسلامی عقیدہ سے متصادم ہے۔ کوئی بغیرثبوت کے کوئی بات نہ نبی ﷺ کی طرف منسوب کرسکتا ہے اور نہ ہی بغیردلیل کے کوئی ثواب یا فضیلت بیان کرسکتا ہے ۔  ،نبی ﷺ کا فرمان ہے :

مَنْ كَذَبَ عَلَي مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ (صحیح البخاري:1291،صحیح مسلم:933) ۔

ترجمہ: جو شخص مجھ پر جھوٹ باندھے تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لے۔

چونکہ مذکورہ بالا خبرجھوٹی ہے، کتاب وسنت میں اس کی کوئی دلیل نہیں ہے لہذا کسی مسلمان کےلئے جائز نہیں ہے کہ رمضان کی آمد پہ  یہ جھوٹی بات بیان کرے اور یہ بھی معلوم رہے کہ نبی کی طرف عمدا  جھوٹی بات منسوب کرنے والا خود جہنم کا مستحق ہوجاتا ہے۔

(4)افطار میں احتیاط کا نظریہ:  احناف اور بریلوی دونوں افطار کرنے میں احتیاط سے کام لیتے ہیں اور اس میں پانچ سے دس منٹ کی تاخیر کرتے ہیں جبکہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

لاَ يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الفِطْرَ(صحیح البخاري 1957)

ترجمہ: لوگ اس وقت تک بھلائی پر رہیں گے جب تک وہ جلدی افطاری کرتے رہیں گے ۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ہی غروب شمس کا علم ہوفورا افطار کرلینا چاہئے ، اسی میں مسلمانوں کی بھلائی ہے بلکہ دوسری جگہ اس عمل کو مسلمانوں کی سربلندی کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا يَزَالُ الدِّينُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ، لِأَنَّ الْيَهُودَ وَ النَّصَارَى يُؤَخِّرُونَ(سنن ابي داود:2353، حسنہ البانی)

ترجمہ:دین برابر غالب رہے گا جب تک کہ لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے کیونکہ یہود و نصاری اس میں تاخیر کرتے ہیں۔

گویا افطار میں تاخیر کرنا یہود ونصاری کی علامت ہے، مسلمانوں کو افطار میں تاخیرسے باز رہنا چاہئے، جو لوگ عمدا افطار میں احتیاط کے نام پر تاخیر کرتے ہیں وہ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں جبکہ  اللہ تعالی نے محمد ﷺ کی زندگی میں ہمارے لئے بہترین اسوہ رکھا ہےاس لئے  اپنی عقل کو بالائے طاق رکھ کر دین اور عبادت میں رسول اللہ ﷺ کی سنت کی پیروی کرنا ہمارے اوپر لازم ہے۔افطار میں رسول اللہ ﷺکی اس سنت کو ترک کیا جاتا ہے بلکہ  حد تو اس وقت ہوجاتی ہے جب افطار میں سنت رسول کی مخالفت کرنے والے مقلدین، سنت کے مطابق عمل کرنے والے اہل حدیث سے کہتے ہیں کہ تم سب لوگوں کا روزہ قبول نہیں ہوگا کیونکہ تم لوگ افطار میں جلدی کرتے ہو۔

(5)   رمضان المبارک اور قضائے عمری: مقلدوں میں چھوٹی ہوئی نماز کے تعلق سے قضائے عمری کا عمل پایا جاتا ہے جبکہ شریعت میں عبادت کا معاملہ واضح ہے ۔ کسی کو بھی بال یا ذرہ برابر بھی عبادت میں اضافہ یا کمی کرنے کا اختیار نہیں ہےجبکہ احناف نے قضائے عمری کے نام سے باقاعدہ نمازکا طریقہ مشہورکر رکھا ہے اور جہال اس طریقہ پر عمل کرتے ہیں ۔ احناف نے قضائے عمری کی مختلف صورتیں بیان کی ہیں ، میں یہاں رمضان سے متعلق قضائے عمری کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں ۔

٭ قضائے عمری سے متعلق ایک بات یہ پھیلائی گئی ہے کہ رمضان کے آخری جمعہ کوایک دن کی پانچ نمازیں مع وتر پڑھ لی جائیں تو عمر بھر کی چھوڑی ہوئی نمازیں ادا ہوجائیں گی ۔ یہ لوگوں کا جھوٹ ہے، اس بات کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

٭قضائے عمری سے متعلق ایک دوسری بات یہ پھیلائی گئی ہے کہ" جو رمضان کے آخری جمعہ میں چار نفل ایک سلام سے پڑھ لے ، نماز کی ہررکعت میں فاتحہ کے بعد سات مرتبہ آیۃ الکرسی اور پندرہ مرتبہ سورت اخلاص پڑھ لے (کسی نےسورت اخلاص کی بجائے سورت کوثر بھی بتایا ہے) تو تمام عمر کی قضا نمازوں کا کفارہ ہوجائے گااگرچہ سات سوسال کی نمازیں قضا ہوں تب بھی یہ چار رکعت نماز کفارہ کے لئے کافی ہے"۔

حقیقت یہ ہے کہ ایسی کوئی روایت مستند کتب حدیث میں نہیں ہے البتہ ایک جھوٹی اور باطل روایت کا تذکرہ ملاعلی قاری حنفی اپنی کتاب "الموضوعات الکبری" میں کرتے ہیں کہ جو شخص رمضان کے آخری جمعہ میں ایک فرض نماز بطور قضاپڑھ لے تو اس کی ستر سال کی چھوٹی ہوئی نمازوں کی تلافی ہوجائے گی ۔ اس روایت کو ذکر کرکے ملا علی قاری خود فرماتے ہیں کہ یہ باطل روایت ہے بلکہ اس وقت علمائے احناف بھی قضائے عمری کے نام سے اس مروجہ چار رکعت والی نما ز کو باطل قراردیتے ہیں ۔ بریلوی علماء بھی اس مروجہ قضائے عمری کو بے اصل اور بدعت قرار دیتے ہیں اس کے باوجود حنفی عوام رمضان کے آخری جمعہ کو الوداعی جمعہ کا نام دے اس کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں اور قضائے عمری سے متعلق باطل عقیدہ رکھتے ہیں اور عمل بھی کرتے ہیں۔

(6) رمضان میں مخصوص عبادات :  اہل بدعت اور اہل تصوف میں رمضان کے دنوں میں بدعتی اعمال وعبادات کی بہتات ہے ۔ ذکر، دعا، تلاوت اور نماز سے متعلق مختلف قسم کے مصنوعی اور بدعتی اعمال انجام دئے جاتے ہیں جن سب کا اس مضمون میں احاطہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ آپ یہ سمجھ لیں کہ رمضان کی پہلی تاریخ سے لے کر آخری رمضان تک بلکہ شب عید تک بہتیرے قسم کے بدعتی وظائف و اعمال انجام دئے جاتے ہیں جیسے رمضان کی پہلی رات مخصوص عبادت وذکر کئے جاتے ہیں، عورتیں اہتمام وخصوصیت کے ساتھ صلاۃ التسبیح باجماعت پڑھاکرتی ہیں،شبینہ تراویح پڑھی جاتی ہے،ایام بیض کی چاندراتوں میں مخصوص اعمال انجام دئے  جاتے ہیں بلکہ  رمضان کی رات میں خصوصا گیارہ وبارہ کی درمیانی رات میں دودو کرکے  بارہ نوافل مخصوص طرزپر(ہررکعت میں فاتحہ کے بعد بارہ مرتبہ سورہ اخلاص پڑھنا ہے پھر آخر میں سومرتبہ درود پڑھ کر نبی ﷺ کو ہدیہ کرنا ہے) پڑھی جاتی ہے اس عمل سے ہرقسم کی مشکلات ، رکاوٹ ، بندش اور مصیبت وبلاٹل جاتی ہے ۔ صوفی لوگ اس نماز کے لئے خانقاہ میں باقاعدہ جماعت کراتےہیں ۔عبقری نام سے گمراہی پھیلانے والا شخص حکیم محمد طارق محمود مجذوبی لاہور میں تسبیخ خانہ تعمیر کررکھا ہے جس میں اس قسم کے بدعتی وظائف انجام دیتا ہے اور رمضان میں یہ بارہ نوافل کی باجماعت نماز پڑھاتا ہے۔ پھر شب قدر کی الگ الگ رات میں الگ الگ قسم کی مخصوص عبادت انجام دی جاتی ہے۔ ان تمام باطل وظائف اور عبادات کے سلسلے میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ کی عبادت اور اس کا ذکر صرف محمد ﷺ کے طریقہ کے مطابق کیا جائے گا۔ جو نبی ﷺ کے طریقہ سے ہٹ کر کوئی ذکر کرے یا کسی قسم کی عبادت انجام دے وہ باطل و مردود ہے، اللہ اسے قبول نہیں فرمائے گا۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ(محمد:33)

