Monday, January 5, 2026

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(93)

 

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(93)

جواب از: شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ

جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ - سعودی عرب


سوال: خوشی کے موقع پر کوئی پھولوں کا گلدستہ دے تو کیا یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف عمل ہے؟

جواب: اہل علم کا کہنا ہے کہ خوشی کے موقع پر ایک دوسرے کو یا کسی کو پھولوں کا گلدستہ دینے میں حرج معلوم نہیں ہوتا ہے، یہ ایک تحفہ کے قبیل سے ہے۔ اسلام میں تحفہ لینے دینے کا حکم دیا گیا ہے تاہم تحفہ اس قسم کا ہو جس سے آدمی کچھ استفادہ کرسکے تو بہتر ہے۔ تحفہ دل میں محبت پیدا کرنے کا سبب ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ گلدستہ پیش کرنے سے بہتر کوئی مفید چیز پیش کی جائے جس سے آدمی فائدہ اٹھا سکے جبکہ گلدستہ سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا ہے، اسے یا تو پھینک دیا جاتا ہے یا گھر میں رکھ دیا جاتا ہے، نیز یہ کلچر بھی مغرب سے اپنے یہاں آیا ہے۔

سوال: لوگوں نے ایک بات مشہور کر رکھی ہے کہ نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا نہیں کرنا چاہیے بلکہ فرض یا سنت نماز کے سجدوں میں قرآنی یا مسنون دعائیں کرنی چاہیے ، کیا یہ بات درست ہے ؟

جواب: فرض نماز کے بعد انفرادی طور پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اپنے سماج میں اجتماعی طور پر ہاتھ اٹھا کر جو دعا مانگی جاتی ہے، یہ شکل جائز نہیں ہے مگر انفرادی دعا مانگنے کو غلط نہیں کہا جا سکتا اور اس سے کسی کو نہیں روکنا چاہیے۔

ساتھ ہی نماز کے سجدے میں بھی مسنون دعا کی جا سکتی ہے خواہ فرض نماز ہو یا سنت و نفل نماز ہو اس میں بھی کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔

سوال: ایک بیوہ عورت نے دوسرا نکاح کیا ہے۔ اس کے بیٹے کی عمر قریب سترہ  سال اور بیٹی کی عمر قریب سولہ  سال ہے۔ اس نکاح میں ان کی رضامندی بھی تھی اور یہ موجود بھی تھے لیکن باپ اور بھائیوں میں سے کوئی موجود نہیں تھا اور نہ کسی کی رضامندی تھی بلکہ اس کے نکاح سے وٹہ سٹہ ہو گیا تھا اور اس کے بھائی نے اپنی اہلیہ کو صرف اس نکاح کی وجہ سے طلاق دے دی ہے۔کیا یہ نکاح ٹھیک ہے جبکہ اب بھی سب ناراض ہیں؟

جواب: شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:ایک عورت کا نکاح اس کے بیٹے نے کر دیا، جبکہ اس کا باپ موجود تھا، تو اس نکاح کا کیا حکم ہے؟آپ رحمہ اللہ نے جواب دیا:ہم یہ دیکھیں گے کہ عورت کا نکاح کرانے کا زیادہ حق کس کو ہے: باپ کو یا بیٹے کو؟

جواب یہ ہے کہ عورت کا نکاح باپ ہی کراتا ہے۔اگر بیٹے نے باپ کی موجودگی میں نکاح کر دیا ہو تو:

اگر باپ دور دراز جگہ پر ہو اور اس سے رجوع ممکن نہ ہو، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔یا اگر باپ نے عورت کو ایسے شخص سے نکاح کرنے سے روک دیا ہو جسے عورت پسند کرتی ہو، جبکہ وہ شخص دین اور اخلاق میں کفو (مناسب) ہو، تو ایسی صورت میں بیٹا نکاح کرا سکتا ہے، اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔لیکن اگر باپ موجود ہو اور اس نے نکاح سے انکار نہ کیا ہو، تو ایسا نکاح صحیح نہیں ہوگا، اور اسے دوبارہ کرنا واجب ہے۔(لقاء الباب المفتوح، لقاء نمبر: 159)

سوال : میاں بیوی عمرہ کے لیے جارہے ہیں، ان کے ساتھ دوماہ کی بچی ہے۔اس بچی کے عمرہ کی نیت کیسے کریں گے نیز دوران عمرہ اگر بچی بول وبراز کرتی ہے تو کیا احرام کی حالت میں بچی کو وضو وغيرہ کروایا جائے گا؟

جواب:یہ صحیح ہے کہ بچے کی طرف سے بھی عمرہ صحیح ہے مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ دو ماہ کی بچی سے عمرہ کرانے میں مشکلات آسکتے ہیں۔ عمرہ ایک اہم عبادت ہے جس میں احرام کی حالت میں پابندیاں بھی ہیں، دو ماہ کی بچی سے یہ پابندی مشکل ہے، اس لئے بہتر ہے کہ بچی جب بڑی اور باشعور ہوجائے پھر اس سے عمرہ کرایا جائے۔

سوال: مجھے مجبوری میں بیڈ پر نماز پڑھنا ہوتا ہے، وہاں سے لوگ بھی گزرتے ہیں تو کیا وہاں بھی سترہ رکھنے کی ضرورت ہے یا اوپر ہونے کی وجہ سے سترہ رکھنے کی ضرورت نہیں ہے ؟

جواب: بستر پر نماز پڑھتے وقت بھی سترہ رکھنا چاہیے یعنی اونچائی پر نماز پڑھنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سترہ کی ضرورت نہیں ہے۔ بیڈ پر نماز پڑھتے ہوئے اگر اس بات کا خوف ہو کہ لوگ سامنے سے گزریں گے تو اپنے آگے بطور سترہ کوئی لکڑی وغیرہ رکھ لیں۔سترہ کا حکم بعض علماء کے نزدیک وجوب کا ہے جبکہ بعض علماء اسے مستحب قرار دیتے ہیں۔

سوال: کیا طواف کے لئے وضو ضروری ہے ؟

جواب: طواف کے لئے باوضو ہونا شرط ہے یعنی اگر آدمی باوضو نہ ہو تو طواف نہیں کر سکتا ہے اور اسی طرح اگر وضو کرکے طواف کر رہا ہو، درمیان میں وضو ٹوٹ جائے تو اسے جا کر پھر سے وضو کرنا ہے اور جہاں سے طواف چھوڑا تھا وہاں سے باقی بچا طواف مکمل کرنا ہے تاہم سعی میں وضو کی شرط نہیں ہے، بغیر وضو کے بھی سعی کی جا سکتی ہے۔

سوال: میں پیریڈ کی حالت میں تھی ، اس کے بعد غسل کرکے نماز شروع کی تو مجھے پھر سے پیریڈ کی طرح ہمیشہ پانی کی طرح آتا رہتا ہے تو میں نماز پڑھ سکتی ہوں۔ اگر پڑھ سکتی ہوں تو ہر وقت غسل کرکے نماز پڑھنا ہوگا؟

جواب: اگر عورت حیض کے بعد پاکی دیکھ لے یعنی اسے حیض سے پاک ہونے کا یقینی علم حاصل ہو جائے تو اب وہ غسل حیض کرسکتی ہے۔ پاک ہونے اور غسل حیض کر لینے کے بعد اگر عورت کو داغ دھبے لگیں یا مٹیالے اور گدلے رنگ کا پانی نکلے تو اس کو کچھ بھی شمار نہیں کرنا ہے اور اپنی نماز جاری رکھنی ہے، نیز دوبارہ غسل کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ حیض سے پاک ہونے کے بعد گدلا پانی یا رطوبت آنے پر ہر نماز کے وقت نیا وضو کرنا ہے لیکن غسل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

سوال: ایک خاتون کے یہاں بچی پیدا ہوئی، ساتویں دن اس کا عقیقہ کر دیا گیا۔ اب بچی کچھ اور بڑی ہوگئی ہے تو خوشی میں پھر سے فیملی ممبرس کو دعوت کرنا چاہتی ہے۔ اس دعوت کو رشتہ دار چلہ یا کوئی بدعتی رسم نہ سمجھ لے اس ڈر سے اس دعوت کا نام عقیقہ دینا چاہتے ہیں تاکہ لوگ برا گمان یا باتیں نہ کریں۔ کیا شرعی اعتبار سے اس میں کوئی حرج ہے؟

جواب: جس بچی کے نام سے ساتویں دن عقیقہ ہو چکا تھا اور وہ اب کچھ بڑی ہو گئی ہے، اس وجہ سے گھر والے چاہتے ہیں کہ دوبارہ اس کے نام سے خوشی پر جانور ذبح کیا جائے اور لوگوں کو دعوت دی جائے، یہ عمل صحیح نہیں ہے کیونکہ اس طرح کا عمل ہماری شریعت میں موجود نہیں ہے۔اس دعوت کا نام عقیقہ رکھا جائے تب بھی غلط ہے کیونکہ عقیقہ پہلے ہو چکا ہے اور اگر یہ دعوت لڑکی بڑی ہونے کی خوشی میں کی جائے تو بھی غلط ہے۔

جو آدمی اس طرح کی دعوت کرنا چاہتا ہے مجھے لگتا ہے ان کو اللہ تعالی نے مال و دولت سے زیادہ نوازا ہے، آپ ان کو نصیحت کریں کہ وہ یہ دعوت نہ کرے اور اس دعوت میں جتنا روپیہ خرچ آئے، اس کا حساب لگا کر وہ پیسہ کسی ضرورت مند اور غریب کو صدقہ و خیرات کر دے۔ بھلے اپنی اسی بیٹی کے نام سے صدقہ کرے یا اپنے پورے گھر والوں کے نام سے کرے ، کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن ضرورت مندوں کے نام صدقہ کر دے۔ اس سے ضرورت مندوں کا بھلا ہو جائے گا اور گھر والوں کو ثواب بھی مل جائے گا مگر کھلانے پلانے سے دین کا کوئی فائدہ یا اس میں کوئی ثواب نہیں ملے گا۔

سوال: کوئی عورت بچہ گود لے اور جب اس کے شوہر کا انتقال ہو جائے تو اس سے بھی عدت میں پردہ کرنا پڑے گا ؟

جواب: اگر سوال یہ ہے کہ ایک عورت نے ایک لڑکا گود لیا۔جس عورت نے لڑکا گود لیا اس عورت کا شوہر انتقال کر جائے تو کیا یہ عورت اپنے لے پالک سے عدت میں پردہ کرے گی؟

اگر سوال یہی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ لڑکا اگر پہلے غیر محرم تھا تو گود لینے کے بعد بھی وہ لڑکا غیر محرم ہی رہے گا اور اس لڑکا سے ہمیشہ پردہ کرنا ہے، صرف عدت میں ہی نہیں بلکہ عدت کے علاوہ بھی ہمیشہ اس لڑکے سے پردہ کرنا ہے کیونکہ وہ لڑکا اس عورت کے لیے غیرمحرم ہے۔
ہاں اگر اس لڑکے کو دو سال کی مدت میں پانچ مرتبہ پیٹ بھر کر اس عورت نے دودھ پلایا ہو تب یہ رضائی بیٹا بن جائے گا پھر ایسی صورت میں یہ محرم ہونے کی وجہ سے اس لڑکا سے عدت میں یا بغیر عدت کے کبھی بھی پردہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

سوال: ایک ہندو آدمی ہے جس کے یہاں اولاد نہیں ہے ،وہ ہم سے زمزم کا پانی مانگ رہا ہے اپنی بیوی کو پلانے کے لیے تو کیا ہم اسے زم زم کا پانی دے سکتے ہیں ؟

جواب: ہاں، آپ اس ہندو کو زمزم کا پانی دے سکتے ہیں ، اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ الحمد للہ زمزم میں بہت فوائد ہیں۔ بیماروں کو شفا بھی نصیب ہوجاتی ہے۔ وہ ہندو خود بھی پئے یا اپنی بیوی کو پلائے، کوئی بات نہیں ہے۔ ممکن ہے اس بہانے ان کے دل میں اسلام سے محبت پیدا ہوجائے اور مسلمان ہونے کا سبب بن جائے۔ اللہ تعالی سے ان کی ہدایت کے لئے دعا بھی کریں۔

سوال : اگر ہمارے یہاں مغرب کی اذان 5:20 اور فجرکی اذان  5:40 پر ہو رہی ہے تو عشاء کی نماز کا وقت کب تک ہے اور تہجد کاوقت کب  سےشروع ہوگا؟

جواب: جب سورج 5:20 پر ڈوب رہا ہے اور 5:40 پر طلوع فجر ہے تو اس دوران رات کا مکمل دورانیہ بارہ گھنٹے بیس منٹ بنتا ہے۔ اس حساب سے آدھی رات 11:30 تک ہے یعنی اس وقت تک عشاء کی نماز پڑھ سکتے ہیں۔ اور تہجد کا وقت تو عشاء کی نماز کے بعد سے لے کرطلوع فجر تک ہے یعنی 5:40 سے پہلے پہلے تک تہجد پڑھ سکتے ہیں۔

