Monday, June 8, 2026

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(102)

 

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(102)

جواب از: شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ

جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ - سعودی عرب

 

سوال: کیا روزہ کا فدیہ اناج کی شکل میں دینا ہے یا پیسے کی شکل میں بھی دے سکتے ہیں؟

جواب:روزہ کا فدیہ کھانے کی شکل میں ہی دینا لازمی ہے۔ فدیہ میں پیسہ دینا صحیح نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالی نے فدیہ میں کھانا دینے کا حکم دیا ہے۔  اللہ تعالی کا فرمان ہے:وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ(البقرة:184)

ترجمہ: اور ان لوگوں پر جو روزہ رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتے ان پر ایک مسکین کو کھانا کھلانا لازم ہے۔

صحیح بخاری میں اس آیت کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اس سے مراد بہت بوڑھا مرد یا بہت بوڑھی عورت ہے جو روزے کی طاقت نہ رکھتے ہوں انہیں چاہئے کہ ہر روزہ کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں۔ (صحيح البخاري:4505)

اس روایت سے پہلے امام بخاری رحمہ اللہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے متعلق اثر ذکر کیا ہے کہ جب وہ(انس بن مالک) بوڑھے ہو گئے تھے تو وہ ایک سال یا دو سال رمضان میں روزانہ ایک مسکین کو روٹی اور گوشت دیا کرتے تھے اور روزہ چھوڑ دیا تھا۔

خلاصہ یہ ہے کہ روزہ کا فدیہ طعام کی شکل میں دینا چاہئے جیساکہ ہمیں دلیل سے معلوم ہوتا ہے۔

سوال: حمل کے دوران میری بہن کی طبیعت بہت خراب تھی، اس لئے انہوں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت مند بچہ عطا فرمائے گا تو وہ ایک بکرا صدقہ کر دیں گی۔ بچہ ہوگیا، اب وہ سوچ رہی ہیں کہ ایک بکرا صدقہ کر دیں اور ایک بکرا عقیقہ بھی کر دیں لیکن سوال یہ ہے کہ بیٹے کے لیے عام طور پر دو بکریوں کا عقیقہ کیا جاتا ہے لیکن وہ صرف ایک بکرا صدقہ اور ایک عقیقہ ہی افورڈ کر سکتی ہیں۔ سنا ہے کہ عقیقہ صرف بچے کی ساتویں دن کیا جا سکتا ہے، ساتھ ہی یہ بھی معلوم کرنا چاہتی ہیں کہ صدقے کے بکرا کا گوشت گھر نہیں رکھنا بلکہ پورا بانٹنا ہوگا؟

جواب:پہلی بات یہ ہے کہ کسی کو منت نہیں ماننا چاہئے کیونکہ منت ماننے سے کچھ نہیں ہوتا لیکن اگر کوئی جائز منت مان لے تو اس کا پورا کرنا ضروری ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ عموما لوگ بطور خاص خواتین جذبات میں بڑی بڑی نذر مان لیتی ہیں بعد میں کہنے لگتی ہیں کہ اسے پورا کرنا تو مشکل ہےاس وجہ سے شروع میں ہی اپنی حیثیت کے مطابق ارادہ بنانا چاہئے۔

مذکورہ بالا صورت حال میں ابھی اپنی بہن سے  کہیں کہ  اپنے بیٹے کی طرف سے دو بکرا عقیقہ کے طور پر ذبح کرے تاکہ صحیح طور پر ایک کام ہوجائےاور پیدائش کے ساتویں دن کرے۔ اگر ساتواں دن نکل گیا ہو تو کسی دوسرے دن بھی کیا جا سکتا ہے، کوئی حرج نہیں ہے۔

جہاں تک بچے کی طرف سے صدقہ کے طور پر بکرا دینے کا مسئلہ ہے تو بعد میں اس کی جب استطاعت ہو جائے، اس بکرے کو بھی صدقہ کے طور پر ذبح کرے اور صدقہ کا بکرا فقیر و مسکین کا حق ہوتا ہے لہذا اسے صرف فقیرو مسکین میں تقسیم کرنا چاہیے۔