ترجمہ:اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کا کہا مانو اور اپنے اعمال کو غارت نہ کرو۔

اورسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَن عَمِلَ عَمَلًا ليسَ عليه أمْرُنا فَهو رَدٌّ(صحيح مسلم:1718)

ترجمہ:جو شخص ایسا کام کرے جس کے لیے ہمارا حکم نہ ہو (یعنی دین میں ایسا عمل نکالے) تو وہ مردود ہے۔

(7) خواتین کا گھر میں اعتکاف:اعتکاف کے لئے مسجد خاص ہے اس وجہ سے اگرعورت بھی اعتکاف کرنا چاہے تو اسے بھی مسجد میں ہی اعتکاف کرنا پڑے گا جیسے عہد رسول کی خواتین اور ازواج مطہرات مسجد میں اعتکاف کرتی تھیں مگر برصغیرہندوپاک میں عورتیں اپنے گھرمیں اعتکاف کرتی ہیں۔ اس سےان کا اعتکاف نہیں ہوگا۔ عورتوں کے اعتکاف کے لئے ضروری ہے کہ شوہر اس کی اجازت دے اور  مسجد میں عورتوں کے لئے علاحدہ محفوظ انتظام ہو تو وہ مسجدمیں اعتکاف کرسکتی ہیں ۔اگر عورت مسجد کو چھوڑ گھر میں اعتکاف کرے تو اس کا اعتکاف لغووباطل ہے۔

(8) الوداعی جمعہ کا تصور اور رمضان کی جدائی بیان کرنا:رمضان کے آخری جمعہ کو الوداعی جمعہ کہاجاتا ہے جبکہ الوداعی جمعہ کہنے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ جمعہ ہفتہ کا ایک دن ہے جو ہرہفتہ آیاکرتا ہے ۔پھر لوگ اس جمعہ کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں اور بعض بدعات کا بھی ارتکاب کرتے ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا ہےاور ایک بدعت رمضان کو رخصت کرنا اور اس کی جدائی کرنا ہے چنانچہ لوگوں میں رمضان کے رخصت کرنے کے پیغامات نشر ہونے لگتے ہیں  حتی کہ خطیب ممبر سے اس ماہ کو رخصت کرتا ہے اور رخصت کرنے کی ایک دعا بھی بیان کی جاتی ہے جس کی کوئی اصل نہیں ہے۔    درحقیقت یہ عمل ہی بدعت ہے۔ نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب سے رمضان کے رخصت کرنے اور رمضان کو الوداع کہنے کی کوئی دلیل نہیں ملتی اورنہ ہی اس کے لئے کوئی دعا ثابت ہے ۔

رمضان سے متعلق عقائد وعبادات کے باب میں اور بھی بہت تفاصیل ہیں مگر یہاں اہم باتوں کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے ، اب رمضان سے متعلق چند باطل افکار ونظریات اور چندشبہات وغلط فہمیوں  پر طائرانہ نظر ڈاتے ہیں ۔

(1)بعض جگہوں پر کچھ لوگ زور و شور سے یہ آواز بلند کررہے ہیں بلکہ اس پر عمل بھی کررہے ہیں کہ سعودی عرب کے حساب سے روزہ رکھنا چاہئے اور عید منانا چاہئے۔ یہ عمل دلائل اور اسلاف امت کے تعامل کے خلاف ہے ۔ نبی ﷺ نے چاند دیکھ کر روزہ رکھنے اور چاند دیکھ کر عید منانے کا حکم دیا ہے اس لئے روزہ اور عید میں سعودی عرب کی پیروی کرنے کا نعرہ لگانا امت میں انتشار پھیلانے جیساہے۔ بعض علاقوں میں وحدت رویت کا نعرہ لگانے والوں کے عملوں سے عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ ایسی صورت میں عوام سے اپیل ہے کہ کسی اختلاف کا شکارہوئے بغیر جماعت کو لازم پکڑے رہیں۔

(2)رمضان سے متعلق لوگوں کا ایک نظریہ یہ ہے کہ اس مہینہ میں شادی کرنا منع ہے جبکہ کتاب وسنت میں رمضان میں شادی کی کہیں پر ممانعت وارد نہیں ہے لہذا لوگوں کی یہ فکر باطل ہے۔ مسلمان رمضان میں بھی شادی کرسکتا ہے۔

(3)لوگوں میں یہ بات مشہور ہے کہ افطارکے وقت بندے اور رب کے درمیان کا پردہ اٹھا دیا جاتا ہے ۔ اس بات کی کوئی حقیقت نہیں ہے کیونکہ یہ کسی صحیح حدیث میں مذکور نہیں ہے ۔

(4)یہ بات بھی کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے کہ رمضان میں فوت ہونے سے حساب وکتاب نہیں ہوتا اور مرنے والا بلاحساب جنت میں چلاجاتا ہے ۔ ایک حدیث اس طرح کی آتی ہے کہ جو اللہ کی رضا کے لئے روزہ رکھے اور اسی حالت میں مرجائے تو جنت میں داخل ہوگا۔(احمد:22813) مگر اس میں بلاحساب جنت میں جانے والی بات مذکور نہیں ہے۔

(5)بعض لوگ رمضان کو زکوۃ ادا کرنے کا مہینہ سمجھتے ہیں اور   زکوۃ دینے کے لئے رمضان کا انتظار کرتے ہیں  جبکہ یہ بات درست نہیں ہے ۔ زکوۃ کا تعلق نصاب اور سال پورا ہونے سے ہے ۔جب مال  نصاب تک پہنچ جائے اور اس مال پرجب سال مکمل ہواسی  وقت زکوۃ ادا کرنا ہے۔اس سے متعلق یہاں پر چند مزید مسائل سمجھ لیں ۔

٭ اگر کسی کے مال زکوۃ پر رمضان سے پہلے سال مکمل ہورہا ہے اس کےلئے جائز نہیں ہے کہ وہ زکوۃ کی ادائیگی میں تاخیر کرے بلکہ جیسے مال پر سال مکمل ہواس کی زکوۃ اسی وقت فوراادا کرے ۔

٭ اگر کسی کے مال پر رمضان کے بعد مثلا ایک یا دو ماہ بعد سال مکمل ہورہا ہے ، ایسا آدمی اگر کسی فقیر ومحتاج کی ضرورت کی بناپر وقت سے پہلے رمضان میں زکوۃ دینا چاہے تو ضرورت ومصلحت کے تئیں وقت سے پہلے زکوۃ دی جاسکتی ہے مگر زکوۃ کی ادائیگی میں تاخیر جائز نہیں ہے۔

٭ تنخواہ والوں کو ماہ بماہ پورے سال تک تنخواہ ملتی رہتی ہے ، پورے سال کی تنخواہ پر ایک ساتھ سال گزرنا مشکل ہے ، ایسی صورت میں بعض اہل علم کی رائے یہ ہے کہ ملازم تنخواہ کی زکوۃ دینے کے لئے ایک مہینہ خاص کرلے اور ہرسال ایک مہینہ میں اس کے پاس جتنے پیسے ہوں سب جوڑ کر زکوۃ ادا کردے خواہ پیسوں پر جتنے بھی ایام گزرے ہوں ۔ رمضان ایک مبارک مہینہ ہے ، کوئی تنخواہ دار ملازم  آدمی رمضان کو زکوۃ کے لئے خاص کرلے تو ہرسال وہ رمضان میں اپنی تنخواہ کی زکوۃ ادا کیا کرے ۔ تنخواہ کی زکوۃ کے سلسلے میں یہ مناسب رائے ہے۔