سوال: سورہ بقرہ کی آخری دو آیات لگاتار تین دن تک تلاوت کرنے سے وہاں شیطان داخل نہیں ہوتا، تین دن پڑھنے بعد کوئی پڑھنا چھوڑ دے تو کیا پھر شیطان گھر میں داخل ہو جائے گا ؟

جواب: سورہ بقرہ کی فضیلت سے متعلق مختلف قسم کی روایات آتی ہیں، آپ کے سوال سے متعلق اس طرح حدیث آئی ہے کہ جس گھر میں سورہ بقرہ کی تلاوت کی جائے اس گھر میں تین دن تک شیطان نہیں آتا۔(ابن حبان:780) اس حدیث کو بعض علماء نے صحیح اور بعض نے ضعیف کہا ہے۔ اس بارے میں صحیح حدیث یہ ہے ۔

نبی ﷺ نے فرمایا:لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ، إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ(صحیح مسلم: 780)

ترجمہ:اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، بے شک شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے جس میں سورۃ البقرہ پڑھی جاتی ہے۔

اسی طرح سورہ بقرہ کی آخری دو آیات کی فضیلت میں یہ حدیث ثابت ہے۔

عن أبي مسعود رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم:مَنْ قَرَأَ بِالْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ(صحيح البخاري: 5009)

ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :جس نے سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں رات میں پڑھ لیں، اس کے لیے یہ دو آیتیں کافی ہو جاتی ہیں۔

بہرکیف! گھر کو شیطان سے محفوظ رکھنے کے لئے قرآن کی تلاوت، ذکر و اذکار اور وہاں پر نماز کی پابندی کرنا چاہئے۔ صرف تلاوت سے کام نہیں چلے گا حتی کہ گھر کو بری چیزوں سے جیسے ناچ گانے، موسیقی ، فلم بینی نیز دیگر برائیوں سے بھی پاک رکھنا ہوگا۔

سوال: میں نے  تجوید کا علم سیکھا ہے، مجھے الحمدللہ تلاوت کرنا آتا ہے۔ پھر اساتذہ سے سن رہی ہوں کہ مجھے تجوید کا اڈوانس کورس کرنا پڑے گا جو کہ میرے لئے بہت مشکل ہے ، آپ اس بارے میں رہنمائی کریں؟

جواب:تجوید کا علم حاصل کرنا مفید ہے اس سے آدمی قرآن کو صحیح ڈھنگ پر پڑھ سکتا ہے، اس لیے ہم میں سے ہر کسی کو قرآن صحیح سے پڑھنے کی تعلیم حاصل کرنی چاہیے۔رہا مسئلہ اڈوانس کورس کرنے کا تو مجھے اس کا علم نہیں ہے کہ آپ کے اساتذہ کس اڈوانس کورس کی بات کر رہے ہیں۔

اصل میں آج لوگوں نے دینی تعلیم کو کسب معیشت سے اس قدر جوڑ دیا ہے کہ اس میں مختلف چیزیں جوڑ کر اور غیر ضروری تکلفات و پروگرامنگ سیٹ کرکے دینی کورس کو حصول مال و زر کا ایک اہم ذریعہ بنا لیا گیا ہے جبکہ ہونا یہ چاہیے کہ دینی اور قرآنی علوم کو فی سبیل اللہ سکھایا جائے تاہم مناسب اجرت لینے میں کوئی حرج نہیں ہے مگر لوگ اسے کسب معاش کا اہم ذریعہ بنا لیتے ہیں۔

اس بارے میں سب سے اہم بات اپنے لیے یہ سمجھ لیں کہ تجوید کا کورس آپ کے لیے یا کسی مسلمان کے لیے واجبات اور فرائض میں سے نہیں ہے یعنی آپ علم تجوید سیکھتے ہیں تو اچھی چیز ہے اور آپ نے اپنی تلاوت ٹھیک کر لی ہے تو یہی کافی ہے، مزید آگے اڈوانس کورس کے لیے وقت لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔

سوال: ایک بیٹے کو باپ نے اعلی تعلیم دلائی پھر وہ باہر کمانے کے لئے گیا۔ باپ نے گھر خریدا تھا اس میں مقروض تھا، اس بیٹے نے قرض اتارنے کے لئے پیسہ دینے کا وعدہ کیا۔ کچھ پیسہ دیا تھا پھر اس نے شادی کرلی اور وہ اپنی فیملی میں مشغول ہوگیا۔ پانچ چھ سال میں باپ کو کبھی خرچ نہیں دیا، اب وہ گھر میں آج کے ویلیو کے حساب سے حصہ مانگتا ہے اور کہتا ہے کہ میرا پیسہ لگا ہے، میں نے یہ قرض کی حیثیت سے دیا تھا جبکہ شروع میں ایسی کوئی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی بعد میں کبھی یہ بات کہی۔ باپ کہتا ہے کہ میری اور بھی اولاد ہیں، میں صرف تمہیں کیسے حصہ دے سکتا ہوں۔ وہ اس بات پر باپ سے ناراض ہے۔ اس صورت میں کیا کرنا چاہئے؟

جواب:سب سے پہلی بات یہ ہے کہ معاشرتی طور پر بھی مشترکہ فیملی میں ایک دوسرے کے ساتھ لین دین کرنا تعاون مانا جاتا ہے، اسے قرض کے زمرے میں نہیں مانا جاتا ہے الا یہ کہ شروع میں ہی کوئی معاملہ قرض کی حیثیت سے طے پایا ہو۔

دوسری بات یہ ہے کہ جس بیٹے کا معاملہ ہے اس کی اعلی تعلیم اور باہری سفر باپ کے پیسے سے ہی ہوا ہوگا پھر اس بیٹے نے مقروض باپ کا تعاون کیا ، یہ تعاون ہے، اس کو قرض کا معاملہ نہیں مانا جائے گا۔ ضرورت کے وقت باپ اپنے بیٹے کے مال سے لے سکتا ہے۔ جس گھر کے قرض میں بیٹے نے باپ کا تعاون کیا، وہ گھر باپ کا ہوگا۔ اور باپ کی وفات کے بعد اس میں سے سارے ورثاء حق پائیں گے۔ اس جگہ ایک حدیث ملاحظہ کریں تو بات سمجھنے میں آسانی ہوگی۔

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس مال ہے اور والد بھی ہیں اور میرے والد کو میرے مال کی ضرورت ہے ۱؎ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اور تمہارا مال تمہارے والد ہی کا ہے (یعنی ان کی خبرگیری تجھ پر لازم ہے) تمہاری اولاد تمہاری پاکیزہ کمائی ہے تو تم اپنی اولاد کی کمائی میں سے کھاؤ۔ (سنن ابي داود: 3530)

یہ حدیث بتاتی ہے کہ  باپ ضرورت کے وقت بیٹے کے مال سے لے سکتا ہے، بنابریں مقروض باپ کو بیٹے نے جو کچھ دیا وہ اپنے باپ کے ساتھ تعاون ہے، اس لئے بیٹے کا مطالبہ درست نہیں ہے۔

سوال: اگر کسی کو احتلام ہوجائے یا میاں بیوی کے درمیان جماع ہو اور صبح کے وقت غسل نہیں کیا جاسکتا ہو ، بارش یا ٹھنڈ کی وجہ سے تو نماز فجر کیسے ادا کرے جبکہ غسل کی استطاعت نہ ہو؟

جواب:اگر کسی کو فجر سے پہلے احتلام ہوجائے یا وہ جنابت کی حالت میں ہو تو اس کے اوپر غسل کرنا لازم ہے۔ آج کل ٹھنڈے پانی کو گرم کرنے کی سہولت بھی موجود ہے لہذا موسم سرما میں ٹھنڈے پانی کو گرم کرکے بآسانی غسل کیا جاسکتا ہے۔اگر پانی گرم کرنے کی سہولت نہ یا پانی کا استعمال صحت کے اعتبار سے نقصان دہ ہو تب تیمم کرکے نماز فجر ادا کی جاسکتی ہے۔

سوال: اگر کسی سے  شہوت کے ساتھ  مذی خارج ہو جائے یا بغیر شہوت کے تو ایسی صورت میں بغیر غسل کئے تلاوت کرنا کیسا ہے؟

جواب:شہوت کے ساتھ خارج ہونے والا گاڑھا مادہ منی کہلاتا ہے یعنی جو شہوت بھڑکنے سے احساس شہوت کے ساتھ مادہ خارج ہو، وہ منی ہے اس سے غسل لازم آتا ہے، یہ جنابت کی حالت ہے اور جنابت کی حالت میں تلاوت ممنوع ہے۔

شہوت کے بغیرپتلے پانی کی طرح  لیس دار مادہ خارج ہو، اسے مذی کہتے ہیں ۔ مذی ناپاک ہے، اس کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ جس کے بدن میں مذی لگی ہو پہلے وہ اس کی صفائی کرے پھر تلاوت کرے کیونکہ مذی  ناپاک ہے۔

سوال:ایک شخص دین کا بہت سارا کام کرتا ہے جیسے پڑھنا پڑھانا اور درس و تدریس وغیرہ لیکن مسجد میں نماز نہیں پڑھتا سوائے جمعہ کے کیونکہ مسجد گھر سے دور ہے ایسے شخص کا عذر جائز ہے؟

جواب:جو بندہ لوگوں کے درمیان دین کا بہت کام کرتا ہے، لوگوں کو پڑھاتا اور درس بھی دیتا ہے ، آخر وہ لوگ کس قسم جگہ رہتے ہیں، کیا یہ سب لوگ گھر گھر نماز پڑھتے ہیں، کیاوہاں کوئی مسجد نہیں ہے؟

جہاں پر مسلمان مرد حضرات موجود ہیں، وہاں کے لوگوں کو نماز پڑھنے کے لئے مسجد قائم کرنا چاہئے اور جب تک وہاں مسجد نہیں ہوجاتی ہے، ایک جگہ جمع ہوکر سارے مرد جماعت سے نماز ادا کریں گے۔

مردوں کے ذمہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا واجب ہے، بغیر عذر کے ترک جماعت سے گناہگار ہوگا۔ جمعہ والی مسجد دور ہے تو دور رہنے والے اپنی جگہ مسجد قائم کریں تاکہ پنج وقتہ نمازیں جماعت سے مسجد میں ادا کیا کریں۔

سوال: میں آن لائن قرآن پڑھاتی ہوں، اسلام آباد لاہور میں کراچی سے نماز کا وقت مختلف ہوتا ہے۔ جب کراچی میں اذان ہوتی ہے تو اس وقت قرآن سننا روک دیتی ہوں لیکن جو قرآن سنا رہی ہے، وہ بھی اس وقت قرآن کی تلاوت روک دے؟

جواب:جو آدمی کہیں سے درس کا کام کررہا ہے، وہاں پر اذان ہونے لگے تو اس مدرس کو تعلیم بند کردینا چاہئے تاکہ وہ اذان کا جواب دے ۔ مدرس اذان کا جواب بھی دے اور قرآن بھی سنے، یہ ٹھیک نہیں ہے۔ایک وقت میں ایک ہی کام ہوسکتا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اذان کا جواب دینا اس کے ذمہ ہے جو اپنے کانوں سے مسجد کی اصل اذان سنے، کسی ایپ کے ذریعہ کہیں اذان کی آواز جائے تو اس کے سننے والے پر اذان کا جواب دینا نہیں ہے۔

بہر کیف! اصل اعتبار مدرس کا ہوگا، ان کی جگہ اذان ہونے لگے وہ درس بند کردےبلکہ درس کے لئے مناسب وقت کا انتخاب کرے جس  سے وقت پر مدرس و طالب دونوں نماز ادا کرسکیں۔

سوال: ایک خاتون کے گھر میں کسی کا جنم دن ہے، اس جنم دن کی خوشی میں اس کے گھر میں کچھ نیا بنا ہوا ہے اور سسرال والے بہت سخت ہیں۔ اگر وہ جنم دن کی خوشی میں بنا ہوا کھانا نہیں کھائے گی تو بات بہت خراب ہوسکتی ہے، لڑائی جھگڑا ہونے کا اندیشہ ہے۔ ایسے میں کیا وہ کھانا کھاسکتی ہے جبکہ اس کی نیت بالکل صاف ہے، وہ جنم  دن سمجھ کر کھانا نہیں کھارہی ہے بلکہ ایک عام کھانا سمجھ کر کھارہی ہے؟

جواب:اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عورت اپنے سسرال میں خصوصا جوائنٹ فیملی میں کمزور ہوتی ہے مگر ہر عورت کو یہ سمجھنا ہے کہ وہ سسرال میں اپنے شوہر کی وجہ سے ہے۔ اس کا شوہر اس کا نگراں و محافظ ہے۔

