رمضان
سے متعلق چند باطل افکاروعقائد کا علمی جائزہ
تحریر: مقبول احمد سلفی
جدہ دعوہ سنٹر- السلامہ-سعودی عرب
رمضان ایک مبارک و محترم اور عظمت و فضیلت والا مہینہ ہے ،
سال میں ایک بار اللہ رب العالمین مسلمانوں کو قلب وروح کی تطہیر ، سیئات کی
مغفرت، حسنات میں اضافہ اور اعلی درجات کے حصول کا موقع فراہم کرتا ہے۔ قابل مبارک
باد ہیں وہ لوگ جو رمضان کے فیوض وبرکات سے مستفید ہوتے ہیں اور حسرت وافسوس ایسے
لوگوں پرجو ماہ مبارک کی سعادت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ اس تحریر کے ذریعہ
میں رمضان سے متعلق لوگوں میں پائے جانے والے چند باطل عقائد کی تردید کے ساتھ چندباطل
افکار ونظریات کو واشگاف کروں گاجن میں بعض شہبات کاازالہ بھی شامل ہوگا۔ سب سے
پہلےآپ کی خدمت میں چند باطل
عقائد کی حقیقت پیش کرتا ہوں ۔
(1) رمضان کے استقبال میں
روزہ رکھنے کی ممانعت: رمضان کے
استقبال سے مراد یہ ہے کہ آپ رمضان کی آمد سے قبل توبہ کرلیں، اللہ کی طرف لوٹ
جائیں اور رمضان میں کثرت کے ساتھ عبادات کرنے کے لئے خود کو تیارومتفرغ کرلیں ۔
اور یاد رکھیں کہ رمضان کے استقبال کا کوئی مخصوص طریقہ نہیں ہے، اس کی کوئی مخصوص
دعا نہیں ہے اور نبی ﷺ نے رمضان کے استقبال میں اس کی آمد سے قبل روزہ رکھنے منع
فرمایا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَا يَتَقَدَّمَنَّ أَحَدُكُمْ رَمَضَانَ بِصَوْمِ
يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمَهُ
فَلْيَصُمْ ذَلِكَ الْيَوْمَ(صحیح البخاری:1914)
ترجمہ: تم میں سے کوئی شخص رمضان سے پہلے (شعبان کی آخری
تاریخوں میں) ایک یا دو دن کے روزے نہ رکھے البتہ اگر کسی کو ان میں روزے رکھنے کی
عادت ہو تو وہ اس دن بھی روزہ رکھ لے۔
اس وجہ سے اگر کوئی رمضان کے استقبال میں ایک یا دو دن
پہلے روزہ رکھتا ہے تو اس کا روزہ باطل ولغو ٹھہرے گاالایہ کہ اگر کسی کو روزہ کی
عادت ہو تو اپنی عادت کے مطابق روزہ رکھ سکتا ہے جیسے کوئی سوموار یا جمعرات کا روزہ رکھتا ہویا ایام بیض کا روزہ مہینہ کے
آخر میں رکھتا ہو، یا نذر یا کفارہ یا قضا کا روزہ بھی رکھ سکتا ہے ۔
(2)روزہ کی فرضیت کا انکار: آج زمانے میں الحاد وکفر اس قدر تیزی سے پھیل رہا ہے کہ اس کے
اثرات مسلمانوں میں بھی پائے جاتے ہیں اور بہت سارے لوگ نام کے مسلمان نظر آتے ہیں جبکہ ان کا عمل
وکردار ہرگز مسلمانوں جیسا نہیں ہوتا۔ روزہ کے تعلق سے دیکھیں تو بہت سارے مسلمان
کہنے والے بغیرکسی عذر کے کبھی بھی رمضان کا روزہ نہیں رکھتے گویا رمضان کے روزہ
سے ان کو کوئی سروکار نہیں ہے۔ بعض بے دین اپنی زبان سے صراحت کے ساتھ روزہ کا انکاربھی کرتے ہیں جبکہ بعض زبان سے
نہیں بولتے ہیں مگر عملی طور سے ظاہرکرتے
ہیں کہ وہ روزہ کے منکر ہیں ۔ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن روزہ بھی ہے ،
جو کوئی اس رکن کا انکار کرے وہ مسلمان نہیں ہے۔ مسلمانوں میں روزہ چھوڑنے کے
اعتبار سے کئی اقسام ہیں، ان سب کا حکم جاننے کے لئے شیخ ابن باز ؒکا ایک فتوی نقل