٭ زکوۃ کے علاوہ صدقات کا معاملہ الگ ہے، آدمی اپنی مرضی سے جب چاہے اور جس قدر صدقہ کرے،رمضان میں نبی ﷺ کثرت سے صدقہ دیا کرتے تھے تو ہم بھی اپنی استطاعت کے حساب سے جتنا چاہیں نفلی صدقہ کریں۔

(6)تراویح پڑھانے والے زیادہ مال کے حرص میں جہاں زیادہ نذرانہ ملے اس جگہ کا انتخاب کرتے ہیں ، یہ قابل افسوس پہلو ہے ۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ خلوص وللہیت کے ساتھ جہاں جگہ خالی ملے وہاں تراویح پڑھائے، اس سے  عبادت میں خلوص رہے گا اور الحمدللہ تمام مساجد والے حفاظ کو نذرانہ ضرور دیتے ہیں اس لئے زیادہ نذرانہ کی حرص نہ کرے۔تراویح سے متعلق عام لوگوں  میں بھی ایک غلط نظریہ پایا جاتا ہے ،  وہ یہ ہے کہ  تراویح میں قرآن مکمل ختم ضروری سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے قیام اللیل کا اصل مقصد فوت ہوجاتا ہے ، نہ نماز میں سکون ہوتا ہے اور نہ تلاوت میں سنجیدگی ہوتی ہے۔تراویح میں اصل یہ ہے کہ سکون سے قرات کی جائے اور سکون سے قیام کیا جائے خواہ پورے رمضان میں جس قدر قرآن کے پارے ختم ہوسکیں ۔

(7)بعض لوگوں کے یہاں بلکہ اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ رمضان کی ستائیسویں رات شب قدر ہے اس وجہ سےدیگر راتوں کی بنسبت   اس رات کا اہتمام زیادہ ہوتا ہے ، کھانے پینے سے لے کر عمدہ لباس تک لگایا جاتا ہے اور بطور خاص اس رات صدقہ وخیرات کا زیادہ خیال کیا جاتا ہے جبکہ خاص ستائیسویں رات کو شب قدر سمجھنا غلط ہے ۔ نبی ﷺ کے فرمان کی روشنی میں  آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک شب قدر ہوسکتی ہے مگرخاص کون سی رات ہے کسی کو تعین کے ساتھ معلوم نہیں ہے۔ مسلمانوں کو رمضان کے آخری عشرہ کی تمام طاق راتوں میں عبادت پر اجتہاد کرنا چاہئے بلکہ آخری عشرہ کی تمام راتوں  میں عبادت کی جائے ، یہ زیادہ افضل ہے۔

(8)رمضان کے آخر میں ہرجگہ اور ہرکس وناکس کی زبان پہ یہ جملہ عام ہوتا ہے کہ امسال فطرانہ کتنا روپیہ ہے ؟ گویا لوگوں نے رقم کو ہی فطرانہ سمجھ رکھاہے اورانہیں گائیڈ کرنے والے علماء بھی ایسے ہی ہیں جو پہلے سے کلکولیٹرسے حساب کئے بیٹھے ہوتے ہیں۔ فطرانے کی اصل فی کس ڈھائی کلو اناج ہے ۔فطرہ دینے والا کھانے کے کسی بھی اناج سے ڈھائی کلو دے سکتا ہے ۔ ایک ریٹ لگانے والے علماء کو اناج کے بجائے روپیہ نکالنے اورایک مخصوص اناج کا ریٹ فکس کرنے کا کس نے اختیار دیا ہے ؟ علماء کو چاہئے کہ لوگوں کو فطرانے کی حقیقت بتائیں تاکہ فطرانہ لینے اور دینےوالے تمام لوگوں کو آسانی ہو۔ یہ الگ بات ہے کہ بوقت ضرورت فطرانے کی رقم بھی نکالی جاسکتی ہے ۔

اختصار کے ساتھ میں نے رمضان المبارک سے متعلق غلط قسم کے بعض  افکار ونظریات اور عقائدواعمال کا جائزہ پیش کردیا ہے۔ آخر میں اللہ رب العالمین سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں اخلاص وللہیت کے ساتھ اپنی بندگی کرنے اور سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق بخشے ۔آمین

 

مکمل تحریر >>

Sunday, March 2, 2025

پب جی: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں


 پب جی: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

تحریر: مقبول احمد سلفی

جدہ دعوہ سنٹر،حی السلامہ – سعودی عرب

 

مختلف قسم کے ویڈیو گمیز میں ایک نام پب جی(PUBG) کا  بھی آتا ہےجسے بچے ، جوان بوڑھے سبھی بڑے شوق سے کھیلتے ہیں ۔ پب جیPlayer Unknown’s Battlegrounds)) کا مخفف ہے یعنی یہ ایک فرضی جنگ والی ویڈیوگیم ہے۔اس گیم کے بارے میں اس کے کھیلنے والے سے سنیں یا اس کھیل کے کھلاڑی کا حال جانیں تو معلوم ہوگا کہ اس گیم میں مثبت پہلو رتی برابر بھی نہیں ہے مگر منفی اثرات بڑے گہرے اور وسیع ہیں ۔

چونکہ یہ  ایک فرضی جنگی گیم ہے جیساکہ نام سے بھی ظاہر ہے اس وجہ سے اس میں مارنا، قتل کرنا، ہتھیار چلانا ، ایک دوسرے کو مٹانا اور برباد کرنا یہی سارے کام انجام دئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے اس کھیل سے  سماج پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں حتی کہ کھیلنے والے آدمی کو ذہنی مریض تک بنادیتا ہے اسی کا اثر ہے کہ پپ جی کھیلنے والوں میں سے کتنے لوگوں نے خود کو ہی ماردیا تو کسی نے اپنے ہی گھر کے لوگوں کا قتل کردیا یا اپنے دوستوں کو نقصان پہنچایا۔ عام طور سے ماہرین نفسیات اس کھیل کے منفی اثرات ہی بیان کرتے ہیں ۔ حد تک یہ ہے کہ  گھریلو اور معاشرتی نقصان کی وجہ سے ملکی سطح پر اس کھیل پر پابندی لگانے کا مطالبہ تک کیا جاتا ہے۔پب جی کھیلنے والوں نے کہاں کہاں کس کس کا قتل کیا اس کو ذکر کرنا یہاں مفید نہیں ہے، یہ انٹرنیٹ پہ بڑی تعداد میں موجود ہے تاہم یہاں یہ جانتے چلیں کہ اس کھیل کے کھیلنے کی وجہ سے کھلاڑی پر کیا کیانفسیاتی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ مندرجہ ذیل سطور میں آدمی پر مرتب ہونے والے چند اہم نفسیاتی اثرات ملاحظہ کریں۔

٭یوں تو تمام انٹرنیٹ گیموں کا حال یہ ہے کہ اس کی وجہ سے آدمی لوگوں سے لاتعلق ہوجاتا ہے مگر پب جی کا معاملہ کچھ زیادہ ہی سنگین ہے۔ اس کھیل کا نشہ اس قدر حاوی ہوتا ہے کہ ہرکسی سے کنارہ کش ہوجاتا ہےاور ایک کمرہ تک یا دوسروں سے تنہائی اختیار کرلیتا ہے ۔ پب جی جنگ کا مشن تمام فائٹر کو ختم کرکے اکیلا زندہ رہنا ہے ، یہی اکیلاپن زندگی میں آجاتا ہے اور لوگوں میں رہنا، کسی سے ملنا جلنا پسند نہیں آتا۔وہ اپنا وقت صرف پب جی کو دینا چاہتا ہے، یہی اس کا ساتھی، دوست اور دنیا ہے۔