سوال: ہم عورتیں رمضان شریف میں عشاء نماز اور تراویح نماز ساتھ میں پڑھتے ہیں اور ہم الگ الگ کھڑے ہوکر پڑھتے ہیں تو کیا عورتوں کی نماز جماعت سے ہوگی؟

جواب:عورتیں اپنی نمازیں مل جل کر جماعت کے ساتھ بھی پڑھ سکتی ہیں اور اکیلے اکیلے بھی پڑھ سکتی ہیں یعنی ان کے لئے دونوں صورتیں جائز ہیں، اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے یعنی عورتیں پنج وقتہ نمازوں کو بھی جماعت سے پڑھ سکتی ہیں اور تراویح کی نماز بھی جماعت سے پڑھ سکتی ہیں نیز اکیلے اکیلے بھی پڑھ سکتی ہیں، اللہ تعالی نے عورتوں کو اکیلے پڑھنے کی بھی رخصت دی ہے۔

سوال میں مذکور  ہے کہ ایک مقام پر کئی ساری عورتیں تنہا تنہا عشاء کی نماز اور تراویح کی نماز پڑھتی ہیں تو اس مقام پر عورتوں کو چاہئے کہ جماعت بناکر عشاء کی نماز پڑھا کرے اور جماعت سے تراویح کی نماز پڑھا کرے، یہ اکیلے پڑھنے سے بہتر ہے اور جس کو زیادہ قرآن یاد ہو، وہ امامت کرے۔ فرض نماز کے لئے اقامت نہیں کہنا ہے کیونکہ عورتوں کے حق میں اقامت نہیں ہے اور عورتوں کا امام درمیان میں کھڑی ہوگی۔ نیز کسی کو زیادہ قرآن یاد نہ ہو تو وہ تراویح میں دیکھ کر بھی  قرآن پڑھ سکتی ہے۔

سوال: مسجد میں عورتوں کے لئے الگ کمرہ ہے، وہاں عورتیں جمع ہوتی ہیں، سب قرآن کی تلاوت کرتی ہیں۔ اور وہاں قرآن کا ایک ایک رکوع ترجمہ بھی ہوتا ہے اور سب سنتی ہیں، ان دنوں عورتوں کی تعداد کم ہوتی ہے۔ جب قرآن مجید مکمل ہوتا ہے تو دعا کی جاتی ہے اور پورا محلہ اٹھ کر آجاتا ہے پھر دعا کے ختم ہونے پر کھجور تقسیم کی جاتی ہے۔ جس جس نے قرآن ختم کیا، اس کو عورتیں سو پچاس روپئے ہدیہ دیتی ہیں، ایک ڈریس بھی دیتی ہیں۔ کیا یہ عمل درست ہے؟

جواب:قرآن کریم کی تلاوت کا جو طریقہ آپ نے بتایا ہے، یہ بدعتی طریقہ معلوم ہوتا ہے۔ یہ بدعتیوں کی قرآن خوانی سے ملتا جلتا طریقہ ہے۔ جیسے بدعتی لوگ ایک ساتھ مل کر قرآن ختم کرتے ہیں پھر آخر میں اجتماعی دعا کرتے ہیں، اور ہدیہ تحفہ اور دعوت ہوتی ہے، یہ وہی طریقہ ہے۔ اس طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مل کر اجتماعی صورت میں قرآن پڑھنے اور قرآن ختم کرنے پر اجتماعی طور پر دعا کرنے کی تعلیم نہیں دی ہے۔ یہ بدعتی عمل ہے، اس عمل سے مسلمانوں کو پرہیز کرنا چاہیے ۔ آپ کے محلے اور سماج میں ایسا عمل ہوتا ہو تو اس سے خود کو اور اپنے گھر کی عورتوں کو روکیں بلکہ ان عورتوں کو بھی اس عمل سے روکیں اور انہیں اپنے اپنے گھروں میں اپنے طور پر قرآن پڑھنے کی نصیحت کریں۔