مذکورہ مسئلہ میں جنم دن کا کھانا کھانا، یہ محض ایک مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ کئی مسائل جڑے ہوئے ہیں۔ ایک مسئلہ تو یہ بھی ہے کہ عورت کو جنم دن کا کھانا بھی بنانا پڑتا ہوگا، پھر گھر میں سارے لوگ نئے نئے کپڑے پہنتے ہوں گے اور گھر کو سجایا جاتا ہوگا، اس میں وہ عورت بھی شریک ہوگی۔ اس کے بعد اصل مسئلہ یہ ہے کہ گھر میں ایک غلط کام ہورہا ہے، اس کو روکنے والا کوئی نہیں ہے، سبھی اسے جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

ان ساری باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک عورت اپنے محافظ و نگراں یعنی شوہر کے ذریعہ اور پہلے اس کو منواکر اپنے گھر سے اس رواج کا خاتمہ کرنے کی کوشش کرے۔ اس میں مشکل درپیش ہوسکتی ہے لیکن کوشش کرنے سے اللہ تعالی نیک کام میں برکت دے گا اور گھر سے برائی ختم ہوسکتی ہے۔ اپنی کوشش جاری رکھتے ہوئے ، جب تک عورت کمزور حالت میں ہے، وہ حکمت کا معاملہ کرے، رسم و رواج سے بچے اور اس قسم کے کھانے میں شرکت نہ کرنے پر فتنہ کا اندیشہ ہو یا اس کے لئے کوئی بڑا نقصان دہ مسئلہ ہو تو دل میں برا جانتے ہوئے کھالے مگر اس کے ذمہ جو دینی فریضہ ہے، اسے انجام دینے کی کوشش کرتی رہے۔

سوال: میرا لڑکا داڑھی رکھتا ہے، ایک جگہ جاب مل رہی ہے لیکن وہاں پر کچھ داڑھی کاٹنے کو کہا جارہا ہے، ایسے میں کیا کرنا چاہئے؟

جواب:یہ اللہ کا شکر اور احسان ہے کہ آپ کے بیٹے نے داڑھی رکھی ہے اور یہ داڑھی رکھنا اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی وجہ سے ہے لہذا کسی انسان کی وجہ سے یا نوکری کی وجہ سے داڑھی کٹانے کے لیے نہ بولیں۔ آج تھوڑی سی داڑھی کٹانے کے لیے کہا ہے، کل پوری داڑھی کٹانے کے لیے بھی کہہ سکتا ہے اور ویسے بھی جو آدمی داڑھی کاٹنے لگتا ہے وہ اپنے دل سے داڑھی کی اہمیت کو بھلا بیٹھتا ہے۔ بعد میں وہ مونڈ بھی دے تو اس کے لئے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اللہ نے زمین کافی وسیع بنائی ہے، یہاں پر روزگار کی کمی نہیں ہے۔ میرا مشورہ یہ ہوگا کہ دوسرے روزگار کو تلاش کرنے کہیں، جہاں پر آسانی کے ساتھ دین پر عمل کرنے کی آزادی ہو۔

سوال: عورت کا ستر کھلا ہوا ہو یا سر کے بال سے کپڑا ہٹا دیا تو کیا وضو باقی رہے گا؟

جواب:عورت کے سر پر دوپٹہ نہ ہو یا سر سے دوپٹہ سرک جائے یا بال کا کچھ حصہ ظاہر ہو جائے، ان سب باتوں سے عورت کا وضو نہیں ٹوٹتا ہے، وضو اپنی جگہ پر باقی رہتا ہے حتی کہ جسم کا کوئی اور ستر ظاہر ہو جائے اس سے بھی وضو نہیں ٹوٹتا ہے۔

وضو کرتے وقت عورت کے سر پر دوپٹہ نہ ہو، تب بھی اس کا وضو درست ہے اور وضو کرنے کے بعد سر پہ دوپٹہ نہ ہو تب بھی اس کا وضو قائم رہتا ہے۔

سوال: کیا عورت غیرمحرم جو دیور یا بہنوئی ہو، اس کے ساتھ دور کا سفر کرسکتی ہے؟

جواب:کسی اجنبی مرد کو کسی خاتون کی تنہائی میں رہنے سے منع کیا گیا ہے، غیر محرم کے ساتھ عورت کا سفر کرنا اور بھی بڑا گناہ ہے۔

نیز عورت کے لیے اس کا دیور انتہائی خطرناک ہے، دیور کو عورت کے لیے موت قرار دیا گیا ہے۔ ٹھیک اسی طرح عورت کے لیے اس کا بہنوئی بھی ہو سکتا ہے۔

جب ایک عام غیرمحرم کے ساتھ عورت کا سفر کرنا ممنوع ہے پھر جو عورت کے لیے موت کے برابر ہو اس کے ساتھ سفر کرنا انتہائی زیادہ سنگین ہے اس وجہ سے عورت کو اس طرح دور کا سفر کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔

سوال: ایک عورت کے پاس سونے کے زیورات ہیں لیکن وہ زکوۃ نہیں ادا کر سکتی، اس نے یہ زیور ابنے بچیوں کی شادی کے لئے رکھا ہے، وہ خود بھی زیادہ نہیں پہنتی۔ اب وہ یہ چاہتی ہے کہ ان زیورات کو بچیوں کے نام تھوڑا تھوڑا تقسیم کر دے تاکہ نصاب سے کم ہو جائے اور وہ خود بھی بچیوں کی چیز نہیں استعمال کرے گی، کیا ایسا کرنا درست ہے؟

جواب:کسی خاتون کا محض اس ڈر سے اپنے زیورات بچیوں کے نام تقسیم کرنا تاکہ زکوۃ نہ دینا پڑے درست نہیں ہے۔ البتہ یہ معاملہ درست ہے کہ عورت اپنے زیورات بچیوں کی شادی میں دینا چاہتی ہے تو اپنے زیورات کو بچیوں کے نام مختص کر دے تاکہ یہ واضح رہے کہ یہ حصہ فلاں بچی کے نام ہے، یہ حصہ فلاں بچی کی نام ہے۔اس طرح تقسیم کرنے کے بعد کسی کا زیور نصاب تک نہ پہنچے تو پھر زکوۃ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

سوال: اگر کسی عورت کو سونے کی انگوٹھی پڑی ملے تو کیا وہ اس کی قیمت نکال کر غریب رشتہ داروں میں تقسیم کردے اور کچھ رقم اپنے بچوں کو دے سکتی ہے یا ایسی چیز کا کیا کرنا چاہئے؟

جواب:اگر کسی کو اپنے قرب و جوار اور محلہ میں قیمتی چیز جیسے سونے کی انگوٹھی ملے تو ظاہر سی بات ہے کہ یہ اسی محلے میں موجود کسی کی ہوسکتی ہے لہذا محلے والوں میں سے سب سے پوچھا جائے گا اور جس کی انگوٹھی ہو اس کو لوٹانا پڑے گا۔

اگر قریبی جگہ نہ ہو بلکہ راستہ ، بازار اور چوراہوں پر ملے تو اس کا لوگوں میں ایک سال تک اعلان کرے یعنی انگوٹھی اٹھاکر اپنے پاس نہیں رکھ لینا ہے بلکہ اسے لوگوں کے مجمع میں اعلان کرکے بتانا ہے کہ کسی کی انگوٹھی گم ہوگئی ہے۔ ایک سال تک پہچان کرائے ، ایک سال تک کوئی لینے کے لئے نہ آئے تو اس انگوٹھی کو اٹھانے والا اپنے لئے استعمال کرسکتا ہے تاہم وہ اس کی صفت یاد رکھے کیونکہ یہ چیز اس کے ذمہ میں ہوگی۔ جب صاحب انگوٹھی کسی دن آجائے خواہ پانے والے نے بیچ بھی دیا ہو تو اسے اس کی قیمت یا انگوٹھی واپس کرنی پڑے گی۔ ایک سال تک پہچان کرانے کے بعد اس کو اپنے مصرف میں استعمال کرسکتے ہیں یا اگر اس کے نام سے صدقہ کرنا چاہے تو صدقہ بھی کرسکتا ہے۔

سوال:میرا بھائی کعبہ کے قریب تھا، اس کو ایک آدمی نے اپنی انگوٹھی بڑھا یا،تاکہ وہ کعبہ سے مس کراکر دے، اس نے ایسا کردیا ، کیا یہ صحیح تھا؟

جواب: ایسا کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ قرآن و حدیث میں اس کی کوئی دلیل نہیں ملتی ہے اس وجہ سے اس عمل کو بدعت کہیں گے۔ آپ کے بھائی کو چاہئے تھا کہ وہ اس آدمی کو اس کام سے منع کرے، انگوٹھی کعبہ سے مس کراکر نہیں دینا تھا بلکہ اس بندے کو صحیح بات بھی بتانی تھی کہ ایسا کرنا غلط ہے۔ اگر اس بندے نے شفا کی نیت سے ایسا کروایا ہوگا تو یہ شرکیہ عمل ہوجائے گا۔

سوال: ایک آدمی اپنے مرحومین کی طرف سے صدقہ کرتا ہے جیسے دادا کی طرف سے سو ریال ، دادی کی طرف سے سو ریال ، فلاں کی طرف سے سو ریال ۔ کیا ایسا کرنا درست ہے اور صدقہ کرنے والے کو صدقہ کرنے کا اجر ملے گا؟

جواب : ہاں ایسا صدقہ کرنا جائز ہے، اس میں حرج نہیں ہے بلکہ بہتر ہے کہ وہ جتنا ریال صدقہ کرنا چاہتا ہے وہ اتنا ریال فقراء و مساکین میں ان سب کی اکٹھے نیت کرکے تقسیم کردے۔ اس طرح صدقہ کرنے سے صدقہ کرنے والے کو بھی اجر ملے گا۔

سوال: ایک آدمی امریکہ میں ایک سال کے لئے وزٹ ویزہ پر ہے مگر وہ کام بھی کرتا ہے، کام محنت سے اور صحیح کام کرتا ہے تو کیا اس کی کمائی حلال ہے؟

جواب: جو آدمی امریکہ میں وزٹ ویزہ پر ہے، وہ ایک طرح سے اس ملک کے نظام کی پابندی کرتے ہوئے رہنے کا عہد بھی کیا ہوگا مگر اس عہد کی مخالفت کرتے ہوئے کام کررہا ہے ۔ یہ قدم اس کا غلط ہے اور حکومت کے نظام کے خلاف ہے ، وہ ایک قسم کی بدعہدی کررہا ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ مسلمان اپنی شرطوں یعنی عہدوں کی پابندی کرتا ہے۔ گوکہ حلال طریقے سے کمانے پر اس کی کمائی فی نفسہ حلال ہے مگر اس کا یہ عمل ملکی نظام اور اس کے ساتھ کئے گئے عہد کے خلاف ہے لہذا وہ اس عمل سے باز آجائے۔ اگر وہاں کمانا ہے تو نظامی طور پر کمائے ورنہ جس مقصد کا ویزہ ہے اس کے مطابق وہاں رہائش اختیار کرے۔

سوال: لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ سے  نیک لوگوں کا واسطہ یا وسیلہ دے کر کیوں نہیں مانگ سکتے ہیں جبکہ ہم بھی تو ذریعہ اور وسیلہ ہی سے پیدا ہوئے ہیں، ان کو کیسے سمجھائیں؟

جواب:اس میں پہلی بات یہ ہے کہ دین عقل پر مبنی نہیں ہے کہ کوئی اپنی عقل سے دینی مسئلہ نکالے جیسے کوئی کہے ہم تو ایسے پیدا ہوئے ہیں تو فلان دینی کام بھی ایسے کرنا چاہئے۔ نہیں ہرگز نہیں۔ دین، کتاب اللہ اور سنت رسول پر مبنی ہے لہذا عقل سے دین کو نہیں تولیں گے بلکہ یہ دیکھیں کہ اللہ کی کتاب میں کیا لکھا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی سنت میں کیا لکھا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اللہ کی شان سب سے بلند اور سب سے نرالی ہے، اللہ کے اوصاف میں سے ایک صفت ہے، "لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ" (الشوری:11) یعنی اللہ کے جیساکہ کوئی بھی نہیں ہے۔ اس آیت میں اللہ نے ایک قاعدہ بیان کیا ہے کہ اس جیسا، اس کے برابر اور اس کے مثل کوئی بھی چیز نہیں ہے۔ اس وجہ سے ہم اپنے معاملات میں اللہ کی مثال نہیں بیان کریں گے جیسے ہم یہ نہیں کہیں گے کہ ہم تو وسیلہ اور ذریعہ سے پیدا ہوئے تو اللہ سے کیوں نہیں وسیلہ سے مانگ سکتے ہیں؟ اللہ کی شان بہت بلند ہے، ہمارا اللہ سے کوئی مقابلہ ہی نہیں بنتا، ہم اپنے معاملات پر اللہ کو قیاس ہی نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ اس کے جیساکہ کوئی بھی نہیں ہے۔

چونکہ دین کتاب اللہ اور سنت رسول پر مبنی ہے تو ہم دیکھیں کہ قرآن و حدیث میں رب کو کیسے پکارنے کو کہا گیا ہے؟