٭اس کھیل میں نشہ اس قدر حاوی ہوتا ہے کہ آدمی  زندگی جینے کا سلیقہ کھودیتا ہے۔ کب سوناہے، کب جاگناہے، کب کھانا ہے ، کب  گھر اور باہر کی ذمہ داری ادا کرنا ہے ، اس سے بے پرواہ ہونے لگتا ہے  حتی کہ سامنے لذیذ کھانا پڑا ہو مگر دھیان پب جی کی طرف ہوتاہے۔ اس وجہ سے صحت کا نقصان ہوتا ہے  کیونکہ اس کے کھانے پینے اور سونے جاگنے اور آرام وراحت کے ترتیب یکسر بدل جاتے ہیں۔

٭اس کھیل کا منفی اثر براہ راست آدمی کی عقل پر پڑتا ہے جس کی وجہ سے وہ نفسیاتی اور ذہنی مریض بن جاتا ہے اور آج نفسیاتی مریضوں کی بڑی تعداد اس گیم کی بدولت ہے، جب انسان کی عقل  ہی سلامت نہ رہےپھر اس کے جسم کا کوئی عضو سلامت نہیں ہے۔

٭ہندی فلموں نے لوگوں میں آج تک جتنا تشدد نہیں پھیلایا اس سے زیادہ تشدد بہت کم وقتوں میں پپ جی اور اس جیسے دیگرگیموں نے پھیلایا ہے یہی وجہ ہے کہ  پب جی نے  لوگوں میں  چڑچڑاپن، بدمزاجی ، غصہ، لاتعلقی ، دشمنی، بدتمیزی  اور تشدد کے دیگرعناصر پیدا کئے  نتیجتا ایسے لوگ بسا اوقات خود کو بھی مارلیتے ہیں اور کبھی اپنے قریب سے قریب آدمی کو قتل کردیتے ہیں حتی کہ  مارنے میں ماں باپ یا بہن بھائی  تک کی تمیز کھوبیٹھتے ہیں۔

٭اس گیم کا ایک منفی پہلو یہ ہے کہ یہ آدمی کو اپنا اسیر بناکراسے اپنے فرض منصبی سے دور کردیتا ہے ۔ بایں سبب جو طالب علم ہوگااس کی تعلیم کا نقصان ہوگا، جو نوکری پیشہ ہوگا وہ اس میں کوتاہی کرے گا، جو استاد ہوگا وہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہ بن جائے گا اور جوسماج یا گھر کا ذمہ دار ہوگا وہ اپنی ذمہ داری صحیح سے نہیں اداکرپائے گا۔

پب جی کھیلنے کے یہ چند بڑے اہم منفی اثرات ہیں جو اس کے کھیلنے سے آدمی پر مرتب ہوتے ہیں ۔ یہ تو دنیاوی لحاظ سے پب جی کا نقصان آپ کے سامنے بیان کیا گیا ۔ اب اس گیم کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پرکھتے ہیں تاکہ اس کی شرعی حیثیت جان سکیں اور اس سے دوری اختیار کریں۔

اسلام نے ہمیں پانچ چیزوں کی حفاظت کا حکم دیا ہےجنہیں ضرورات خمسہ کہا جاتا ہے۔وہ پانچ چیزیں، دین، جان، عقل، نسب اور مال ہیں۔اس گیم کے ذریعہ ان پانچ چیزوں میں سے چار چیزوں کا نقصان نظر آتا ہے۔

پب جی اور دین کا نقصان:  یہ ایک لایعنی کھیل ہے، اس سے کافی وقت ضائع ہوتا ہے اور نفسیاتی طور پر آدمی اس کے سبب فرض منصبی میں کوتاہی کرتا ہے یہاں تک کہ وہ نماز جیسی عظیم عبادت سے غافل ہوسکتا ہے ۔ یہ عمومی نقصان ہے جبکہ اس میں دین کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ سنا گیا ہے اس کھیل میں ایک ایسا بھی مرحلہ آتا ہے جہاں پاور حاصل کرنے کے لئے بت کے سامنے جھکنا پڑتا ہے ۔ اگر واقعی اس کھیل میں یہ مرحلہ بھی  آتاہے تو یہ کھیل آدمی کو کفر میں داخل کررہا ہے جس سے اس کے دین کا بڑا نقصان ہورہا ہے۔

پب جی اور جان کا نقصان: چونکہ یہ جنگی گیم ہے اس سے لڑنے اور قتل کرنے کی عادت ڈالی جاتی ہے اس کے سبب حقیقت میں لوگوں کا قتل بھی ہورہا ہے ۔کھیلنے والا خود کا بھی نقصان کرتا ہے اور دوسروں کا بھی نقصان کرتا ہے، گویا اس سے انسانی جان کوخطرہ ہے اور یہ جانی نقصان کا سبب ہے اور اسلام ہر اس کام سے منع کرتا ہے جو جانی نقصان کا سبب بنے بلکہ ادنی نقصان پہنچنے والی چیزوں سے بھی  منع کرتا ہے۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:

وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ(البقرۃ:195)

ترجمہ:اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں مت ڈالو۔

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لا ضررَ ولا ضِرارَ( صحيح ابن ماجه:1910)

ترجمہ: نہ (پہلے پہل) کسی کو نقصان پہنچانا اور تکلیف دینا جائز ہے اور نہ بدلے کے طور پر نقصان پہنچانا اور تکلیف دینا۔

اس حدیث میں ایک اصول بیان کیا گیا ہے کہ نہ خود کو نقصان پہنچانا ہے اور نہ دوسرے کو نقصان پہنچاناہےبلکہ مسلمان کی تعریف ہی یہ ہے کہ اس کے ہاتھ اوراس کی  زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

المُسْلِمُ مَن سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِن لِسانِهِ ويَدِهِ، والمُهاجِرُ مَن هَجَرَ ما نَهَى اللَّهُ عنْه( صحيح البخاري:6484)

ترجمہ:مسلمان وہ ہے جو مسلمانوں کو اپنی زبان اور ہاتھ سے (تکلیف پہنچنے سے) محفوظ رکھے اور مہاجر وہ ہے جو ان چیزوں سے رک جائے جس سے اللہ نے منع کیا ہے۔

پب جی اور عقل کا نقصان:ماہرین طب و نفسیات کے تجربہ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پب جی کا انسانی عقل پر برا اثرپڑتا ہے جس سے آدمی ذہنی مریض بن جاتا ہے بلکہ یہ ہمارے مشاہدے کی بات ہے ۔ ہم آئے دن اپنی آنکھوں سے اس گیم سے لوگوں کی عقل خراب ہوتے اسی طرح دیکھ رہے ہیں  جیسے شراب سے عقل میں فتور پیدا ہوتا ہے۔ اسلام عقل کی حفاظت کا حکم دیتا ہے اس وجہ ہے جس کام سے بھی عقل کو نقصان پہنچے اس سے بچا جائے گا لہذا جیسے شراب یا نشہ آور چیزوں سے عقل کا نقصان ہوتا ہے اس سے بچنا ہے ویسے ہی پب جی سے بچنا ہے کیونکہ اس  کے کھیلنےمیں عقل کا نقصان ہے۔

پب جی اور مال کا نقصان: پپ جی ایسا کھیل ہے جس میں پیسہ لگاکر اکاؤنٹ بنایا جاتا ہے ، پھر پیسہ لگاکریاکویزخرید کر ہار جیت والا جوا کھیلا جاتا ہے ۔ اس میں ایک طرف بلاوجہ پیسہ ضائع کیا جاتا ہے تو دوسری طرف اس میں جوا بھی پایا جاتا ہے اور اسلام میں جوا کھیلنا حرام ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائدۃ:90)

ترجمہ:اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے پانسے سب گندی باتیں، شیطانی کام ہیں ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم فلاح یاب ہو۔

اور نبی ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا، قِيلَ وَقَالَ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ(صحيح البخاري:1477)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ تمہارے لیے تین باتیں پسند نہیں کرتا۔ بلاوجہ کی گپ شپ، مال کی بربادی اور لوگوں سے بہت مانگنا۔