اگر کسی جگہ درس قرآن ہوتو اس میں حرج نہیں ہے مگر اس میں بھی ختم قرآن کے نام پر پورے محلے والوں کے ساتھ ختم قرآن کی رسم انجام دینا بدعت ہے۔ نیز قرآن کا درس دینے والی عورتوں میں آج بڑی تعداد ایسی عورتوں کی ہے جن کو ڈھنگ سے عربی نہیں آتی بلکہ عربی   کی معمولی عبارت پڑھنے تک نہیں آتی وہ اردو تفسیر دیکھ کر دھڑلے سے قرآن کی تفسیر بیان کررہی ہوتی ہیں، ایسی عام اور غیرمستند عورت سے قرآن کا درس اور تفسیر نہ سنا کریں۔

سوال: کیا زکوٰۃ کی رقم سے ملازم کا علاج کرا سکتے ہیں؟

جواب:اگر آپ کا ملازم بیمار ہے اور وہ فقیر و مسکین کے زمرے میں آتا ہے یعنی وہ زکوۃ کا مستحق ہے تو اسے اپنی زکوۃ دے سکتے ہیں، وہ اپنے طور پر اپنا علاج کرائےگا۔

سوال: کیا داڑھی نہ رکھنے سے گناہ کا ارتکاب ہوتا ہے اور کیا داڑھی کی  خط کروا سکتے یا اسےچھوٹا کروا سکتے ہیں؟

جواب:داڑھی رکھنا واجبی حکم ہے، جو داڑھی نہ رکھے یقینا وہ گنہگار ہے ، اس سے گناہ سرزد ہورہا ہے۔  جہاں تک یہ مسئلہ ہے کہ کیا داڑھی نہ ہونے سے انسان (داڑھی کے گناہ کے علاوہ) دوسرے گناہ میں بھی مبتلا ہوتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس معاملہ میں گناہ کا تعلق داڑھی رکھنے اور نہ رکھنے سے نہیں ہے۔ گناہ ایک الگ چیز ہے اور داڑھی ایک الگ چیز ہے البتہ یہ بات ضرور ہے کہ داڑھی رکھنے والا عام طور پر جلوت میں کھلے عام بے حیائی اور برائی کرنے سے تھوڑی سی شرم محسوس کرتا ہے حالانکہ آج بڑی تعداد میں داڑھی والے بھی مجمع عام میں کھلے عام بے حیائی کا کام کرتے ہیں اور انہیں کوئی شرم بھی نہیں آتی۔

بہرحال! داڑھی کا مسئلہ اہم ہے، اسے واجبی طور پر مردوں کو رکھنا چاہئے۔ داڑھی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حال پر چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین میں داڑھی کٹانے کا کہیں ذکر نہیں ہے۔

سوال: ہماری کالونی میں جامع مسجد موجود ہے جہاں بہترین صلاۃ التراویح کا اہتمام ہوتا ہے۔ اعتکاف کا بھی بہترین بندوبست ہے۔ کیا ان سب کے ہوتے ہوئے کسی ایک گھر والے کو جن کے تین بیٹے حافظ قرآن ہیں، اپنے گھر میں صلاۃ التراویح کا اہتمام کرنا جائز ہے، وہ سب کالونی والوں کو اپنے گھر مدعو کر رہے ہیں جبکہ الحمد للہ مسجد موجود اور آباد ہے ؟

جواب:عموما ہر جگہ مسجد میں تراویح کی جماعت ہوتی ہے۔ کسی محلے میں شاید ہی کوئی مسجد ایسی ہو جس میں تراویح کی جماعت نہ ہوتی ہو۔ ہر جگہ، محلے والوں کو اپنی مسجد میں جماعت کے ساتھ تراویح پڑھنی چاہیے۔ یہ کوئی ضروری عمل نہیں ہے تاہم بہتر اور افضل ہے کیونکہ مسجد میں ایک ساتھ جماعت سے نماز پڑھنے میں کئی گنا اجر ملتا ہے پھر اللہ کے گھر میں عبادت میں روحانیت اور سکون زیادہ ہوتا ہے۔

جہاں تک عورتوں کا معاملہ ہے تو جماعت کے تئیں ذرا مختلف ہے۔ عورتوں کی نماز ان کے اپنے گھر میں پڑھنا افضل ہے تاہم مسجد میں مردوں کے ساتھ پڑھتی ہیں تو بھی جائز ہے۔