قرآن کہتا ہے: وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (غافر:60)

ترجمہ: اور تمہارے رب نے کہا کہ مجھ سے دعا کرو ، میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا۔

قرآن میں ہم سب کا خالق و مالک خود ہی حکم دیتا ہے کہ تم مجھے ہی براہ راست پکارو، تمہیں کسی وسیلہ کی ضرورت نہیں ہے۔ جب یہ ہمارے رب کا حکم ہے، پھر انسان اپنی عقل سے رب کے بارے میں غلط مثال پیش کرتا ہے اور انسان غلط طریقے سے رب کو کیوں پکارتا ہے۔ ہمارا رب تو بڑی شان والا ہے، وہ دور و نزدیک میں سے ہر کسی کی بولی سنتا، سمجھتا اور جواب دیتا ہے پھر اس شان والی ذات کے لئے وسیلہ لگانے کی ضرورت کیوں ہے؟

انسان کمزور مخلوق ہے، انسانوں کو اپنے دنیاوی کاموں میں کہیں کہیں وسیلہ کی ضرورت پڑتی ہے، کیونکہ وہ انسان ہے، وہ مخلوق ہے مگر اللہ تو ہمارا خالق ہے۔ کیا ہم خالق کو بھی اپنے جیساسمجھ رہے ہیں۔ لاحول ولا قوۃ۔

اسی طرح ہم سب کے پیارے حبیب محمد ﷺ فرماتے ہیں:

إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ(سنن ترمذي:2516)

ترجمہ:جب تم کوئی چیز مانگو تو صرف اللہ سے مانگو، جب تو مدد چاہو تو صرف اللہ سے مدد طلب کرو۔

یہ حدیث بھی ہمیں بتاتی ہے کہ ہمیں صرف اور صرف اللہ سے مانگنا چاہئے، نیز اس میں کسی آدمی، بزرگ یا نبی و ولی کے وسیلہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جو لوگ دعاؤں میں نبیوں ، ولیوں اور بزرگوں کا وسیلہ لگاتے ہیں وہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے خلاف عمل کرتے ہیں۔ اللہ ایسے لوگوں کو سیدھے راستے کی ہدایت فرمائے۔ آمین

اس بارے میں آخری بات یہ ہے  کہ ہم اللہ کو اس کے اسمائے حسنی کے ذریعہ پکار سکتے ہیں اور دعا میں اپنے نیک اعمال کا وسیلہ  بھی لگاسکتے ہیں کیونکہ قرآن و حدیث میں اس کا ثبوت ملتا ہے، اسی طرح زندہ آدمی سے  دعا کے لئے درخواست کر سکتے ہیں مگر دعا میں میت کا وسیلہ نہیں لگاسکتے کیونکہ وہ وفات پاگئے اور میت نہ سنتا  ،نہ وجواب دیتاہے اور نہ میت کا وسیلہ لگانے کی کوئی صحیح دلیل نہیں ملتی ہے۔

سوال: میرا بیٹا انڈیا کے نیشنل انسٹیٹیوٹ میں پڑھتا ہے ہاسٹل میں رہ کر کے جو حکومت کے ماتحت ہے اور الحمد اللہ ہر طالبِ علم کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی ہے، پنج وقتہ نماز مسلمان بچے ہاسٹل ہی کے کسی خالی کمرے میں جماعت بنا کر ادا کرلیتے ہیں اور جمعہ کے لیے قریبی مسجد چلے جاتے ہیں، لیکن ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ انسٹیٹیوٹ کا فیسٹ چل رہا تھا تو تین دن تک کسی کو باہر جانے کی اجازت نہیں تھی اور اس دوران جمعہ آگیا تو ہاسٹل کے ایک خالی کمرے میں بچے جمع ہوے اور ایک لڑکے نے خطبہ دیا اور جمعہ کی نماز پڑھائی، کیا یہ عمل درست ہے؟

جواب:ویسے جماعت اور جمعہ ساری نمازیں مردوں کو مسجد میں حاضر ہوکر جماعت سے ادا کرنا چاہئے لیکن کہیں پر عذر کے باعث ایک جگہ جمع ہوکر لوگ جماعت قائم کرسکتے ہیں، جب مسجد کچھ دوری پر ہو۔

دوسری بات یہ ہے کہ عذر کے باعث ہاسٹل میں جمع ہوکر جمعہ کی نماز اداکرلی گئی، اس میں حرج نہیں ہے لیکن یہ خیال رہے کہ جمعہ مسجد میں حاضر ہوکر ہی پڑھنے کی کوشش کی جائے۔

سوال:اگر کوئی کسی کو یہ نیت کرکے زکوۃ دیتا ہے کہ اگر یہ انسان ہمارا قرض واپس نہ کرپائے تو اس کو اگلے سال کی زکوۃ میں شمار کرلیں گے، اور اس سے قرض واپس نہیں لیں گے۔ کیا یہ عمل جائز ہے؟

جواب:قرض کا معاملہ الگ ہے اور زکوۃ کا معاملہ  الگ ہے، اس وجہ سے کوئی آدمی قرض دیتے وقت یہ نیت نہیں کرسکتا ہے کہ اگر یہ قرض واپس نہ کرسکے تو اسے زکوۃ میں شمار کریں گے۔ نہیں ۔ یہ بالکل بھی درست نہیں ہے اور ایسے زکوۃ ادا نہیں ہوگی۔

کسی کو قرض دیتے ہیں اور اس کے لئے ادا کرنا مشکل ہو تو مزید اس کو مہلت دیں، پھر بھی نہ دے سکے تو معاف کرسکتے ہیں، اس میں اجر ہی اجر ہے۔

زکوۃ کا معاملہ یہ ہے کہ جب مال زکوۃ پر سال مکمل ہوگا، اسی وقت زکوۃ کی رقم مستحقوں میں تقسیم کرنا ہے۔ زکوۃ دینے میں، زکوۃ دیتے وقت مستحق کو مال دے کر اس کا مالک بنایا جاتا ہے، اس وجہ سے قرض کو زکوۃ نہیں مان سکتے ہیں۔

سوال: ایک بھائی کا بیگ کا کاروبار ہے، سال کے آخر پہ سو کے قریب بیگ بچ گئے ہیں تو کیا وہ ان کو زکوٰۃ کے طور پر ایک ادارے کو دے سکتا ہے جہاں بچیوں کی شادی ہوتی ہے؟

جواب:جو کوئی بیگ کی تجارت کرتا ہے، اگر وہ بطور زکوۃ بیگ کو ہی دینا چاہتا ہے تو اس میں حرج نہیں ہے یعنی سامان تجارت کو بھی زکوۃ میں دے سکتے ہیں۔

رہا مسئلہ ایسے ادارہ کو زکوۃ دینا جو لڑکیوں کی شادی کراتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر وہ ادارہ غریب و مسکین اور ضرورت مند لڑکیوں کی شادی کراتا ہے تو اس ادارہ کو بیگ دے سکتے ہیں۔ غریب و امیر ہر قسم کی لڑکیوں کی شادی کراتا ہے تو اس شرط پہ اس کو بیگ دیا جاسکتا ہے کہ اس کو صرف محتاج لڑکیوں کی شادی میں دیا جائے۔

دوسری بات یہ ہے کہ زکوۃ دینے والے آدمی کو دیکھنا ہے کہ اس کی زکوۃ کتنی بنتی ہے، جتنی زکوۃ بنتی ہے اس حساب سے زکوۃ دے گا، ایسے ہی اندازہ سے نہیں۔ ہاں زکوۃ کچھ زیادہ نکل جائے، اس میں حرج نہیں ہے مگر زکوۃ کم نہ نکلے۔

سوال: بنک اور میوچل فنڈز کے انویسٹمنٹ سے آنے والی رقم کو حکومتی ٹیکس ادا کرنے میں دے سکتے ہیں کیونکہ انڈیا میں ٹیکس دینا مجبوری ہے جیسے جی ایس ٹی اور روڈ ٹیکس کے علاوہ۔ ہر سال ہماری آمدنی کا چالیس پچاس فیصد سے زیادہ حصہ ٹیکس میں چلا جاتا ہے جبکہ اس کے علاوہ ہم مسلسل زکوۃ اور صدقہ بھی ادا کرتے ہیں؟

جواب:بنک میں اکاؤنٹ ہونا اس وقت ایک بڑی مجبوری ہے اس لئے اس میں مسئلہ نہیں ہے لیکن میوچل فنڈ میں پیسہ لگانا اپنی مرضی کا کام ہے، یہ تو پیسہ کمانے کے لئے کیا جاتا ہے لہذا کسی کے لئے میوچل فنڈ میں پیسہ جمع کرنا جائز نہیں ہے، یہ سودی معاملہ ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ بنک سے جو سود ملے اس کو اپنے معاملہ میں استعمال نہیں کرسکتے ہیں خواہ کسی قسم کا ٹیکس کیوں نہ ہو۔ ٹیکس حکومت کا علاحدہ معاملہ ہے، اور صدقہ و زکوۃ الگ معاملہ ہے۔ سودی پیسے کو انتہائی فقیر و مسکین کو دیں یا سماجی اور رفاہی کام میں صرف کردیں۔

سوال: اگر کسی نے جنابت کی حالت میں قرآن کا کچھ حصہ پڑھ لیا ہو یا کسی بچی کو قرآن کا سبق پڑھا لیا، تو وہ کیا کرے، صرف استغفار کافی ہے یا کوئی کفارہ دینا ہوگا ؟

جواب:صرف استغفار کرنا کافی ہے، کسی قسم کا کفارہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

مکمل تحریر >>

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات (92)

 

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات (92)

جواب از: شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ

جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ - سعودی عرب

 

سوال: جب بھی فرض نماز کے لئے وضو کرتی ہوں تو پہلے دونفل، وضو کے پڑھتی ہوں پھر فرض نماز پڑھتی ہوں۔ میں نے اب ایک ویڈیو دیکھی جس میں ایک عالم کہہ رہے تھے کہ یہ طریقہ غلط ہے ہم جو فرضوں سے پہلے سنت پڑھتے ہیں اسی میں نفل کی نیت کر لیں ، اگر بغیر نماز کے وضو کر یں تب  اس وقت دونفل پڑھیں؟

جواب: وضو کی نماز سبب والی نماز ہے یعنی جب کبھی وضو کریں اور وہ کسی نماز کا وقت نہ ہو تو اس وقت وضو کی سنت ادا کریں لیکن آپ نے وضو کیا کسی خاص نماز کے لیے اور وہ نماز کا وقت ہے تو آپ وہ نماز پڑھیں گے جو حاضر ہے۔

اس کو مثال سے ایسے سمجھیں جیسے آپ نے فجر کی نماز کے لیے وضو کیا اس حال میں کہ فجر کی اذان بھی ہو چکی ہے تو ایسی صورت میں آپ وضو کی سنت نہیں پڑھیں گے بلکہ فجر کی سنت ادا کریں گے پھر فرض نماز ادا کریں گے ، یہی معاملہ ظہر کے وقت ہوگا۔عصر، مغرب اور عشاء میں فرض سے پہلے سنت نہیں ہے ، اس لیے وضو کی سنت پڑھنا چاہیں تو پڑھ سکتے ہیں اور ویسے بھی اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعت پڑھنا مسنون ہے۔

اور عورتیں گھر میں نماز پڑھ رہی ہیں تو عصر، مغرب اور عشاء میں وضو کرنے کے بعد ڈائریکٹ فرض نماز بھی ادا کرسکتی ہیں۔جب کبھی نماز کا وقت نہ ہو یا نماز کا وقت ہو لیکن اس وقت سنت نہ ہو تو اس وقت وضو کی سنت ادا کر سکتے ہیں۔ ویسے اصلا اس میں یہی ہے کہ بغیر نماز کے جب وضو کریں، اس وقت وضو کی سنت ادا کریں۔

سوال: کیا یہ بات صحیح ہے کہ کھانا کھانے کے وقت سلام کا جواب نہیں دینا چاہیے؟

جواب: کھانا کھاتے وقت سلام کرنا اور سلام کا جواب دینا جائز ہے کیونکہ ممانعت کی کوئی دلیل نہیں پائی جاتی۔ بعض لوگوں کی زبانوں پر یہ جومشہور ہے کہ لا سلام ولا کلام علی الطعام کہ کھاتے وقت سلام یا کلام نہیں ہونا چاہیے تو یہ کوئی حدیث نہیں ہے بلکہ مقولہ ہے جو لوگوں میں رائج ہوگیا ہے ۔

بخاری و مسلم میں اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم سے کھانے کے دوران  بات کرناثابت ہے ۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ کے پاس گوشت پیش کیا گیا آپ نوچ نوچ کرتناول فرمانے لگے ، اسی اثناء فرمایا : ”میں قیامت کے دن لوگوں کا سردار ہوں گا “ پھر آپ نے شفاعت کی طویل حدیث بیان کی ۔ جب حدیث سے کھاتے وقت بات کرنے کا ثبوت ملتا ہے تو اس حالت میں سلام کا جواب دینا بدرجہ اولی درست ہے۔