آپ نے اندازہ لگایا کہ  اسلام نے جن پانچ اہم چیزوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے ان میں سے چار چیزوں کا نقصان پب جی سے ہورہا ہے  اور حقیقت بھی یہی ہےکہ  پب جی  ایک ایسا کھیل ہے جس میں  بے شمار نقصانات ہیں مگر اس میں ادنی سا بھی فائدہ نہیں ہے ، نہ عقل و ذہانت کا اور نہ ہی صحت وجسم کا بلکہ الٹاؤ نقصان ہی ہوتا ہے۔یہ  لایعنی ، فضول ، وقت ضائع کرنے والے اور فرائض وواجبات سے غافل کردینے والا   اور لہوو لعب میں مشغول کردینے والاکام ہے۔ اللہ تعالی اپنے بندوں کو ایسے فضول ولایعنی کاموں سے منع فرماتا ہے، اس سلسلے میں نصیحت حاصل کرنے کے لئے اللہ اور اس کے رسول کے چند فرامین ملاحظہ فرمائیں۔اللہ تعالی مومنوں کی صفات بتاتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:

قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ، الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ، وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ (المومنون:1-3)

ترجمہ:یقیناً ایمان والوں نے فلاح حاصل کرلی جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں اور جو لغویات سے منہ موڑ لیتے ہیں۔

اسی طرح ایک دوسرے مقام پر اللہ فرماتا ہے:

وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ(لقمان:6)

ترجمہ: اور لوگوں میں سے بعض وہ ہے جو غافل کرنے والی بات خریدتا ہے، تاکہ جانے بغیر اللہ کے راستے سے گمراہ کرے اور اسے مذاق بنائے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

من حسنِ إسلامِ المَرءِ تركُه ما لا يعنيه(صحيح الترمذي:2317)

ترجمہ:کسی شخص کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ لایعنی اور فضول باتوں کو چھوڑ دے۔

وقت کی اہمیت کا احساس دلانے کے لئے  نبی ﷺ نے ہمیں پانچ باتوں کی  بڑی قیمتی نصیحت فرمائی ہے، آپ ﷺ فرماتے ہیں:

اغْتَنِمْ خَمْسًا قبلَ خَمْسٍ : شَبابَكَ قبلَ هِرَمِكَ ، وصِحَّتَكَ قبلَ سَقَمِكَ ، وغِناكَ قبلَ فَقْرِكَ ، وفَرَاغَكَ قبلَ شُغْلِكَ ، وحَياتَكَ قبلَ مَوْتِكَ(صحيح الترغيب:3355)
ترجمہ:پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو، جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے، مالداری کو محتاجی سے پہلے، فراغت کو مشغولیت سے پہلے، اور زندگی کو موت سے پہلے۔

جو اپنے اوقات کی حفاظت نہیں کرتے اور خود کو رب العالمین کی عبادت کے لئے متفرغ نہیں کرتے ایسے لوگوں کے لئے بربادی ہی بربادی ہے، حدیث قدسی میں ہے۔

يقولُ اللَّهُ سبحانَه يا ابنَ آدمَ تفرَّغْ لعبادتي أملأْ صدرَك غِنًى وأسدَّ فقرَك وإن لَم تفعَلْ ملأتُ صدرَك شُغلًا ولم أسدَّ فَقرَكَ(صحيح ابن ماجه:3331)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم! تو میری عبادت کے لیے یک سو ہو جا تو میں تیرا سینہ بے نیازی سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور کر دوں گا، اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرا دل مشغولیتوں سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور نہ کروں گا۔

شرعی ناحیہ سے پب جی کی ایک غلطی یہ  بھی ہے کہ یہ جاندار لوگوں کا کارٹون والا گیم ہےیہاں تک کہ اس میں عورتوں کے عریاں کارٹون بھی ہوتے ہیں ۔ اور ہمیں معلوم ہے کہ اسلام میں جاندار کی تصویر استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔ اس سلسلے میں صحیح بخاری سے دو حدیث ملاحظہ فرمائیں۔

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: یقیناً یہ تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا، انہیں کہا جائے گا کہ جو تم نے پیدا کیا ہے اس کو زندہ بھی کرو۔(بخاری:5951)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب والے لوگ وہ ہوں گے جو اللہ تعالی کے تخلیق میں مقابلہ بازی کرتے تھے۔(بخاری:5954)

اب پب جی سے متعلق تمام اہم باتیں  آپ کے سامنے آگئیں ہیں۔ آپ نے  اس گیم سے ہونے والے  نفسیاتی نقصانات  اور مقاصد شریعت کے تحت آنے والے ضرورات خمسہ کے نقصانات کو پڑھ لیا ۔ان نقصانات کے سبب یہ گیم اسلامی اصول"لاضررولاضرار" ( نہ تکلیف دینا ہے اور نہ تکلیف مول لیناہے) کے خلاف ہے  ۔نیز یہ فضول لہوولعب ہے جووقت ومال ضائع کرنے والا ، عبادات سے غافل کرنے والا اور حرام تصویر کے زمرے میں آنے والا گیم ہے ۔بنابریں یہ کہنے میں قعطا کوئی ترددنہیں کہ پب جی کھیلنا اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جائز نہیں ہے۔ مسلم لڑکے اور لڑکیوں کو اس کھیل سے باز آجانا چاہئے  خصوصا گھر کے ذمہ دار کو چاہئے کہ اپنے ماتحتوں کی اچھی نگرانی کرے اور اپنے گھر والوں کو پب جی کھیلنے سے روکے۔

مکمل تحریر >>

قسطوں کے کاروبار کا حکم

 قسطوں کے کاروبار کا حکم

تحریر: مقبول احمد سلفی

جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ - سعودی عرب


آج کل زمانہ کافی ترقی کرگیا ہے، یہ ترقی ہرشعبہ میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ تجارتی معاملات میں بھی زمانے کے مطابق کافی بدلاؤ نظر آتا ہے اور آئے روز نئے نئے روزگار کے طریقے اور تجارت کی نت نئی اسکیمیں وجود میں آرہی ہیں۔ مروجہ تجارت کے مختلف طریقوں میں ایک طریقہ قسطوں کا کاروبار ہے۔ قسطوں کے کاروبار میں ایک چیز کی دو الگ الگ قیمت ہوتی ہے ۔ کوئی چیز نقد لینے پر الگ قیمت ہوتی ہے اور وہی چیز اھار اور قسطوں پر لینے میں زیادہ قیمت دینی پڑتی ہے۔ ایسی تجارت کے بارے میں اہل علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے یعنی بعض علماء قسطوں کے کاروبار کو جائز کہتے ہیں اور بعض علماء ناجائز کہتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ قسطوں کا کاروبار ناجائز ہے کیونکہ اس کاروبار میں متعدد قسم کی شرعی خامیاں پائی جاتی ہیں اور اس میں آدمی کے لئے نقصان وخطرہ بھی ہے۔ اور جب کسی تجارت میں کوئی شرعی خامی پائی جائے تو وہ شرعی نقطہ نظر سے ناجائز ہوتی ہے ۔ اس سلسلے میں ایک بہت ہی مشہور حدیث ہے جو مختلف الفاظ کے ساتھ کتب حدیث میں موجود ہے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ (سنن الترمذی:1231)

ترجمہ:ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیع میں دو بیع کرنے سے منع فرمایا۔

اس حدیث کو شیخ البانی نے صحیح قراردیا ہے۔

اس حدیث میں نبی ﷺ نے ایک بیع میں دو بیع کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ بیع سے متعلق یہ ایک عام حدیث ہے یعنی ایک بیع میں دو قسم کی بیع کی جو جو صورت پائی جاتی ہے وہ سب صورتیں ناجائز کہلائی گی کیونکہ نبی ﷺ نے عام حکم دیا ہے، اس کو خاص کرنے والا کوئی نص نہیں ہے لہذا اس ممانعت میں سلف سے وارد بیعتین فی بیعۃ کی ساری تفاسیر داخل مانی جائیں گی۔ چنانچہ امام ترمذی نے اس کی دو تفاسیر بیان فرمائی ہےجو پہلے اور دوسرے نمبر پرہے۔

(1)ایک بیع میں دو بیع کی ایک تفسیر یہ ہے کہ مثلاً کہے: میں تمہیں یہ کپڑا نقد دس روپے میں اور ادھار بیس روپے میں بیچتا ہوں اور مشتری دونوں بیعوں میں سے کسی ایک پر جدا نہ ہو۔ اگر کسی ایک بات پر جدا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ ان دونوں میں سے کسی ایک پر بیع منعقد ہو گئی ہو۔