ان تمہیدی باتوں کے بعد سوال کا اصل جواب یہ ہے کہ جب بستی کی مسجد میں تراویح کا اہتمام ہے اور اعتکاف کی بھی  سہولت ہے پھر وہاں پر موجود لوگوں کو مسجد میں ہی عبادت کرنا بہتر ہے بنسبت گھر میں لوگوں کو بلانے کے۔

ہاں، اگر عورتوں کے لیے مسجد میں انتظام نہ ہو یا عورتیں جمع ہو کر ایک گھر میں تراویح پڑھنا چاہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

سوال: ایک خاتون کے پاس تین تولہ سونا ہے جسکی حالیہ قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے تین گنا زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ اس کے پاس پانچ ہزار روپے نقد کی صورت میں ہے۔ اس صورتحال کے مطابق اس پر زکوة كا كيا حكم ہے؟

جواب:سونا کی زکوۃ کا نصاب الگ ہے اور چاندی کی زکوۃ کا نصاب الگ ہے۔نیز ان دونوں کی زکوۃ الگ الگ دینا ہے جب نصاب کو پہنچے اور ایک سال گزر جائے۔ کسی کے پاس تین تولہ سونا ہو تو اس کو یہ نہیں دیکھنا ہے کہ اس کی قیمت چاندی کے نصاب سے کتنا زیادہ ہے بلکہ سونا کے لیے صرف سونا کا نصاب دیکھنا ہے اور چاندی کے لیے صرف چاندی کا نصاب دیکھنا ہے،ایک دوسرے سے موازنہ نہیں کرنا ہے۔

ہاں یہاں یہ مسئلہ ضرور ہے کہ اگر کسی کے پاس تھوڑا سونا ہو اور تھوڑا پیسہ ہویا تھوڑی چاندی ہو اور کچھ پیسہ بھی ہو اور دونوں ملا کر نصاب کو پہنچ جائے تو اس کی زکوۃ ادا کرنی ہے بشرطیکہ ایک سال ہو گیا ہو۔

تین تولہ سونا اور نقدی روپیے ملا کر سونے کا نصاب اگر پورا ہو جائے تو زکوۃ دینی ہے اور اگر سونے کا نصاب نہ مکمل ہوتا ہو تو مذکورہ بالا صورت میں زکوۃ نہیں دینی ہے۔

سوال: ایک عورت حافظہ ہے مگر وہ تراویح پڑھانے کیلئے قرآن دیکھ کر پڑھاتی ہے، کیا یہ اس طرح پڑھا سکتی ہے؟

جواب:جو عورت حافظہ ہے اس کے لیے بہتر و افضل یہی ہے کہ زبانی طور پر قرات کرے۔ تراویح میں دیکھ کر قرآن پڑھنا بھی جائز ہے لیکن یہ مجبوری میں ہے اور یہ اس کے لیے ہے جسے قرآن زیادہ یاد نہ ہو لیکن جو حافظہ قرآن ہے اس کے لیے بہتر یہی ہے کہ قرآن سے دیکھ کر نہ پڑھے بلکہ بغیر دیکھے تراویح میں قرات کرے۔ اگر کسی سپارے یا سورت میں کہیں پر حفظ میں پختگی کم ہو اور نماز میں بھولنے کا امکان ہو تو اس حصے کو چھوڑ دے اور جو حصہ پختگی کے ساتھ یاد ہو اسے وہ تراویح میں پڑھے۔تراویح میں قرآن ختم کرنا ضروری نہیں ہےجیساکہ بعض لوگ سمجھتے ہیں بلکہ  تراویح  توقیام اللیل کو کہتے ہیں ۔ اسے ٹھہرٹھہر کر آرام سے پڑھناہے، اس میں حسب سہولت جس قدر قرآن پڑھ سکیں کوئی حرج نہیں ہے۔