کرتا ہوں ۔
شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ ایسے مسلمان
کا کیا حکم ہے جو بغیر شرعی عذر کے کئی سالوں سے روزہ کا فریضہ ادا کرنے میں
کوتاہی کرتا ہے جبکہ وہ دیگر فرائض کا التزام کرتا ہے۔ کیا اس کے اوپر قضا یا
کفارہ ہے اور اگر اس کے اوپر قضا ہے تو ان تمام مہینوں کی کیسے قضا کرے گا؟
اس پر شیخ نے جواب دیا کہ جس نے رمضان کا روزہ ترک کیا
اس حال میں کہ وہ مکلف ہو مرد یا عورت میں سے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی
نافرمانی کی اور کبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا ،اس کے اوپر اس عمل سے توبہ کرنا ہے اور
اس کی قضا کے ساتھ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا بھی کھلانا ہے اگر کھلانے کی
طاقت رکھتا ہے اور اگر محتاج ہے یعنی کھلانے
کی استطاعت نہیں رکھتا تو اس کے لیے قضا اور توبہ ہی کافی ہے کیونکہ رمضان کا روزہ
فرض ہے، اللہ تعالی نے مکلف مسلمانوں پر فرض قرار دیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ
وسلم نے اسے پانچ ارکان میں سے ایک رکن قراردیا ہے۔ جو اسے چھوڑتا ہے اسے تعزیرا
سزا دی جائے گی ، اس کے معاملہ کو ولی الامر یا هيئة الأمر بالمعروف والنهي عن
المنكر تک پہنچایا جائے گا، اگر وہ رمضان کے وجوب کا انکار نہیں کرتا اور اگر وہ
رمضان کے وجوب کا انکار کرتا ہے تو وہ کافر ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کا انکار کرنے
والا ہے، شرعی عدالت میں قاضی کی جانب سے توبہ قبول کروایا جائے گا، اگر توبہ کر
لیتا ہے تو ٹھیک اور اگر توبہ قبول نہیں کرتا ہے تو وہ واجب القتل ہے مرتد ہونے کی
وجہ سے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے جو اپنا دین بدل دے اس کو
قتل کر دو۔ ہاں اگر کوئی مرض یا سفر کی وجہ سے روزہ چھوڑتا ہے تو اس کے اوپر کوئی
حرج نہیں ہے البتہ اس پر واجب ہے کہ جب تندرست ہو جائے یا سفر سے واپس آئے تو اس
کی قضا کرے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:جو بیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں یہ
گنتی پوری کرنی چاہیے۔(ویب سائٹ شیخ ابن باز)
اس مقام پر ایک اور شرعی مسئلہ جان لیتے ہیں کہ بعض لوگ
روزہ تو رکھ لیتے ہیں مگر وہ نماز نہیں ادا کرتے جبکہ روزہ کی طرح نماز بھی اسلام
کا ایک رکن ہے بلکہ کلمہ کے بعد سب سے زیادہ نماز کی ہی اہمیت ہے۔ جو نماز کی
فرضیت کا انکار کرے وہ مسلمان نہیں ہے ایسا آدمی روزہ رکھ لے تو اس کے روزہ کا
کوئی فائدہ نہیں یا یوں کہیں کہ اس کا روزہ قبول نہیں ہوگا۔ جو زبان سے نماز کی
فرضیت کا انکار نہ کرے مگرعمل بے نمازی والا ہواس کا روزہ بھی بے فائدہ ہےالبتہ جو
سستی کی وجہ سے کبھی نماز پڑھے اور کبھی نہ پڑھے اس پر کافر کا حکم نہیں لگے گا
تاہم فرائض میں کوتاہی کی وجہ سے کبائرکا مرتکب ماناجائے گا، ایسے شخص پرتوبہ کرنا ضروری ہے۔
(3)آمدرمضان کی خوشخبری دینا: رمضان کی آمد کی خبر