سلام کرنے اور جواب دینے کے لئے یہ قاعدہ ذہن میں رہے کہ جہاں سلام کرنے کی ممانعت کسی دلیل سے ثابت  ہے وہاں سلام کرنا اور جواب دینا ممنوع ہوگا، مثلا قضائے حاجت کے وقت سلام کرنا اور جواب دینا منع ہے ، بقیہ دیگر مواقع پر سلام کرنا یا جواب دینا جہاں ممانعت کی دلیل نہیں مشروع اور جائز ہوگا۔

سوال: کرسمس کی مناسبت سے کسی قریبی ہسپتال میں ایک دن کے لئے  24/ دسمبر کو فری کیمپ لگتی ہے  تو کیا وہاں سے علاج کرواسکتے ہیں۔یہ پرائیویٹ ہسپتال اپنی حد تک کافی مہنگا ہسپتال ہے اور یہاں علاج کے تمام مراحل اور فیس وغیرہ بہت مہنگے ہوتے ہیں  توکیا اس کیمپ سے فائدہ اٹھانا جائز ہوگا ؟

جواب: کرسمس منانا ، یا اس میں شرکت کرنا یا اس کی مبارکبادی دینا یا اس تعلق سے تحائف قبول کرنا یہ ساری چیزیں غلط ہیں۔ اسی طرح یہ عمل بھی جائز نہیں ہے کہ کرسمس والے ،علاج کے واسطے فری میڈیکل کیمپ لگائیں تو اس کیمپ سے فائدہ اٹھائیں۔ کرسمس والے یہ کیمپ کیوں لگاتے ہیں، اس کا مقصد ہوتا ہے اپنے تہوار کو پروموٹ کرنا۔ اور اللہ تعالی نے ہمیں حکم دیا ہے کہ گناہ و ظلم کے کام پر کسی کی مدد نہ کرو۔ جب کرسمس منانا گناہ ہے تو اس مناسبت سے یا اس کو پروموٹ کرنے والے کاموں میں شرکت کرنا گناہ کے کام پر تعاون ہے لہذا اس مناسبت سے کسی کیمپ یا پروگرام میں شرکت نہیں کریں گے۔عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ عیسی السلام اللہ کے بیٹے ہیں ، ان کی یاد میں یوم ولادت کے طورپر کرسمس مناتے ہیں ۔ گویا عیسائی یہ سمجھتے ہوئے کرسمس مناتے ہیں کہ اللہ نے آج کے دن عیسی علیہ السلام کو جنم دیا ہے۔ یہ کس قدر کفریہ اور شرکیہ عقیدہ ہے۔ ایک مسلمان بھلا اس قسم کے کرسمس اور اس سے متعلق پروگراموں میں کیسے شریک ہوسکتا ہے۔

سوال: سعودی میں میت کے غسل اور کفن  ودفن کے پیسے نہیں لیتے ہیں تو کیا یہ  صدقہ کے پیسوں سے ہوتا ہے؟

جواب: اجنبی لوگوں کا جب سعودی عرب میں انتقال ہوتا ہے تو عام طور سے اس کمپنی کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ  وفات پانے والے کی تجہیز و تکفین کرے جس کمپنی میں آدمی کام کرتا تھا۔ اور جس کا کوئی کفیل اور شرکہ نہ ہو اس کے لیے حکومتی فنڈ ہے حکومت کی نگرانی میں اس کا عمل طے پاتا ہے حتی کہ یہاں بہت سارے خیری ادارے موجود ہیں ، ان کا بھی اس میں کردار رہتا ہے۔اللہ تعالی نے اس ملک کو مال و دولت سے نوازا ہے ،یہ عرب سے باہر کے لوگوں کو بھی مختلف طرح کا تعاون دیتے ہیں، اسی طرح سعودی عرب میں موجود لوگوں کا بھی مختلف طرح سے تعاون کرتے ہیں، ان میں ایک تجہیز و تکفین بھی ہے۔

بہر کیف! یہ شرعی اعتبار سے مسلم میت کے ساتھ ایک قسم کا تعاون ہے، جو لوگ اس کارخیر میں شریک ہوتے ہیں ، ان کو شرکت کرنے، محنت کرنے ، وقت لگانے اور مال خرچ کرنے کا اجر ملے گا۔

سوال: میری بہن کا نکاح سات  سال پہلے ہوا تھا مگر وہ ان دونوں کے بیچ کبھی کوئی رشتہ قائم نہیں ہوا اور وہ دونوں شادی کے وقت چھ دن ہی ساتھ میں تھے الگ الگ کمروں میں ۔ آپس میں ایک دوسرے کو دکھا کر نکاح کیا گیا مگر بعد میں پتہ نہیں کیوں شوہر نے قبول نہیں کیا، لاکھ کوشش کے باوجود اس نے ساتھ میں نہیں رکھا اور طلاق دینے پر بھی راضی نہیں ہے تو کیا میری بہن کو خلع  لینا ضروری ہے یا نکاح ٹوٹ چکا ہے؟

جواب: میاں بیوی کے الگ رہنے سے نکاح ختم نہیں ہوتا ہے ، نکاح ختم ہونے کے لئے طلاق یا خلع یا فسخ نکاح ضروری ہے۔ جیساکہ سوال میں مذکور ہے کہ شوہر بیوی کو رکھنا نہیں چاہتا ہے اور طلاق بھی نہیں دینا چاہتا ہے اس کے لئے بیوی اپنے آدمی کو اس مرد (شوہر)کے پاس بھیجے اور میٹنگ کرے کہ اس کی کیا وجہ ہے، یہ لڑکی اور اس کے گھر والوں کی ذمہ داری ہے۔جب لڑکے کے پاس معقول وجہ ہو تو وہ لڑکی کو طلاق دے کر چھوڑ سکتا ہے لیکن اس کے پاس کوئی وجہ نہ ہو بیوی کو یونہی چھوڑ دینا ظلم ہے، ایسے مرد کو نصیحت کی جائے گی۔

جب کوشش کے باوجود شوہر رکھنے یا طلاق دینے پر آمادہ نہ ہو تو بیوی خلع طلب کرے۔ شوہر خلع پر راضی ہوجائے تو ٹھیک ہے ورنہ مقامی طورپر موجود کسی جید عالم دین کی رہنمائی میں شرعی پنچایت کے ذریعہ اپنا نکاح فسخ کرالے تاکہ اس مرد سے نکاح ختم ہوجائے اور عدت گزار کر، کہیں دوسری جگہ نکاح کرنا ہو تو نکاح کرسکے۔

سوال: سیونگ اکاؤنٹ میں ہر سال جون اور جنوری میں جو پرافٹ آ تا ہے، کیا وہ حلال ہے؟

جواب: سودی بنک میں جتنا پیسہ جمع کیا گیا ہے یعنی اس میں جمع شدہ ذاتی پیسہ ہی اپنا پیسہ ہے، اس کے علاوہ جب جب اس میں اضافہ ہوتا ہے وہ سود ہے خواہ سال میں اضافہ ہو یا کچھ ماہ میں اضافہ ہو۔ بنک کی طرف سے اضافہ شدہ پوری رقم سود ہے اور سود حرام ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَقَالَ: هُمْ سَوَاءٌ (صحیح مسلم:1598)

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، لکھنے والے اور اس کے دونوں گواہوں پر لعنت کی اور فرمایا: (گناہ میں) یہ سب برابر ہیں۔

لہذا اس سودی پیسے کو اپنی ذات پریا ذاتی کسی کام پر خرچ نہ کریں، اسے سماجی اور رفاہی کاموں میں خرچ کیا جائے۔

سوال: کرسمس یا غیر مسلموں کے تہوار کے موقع پر جو وہ تحفے دیتے ہیں کیا ان کو قبول کیا جا سکتا ہے اور اسی طرح دکانوں میں اس موقع سے جو آفرس لگائے  جاتے ہیں ان سے استفادہ کرنا کیسا ہے؟

جواب: کرسمس ڈے اور ہندو تہوار پہ دئے جانے والے تحائف کو قبول کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ برائی پر تعاون ہے اور اللہ تعالی نے حکم دیا ہے کہ ظلم و گناہ کے کام پر کسی کی مدد نہ کرو ۔ لہذا کوئی عیسائی یا کوئی غیرمسلم اپنے مذہبی تہوار پہ تحفہ پیش کرے تو اس کا تحفہ قبول نہیں کرنا چاہئے۔

جہاں تک تہواروں کے موقع سے دکانوں پہ لگے سیل کا معاملہ ہے تو چونکہ یہ خریدوفروخت کا معاملہ ہے اور خریدوفروخت سال بھر چلتی ہے ، نہ کہ صرف تہوار پہ۔ اس وجہ سے اس موقع پر دکانوں میں لگے سیل سے فائدہ اٹھانے میں حرج نہیں ہے۔ آپ ایک خریدار کی حیثیت سے جیسے دوسرے ایام میں سامان خریدتے تھے، آج بھی اس سے جائز سامان خرید سکتے ہیں۔ ہاں اگر کوئی صرف تہوار پہ سیل لگاتا ہے، پھر کاروبار بند کرلیتا ہے یعنی اس کا کاروبار صرف تہوار کی وجہ سے ہے گویا وہ اپنے کاروبار کے ذریعہ تہوار کو پروموٹ کررہا ہےیا صرف تہوار کی وجہ سے کاروبار کررہا ہے  تو ایسی جگہوں سے خریدو فروخت سے بچیں لیکن جو ہمیشہ والی دکانیں ہیں تاہم تہوار کے موقع پر کچھ دسکاؤنٹ دے تو اس سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ ہوسکتا ہے اس وقت بعض چیزوں کی قیمت گھٹ جاتی ہو۔ اشیاء کی قیمت، وقت اور حالات کے اعتبار سے گھٹتی اور بڑھتی رہتی ہے۔

سوال:گھر کی بالکونی میں (wind chimes)سجاوٹ کے لیے لٹکا سکتے ہیں؟

جواب: بطور سجاوٹ گھر میں اس طرح کا سامان رکھنے میں حرج نہیں ہے لیکن اس میں گھنٹی جیسی چیز لگی ہوتی ہے اور اس سے ہوا کے زور پر آواز پیدا ہوتی ہوگی جس سے گھنٹی کی آواز پیدا ہوتی ہوگی جبکہ  گھروں میں گھنٹی رکھنے کی ممانعت آئی ہوئی ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ ؓ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :

لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ جُلْجُلٌ وَلَا جَرَسٌ وَلَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ(سنن النسائي: 5224)

ترجمہ:فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں گھنگرو یا گھنٹی ہو ۔ اور فرشتے اس قافلے کے ساتھ نہیں جاتے جس میں گھنٹی ہو۔

حدیث کو سامنے رکھتے ہوئے یہ سمجھ لیں کہ اگر ہوائی گھنٹی میں آواز پیدا ہوتی ہو تو اسے گھر میں رکھنا درست نہیں معلوم ہوتا کیونکہ اس کی وجہ سے رحمت کے فرشتے گھر میں داخل نہیں ہوتے لیکن اگر اس میں آواز نہیں پیدا ہوتی ہے تو بطور سجاوٹ گھر میں رکھنے میں حرج نہیں ہے۔

سوال: اگر شوہر اپنی بیوی کو غصے میں یا ایسے ہی  بول دے کہ تو میرے لئے حرام ہے تو کیا اس سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب: اس کلام میں شوہر کی نیت کا اعتبار ہوگا کہ وہ کس نیت سے یہ کہا ہے۔اگر نیت طلاق کی تھی تو اس سے طلاق ہوجائے گی۔اگر نیت ظہار یعنی حرام کرنے کی تھی تو ظہار ہوگا۔اگر نیت ڈرانے دھمکانے کی تھی تو یہ قسم ہوگی۔

گویا نیت کے اعتبار سے حکم لگے گا، پھر اس کے مطابق عمل کرنا ہوگا۔ طلاق کی صورت میں معاملہ واضح ہے، ظہار کی صورت میں بیوی کے پاس جانے سے پہلے کفارہ ادا کرنا ہوگا۔ایک مومن غلام آزاد کرےاوراگر قدرت نہ ہو تو دو مہینے مسلسل روزے رکھے۔اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔اور قسم کی صورت میں قسم کا کفارہ ادا کرنا ہوگا۔

سوال: نماز کے تین اوقات ہیں، اشراق ، چاشت اور اوابین تو میں  چاشت کی نماز کب سے کب تک پڑھ سکتی ہوں، اگر تاخیر سے اوابین کے وقت پڑھوں تو کون سا اجر ملے گا اور رات میں دعا کی قبولیت کا وقت کب تک رہتا ہے ، اگر میں  فجر سے آدھا گھنٹہ پہلے اٹھ کر نماز پڑھوں اور دعا کروں تو کیا میری  دعا اور نماز قبول ہوگی؟