سوال: ایک خاتون کو کوئی زکوٰۃ کی رقم ضرورت مند کو دینے کے لئے رمضان میں دیتا ہے۔ اگر وہ خاتون اپنے پاس سے ضرورت مند کو رمضان سے پہلے رقم دے دے تاکہ وہ ضرورت کا سامان لے لیں اور جب رمضان میں اسے  وہ رقم دینے کے لئے دی جائے تو وہ رکھ لے، کیا ایسا کرنا درست ہے؟

جواب:وقت سے پہلے ضرورت اور مصلحت کی بنیاد پر کسی کو زکوۃ دے سکتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جیسے میری زکوۃ کا وقت شوال میں ہو رہا ہے لیکن اگر لوگوں کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے رمضان ہی میں اس کی زکوۃ دے دیتا ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

البتہ سوال میں جو صورتحال ذکر کی گئی ہے کہ ایک آدمی کسی خاتون کو زکوۃ تقسیم کرنے کے لیے دیتا ہے، کیا وہ وقت سے پہلے اپنی طرف سے زکوۃ دے سکتی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جب اس کے پاس زکوۃ ہی نہیں آئی ہوئی ہے تو وہ وقت سے پہلے کسی کو کیوں دے گی؟

وقت سے پہلے زکوۃ دینا جائز ہے لیکن یہ اس کے لیے ہے جو خود اپنی زکوۃ ادا کرے لیکن اگر کوئی کسی کی جانب سے وکیل ہے اور اس کے پاس ابھی زکوۃ آئی ہی نہیں تو وہ وقت سے پہلے کیوں کسی کی طرف سے زکوۃ دے۔ ہاں اپنی طرف سے صدقہ و خیرات کرنا چاہے تو کوئی حرج کی بات نہیں۔ دوسرے کی طرف سے جب آجائے پھر اس کو تقسیم کرے کیونکہ اس کا کام تقسیم کرنا ہے اور تقسیم وہ چیز کی جاتی ہے جو تقسیم کرنے والے کے  پاس ہوتی ہے۔ہوسکتا ہے زکوۃ دینے والا اپنے طور پر زکوۃ ادا کرے یا اس مرتبہ زکوۃ ہی نہیں بنتی ہو یا اور کسی طرح کی کوئی صورتحال درپیش ہو جائے لہذا زکوۃ دینے والا اپنا معاملہ خود جانتا ہے، وہ اپنے معاملہ کو خود حل کرے گا۔

سوال: سفر میں قصر کرتے ہیں تو کیا عشاء کے ساتھ وتر پڑھنا ہے؟

جواب:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں اور حضر میں ہمیشہ وتر کی نماز پڑھا کرتے تھے لہذا جو آدمی سفر میں رہے، اس کے لیے بھی مسنون ہے کہ عشاء کی نماز کے بعد وتر بھی پڑھا کرے۔

سوال: ایک ایسا شخص جو مہينے میں دو یا تین نمازیں پڑھتا ہے، رمضان میں ايک بھی روزہ نہیں رکھتا ہے، نشہ بھی کرتا ہے، بیوی بچوں کا خرچ بھی نہیں  اٹھاتا بلکہ نشہ کرنے کے لیے بیوی سے پیسہ مانگتا ہے۔ بیوی کے نہ دینے پر گھر میں بڑا ہنگامہ کر دیتا ہے۔ تراویح يا جمعہ پڑھنے مسجد بھی نہیں جانے دیتا۔ کیا پھر بھی بیوی اجر کے لئے صبر كرے، یہ بہتر ہے یا خلع كامطالبہ کر لے جبکہ وہ شخص اس كى اپنی خالہ کا بیٹا ہے۔ علاحدگی کے بعد رحم کے رشتہ میں قطع تعلقى بھی ہو جا ئے گی نیز بیوی اپنے شوہر سے مکمل طور پر بیزار ہو چکی ہے؟

جواب:اگر کسی کا شوہر اپنی بیوی کو جمعہ یا تراویح کی نماز مسجد میں پڑھنے سے منع کرتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، بیوی کو اپنے شوہر کی بات ماننا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عورت کا مسجد میں نماز پڑھنا ضروری نہیں ہے بلکہ عورت کا اپنے گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے لیکن اگر عورت مسجد میں نماز پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتی ہے، شوہر کو بھی اپنی ضد اور انا میں آکر اپنی بیوی کو مسجد سے نہیں روکنا چاہیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ اللہ کی باندیوں کو مسجد سے نہ روکو۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ، وَلَكِنْ لِيَخْرُجْنَ وَهُنَّ تَفِلَاتٌ(سنن ابي داود:565)