دینے میں کوئی حرج نہیں ہے مگر لوگوں میں ماہ رمضان کی آمد سے قبل یہ خبرگردش کرتی
ہے کہ " جس نے سب سے پہلے رمضان کی خبردی اس پر جہنم کی آگ حرام ہوگئی"۔
یہ جھوٹی خبر ہے مگر اسے رسول اللہ ﷺ کی طرف نسبت کی جاتی ہے جبکہ یہ اسلامی عقیدہ
سے متصادم ہے۔ کوئی بغیرثبوت کے کوئی بات نہ نبی ﷺ کی طرف منسوب کرسکتا ہے اور نہ
ہی بغیردلیل کے کوئی ثواب یا فضیلت بیان کرسکتا ہے ۔ ،نبی ﷺ کا فرمان
ہے :
مَنْ كَذَبَ عَلَي
مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ (صحیح البخاري:1291،صحیح
مسلم:933) ۔
ترجمہ: جو شخص مجھ پر
جھوٹ باندھے تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لے۔
چونکہ مذکورہ بالا خبرجھوٹی ہے، کتاب وسنت میں اس کی
کوئی دلیل نہیں ہے لہذا کسی مسلمان کےلئے جائز نہیں ہے کہ رمضان کی آمد پہ یہ جھوٹی بات بیان کرے اور یہ بھی معلوم رہے کہ
نبی کی طرف عمدا جھوٹی بات منسوب کرنے
والا خود جہنم کا مستحق ہوجاتا ہے۔
(4)افطار میں احتیاط کا
نظریہ: احناف اور بریلوی دونوں افطار کرنے میں احتیاط سے کام لیتے
ہیں اور اس میں پانچ سے دس منٹ کی تاخیر کرتے ہیں جبکہ حضرت
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
لاَ يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا
الفِطْرَ(صحیح البخاري 1957)
ترجمہ: لوگ اس وقت تک بھلائی پر رہیں گے جب تک وہ جلدی
افطاری کرتے رہیں گے ۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ہی غروب شمس کا علم
ہوفورا افطار کرلینا چاہئے ، اسی میں مسلمانوں کی بھلائی ہے بلکہ دوسری جگہ اس عمل
کو مسلمانوں کی سربلندی کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ ابوہریرہ
رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَا يَزَالُ الدِّينُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ
الْفِطْرَ، لِأَنَّ الْيَهُودَ وَ النَّصَارَى يُؤَخِّرُونَ(سنن ابي داود:2353،
حسنہ البانی)
ترجمہ:دین برابر غالب رہے گا جب تک کہ لوگ افطار میں
جلدی کرتے رہیں گے کیونکہ یہود و نصاری اس میں تاخیر کرتے ہیں۔
گویا افطار میں تاخیر کرنا یہود ونصاری کی علامت ہے،
مسلمانوں کو افطار میں تاخیرسے باز رہنا چاہئے، جو لوگ عمدا افطار میں احتیاط کے
نام پر تاخیر کرتے ہیں وہ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں جبکہ اللہ تعالی نے محمد ﷺ کی زندگی میں ہمارے لئے
بہترین اسوہ رکھا ہےاس لئے اپنی عقل کو
بالائے طاق رکھ کر دین اور عبادت میں رسول اللہ ﷺ کی سنت کی پیروی کرنا ہمارے اوپر
لازم ہے۔افطار میں رسول اللہ ﷺکی اس سنت کو ترک کیا جاتا ہے بلکہ حد تو اس وقت ہوجاتی ہے جب افطار میں سنت رسول
کی مخالفت کرنے والے مقلدین، سنت کے مطابق عمل کرنے والے اہل حدیث سے کہتے ہیں کہ
تم سب لوگوں کا روزہ قبول نہیں ہوگا کیونکہ تم لوگ افطار میں جلدی کرتے ہو۔
(5) رمضان المبارک اور قضائے عمری: مقلدوں میں چھوٹی ہوئی نماز کے تعلق سے قضائے عمری
کا عمل پایا جاتا ہے جبکہ شریعت میں عبادت کا معاملہ واضح ہے ۔ کسی کو بھی بال یا