جواب: سورج نکلنے کے بعد سے کر ظہر کی نماز تک چاشت کا وقت رہتا ہے ، یہ وقت پوری دنیا کے لئے ہے۔اور یہ واضح رہے کہ اوابین و چاشت کی نماز دونوں ایک ہی نماز ہے، دونوں میں کوئی فرق نہیں ہےلہذا آپ طلوع شمس کے کچھ دیر بعد سے لے کر ظہر سے پہلے تک چاشت و اوابین کی نیت سے نماز ادا کرتے ہیں تو ان کی فضیلت آپ کو حاصل ہوگی اور یہ دونوں ایک ہی نماز ہے۔

جہاں تک قیام اللیل کا مسئلہ ہے تو اس کا وقت عشاء کے بعد سے لے کر فجر سے پہلے تک ہے، اس دوران تہجد کی نماز پڑھ سکتے ہیں اور دعائیں کرسکتے ہیں۔ دعا کے لئے کوئی خاص وقت نہیں ہے ، ہروقت دعا قبول ہوتی ہے، فجر سے پہلے آپ کا قیام کرنا اور دعا کرنا یہ دونوں اجر کا باعث ہیں۔

سوال: میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں جب بھی کچھ کھاتی ہوں تو کھانے سے بال نکلتے ہیں۔ میں اب بہت تنگ آگئی ہوں، کھانے کو دل نہیں کرتا۔کھانا باہر سے آئے یا گھر بنے میرے ہی کھانے سے بال  نکلتے ہیں، اسکی کیا وجہ ہو سکتی ہے اوراس کاکیا حل ہو سکتا ہے؟

جواب: ممکن ہے کہ کبھی کسی کے کھانے سے بال نکل آئے کیونکہ کھانا آدمی ہی بناتا ہے ، کھانا بنانے میں کسی طرح بال کھانے پینے کی چیز میں گر جاتا ہے۔ یہ عام بات ہے۔ اسی وجہ سے بڑے بڑے ہوٹلوں میں کھانا بنانے والے اپنے سر کے بال کو کیپ سے باندھ کر رکھتے ہیں تاکہ کوئی بال کھانا میں نہ گرے۔

آپ کا سوال ہے کہ میرے  کھانا سے ہمیشہ بال نکتا ہے، اور بس میرے ہی کھانا سے نکلتا ہے، دوسرے کسی کے کھانا سے بال نہیں نکلتا۔ دراصل یہ ایک قسم کا وہم اور وسوسہ ہے جو آپ  کے ذہن میں گھر کر گیا ہے۔ اس وسوسہ کو نکالنے کا طریقہ بتاتا ہوں، اس پر عمل کرنے سے یہ وسوسہ دور ہوجائے گا۔

گھر کے سبھی لوگ یعنی اپنے محارم کے ساتھ کھانا کھائیں۔ ایک آدمی کو متعین کرلیں کہ کھانا وہی سب کی پلیٹ میں نکالے گا، دوسرا نہیں۔ پھر ہر کوئی ایک ایک پلیٹ لے کر کھائے۔ یاد رہے کھانا ایک ساتھ ہی کھانا ہے اور کھانا کوئی دوسرا  یعنی ایک مقر ر فردہی پلیٹ میں نکالے۔
اہم کام یہ ہے کہ کھانا نکالنے سے لے کر کھانے تک ویڈیو بنائیں، یہ کام ایک ہفتہ تک کرکے دیکھیں پھر خبر کریں۔ جیسے عمل کرنے کہا گیا ہے اسی طرح عمل کرنا ہے، ویڈیو بناکر اسے موبائل میں رکھنا ہے، ڈیلیٹ نہیں کرنا ہے۔

سوال: مجھے عادتاً چھ دن تک ماہواری آتی ہے، اس دوران میں  غسل کرتی رہتی ہوں جیسے  دوسرے دن، چوتھے دن وغیرہ اور جب آخری دن ہوتا ہےیعنی  چھ دن پورے ہوتے ہیں تو غسل کے بعد مجھے  کبھی کبھار صرف معمولی داغ نظر آتا ہے اور میں  اس کو کچھ شمار نہیں کرتی ہوں اور اپنی نماز شروع کردیتی ہوں لیکن اگر کبھی حیض کے آخری دن غسل کرلینے کے بعد کچھ زیادہ مقدار میں براؤن کلر کا خون دکھے تو کیا مجھے  نماز شروع کردینی چاہیے یا مجھے دوبارہ غسل کرکے پھر نماز شروع کرنی ہے ؟

جواب: پہلی بات یہ ہے کہ حیض سے پاک ہونے پر جو غسل کیا جاتا ہے اس غسل کا اعتبار ہوتا ہے اور حیض کی حالت میں غسل کرنے کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا ہے۔دوسری بات یہ ہے حیض سے پاکی کو سمجھنا اصل مسئلہ ہے، پاکی سمجھ گئے تو مسئلہ آسان ہے۔ دو طرح سے حیض سے پاک ہونے کا علم ہوتا ہے۔

(1)کسی عورت سے ، حیض بند ہوکر سفید پانی کا اخراج ہوتا ہے۔ یہ پاکی کی حالت ہے۔

(2)کسی کسی عورت سے  سفید پانی نہیں نکلتا ایسی عورت حیض بند ہونے کو دیکھے یعنی جب پوری طرح حیض آنا بند ہوجائے تو اس کو پاکی کہیں گے۔ اس پاکی کو جانچنے کا طریقہ یہ ہے کہ روئی کا پھاہا بناکر خون نکلنے والی جگہ میں داخل کرکے چیک کریں، اگر اس میں خون نہ لگے تو پاکی ہے اور خون لگے تو ابھی حیض کی حالت ہے۔

ان دونوں حالت میں کسی حالت کے ذریعہ حیض سے پاکی کا علم ہوجائے تو اس کے بعد حیض کا غسل کیا جائے۔ حیض کا غسل کرنے کے بعد اب کچھ بھی ظاہر ہو ، اس کو حیض شمار نہیں کرنا ہے اور نہ ہی دوبارہ غسل کرنا ہے بلکہ اپنی نماز جاری رکھنا ہے۔

واضح رہے کہ یہ اس عورت کے لئے بتایا گیا ہے جس کی عادت متعین ہوتی ہے جیسے اس سوال میں ہے، کسی کسی عورت کو ایک بار حیض آکر خشکی کے بعد دوبارہ حیض آتا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی حالت بتاکر مسئلہ دریافت کرے۔

سوال: ایک خاتون جس کی عمر تقریباانتالیس سال ہے۔اس کو حیض میں بہت وقفہ آنے لگا ہے۔کبھی کبھی دو دو ماہ تک نہیں آتا۔اس بار اس کو دو ماہ کے بعد حیض آیا اور براؤن داغ لگتا رہا ہے۔تقریبا آٹھ دن تک۔وہ دو بار غسل کر کے نمازیں بھی پڑھتی رہی اور پیرو منگل کا روزہ بھی رکھا ہے۔جس دن داغ لگ جائے ،اس دن رک جاتی ہے اور کچھ نہ ہو تو غسل کر کے نماز شروع کر لیتی ہے۔کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے یا اس کو رک جانا چاہئے مکمل بلیڈنگ شروع ہونے تک۔اب دو دن سے مکمل بلیڈنگ ہو رہی ہے۔یہ خاتون بیوہ بھی ہے  اور بے اولاد بھی؟

جواب: حیض کی متعین صفات ہیں، حیض کا رنگ کالا، گاڑھا اور بدبودار ہوتا ہے۔ ان اوصاف سے عورت حیض کو پہچان سکتی ہے۔سوال میں مذکور ہے کہ شروع کے ایام میں مٹیالے رنگ کا پانی خارج ہوتا ہے، اگر اس میں درد نہ ہو تو یہ حیض نہیں ہے ، اس میں نماز ادا کرنا ہے مگر ہر نماز کے وقت نیا وضو کرنا ہے جیسے مستحاضہ کرتی ہے۔ جب سے باقاعدہ خون جاری ہو جس میں حیض کے صفات ہوں ان دنوں کو حیض شمار کرے اور ان دنوں نماز سے رکی رہے۔

کبھی ایسا بھی ممکن ہے کہ حیض والے صفات پر مشتمل خون چند دن آئے پھر کچھ دن خشکی رہے اور پھر دوبارہ کچھ دنوں کے لئے حیض آئے تو ایسی صورت میں حیض والے دنوں میں نماز سے رک جانا ہے اور خشکی والے وقت میں پاکی کا غسل کرکے نماز ادا کرنا ہے۔

سوال: اگر کوئی عقیقہ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تو اس صورت میں نومولود سے متعلق  بال کوکیا کرنا ہوگا؟

جواب:نومولود کی پیدائش پر جب ساتویں دن اس کی طرف سے عقیقہ کرنے کی استطاعت نہ ہو تو اس وقت عقیقہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ساتویں دن بچے کا بال مونڈدیا جائے اور اس کے بال برابر چاندی صدقہ کرنے کی طاقت ہو تو صدقہ کردیا جائے اور صدقہ کی طاقت نہ ہو تو صدقہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بال مونڈنا ہی کافی ہے۔

سوال: اگر کوئی غلطی سے ہے حیض  کی حالت پہ ہمبستری کر لے تو کیا کفارہ ادا کرنا ہوگا؟

جواب: اگر کوئی آدمی بیوی سے حیض کی حالت میں جماع کرتا ہے تو یہ گناہ کبیرہ ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے اس عمل سے منع کیا ہے۔ جس کسی نے بحالت حیض جماع کیا اس کو سچے دل سے توبہ کرنا چاہئے اور آئندہ اس عمل سے باز رہنا چاہئے۔ نیز جماع کرنے کا کفارہ ادا کرنا چاہئے ۔ کفارہ ایک دینار یا نصف دینار ہے۔

سوال: کیا آیوشمان کارڈ بنا سکتے ہیں جو ابھی گورنمنٹ نے جاری کی  ہے، اس میں پانچ لاکھ تک علاج کرانے کی سہولت ملتی ہے ، کیا اس کا استعمال  جائز ہے یا حرام ہے؟

جواب:آیوشمان کارڈ حکومت کی طرف سے غریب طبقہ کے لئے ایک سہولت ہے، اس سہولت سے ان لوگوں کو فائدہ اٹھانے میں حرج نہیں ہے جو اس کارڈ کے حصول کی اہلیت رکھتے ہیں اور جو اس کی اہلیت نہیں رکھتے ہیں ان کے لئے فرضی طریقہ سے آیوشمان کارڈ بناکر فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہے۔ یہ حکومت کے ساتھ دھوکہ اور قوانین ہند کی مخالفت ہے۔

سوال: اللہ کو اول وقت پہ نماز پڑھنا بہت پسند ہے، میرا سوال یہ ہے کہ اول وقت کب سے کب تک رہتا ہے؟

جواب: نماز کو اول وقت پر ادا کرنے کو افضل عمل قرار دیا گیا ہے، ان میں فجر، ظہر، عصراور مغرب ہیں اور عشاء تاخیر سے پڑھنا افضل ہے نیز گرمی کی شدت میں ظہر کو کچھ تاخیر سے ادا کرنا افضل ہے۔

جہاں تک مذکورہ سوال ہے کہ اول وقت کب سے کب تک ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اول وقت پر نماز پڑھنے کو افضل قرار دینے کا مطلب نماز کو اس کے ابتدائی وقت پر ادا کرنا ہے یعنی جیسے نماز کا وقت داخل ہوجائے اسی وقت نماز ادا کرلینا چاہئے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اول وقت کو تقسیم کرکے دیکھیں کہ یہ کب سے کب تک رہتا ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ نماز کا وقت داخل ہوتے ہی پڑھ لینا مراد ہے۔

سوال: کچھ لوگ دوسروں کو نظر بد لگاتے ہیں اور ان کے لیے ماشاءاللہ بھی نہیں بولتے، کیا ایسے لوگوں کو ان کی طرف سے  دوسروں کو دی ہوئی نظر اپنے اوپر واپس لوٹ  سکتی ہے؟

جواب: نظربد کسی کے لگانے سے نہیں لگتی ہے، یہ اتفاقی اور لاشعوری  معاملہ ہے لیکن یہ بات اپنی جگہ  درست ہے کہ جب کوئی کسی کو دیکھتے ہوئے اپنے دل میں برا جانے یا کسی کو دیکھتے وقت برکت کی دعا نہ پڑھے تو اس سے نظر لگ سکتی ہے تاہم یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ کسی کے اپنے اختیار میں نہیں ہے کہ کوئی کسی دوسرے کو نظربد لگا سکے۔

دوسری بات یہ ہے کہ نظر لوٹ کر کسی دوسرے پر نہیں جاتی ہے یعنی یہ کوئی جنات کی طرح معاملہ نہیں ہے کہ ایک وہ پکڑتا ہے، پھر اسے چھوڑ کر کسی دوسرے پر سوار ہو جاتا ہے۔ بلکہ نظر ایک اتفاقی معاملہ ہے جس کو نظر لگتی ہے یہ اسی تک محدود رہتی ہے۔