ترجمہ:اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو، البتہ انہیں چاہیئے کہ وہ بغیر خوشبو لگائے نکلیں۔

اگر مسجد سے روکنے کی کوئی معقول وجہ ہو تو پھر شوہر اپنی بیوی کو مسجد جانے سے روک سکتا ہے۔

جہاں تک مسئلہ ہے کہ شوہر نہ روزہ رکھتا ہے اور نہ نماز پڑھتا ہے بلکہ نشہ کا عادی ہے اور گھر کے اخراجات بھی نہیں اٹھاتا۔ ایسی صورت میں یہ شخص شوہر بننے کے لائق نہیں ہے بلکہ یہ تو مسلمان بھی کہلانے کے لائق نہیں ہے، ایسے مرد سے عورت کو چھٹکارا پا لینا چاہیے یعنی طلاق کے ذریعہ یا خلع کے ذریعہ علاحدگی اختیار کرلینا چاہیے۔

رشتہ داری کا معاملہ اپنی جگہ ایک الگ معاملہ ہے اور میاں بیوی کا رشتہ اپنی جگہ ایک الگ معاملہ ہے۔ اس معاملہ میں عورت کو اپنی خالہ کا رشتہ نہیں دیکھنا ہے بلکہ اپنی زندگی کا معاملہ دیکھنا ہے اور اس معاملہ میں اس کے لیے ایسے مرد سے دوری اختیار کرنا جائز ہے بلکہ اپنے ایمان کے لئے خطرہ کے اعتبار سے دوری اختیار کرنا واجب اور ضروری بھی ہوجاتا ہے۔

سوال: مجھے انفیکشن اور خون کی کمی کی وجہ سے بہت زیادہ کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے ڈاکٹر نے مجھے کمزوری کی گولی دی ہے۔ چونکہ اب رمضان ہے، کیا میں یہ دوا اپنی سحری میں لے سکتی ہوں جبکہ اس گولی سے مجھے کچھ قوت حاصل ہو یا روزہ دار عورت کے لیے تھکن برداشت کرنا لازمی ہے؟

جواب:رمضان میں اگر کسی کو جسمانی تکلیف ہو اور وہ دوائی استعمال کرتا ہو،اس حال میں کہ  وہ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہو تو وہ دن میں روزہ رکھے۔ اور کھانے پینے کے وقت میں جیسے سحر کے وقت اور افطار کے بعد دوا استعمال کرے، اس میں کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے کیونکہ یہ کھانے پینے کا وقت ہے۔

ایک بیمار آدمی سحری کے وقت جو دوا مرض کی وجہ سے استعمال کرتا ہے، اس کے کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے چاہے اس دوا کی وجہ سے روزہ پر قوت ہی کیوں نہ ملتی ہو کیونکہ یہاں مقصد بیماری کے لیے دوا کھانا ہے۔ اور سحری بھی  اس لیے ہی کھائی جاتی ہے تاکہ روزہ رکھنے میں قوت حاصل ہو۔ہاں ، اگر کوئی آدمی محض اس مقصد سے سحری میں دوا کھائے تاکہ اسے دن میں بھوک اور پیاس نہ لگے تو اس نیت سے دوا کھانا صحیح نہیں ہے۔ گویا دوا کھانے میں اصل اعتبار نیت اور مقصد کا ہے۔

سوال: روزہ کی حالت میں علاج کے طور پر کچھ دیر کے لئے منہ میں جیل رکھ سکتے ہیں نیز روزہ کی حالت میں ماؤتھ واش استعمال کرسکتے ہیں؟

جواب:روزہ کی حالت میں علاج کے طور پر منہ میں جیل رکھنے یا منہ کو صاف کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا اس شرط کے ساتھ کہ دوا کا حصہ حلق کی نیچے نہ اترے بلکہ وہ منہ تک ہی محدود ہو اور پانی سے کلی کرکے اس کو پوری طرح صاف کرلیا جائے۔