ذرہ برابر بھی عبادت میں اضافہ یا کمی کرنے کا اختیار نہیں ہےجبکہ احناف نے قضائے
عمری کے نام سے باقاعدہ نمازکا طریقہ مشہورکر رکھا ہے اور جہال اس طریقہ پر عمل
کرتے ہیں ۔ احناف نے قضائے عمری کی مختلف صورتیں بیان کی ہیں ، میں یہاں رمضان سے
متعلق قضائے عمری کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں ۔
٭ قضائے عمری سے متعلق ایک بات یہ پھیلائی گئی ہے کہ
رمضان کے آخری جمعہ کوایک دن کی پانچ نمازیں مع وتر پڑھ لی جائیں تو عمر بھر کی
چھوڑی ہوئی نمازیں ادا ہوجائیں گی ۔ یہ لوگوں کا جھوٹ ہے، اس بات کا شریعت سے کوئی
تعلق نہیں ہے ۔
٭قضائے عمری سے متعلق ایک دوسری بات یہ پھیلائی گئی ہے
کہ" جو رمضان کے آخری جمعہ میں چار نفل ایک سلام سے پڑھ لے ، نماز کی ہررکعت
میں فاتحہ کے بعد سات مرتبہ آیۃ الکرسی اور پندرہ مرتبہ سورت اخلاص پڑھ لے (کسی
نےسورت اخلاص کی بجائے سورت کوثر بھی بتایا ہے) تو تمام عمر کی قضا نمازوں کا
کفارہ ہوجائے گااگرچہ سات سوسال کی نمازیں قضا ہوں تب بھی یہ چار رکعت نماز کفارہ
کے لئے کافی ہے"۔
حقیقت یہ ہے کہ ایسی کوئی روایت مستند کتب حدیث میں
نہیں ہے البتہ ایک جھوٹی اور باطل روایت کا تذکرہ ملاعلی قاری حنفی اپنی کتاب
"الموضوعات الکبری" میں کرتے ہیں کہ جو شخص رمضان کے آخری جمعہ میں ایک
فرض نماز بطور قضاپڑھ لے تو اس کی ستر سال کی چھوٹی ہوئی نمازوں کی تلافی ہوجائے
گی ۔ اس روایت کو ذکر کرکے ملا علی قاری خود فرماتے ہیں کہ یہ باطل روایت ہے بلکہ
اس وقت علمائے احناف بھی قضائے عمری کے نام سے اس مروجہ چار رکعت والی نما ز کو
باطل قراردیتے ہیں ۔ بریلوی علماء بھی اس مروجہ قضائے عمری کو بے اصل اور بدعت
قرار دیتے ہیں اس کے باوجود حنفی عوام رمضان کے آخری جمعہ کو الوداعی جمعہ کا نام
دے اس کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں اور قضائے عمری سے متعلق باطل عقیدہ رکھتے ہیں اور
عمل بھی کرتے ہیں۔
(6) رمضان میں مخصوص عبادات : اہل بدعت اور اہل تصوف
میں رمضان کے دنوں میں بدعتی اعمال وعبادات کی بہتات ہے ۔ ذکر، دعا، تلاوت اور
نماز سے متعلق مختلف قسم کے مصنوعی اور بدعتی اعمال انجام دئے جاتے ہیں جن سب کا
اس مضمون میں احاطہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ آپ یہ سمجھ لیں کہ رمضان کی پہلی تاریخ سے
لے کر آخری رمضان تک بلکہ شب عید تک بہتیرے قسم کے بدعتی وظائف و اعمال انجام دئے
جاتے ہیں جیسے رمضان کی پہلی رات مخصوص عبادت وذکر کئے جاتے ہیں، عورتیں اہتمام
وخصوصیت کے ساتھ صلاۃ التسبیح باجماعت پڑھاکرتی ہیں،شبینہ تراویح پڑھی جاتی ہے،ایام
بیض کی چاندراتوں میں مخصوص اعمال انجام دئے جاتے ہیں بلکہ
رمضان کی رات میں خصوصا گیارہ وبارہ کی درمیانی رات میں دودو کرکے بارہ نوافل مخصوص طرزپر(ہررکعت میں فاتحہ کے
بعد بارہ مرتبہ سورہ اخلاص پڑھنا ہے پھر آخر میں سومرتبہ درود پڑھ کر نبی ﷺ کو
ہدیہ کرنا ہے) پڑھی جاتی ہے اس عمل سے ہرقسم کی مشکلات ، رکاوٹ ، بندش اور مصیبت