(2)دوسری تفسیر، امام شافعیؒ کی بات ہے، جیسے کوئی کہے کہ: میں اپنا یہ گھر اتنے روپے میں اس شرط پر بیچ رہا ہوں کہ تم اپنا غلام مجھ سے اتنے روپے میں بیچ دو۔ جب تیرا غلام میرے لیے واجب و ثابت ہو جائے گا تو میرا گھر تیرے لیے واجب و ثابت ہو جائے گا، یہ بیع بغیر ثمن معلوم کے واقع ہوئی ہے اور بائع اور مشتری میں سے کوئی نہیں جانتا کہ اس کا سودا کس چیز پر واقع ہوا ہے۔

(3)ایک تیسری تفسیر ابن القیم ؒ سے مروی ہے کہ بیچنے والا خریدنے والے کے ہاتھ کوئی سامان سو روپے ادھار پر بیچے، پھر خریدار سے اسی سامان کو اسی روپے نقد پر خرید لے۔

(4)ایک تفسیر امام احمد ؒ سے منقول ہے کہ بیچنے والا کہے میں یہ کپڑا تیرے ہاتھ بیچ رہا ہوں اس شرط پر کہ اس کی سلائی اور دھلائی میرے ذمہ ہو گی۔ چنانچہ اس معنی کی ایک حدیث بھی دیکھیں۔ عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا يَحِلُّ سَلَفٌ، وَبَيْعٌ وَلَا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ، وَلَا رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ، وَلَا بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ (سنن الترمذي:1234،قال الشيخ الألباني: حسن صحيح)

ترجمہ:بیع کے ساتھ قرض جائز نہیں ہے، اور نہ ایک بیع میں دو شرطیں جائز ہیں اور نہ ایسی چیز سے فائدہ اٹھانا جائز ہے جس کا وہ ضامن نہ ہو اور نہ ایسی چیز کی بیع جائز ہے جو تمہارے پاس نہ ہو۔

یہاں پر ایک بیع میں دو شرط کا مطلب وہی ہے جو ایک بیع میں دو بیع کا مطلب ہے۔

(5)ابن قتیبہ سے ایک قول یہ مروی ہے کہ ایک بیع میں دو شرط جن سے منع کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ آدمی دومہینہ کے لئے دودینار پر خریدے اور تین مہینے کے لئے تین دینار پر خریدے اور یہی معنی ہے ایک بیع میں دو بیع کا۔

(6)اس حدیث کی تفسیر سے متعلق ایک قول یہ بھی دیکھیں جواسی معنی کی حدیث کے تحت راو ی سے منقول ہے۔

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ صَفْقَتَيْنِ فِي صَفْقَةٍ وَاحِدَةٍ" قَالَ أَسْوَدُ قَالَ شَرِيكٌ: قَالَ سِمَاكٌ: الرَّجُلُ يَبِيعُ الْبَيْعَ، فَيَقُولُ هُوَ بِنَسَاءٍ بِكَذَا وَكَذَا، وَهُوَ بِنَقْدٍ بِكَذَا وَكَذَا.(مسند احمد:3783)

ترجمہ:سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک معاملے میں دو معاملوں کو جمع کرنے سے منع فرمایا ہے، راوی اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ کوئی شخص یوں کہے کہ یہ چیز ادھار میں اتنے کی ہے اور نقد ادائیگی کی صورت میں اتنے کی۔

امام ہیثمی نے مجمع الزوائد میں اس کے رجال کو ثقات کہا ہے، مسند احمد کی تحقیق میں احمد شاکر نے صحیح اور شعیب ارناؤوط نے صحیح لغیرہ کہا ہے ، شیخ البانی نےارواء الغلیل میں ایک راوی شریک کے بارے میں کہاکہ وہ سیءالحفظ ہیں اس لئے ان سے حجت نہیں پکڑی جائے گی تاہم یہ حدیث معنوی اعتبار سے درست ہے کیونکہ اس معنی کی متعدد روایات ہیں جیساکہ اس سے پہلی حدیث بھی اسی معنی کی ہے۔ اس حدیث میں ایک بیع میں دوبیع سے متعلق راوی حدیث کی ایک تفسیربھی ہے وہ یہ ہے کہ ادھارکی صورت میں الگ قیمت ہے اور نقد کی صورت میں الگ قیمت ہے۔دراصل یہ تفسیر، ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ ابن ابی شیبہ میں ہے ، ابن مسعود فرماتے ہیں:

صفقتان في صفقة ربا أن يقول الرجل : إن كان بنقد فبكذا، وإن كان بنسيئة فبكذا(مصنف ابن أبي شيبة :5/54)

ترجمہ: ایک معاملہ میں دو معاملے سود ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ آدمی کہے اگر نقد ہو تو اتنے اور ادھار ہو تو اتنے کی ۔

یہ اثر ابن ابی شیبہ میں دو سندوں سے مروی ہے، پہلی سند کو شیخ البانی نے ضعیف اور دوسری سند کو شیخ نے صحیح کہا ہےجو سفیان ؒسے روایت ہے۔
جب آپ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول پر غور کریں گے تو معلوم ہوگا کہ انہوں نے یہ بات اپنی طرف سے نہیں کہی ہے بلکہ اس کی وجہ حدیث رسول ہے چنانچہ ابوداؤد کی ایک حدیث دیکھیں۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ بَاعَ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ فَلَهُ أَوْكَسُهُمَا أَوِ الرِّبَا(سنن ابی داؤد:3461،صححہ البانی)

ترجمہ:ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایک معاملہ میں دو طرح کی بیع کی تو جو کم والی ہو گی وہی لاگو ہو گی (اور دوسری ٹھکرا دی جائے گی) کیونکہ وہ سود ہو جائے گی۔

مضمون کے شروع میں ترمذی کی حدیث گزری ، مذکورہ بالا حدیث بھی وہی ہے کہ ایک بیع میں دو بیع جائز نہیں ہے ، ساتھ ہی یہاں پر یہ اضافہ بھی ہے کہ ایک بیع میں دو بیع کی جائے تو زیادتی والا معاملہ سودہے۔ میرے خیال سے اب پوری طرح بات واضح ہورہی ہے کہ ایک بیع میں دو بیع کرنا کسی صورت جائز نہیں ہے، ورنہ زیادتی والی بیع سود کہلائے گی اور وہ حرام ہوگی۔

جواز سے متعلق شبہات  کا ازالہ :

٭ایک بیع میں دو بیع کی ممانعت والی صورت میں عام طور پر یہ بات ذکر کی جاتی ہے جسے امام ترمذی نے نقل کیا ہے کہ بائع مشتری پر نقد اور ادھار دونوں قیمت پیش کرے یعنی وہ کہے میں تمہیں یہ چیز نقد میں اتنا اور ادھار میں اتنا میں بیچ رہا ہوں اور سودا ہوجائے مگر ادھار یا نقد طے نہ ہو تو جہالت کی وجہ سے اس بیع کی ممانعت ہے لیکن اگر مشتری ادھار یا نقد کسی ایک قیمت پر اتفاق کرلے تو بیع درست ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ عموما اس طرح کوئی تجارتی معاملہ نہیں ہوتا۔ جب بائع اور مشتری معاملہ کرتے ہیں اور دونوں کے درمیان ادھار یا نقد پر بیع کے لئے معاملہ ہوتا ہے تو ضرور کسی نہ کسی بات پر بیع ہوتی ہے کہ میں ادھار لوں گا یا نقد لوں گا، بغیر اس کے تعین کے بیع نہیں ہوتی ہے۔ اس وجہ سے امام ترمذی کا یہ قول جو بعض اہل علم کی طرف منسوب ہے، درست معلوم نہیں ہوتا ہے اور یہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کے قول کے خلاف بھی ہے  لہذا اس معاملہ میں قول صحابی فوقیت رکھتا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ ایک بیع میں دوبیع کی تفسیر سے متعلق کئی اقوال ملتے ہیں۔ ان میں ایک قول یہ ہے کہ ایک چیز کی قیمت ادھار میں کچھ اور نقد میں کچھ جیساکہ اس سلسلے میں اوپر بعض اقوال گزرے ہیں جن میں ابن مسعودرضی اللہ عنہ کا قول بھی ہے بلکہ اور بھی متعدد اہل علم سے یہ تفسیر منقول ہےجیسے عبدالوہاب بن عطاء کہتے ہیں کہ اس کا معنی ہے یہ نقد میں دس کا ہے اور ادھار میں بیس کا ہے۔پھر سوال یہ ہے کہ اس قول کو کیوں چھوڑا جائے گا؟