سوال: اسلام میں غریب ومسکین کو کھانا کھلانے کا ثواب بہت زیادہ ہے  تو کیا امیر رشتہ دار کو بھی کھانا کھلانے میں اتنا ہی ثواب ہے یا صرف مہمان نوازی کا ثواب ملے گا؟

جواب:غریب ومسکین کو کھلانے اور امیر رشتہ دار کو کھلانے میں بہت فرق ہے بلکہ یہ دونوں الگ الگ معاملہ ہے اور اجر کے اعتبار سے فقیر و مسکین اور ضرورت مندوں کو کھلانے میں زیادہ اجر و ثواب ہے۔ اس کے باوجود رشتہ داروں کی دعوت اپنی جگہ صلہ رحمی اور الفت و محبت کا سبب ہے۔ ایک حدیث سے اس بات کا اندازہ لگائیں پھر معلوم ہوگا کہ امیر و غریب کی دعوت میں کیا فرق ہے۔ : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے:

بئسَ الطعامُ طعامُ الوليمةِ يُدعى إليه الأغنياءُ ويُترك المساكين،فمن لم يأتِ الدَّعوةِ ، فقد عصى اللهَ ورسولَه (صحيح مسلم:1432)

ترجمہ: برا کھانا اس ولیمہ کا کھانا ہے جس میں امیر بلائے جائیں اور مساکین نہ بلائے جائیں تو جو دعوت میں نہ حاضر ہو اس نے نافرمانی کی اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی۔

ضیافت سے متعلق میرے بلاگ پر ایک مفید تحریر ہے، اس کا مطالعہ کریں ، ضیافت کے بارے میں احکام ومسائل معلوم ہوں گے۔

سوال: اگر کوئی فوت ہو جائے اور اس کی تصویریں موبائل میں ہوں تو کیا وہ ڈیلیٹ کر دینی چاہیے یعنی ان کے ہونے سے گناہ تو نہیں ہو گا؟

جواب:بلاضرورت کسی بھی آدمی کی تصویر ہمارے موبائل میں نہیں ہونا چاہیے کیونکہ جاندار کی تصویر کی سخت مذمت آئی ہوئی ہے۔میت کی تصویر بھی موبائل سے ڈیلیٹ کر دینا چاہیے کیونکہ یہ بھی جاندار کی تصویر ہے جس کی حرمت بیان کی گئی ہے۔موبائل سے لی گئی تصویر کے حکم میں اختلاف ہے تاہم اس تصویر میں بھی احتیاط برتنا ہی بہتر ہے۔

سوال: کیا جمعہ کے دن فرضی روزے رکھ سکتے ہیں جو رمضان کے روزےعذر کے سبب چھوٹ گئے تھے؟

جواب: جمعہ کے دن خاص کرکے نفلی یا قضا روزہ رکھنا صحیح نہیں ہےاس لئے  جمعہ کے علاوہ دوسرے ایام میں روزہ رکھنا چاہئے تاہم جمعہ کو آگے یا پیچھے والے دن سے ملا کر روزہ رکھ سکتے ہیں جیسے جمعرات اور جمعہ یا جمعہ اور ہفتہ۔

سوال: حمل کی حالت میں طلاق ہو جاتی ہے اور خلع بھی ہو جاتا ہے؟

جواب: خلع تو کسی بھی حالت میں کیا جاسکتا ہے خواہ حیض ہو یا طہر ہو یا حمل۔ جہاں تک طلاق کا مسئلہ ہے تو حمل کی حالت میں طلاق واقع ہوجاتی ہے۔

نسائی اور صحیح مسلم میں ہے ،ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی پس یہ بات حضرت عمر نے نبیﷺ کو بتائی تو رسول اللہﷺنے عمر کو فرمایا کہ اسے حکم دیں کہ وہ رجوع کرے پھر حالت طہر یا حمل میں طلاق دے۔

سوال: ایک بہن کا آن لائن نکاح ہوا تھا اور رخصتی ایک سال کے بعد ہوئی ۔ اس نے کسی عالم کے درس میں سنا ہے کہ آن لائن نکاح ہو اور رخصتی نہ ہو تو یہ نکاح فاسد ہو جاتا ہے، اب  وہ بہن اضطراب کا شکار ہے اور پوچھ رہی ہے کہ  کیا یہ نکاح فاسد ہو گیا ہے؟

جواب: زمانے میں فریب دینے کے مختلف طریقے  ہیں اس وجہ سے آن لائن نکاح سے پرہیز کرنا چاہئے تاہم شرعی طور پر آن لائن نکاح کیا جائے تو اس سے نکاح ہوجاتا ہے۔

جو سوال پوچھا گیا ہےکہ کسی کا آن لائن نکاح ہوا اور سال بعد رخصتی ہوئی مگر اس میں شبہ ہے کہ نکاح فاسد ہوگیا کیونکہ کسی درس میں ایسا سناتھا۔ یہ بات سچ نہیں ہے، جھوٹ ہے۔ اگر شرعی طورپر ولی کی رضامندی اور عادل گواہ کے ساتھ آن لائن نکاح ہوا تھا تو یہ نکاح درست ہے خواہ رخصتی ہوئی ہو یا نہیں۔ نکاح ہونے کے ایک سال بعد یا کئی سال بعد بھی رخصتی ہو تو نکاح باقی ہی رہتا ہے۔ لہذا اس نکاح میں شک کرنے کی ضرورت نہیں ہے بشرطیکہ نکاح شرعی طور پر ولی کی رضامندی سے ہوا ہو۔

سوال: حدیث میں ہے کہ ایک شخص ساری زندگی نیک عمل کرتا رہتا ہے پھر موت کے قریب تقدیر کا فیصلہ غالب آجاتا ہے اور وہ شخص برے اعمال کرنے میں لگ کر جہنم کا حق دار ہو جاتا ۔ اس کی روشنی میں میرا سوال یہ ہے کہ کہ کیا اس شخص کے سارے اعمال ضائع ہو جائیں گے  اور اسے کیسے پتہ چلے گا کہ میری تقدیر میں انجام اچھا ہے یا برا؟

جواب: کسی کو اس بات کے جاننے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس کی تقدیر میں کیا لکھا ہوا ہے اور نہ ہمیں اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے کہ اپنی تقدیر کے بارے میں پتہ لگاؤ۔ تقدیر پر ہمیں ایمان لانے کا حکم ہے اس لئےاچھی بری  تقدیر پراللہ اور اس کے رسول کے مطابق  ایمان لائیں گے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اللہ کسی کو اس کے عمل کے حساب سے ہی بدلہ دے گا یعنی جس کو جنت ملے گی اس کو اپنے عمل و محنت کے بدلے اور جس کو جہنم ملے گی اس کو بھی اپنے عمل کی وجہ سے، لہذا ہمیں ایمان کا تقاضا پورا کرنا ہے اور عمل کرتے رہتا ہے جیساکہ نبی ﷺ نے مندرجہ ذیل حدیث میں اس کا حکم دیا ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہےانہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن بیٹھے ہوئے تھے، اور آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جس سے آپ زمین کرید رہے تھے، پھر آپ نے اپنا سر اقدس اٹھا کر فرمایا:

مَا مِنْكُمْ مِنْ نَفْسٍ إِلَّا وَقَدْ عُلِمَ مَنْزِلُهَا مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَلِمَ نَعْمَلُ أَفَلَا نَتَّكِلُ؟ قَالَ: لَا، اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ، ثُمَّ قَرَأَ: فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى {5} وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى {6} سورة الليل آية 5-6 إِلَى قَوْلِهِ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى سورة الليل آية 10(صحيح مسلم: 2647)

ترجمہ:تم میں سے کوئی ذی روح نہیں مگر جنت اور دوزخ میں اس کا مقام (پہلے سے) معلوم ہے۔انہوں (صحابہ) نے عرض کی: اللہ کے رسول! پھر ہم کس لیے عمل کریں؟ ہم اسی (لکھے ہوئے) پر تکیہ نہ کریں؟ آپ نے فرمایا: نہیں، تم عمل کرو، ہر شخص کے لیے اسی کی سہولت میسر ہے جس (کو خود اپنے عمل کے ذریعے حاصل کرنے) کے لیے اس کو پیدا کیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: تو وہ شخص جس نے (اللہ کی راہ میں) دیا اور اچھی بات کی تصدیق کی“ سے لے کر تو ہم اسے مشکل زندگی (تک جانے) کے لیے سہولت دیں گے“ تک پڑھا۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو نیک عمل کرتا ہے اس کا خاتمہ بھی اچھا ہوگا۔کسی ایمان والے کا نیک عمل رائیگاں نہیں جائے گا۔

سوال: کیا ارحا فاطمہ(Irha Fatima) نام رکھ سکتے ہیں، کیا اس کا معنی اللہ کا تحفہ ہے؟

جواب: ویب سائٹ والوں نے ناموں کے بارے میں بڑی گمراہی پھیلا رکھی ہے اور عوام بھی ان ویب سائٹ کا خوب استعمال کرتی ہے اور الٹے سیدھے نام تلاش کرتی ہے۔ بہت سارے نام فرضی ہوتے ہیں، کسی زبان میں وہ موجود نہیں ہوتے مگر ان کے معانی خوبصورت بیان کئے جاتے ہیں۔ خاص طور پر اللہ کا تحفہ ، یہ بہت سارے ناموں کا معنی بتایا جاتا ہے جیسے "اِرحا"(الف کے نیچے زیر کےساتھ) کا معنی آپ نے پوچھا ہے، یہ معنی درست نہیں ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ" اِرحا" عربی زبان میں یہ لفظ موجود نہیں ہے۔ الف کے زبر کے ساتھ "اَرحاء" کا لفظ آتا ہے۔ یہ رحی سے جمع کا صیغہ ہے اس کے معنی چکی یا داڑھ کے دانت کے آتے ہیں۔میرا مشورہ ہے کہ نام کے لئے کوئی بہتر لفظ تلاش کریں یا میں نے ناموں کی ایک  کتاب شیئر کی تھی اس میں  تلاش کریں۔

سوال: کیا اپنے شوہر کو ایک پیارے نام سے پکارسکتی ہوں جیسے میرے شوہرکانام اشرف ہے تو ان کو اششوکہہ کر پکارتی ہوں اور دعا میں بھی اسی نام سے دعا کرتی ہوں مگر میرے شوہر کہتے ہیں کہ دعا میں میرا اصلی نام لو، یہ نام اللہ کے سامنے مت لو، بھلے ہی مجھے محبت میں پکارتی ہو۔ کیا ايسا نام لے کر دعا نہیں کرسکتی اور  کيا ان کے حق ميں دعا قبول نہیں ہوگى جبکہ اللہ تعالی دلوں کے حال خوب جانتا ؟

جواب: دعا میں کسی کا نام لے کر دعا کرنے کی ضرورت نہیں ہے، دل میں ارادہ کرنا ہی کافی ہے جیسے بیوی کہے، یا اللہ ! میرا شوہر کو جنت دے۔ یہ کافی ہے۔ اللہ تو سینوں کے بھید تک جانتا ہے اور کوئی نام لے کر بھی دعا کرے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

جہاں تک مسئلہ ہے کہ شوہر کو کسی پسندیدہ لفظ کے ذریعہ پکارنے کا تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ شوہر بیوی کو یا بیوی شوہر کو کسی پسندیدہ نام یا لقب سے پکارے تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے اور دعا میں بھی اس لفظ کو ذکر کرسکتے ہیں بلکہ بغیر نام کے بھی دعا کرتے ہیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہے، فقط دل میں ارادہ ہی کافی ہے کہ آپ کس کے لئے دعا کررہے ہیں۔

سوال: کیا میں  فرض نماز کے رکوع و سجدہ اور تشہد میں ثابت شدہ دعاؤں کے علاوہ دیگر دعائیں بھی پڑھ سکتی ہوں یا نفل میں اس کی اجازت ہے؟

جواب: پہلی بات یہ ہے کہ رکوع میں کسی بھی قسم کی کوئی دعا نہیں کرنا ہے، یہاں رکوع کی تسبیح ہی پڑھنا ہے البتہ سجدہ میں اور آخری تشہد کے آخر میں سلام پھیرنے سے پہلے دعائیں کرسکتے ہیں۔ ان دو جگہوں پر فرض نماز میں صرف مسنون دعائیں کرسکتے ہیں اور نفل نماز میں اپنی زبان میں بھی دعا کرنے کی گنجائش ہے۔

سوال: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دن بھر میں سو بار استغفار پڑھتے تھے تو کیا ہم بھی سو بار ہی پڑھ سکتے ہیں اس سے کم زیادہ نہیں پڑھ سکتے؟

جواب: استغفار ایک قسم کی دعا ہے، یہ جب چاہیں اور جس قدرچاہیں  پڑھیں، اس میں حرج نہیں ہے یعنی خواہ آپ دن میں سو بار استغفار کریں یا اس سے زیادہ یا کم پڑھیں، کوئی حرج نہیں ہے حتی کہ رات میں بھی استغفار کا ورد کریں، اس میں بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