وبلاٹل جاتی ہے ۔ صوفی لوگ اس نماز کے لئے خانقاہ میں باقاعدہ جماعت کراتےہیں
۔عبقری نام سے گمراہی پھیلانے والا شخص حکیم محمد طارق محمود مجذوبی لاہور میں
تسبیخ خانہ تعمیر کررکھا ہے جس میں اس قسم کے بدعتی وظائف انجام دیتا ہے اور رمضان
میں یہ بارہ نوافل کی باجماعت نماز پڑھاتا ہے۔ پھر شب قدر کی الگ الگ رات میں الگ
الگ قسم کی مخصوص عبادت انجام دی جاتی ہے۔ ان تمام باطل وظائف اور عبادات کے سلسلے
میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ کی عبادت اور اس کا ذکر صرف محمد ﷺ کے طریقہ کے
مطابق کیا جائے گا۔ جو نبی ﷺ کے طریقہ سے ہٹ کر کوئی ذکر کرے یا کسی قسم کی عبادت
انجام دے وہ باطل و مردود ہے، اللہ اسے قبول نہیں فرمائے گا۔ اللہ تعالی فرماتا
ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ
وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ(محمد:33)
ترجمہ:اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کا
کہا مانو اور اپنے اعمال کو غارت نہ کرو۔
اورسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَن عَمِلَ عَمَلًا ليسَ عليه أمْرُنا فَهو رَدٌّ(صحيح
مسلم:1718)
ترجمہ:جو شخص ایسا کام کرے جس کے لیے ہمارا حکم نہ ہو
(یعنی دین میں ایسا عمل نکالے) تو وہ مردود ہے۔
(7) خواتین کا گھر میں
اعتکاف:اعتکاف کے لئے مسجد خاص ہے اس وجہ سے اگرعورت بھی اعتکاف کرنا
چاہے تو اسے بھی مسجد میں ہی اعتکاف کرنا پڑے گا جیسے عہد رسول کی خواتین اور
ازواج مطہرات مسجد میں اعتکاف کرتی تھیں مگر برصغیرہندوپاک میں عورتیں اپنے گھرمیں
اعتکاف کرتی ہیں۔ اس سےان کا اعتکاف نہیں ہوگا۔ عورتوں کے اعتکاف کے لئے ضروری ہے
کہ شوہر اس کی اجازت دے اور مسجد میں
عورتوں کے لئے علاحدہ محفوظ انتظام ہو تو وہ مسجدمیں اعتکاف کرسکتی ہیں ۔اگر عورت
مسجد کو چھوڑ گھر میں اعتکاف کرے تو اس کا اعتکاف لغووباطل ہے۔
(8) الوداعی جمعہ کا
تصور اور رمضان کی جدائی بیان کرنا:رمضان کے آخری جمعہ کو الوداعی جمعہ
کہاجاتا ہے جبکہ الوداعی جمعہ کہنے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ جمعہ ہفتہ کا ایک دن ہے
جو ہرہفتہ آیاکرتا ہے ۔پھر لوگ اس جمعہ کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں اور بعض بدعات کا
بھی ارتکاب کرتے ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا ہےاور ایک بدعت رمضان کو رخصت کرنا اور اس
کی جدائی کرنا ہے چنانچہ لوگوں میں رمضان کے رخصت کرنے کے پیغامات نشر ہونے لگتے
ہیں حتی کہ خطیب ممبر سے اس ماہ کو رخصت
کرتا ہے اور رخصت کرنے کی ایک دعا بھی بیان کی جاتی ہے جس کی کوئی اصل نہیں
ہے۔ درحقیقت یہ عمل ہی بدعت ہے۔ نبی ﷺ
اور آپ کے اصحاب سے رمضان کے رخصت کرنے اور رمضان کو الوداع کہنے کی کوئی دلیل
نہیں ملتی اورنہ ہی اس کے لئے کوئی دعا ثابت ہے ۔
رمضان سے متعلق عقائد وعبادات کے باب میں اور بھی بہت
تفاصیل ہیں مگر یہاں اہم باتوں کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے ، اب رمضان سے