حقیقت یہ ہے کہ ایک بیع میں دوبیع کی تفسیرمیں یہ قول بھی شامل ہے اور یہ کاروبار بھی ممنوعہ بیع میں شامل ہے یعنی اسلام کی نظر میں کسی بیع میں دوبیع شامل ہواس کی ممانعت ہے ۔اس لئے ہم صراحت کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ ایک بیع میں دو بیع کے جتنے معاملات ہوسکتے ہیں وہ سب ناجائز ہیں کیونکہ نص عام ہے اور اس کی متعدد تفاسیر سلف سے منقول ہیں لہذا ساری تفاسیر اس بیع میں داخل مانی جائے گی اور ہر وہ تجارتی معاملہ جو ایک بیع میں دو بیع سے متعلق ہو،جائز نہیں ہوگا۔

٭ قسطوں والی بیع کے جواز میں عموما قرآن کی یہ آیت پیش کی جاتی ہے: "وَأَحَل اللہُ البیعَ" کہ اللہ نے بیع کو حلال قرار دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بیع حلال ہے اور بیع کی اصل حلت ہی ہے مگر جس بیع کی ممانعت کسی نص سے ہوجاتی ہو وہ بیع جائز نہیں ہے۔ قسطوں کی بیع ، ایک بیع میں دوبیع ہے اس لئے یہ جائز نہیں ہے، یہ سود پر مبنی ہے۔

٭ اسی طرح قسطوں کی بیع کے جواز میں ایک حدیث پیش کی جاتی ہے۔عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک لشکر تیار کرنے کا حکم دیا، تو اونٹ کم پڑ گئے تو آپ نے صدقہ کے جوان اونٹ کے بدلے اونٹ (ادھار) لینے کا حکم دیا تو وہ صدقہ کے اونٹ آنے تک کی شرط پر دو اونٹ کے بدلے ایک اونٹ لیتے تھے۔(ابوداؤد:3357)

اسے شیخ البانی اور شیخ زبیر علی زئی نے ضعیف کہا ہے۔ اسکے بالمقابل ایک دوسری صحیح حدیث اس سے خلاف ہے۔

عن سمرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم" نهى عن بيع الحيوان بالحيوان نسيئة (أخرجه أبو داود:3356 والترمذي:1237 والنسائي:4620 وابن ماجه:2270 وأحمد:20215)

ترجمہ: سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کے بدلے جانور ادھار بیچنے سے منع فرمایا ہے۔

اس حدیث کو شیخ البانی اور شیخ زبیر علی زئی نے صحیح کہا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ قسطوں کی بیع کے جواز میں کوئی صحیح دلیل نہیں ہے جبکہ قسطوں کی بیع کے ناجائز ہونے کی صحیح دلیل موجود ہے اس لئے شرعی حیثیت سے اس تجارت کی اجازت نہیں ہے۔

قسطوں کی تجارت سود پرہے  جبکہ ادھارکی بنیاد احسان پر ہوناچاہئے

دلائل کی روشنی میں سطور بالا سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ایک چیز کی دو الگ الگ قیمت متعین کرناجائز نہیں ہے کیونکہ زیادتی والا معاملہ سود میں داخل ہے۔اس بات کو مدنظررکھتے ہوئے آج جو لوگ قسطوں کا کاروبار کررہے ہیں اس پہ غورکریں تو معلوم ہوگا کہ واقعتا مروجہ قسطوں کے کاروبار کی عمارت سود پر قائم ہے۔ اگراس کاروبار سے سود نکال دیا جائے تو اس کاروبار کی عمارت منہدم ہوجائے گی ۔

قسطوں کے کاروبار میں ہوتا کیا ہے ، نقد کے مقابلہ میں قسط کی سہولت دے کرمہلت کے بدلے بائع ، مشتری سے زیادہ پیسہ لیتا ہے اور اس کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتا ہے۔اسلام عدل وانصاف اور وسطیت پر مبنی ہےاس لئے زندگی کے تمام مراحل میں اسی منہج کی تعلیمات دیتا ہےحتی کہ تجارت کے باب میں بھی اسلام کا اعتدال دیکھنے کو ملتا ہے چنانچہ عہد رسول کو دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ جس کے پاس سامان خریدنے کی طاقت نہیں تھی اس کی عام طور پردو صورت نظر آتی ہے۔

پہلی صورت:بائع کا مشتری کوایک مدت کے لئے مکمل ادھار سامان دینا جیسے نبی ﷺ نے یہودی سےایک مدت کے لئے ادھار سامان لیا تھا،چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقررہ مدت کے قرض پر ایک یہودی سے غلہ خریدا اور اپنی زرہ اس کے یہاں گروی رکھی تھی۔ (صحيح البخاري:2200)

دوسری صورت: کسی چیز کے لئے جو قیمت طے ہوئی ہے اسے متعین مدت میں قسطوں کی شکل میں لینا یعنی ایک چیز کی جو اصل قیمت ہے اس میں اضافہ کے بغیر وہی قیمت قسطوں میں ادا کرنا جائز ہے۔ چنانچہ عروہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : بریرہ رضی اللہ عنہا ان کے پاس اپنی مکاتبت میں مدد کے سلسلے میں حاضر ہوئی اس کے ذمہ پانچ اوقیہ چاندی تھی جو اس نے پانچ سالانہ اقساط میں ادا کرنا تھی یعنی ہرسال ایک اوقیہ چاندی۔(صحيح البخاري:2560)

ادھار کی یہ دونوں صورتیں اسلام میں جائز ہیں اور ادھار کے یہ دونوں معاملات احسان پر مبنی ہیں اور دراصل ادھار میں کوئی بائع مشتری پر احسان کرے گا تبھی اسلام کے مطابق تجارت کرسکے گا ورنہ ادھار کے وقت قیمت بڑھاکر زیادتی والا معاملہ سود میں داخل ہوجائے گا۔اس سودی معاملہ سے متعلق رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث بھی ملاحظہ فرمائیں ۔

لا تَصلحُ سَفقتانِ في سفقةٍ ولفظ ابنِ حِبَّانَ لا يحلُّ صَفقتانِ في صفقةٍ وإنَّ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ قال لعن اللهُ آكلَ الرِّبا وموكلَه وشاهدَه وكاتبَه(السلسلة الصحيحة:5/420)

ترجمہ: ایک معاملہ میں دو معاملے جائز نہیں ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سود کھانے والے، کھلانے والے، سودی کی گواہی دینے والے اور سود کو لکھنے والے پر اللہ کی لعنت ہے ۔

یہ حدیث خاص اسی سودی معاملہ سے متعلق ہے جوایک بیع میں دو بیع سے متعلق ہو۔

قسطوں کے مروجہ کاروبار میں مالی جرمانہ:

عموما قسطوں کے کاروبار میں کسی قسط کی ادائیگی میں تاخیرہوجائے تو مالی جرمانہ بھی لگایا جاتا ہے ، یہ امر عقد میں مذکور ہوتا ہے ۔یہ بھی ایک قسم کا مزید اضافی سودی معاملہ ہے اور یہ وہ معاملہ ہے جس پر سبھی اہل علم متفق ہیں کہ اس شرط کے ساتھ قسطوں والی بیع جائز نہیں ہے۔ جب آپ برصغیرہندوپاک میں رائج قسطوں کے کاروبار کا پتہ لگائیں تو معلوم ہوگا کہ ان سب جگہوں پرعموما یہ شرط موجود ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر قسطوں والی بیع میں یہ شرط لگی ہو کہ تاخیر پر جرمانہ دینا پڑےگا تو ایسی صورت میں یہ بیع متفقہ طور پر جائز نہیں ہے خواہ کسی کو جرمانہ دینا پڑے یا نہ دینا پڑے ، بیع میں اس شرط کا مذکورہونا ہی اس بیع کے ناجائز ہونے کےلئے  کافی ہے۔