سوال: میرے شوہر نے مجھے خود اپنی امی کے گھر بھیجا تھا لیکن پھر لینے نہیں آرہا تھااس   لئے ایک دن خود میں اپنے میکے سے بیٹی کے ساتھ  شوہر کے گھر آگئی ۔اس وقت  میرے شوہر گھر پر نہیں تھے، وہ آرمی میں نوکری کرتے ہیں۔ جب میں وہاں پہنچی تو میری دیورانی نے میرے شوہر سے کال پہ بات کی تو شوہر نے کہا کہ اسے دو منٹ میں نکل جانے کے لیے بولو ورنہ میں اسے ادھرہی طلاق دیتا ہوں ،یہ بات میں نے خود بھی سنی کیونکہ لاؤڈ سپیکر پر کال تھی ۔ایسے میں کیا یہ طلاق ہو گئی کیونکہ میں دو منٹ میں وہاں سے نہیں نکلی؟

جواب:سوال میں جس قسم کی طلاق کا ذکر ہے اسے مشروط یا معلق طلاق کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شوہر یہ کہے، بیوی نے ایسا کیا تو طلاق ہوجائے گی۔ یہاں پر بھی اس طرح معلق طور پر طلاق دیا ہے کہ بیوی دو منٹ میں نہیں گئی تو ادھر ہی طلاق دیتا ہوں۔ چونکہ دو منٹ میں بیوی وہاں سے نہیں گئی لہذا ایک طلاق واقع ہوگئی۔

کچھ علماء کہتے ہیں کہ حیض کی حالت میں طلاق نہیں ہوتی ہے جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ حیض کی حالت میں بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔

طلاق تو واقع ہوگئی اور اگر پہلے کبھی شوہر نے طلاق نہ دی ہو، یہ پہلی بار پہلی طلاق دی ہو تو شوہر کو عدت میں رجوع کا اختیار ہے، رجوع نہ کرنے پر عدت گزرنے کے بعد میاں بیوی کے درمیان جدائی ہوجائے گی۔

سوال: یو این او (UNO) کارڈ یا یواین او آن لائن گیم بغیر شرط پر کھیلنا کیسا ہے؟

جواب: یواین او گیم شرط کے ساتھ کھیلتے ہیں یا بغیر شرط لگائے کھیلتے ہیں اس کھیل کے لایعنی ہونے میں کوئی شک نہیں ہے یعنی اس میں کسی قسم کی افادیت کا پہلو نہیں ہے نیز یہ وقت کے ضیاع کا ایک بڑا سبب بھی ہے جس سے واجبات و فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی ہوسکتی ہے۔ جس کو اس قسم کے کھیل کا چسکا لگ جائے تو پھر نماز جیسی عظیم عبادت جاتی رہتی  ہے  مگراس کی پرواہ نہیں ہوتی۔ حدیث میں چوسر کی ممانعت وارد ہے جو چار خانوں والا کھیل ہے، اس میں بھی اس کی شباہت پائی جاتی ہے جیسے لڈو اور کیرم بورڈ وغیرہ ہے۔

بہرکیف! ایک مومن زندگی کے اوقات کو اہم سمجھتا ہے اور اس سے اخروی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے، نہ کہ اپنے اوقات کو ضائع کرنے میں لگا رہتا ہے۔اس وجہ سے اس قسم کے لایعنی کھیلوں سے اپنا وقت بچائے۔ بہتر ہے کہ فراغت کے اوقات میں دینی کتابیں مطالعہ کی جائیں یا جید علماء کے بیانات سنے جائیں۔ اس سے علم کے ساتھ  بے شمار فوائد حاصل ہوں گے۔

سوال: چھوٹے بچوں کو عربی سبجیکٹ کی کتابیں دیتے ہیں ،ان میں کچھ صورتیں بھی ہوتی ہیں اور وہ ان کتابوں کو چٹائی پر رکھ کر پڑھتے ہیں اور اس میں لکھتے ہیں تو کیا اس طرح بچوں کو گناہ ہوگا؟

جواب: جس کتاب میں قرآنی آیات ہوں ان کو سلیقے سے رکھنا چاہئے اور جہاں تہاں نہیں پھینکنا چاہئے۔ جہاں تک مسئلہ ہے ایسی کتاب کو چٹائی پر رکھنے کا تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ کتاب مصحف کے حکم میں نہیں ہے، اس کو نیچے رکھ کر پڑھ سکتے ہیں اور لکھ بھی سکتے ہیں مگر بے حرمتی والے کام سے بچیں گے جیسے بچہ ایسی کتاب پر پیر رکھے یا اس پر بیٹھ جائے یا جس بیگ میں ایسی کتاب ہو اس بیگ پر بیٹھ جائے۔ نیچے رکھ کر پڑھنے لکھنے میں حرج نہیں ہے۔

سوال: باپ کی وراثت میں سے بہنوں کا جو حصہ نکلتا ہے۔اگر بہنیں خوشی خوشی لینے سے انکار کر دیں یا کہہ دیں کہ ہم نے معاف کر دیا تو کیا اس میں باپ کی پکڑ ہوگی جب کہ بہنیں خوشی سے اپنا حصہ چھوڑ رہی ہیں؟

جواب: کسی بہن کا یا ساری بہنوں کا یہ کہنا ہم نے خوشی سے اپنا حق معاف کردیا ہے، صحیح نہیں ہے۔ وارثت کی تقسیم شرعی طور پر کی جائے گی یعنی میت کے لڑکوں کے ساتھ بیٹیوں کا بھی حصہ نکالا جائے گا۔ حصہ نکالنے کے بعد اب اگر کوئی لڑکی اپنا حصہ کسی کو عطیہ دینا چاہے تو یہ اس کی مرضی ہے ، وہ اپنا حصہ دے سکتی ہے مگر وراثت کی تقسیم بہرحال شرعی طور پر کرنا چاہئے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اس مسئلہ کا میت سے کوئی تعلق نہیں ہے یعنی اولاد صحیح طور پر تقسیم کرے یا غلط طور پر اس میں میت کاکوئی مسئلہ نہیں ہے یا اس کے لئے کوئی گناہ نہیں۔

سوال: سعودی عرب کے مجمع ملک فہد سے اردو تفسیرقرآن  چھپی ہوئی ہے، اس میں کسی بھی پارہ میں رکوع، نصف یا ثلث نہیں ہے، آخر ایسا کیوں ہے؟

جواب: قرآن کریم کو سپاروں میں تقسیم کرنا اور سپاروں کو رکوع اور نصف وغیرہ میں تقسیم کرنا یہ لوگوں کا اجتہاد ہے۔ تلاوت میں آسانی کے لئے ایسا کیا گیا ہے۔ قرآن سے یہ ساری چیزیں ہٹادیتے ہیں تو اس سے قرآن میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ صحابہ کرام سورتوں کے حساب سے قرآن کے حصے کرتے تھے ۔ پہلا حزب (حصہ) تین سورتوں کا، دوسرا حزب (حصہ) پانچ سورتوں کا، تیسرا سات سورتوں کا، چوتھا نو سورتوں کا، پانچواں گیارہ اور چھٹا تیرہ سورتوں کا اور ساتواں پورے مفصل کا۔ (تفصیل کے لئے حدیث دیکھیں ، ابوداؤد: 1393)

عربوں میں بھی تقسیم ہے، سپاروں کو جزء کہتے ہیں پھر ہر جزء کو حزب یعنی نصف اور ربع میں تقسیم کیا گیا ہے۔آپ جس تفسیر کی بات کررہے ہیں ، اس میں واقعی یہ چیزیں درج نہیں ہیں  مگر اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں ہے، یہ تو لوگوں نے بعد میں اپنی طرف سے اپنی آسانی کے لئے لکھا ہے۔ اور یہ تفسیر ہونے کے سبب ہٹا دی گئیں ہیں  کیونکہ عموما حزب اور ربع کی ضرورت تلاوت کے وقت پڑتی ہے جبکہ یہاں اصل مقصد تفسیر ہے اس وجہ سے اس کی ضرورت نہیں ہے۔

 سوال: میرا سوال ہے کہ کیا چاند کی پہلی تاریخ سے لے کر دس تاریخ تک ہی شادی متعین کرنی چاہیے اور اس کے بعد شادی کی تاریخ متعین کرنا غلط ہے؟

جواب: سال کے بارہ مہینوں میں کسی بھی دن نکاح کرسکتے ہیں اور کسی بھی دن نکاح کے لئے تاریخ مقرر کرسکتے ہیں یعنی کسی بھی تاریخ کو نکاح کا دن مقرر کرنے کی ممانعت نہیں ہے۔ جو کوئی آپ سے یہ کہہ رہا ہے کہ صرف چاند کی ایک تاریخ سے لے کر دس تاریخ تک نکاح کی تاریخ متعین کرسکتے ہیں، اس کے بعد نہیں، دراصل وہ ہندؤں کے راستے پر ہے۔ ہندؤں کے یہاں شادی کے ایام متعین ہیں اور وہ اپنے دھرم کے حساب سے اچھی تاریخ اور اچھا وقت دیکھ کر شادی کرتے ہیں۔ اسلام میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ اسلام میں کوئی دن اور کوئی تاریخ بری نہیں ہے اس وجہ سے کبھی بھی نکاح کرسکتے ہیں اور کبھی بھی نکاح کی تاریخ مقرر کرسکتے ہیں۔

سوال: کیا زکوۃ دیتے وقت یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ زکوۃ کا پیسہ ہے؟

جواب: زکوۃ دیتے وقت بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ زکوۃ کا پیسہ ہے، بغیر بتائے بھی زکوۃ دے سکتے ہیں ، شرط یہی ہے کہ مستحق کو زکوۃ دینا ہے۔ہاں اگر کوئی اپنی تسلی کے لئے پوچھ بیٹھے کہ یہ کیسا پیسہ ہے تو پھر بتانا چاہئے کہ یہ زکوۃ کا پیسہ ہے۔

سوال: اگر سفر کے دوران مغرب وعشاء جمع قصر سے  پڑھ لی ہو اور اگر عشاء کے وقت پہنچ گئے تو کیا دوبارہ عشاء پڑھیں گے؟

جواب: سفر میں جمع تقدیم کرکے مغرب و عشاء پڑھ لی گئی تو گھر پہنچ کر عشاء پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے اگرچہ عشاء کا وقت باقی ہو کیونکہ وہ نماز پڑھی جاچکی ہے اور فریضہ ساقط ہوچکا ہے۔

سوال: میرے پاس ایک سال سے تقریبا چھ لاکھ روپئے بنک میں ہیں ،اس میں سال میں کبھی  کم ہوئے اور کبھی  زیادہ یعنی مستقل ایک رقم نہیں رہی ۔رقم خرچ بھی ہوتی رہی اور آتی بھی رہی ، سوال یہ ہے کہ مجھے اس میں سے کتنی زكاة نکالنی ہے؟

جواب:جو خرچ ہوگیا اس کا کوئی شمار ہی نہیں ہے، جو باقی ہے اس میں زکوۃ دینا ہے۔ جب پیسہ بنک میں بار بار جمع کرنے کا مسئلہ ہے اور یہ مسئلہ بعد میں بھی ہمیشہ رہے گا تو اس کی بہتر صورت ہے کہ سال کی کوئی تاریخ مقرر کرلی جائے اور مقررہ تاریخ کوجب جب سال مکمل ہو اوراس وقت اپنے پاس جتنا پیسہ ہو اس کی زکوۃ ادا کردی جائے۔ ابھی بنک میں چھ لاکھ ہے تو اس کی ڈھائی فیصد زکوۃ پندرہ ہزار بنتی ہے۔ اتنی رقم مستحقوں میں تقسیم کردی جائے۔ پھر اگلے سال اسی تاریخ کو اگر نصاب بھر یا نصاب سے زیادہ پیسہ ہو تو اس میں سے ڈھائی زکوۃ نکال دی جائے۔

سوال: کیا ایسا شخص زکاۃ کا مستحق ہو سکتا ہے جس کے پاس اپنا ذاتی گھر ہو لیکن بے روزگار ہے؟

جواب: ہاں ، جس کے پاس ذاتی گھر ہو مگر اس کے پاس ذرائع آمدنی نہ ہوں یعنی اس کے پاس گزر بسر کرنے کے پیسے نہ ہوں تو اس کو زکوۃ دے سکتے ہیں۔ گھر ایک بنیادی ضرورت ہے ، اس کے علاوہ کھانا پینا ، علاج ومعالجہ ، کپڑے اور گھریلو  دبنیادی اشیاء  بھی ضرورت میں داخل ہیں، ان کے لئے زکوۃ دے سکتے ہیں۔

اس میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر اس گھر میں کوئی مرد کمانے کے لائق ہو تو اس کو کہاجائے کہ کماکر کھاؤ۔ نبی ﷺکا فرمان ہے کہ  طاقتور کماکر کھانے والے کے لئے زکوۃ نہیں ہے۔

مکمل تحریر >>