متعلق چند باطل افکار ونظریات اور چندشبہات وغلط فہمیوں پر طائرانہ نظر ڈاتے ہیں ۔
(1)بعض جگہوں پر کچھ لوگ زور و شور سے یہ آواز بلند
کررہے ہیں بلکہ اس پر عمل بھی کررہے ہیں کہ سعودی عرب کے حساب سے روزہ رکھنا چاہئے
اور عید منانا چاہئے۔ یہ عمل دلائل اور اسلاف امت کے تعامل کے خلاف ہے ۔ نبی ﷺ نے
چاند دیکھ کر روزہ رکھنے اور چاند دیکھ کر عید منانے کا حکم دیا ہے اس لئے روزہ
اور عید میں سعودی عرب کی پیروی کرنے کا نعرہ لگانا امت میں انتشار پھیلانے
جیساہے۔ بعض علاقوں میں وحدت رویت کا نعرہ لگانے والوں کے عملوں سے عوام میں بے
چینی پائی جاتی ہے۔ ایسی صورت میں
عوام سے اپیل ہے کہ کسی اختلاف کا شکارہوئے بغیر جماعت کو لازم پکڑے رہیں۔
(2)رمضان
سے متعلق لوگوں کا ایک نظریہ یہ ہے کہ اس مہینہ میں شادی کرنا منع ہے جبکہ کتاب
وسنت میں رمضان میں شادی کی کہیں پر ممانعت وارد نہیں ہے لہذا لوگوں کی یہ فکر
باطل ہے۔ مسلمان رمضان میں بھی شادی کرسکتا ہے۔
(3)لوگوں
میں یہ بات مشہور ہے کہ افطارکے وقت بندے اور رب کے درمیان کا پردہ اٹھا دیا جاتا
ہے ۔ اس بات کی کوئی حقیقت نہیں ہے کیونکہ یہ کسی صحیح حدیث میں مذکور نہیں ہے ۔
(4)یہ
بات بھی کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے کہ رمضان میں فوت ہونے سے حساب وکتاب نہیں
ہوتا اور مرنے والا بلاحساب جنت میں چلاجاتا ہے ۔ ایک حدیث اس طرح کی آتی ہے کہ جو
اللہ کی رضا کے لئے روزہ رکھے اور اسی حالت میں مرجائے تو جنت میں داخل
ہوگا۔(احمد:22813) مگر اس میں بلاحساب جنت میں جانے والی بات مذکور نہیں ہے۔
(5)بعض
لوگ رمضان کو زکوۃ ادا کرنے کا مہینہ سمجھتے ہیں اور زکوۃ
دینے کے لئے رمضان کا انتظار کرتے ہیں جبکہ یہ بات درست نہیں ہے ۔ زکوۃ کا تعلق نصاب
اور سال پورا ہونے سے ہے ۔جب مال نصاب تک
پہنچ جائے اور اس مال پرجب سال مکمل ہواسی
وقت زکوۃ ادا کرنا ہے۔اس سے متعلق یہاں پر چند مزید مسائل سمجھ لیں ۔
٭ اگر کسی کے مال زکوۃ پر رمضان سے پہلے سال مکمل ہورہا
ہے اس کےلئے جائز نہیں ہے کہ وہ زکوۃ کی ادائیگی میں تاخیر کرے بلکہ جیسے مال پر
سال مکمل ہواس کی زکوۃ اسی وقت فوراادا کرے ۔
٭ اگر کسی کے مال پر رمضان کے بعد مثلا ایک یا دو ماہ
بعد سال مکمل ہورہا ہے ، ایسا آدمی اگر کسی فقیر ومحتاج کی ضرورت کی بناپر وقت سے
پہلے رمضان میں زکوۃ دینا چاہے تو ضرورت ومصلحت کے تئیں وقت سے پہلے زکوۃ دی
جاسکتی ہے مگر زکوۃ کی ادائیگی میں تاخیر جائز نہیں ہے۔
٭ تنخواہ والوں کو ماہ بماہ پورے سال تک تنخواہ ملتی
رہتی ہے ، پورے سال کی تنخواہ پر ایک ساتھ سال گزرنا مشکل ہے ، ایسی صورت میں بعض
اہل علم کی رائے یہ ہے کہ ملازم تنخواہ کی زکوۃ دینے کے لئے ایک مہینہ خاص کرلے
اور ہرسال ایک مہینہ میں اس کے پاس جتنے پیسے ہوں سب جوڑ کر زکوۃ ادا کردے خواہ
پیسوں پر جتنے بھی ایام گزرے ہوں ۔ رمضان ایک مبارک مہینہ ہے ، کوئی تنخواہ دار
ملازم آدمی رمضان کو زکوۃ کے لئے خاص کرلے
تو ہرسال وہ رمضان میں اپنی تنخواہ کی زکوۃ ادا کیا کرے ۔ تنخواہ کی زکوۃ کے سلسلے