سودی بنکوں کے ذریعہ قسطوں پر خریداری:

بہت ساری چیزیں بنکوں کے ذریعہ قسط پر خریدی جاتی ہیں ، یہ بیع بھی جائز نہیں ہے ، اس کے مندرجہ ذیل وجوہات ہیں۔

٭ یہ سودی کام پر تعاون ہے۔

٭ایک بیع میں دوبیع شامل ہےجوکہ ممنوع ہے۔

٭قسط کی ادائیگی میں تاخیر پر مالی جرمانہ لیا جاتا ہے ۔

٭نقصان کا اندیشہ بھی ہے جس کا ذکر آگے آنے والا ہے۔

ان وجوہات کے سبب بنکوں کے ذریعہ قسط پر سامان خریدنا جائز نہیں ہے ، نیز اسی طرح ہر اس ادارے سے فائننس پر سامان لینا جائز نہیں ہے جو بنکوں کے توسط سے بیع کرتے ہیں بلکہ کسی بھی شکل میں ادھارونقد کے فرق کے ساتھ قسطوں کی بیع جائز نہیں ہےکیونکہ یہ سودی معاملہ ہے۔

قسطوں کی بیع ،منفعت ونقصان کے درمیان:

قسطوں کے کاروبار نے ہرقسم کے آدمی کے اندر یہ چاہت پیدا کر دی ہے کہ وہ بھی بڑی سے بڑی قیمت کی چیز خرید سکتا ہے خواہ بروقت مالی اعتبار سےوہ کتناہی  مسکین کیوں نہ ہوچنانچہ ایک آدمی مستقبل سے امید لگاکر مہنگی چیز قسط پر لے لیتا ہے اور کبھی کوئی اس چیز کو خریدنے میں کامیاب ہوجاتا ہے ، اس کی ساری قسطیں بھردیتا ہے مگر کبھی کوئی اس کی قسط بھرنے سے پیچھے رہ جاتا ہے اور اس آدمی کو بہت خسارہ اٹھانا پڑتا ہےیہاں تک کہ کبھی وہ خسارہ اس کی تباہی کا سبب بن جاتا ہے کیونکہ اس بندے کے پاس پیسہ نہیں تھا، نہ آمدنی کا مستقل ذریعہ تھابس کمانے کی امید تھی جو پوری نہیں ہوئی اور قسطوں کی بیع کرکے نقصان اٹھانا پڑا۔ آئیے اس بات کو ایک فورویلر کی مثا ل سے سمجھتےہیں۔

جس آدمی کے پاس فورویلرخریدنے کی طاقت ہے اوراس کے پاس  پیسہ بھی  موجود ہے وہ قسطوں میں زیادہ پیسہ دے کر کیوں خریدے گا، قسطوں میں وہی خریدتا ہے جو مجبور ہوتا ہے اور اس کی  مجبوری کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔جس کے پاس فورویلر خریدنے کے لئے مکمل پیسے نہیں ہیں اس آدمی کی بات مثال سے کچھ اس طرح سمجھیں۔

٭ایک آدمی سرکاری نوکری کرتا ہے اور ہرماہ آمدنی  آتی ہے وہ اس آمدنی کی بنیاد و بھروسہ پر فورویلر قسط پر لیتا ہے ۔

٭ایک آدمی غیرسرکاری ادارہ میں پرائیویٹ نوکری کرتا ہے اس آمدنی کے بھروسے گاڑی قسط پر لیتا ہے۔

٭ ایک آدمی روزانہ کا مزدور ہے جسے کبھی کام ملا، کبھی نہیں پھربھی   وہ قسط پر گاڑی لیتا ہے۔

٭ایک آدمی کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور نہ ہی اس کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ ہے ، وہ  اس امید میں گاڑی قسط پر لیتا ہے کہ اس گاڑی سے کماکر قسط بھرا کرے گا، پہلی قسط اس نے جیسے تیسے اور ادھر ادھر سے قرض لے کر یا بنک سے لون لے کر بھردیا ، آئندہ اسے کماکر قسط دینا ہے۔
ان تمام صورتوں کو ذہن میں رکھیں اور غورکریں کہ ممکن ہے ان طبقات میں سے کئی طبقات والے مکمل قسط جمع کرسکیں خصوصا جن کی مستقل ماہانہ آمدنی ہے اس کے باوجود صحت، کام اور آمدنی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے ۔ آدمی کی نوکری ختم ہوسکتی ہے،وہ بیمار ہوسکتا ہے یا اس کی آمدنی کسی وجہ سے بند ہوسکتی ہے اور جس نے مستقبل میں کماکردینے کا سوچا اس کے لئے زیادہ نقصان کا اندیشہ لگارہتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب سماج پر نظر ڈالتے ہیں تو قسطوں سے کماکرمالداربننےوالے  لوگ بھی نظر آتے ہیں اور قسطوں سے نقصان اٹھانے والے افراد بھی نظر آتے ہیں بلکہ بسااوقات قسطوں کی وجہ سے آدمی کی زمین یا گھر نیلام ہوجاتا ہےاور آدمی تباہی کے دہانے پر آجاتا ہے ۔ اگر کچھ لوگ قسطوں سے نفع کمالیں اور کچھ کو اس سے نقصان ہو تو اس بیع سے لوگوں کو روکا جائے گا۔اس جگہ یہ کہنادرست نہیں ہے کہ تجارت میں نفع و نقصان ہوتا رہتا ہے ۔ جو تجارت کرے گا اس کے ساتھ نفع و نقصان کا معاملہ ہوسکتا ہے مگر جو استعمال کے لئے سامان خریدکرگھر لارہا ہے ، اس خریدار کو کیوں نقصان اٹھانا ہے؟

اگر کوئی یہ کہے کہ ایک چیز کی ادھار اور نقد دونوں طرح  ایک ہی قیمت  ہو تو مہنگی چیز قسطوں میں خریدنا تب بھی بعض لوگوں کے لئے  پرخطر ہوسکتی ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ادھار کی زیادتی نکال دی جائے تو پھر مروجہ قسطوں والی تجارت ہی بندہوجائے گی کیونکہ یہ تجارت اسی زیادتی(سود) پر چل رہی ہے۔

احیتاطی پہلو اور ایک مشورہ :

جو علماء قسطوں کی بیع کوجائز قرار دیتے ہیں وہ ایک بیع میں دو بیع کی ایک تفسیر مانتے جو جواز سے متعلق ہے مگر عدم جواز سے متعلق دوسری تفسیر ہے اسے چھوڑ دیتے ہیں جبکہ اس تفسیر کو چھوڑنے کی کوئی وجہ نہیں ہے بلکہ وہی اہم ہے  اس وجہ سے دلیل کی روشنی میں بھی قسطوں کا کاروبار جائز نہیں ہے اور احتیاط کا بھی پہلو یہی ہے کہ اس سے بچا جائے کیونکہ اس میں سودی پہلو نمایاں ہے جس پر قسطوں والی بیع کی عمارت کھڑی ہے۔

دوسری بات میں اس جگہ ایک مشورہ بھی  دینا چاہتاہوں کہ جس آدمی کو ابھی کوئی مہنگی چیز خریدنے کی استطاعت نہیں ہے اس کے لئےدانائی یہی ہے کہ وہ  ابھی مہنگی چیز کالالچ نہ کرے، ہاں محنت کرکےپہلے  قیمت   جمع کرلے پھر اس وقت اپنی مطلوبہ چیز نقد خریدے۔اسی طرح جو ماہانہ تنخواہ والے ہیں وہ پہلے کماکرسامان کی قیمت جمع کرلیں پھر مطلوبہ سامان خریدیں ۔ اس میں تحفظ بھی ہے اور شریعت کی پاسداری کے ساتھ بیع بھی ہے لیکن جب آپ قسطوں کی بیع کرتے ہیں تو کہیں نہ کہیں سود پر تعاون کرتے ہیں ۔

مکمل تحریر >>