میں یہ مناسب رائے ہے۔
٭ زکوۃ کے علاوہ صدقات کا معاملہ الگ ہے، آدمی اپنی
مرضی سے جب چاہے اور جس قدر صدقہ کرے،رمضان میں نبی ﷺ کثرت سے صدقہ دیا کرتے تھے
تو ہم بھی اپنی استطاعت کے حساب سے جتنا چاہیں نفلی صدقہ کریں۔
(6)تراویح
پڑھانے والے زیادہ مال کے حرص میں جہاں زیادہ نذرانہ ملے اس جگہ کا انتخاب کرتے
ہیں ، یہ قابل افسوس پہلو ہے ۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ خلوص وللہیت کے ساتھ جہاں جگہ
خالی ملے وہاں تراویح پڑھائے، اس سے عبادت میں خلوص رہے گا اور الحمدللہ تمام مساجد
والے حفاظ کو نذرانہ ضرور دیتے ہیں اس لئے زیادہ نذرانہ کی حرص نہ کرے۔تراویح سے
متعلق عام لوگوں میں بھی ایک غلط نظریہ
پایا جاتا ہے ، وہ یہ ہے کہ تراویح میں قرآن مکمل ختم ضروری سمجھتے ہیں جس
کی وجہ سے قیام اللیل کا اصل مقصد فوت ہوجاتا ہے ، نہ نماز میں سکون ہوتا ہے اور نہ تلاوت میں سنجیدگی ہوتی
ہے۔تراویح میں اصل یہ ہے کہ سکون سے قرات کی جائے اور سکون سے قیام کیا جائے خواہ
پورے رمضان میں جس قدر قرآن کے پارے ختم ہوسکیں ۔
(7)بعض
لوگوں کے یہاں بلکہ اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ رمضان کی ستائیسویں رات شب قدر ہے اس
وجہ سےدیگر راتوں کی بنسبت اس رات کا
اہتمام زیادہ ہوتا ہے ، کھانے پینے سے لے کر عمدہ لباس تک لگایا جاتا ہے اور بطور
خاص اس رات صدقہ وخیرات کا زیادہ خیال کیا جاتا ہے جبکہ خاص ستائیسویں رات کو شب
قدر سمجھنا غلط ہے ۔ نبی ﷺ کے فرمان کی روشنی میں آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک شب قدر
ہوسکتی ہے مگرخاص کون سی رات ہے کسی کو تعین کے ساتھ معلوم نہیں ہے۔ مسلمانوں کو
رمضان کے آخری عشرہ کی تمام طاق راتوں میں عبادت پر اجتہاد کرنا چاہئے بلکہ آخری
عشرہ کی تمام راتوں میں عبادت کی جائے ،
یہ زیادہ افضل ہے۔
(8)رمضان کے آخر میں ہرجگہ اور ہرکس وناکس کی زبان پہ
یہ جملہ عام ہوتا ہے کہ امسال فطرانہ کتنا روپیہ ہے ؟ گویا لوگوں نے رقم کو ہی
فطرانہ سمجھ رکھاہے اورانہیں گائیڈ کرنے والے علماء بھی ایسے ہی ہیں جو پہلے سے
کلکولیٹرسے حساب کئے بیٹھے ہوتے ہیں۔ فطرانے کی اصل فی کس ڈھائی کلو اناج ہے ۔فطرہ
دینے والا کھانے کے کسی بھی اناج سے ڈھائی کلو دے سکتا ہے ۔ ایک ریٹ لگانے والے
علماء کو اناج کے بجائے روپیہ نکالنے اورایک مخصوص اناج کا ریٹ فکس کرنے کا کس نے
اختیار دیا ہے ؟ علماء کو چاہئے کہ لوگوں کو فطرانے کی حقیقت بتائیں تاکہ فطرانہ
لینے اور دینےوالے تمام لوگوں کو آسانی ہو۔ یہ الگ بات ہے کہ بوقت ضرورت فطرانے کی
رقم بھی نکالی جاسکتی ہے ۔
اختصار کے ساتھ میں نے رمضان المبارک سے متعلق غلط قسم
کے بعض افکار ونظریات اور عقائدواعمال کا
جائزہ پیش کردیا ہے۔ آخر میں اللہ رب العالمین سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں اخلاص
وللہیت کے ساتھ اپنی بندگی کرنے اور سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق بخشے
۔آمین