سوال: ڈیلیوری کے بعد سات دن تک خون برابر جاری رہتا ہے، اس کے بعد اسپاٹنگ جیسا پھر تین دن نہیں ہوتا ۔ ڈیلیوری کے بعد آج ستائیس دن ہوگیا ہے۔ نماز کے لئے کب تک انتظار کرنا ہے؟

جواب:ولادت کے بعد جو خون جاری ہوتا ہے اسے نفاس کا خون مانا جاتا ہے۔ اس خون کے جاری ہونے کی اکثر مدت چالیس دن ہے۔ اگر کسی عورت سے چالیس دن تک خون جاری رہے تو وہ چالیس دن تک نماز سے رکی رہے گی لیکن اگر چالیس دن سے پہلے جب بھی خون آنا بند ہوجائے تو اسے غسل کرکے نماز پڑھنا شروع کر دینا ہے۔ جس خاتون کا یہ مسئلہ ہے اگر ابھی تک خون جاری ہے تو اس  صورتحال میں اسے انتظار کرنا چاہیے یہاں تک کہ پوری طرح خون آنا بند ہو جائے تب  غسل کر کے نماز پڑھنا ہے مگر یاد رہے کہ نفاس کی اکثر مدت صرف چالیس دن ہے۔

سوال: شوکت خانم یا انڈس ہاسپٹل کو زکوۃ دے سکتے ہیں مریضوں کے علاج کے لیے؟

جواب:مجھے اس ہاسپٹل کے بارے میں معلوم نہیں ہے کہ اس کا طریقہ کار کیا ہے البتہ زکوۃ کے تعلق سے شرعی حکم جان لیں۔زکوۃ کے آٹھ مصارف میں سے شروع کے دو مصارف فقراء اور مساکین ہیں یعنی زکوۃ کا پیسہ فقیر اور مسکین کی ضروریات اور علاج وغیرہ پر خرچ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کو یقین کے ساتھ معلوم ہو کہ یہ ہاسپٹل محتاج اور ضرورت مند مریضوں کے علاج پر زکوۃ کا پیسہ خرچ کرتا ہے اور زکوۃ میں غلط تصرف نہیں کرتا یعنی ایمانداری سے مستحق پر خرچ کرتا ہے تو ایسی صورت میں اس ہاسپٹل کو ضرورت مند مریضوں کے لیے زکوۃ دے سکتے ہیں لیکن اگر یقین سے معلوم نہ ہو یا یہ کہ زکوۃ کا پیسہ خرچ کرنے میں ایمانداری نہ پائی جاتی ہو تو پھر ایسی صورت میں اس کو زکوۃ کا پیسہ نہیں دینا چاہیے بلکہ خود سے ایسے مریضوں اور ضرورت مندوں  زکوۃ دینا چاہیے۔

سوال: کیاروزہ کی حالت میں بھنویں بنانے  یا اپرلپس اور تھوڑی کے بال اتارنے سے روزہ پر اثر پڑتا ہے؟

جواب:روزہ کی حالت میں کسی بھی قسم کا بال صاف کرنے، مونڈنے اور اتارنے سے روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہےیعنی روزہ اپنی جگہ درست رہتا ہے لیکن ایک عورت کو یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس کے لئے کون سا بال صاف کرنا جائز ہے اور کون سا بال صاف کرنا جائز نہیں ہے۔ عورت کے لئے بلاضرورت زینت اور شوق کے لئے ابروبنانا جائز نہیں ہے لیکن مونجھ  اور داڑھی کے بال بنانا جائز ہے لہذا روزہ ہو یا غیر روزہ عورت اپرلپس اور تھوڑی کے بال صاف کرسکتی ہے۔

سوال: جو خواتین گھر میں تراویح کی نماز میں قرآن پاک کی تلاوت کرنا چاہے تو کیا وہ ہاتھ میں قرآن پاک پکڑ کر دیکھ کے پڑھ سکتی ہیں کیونکہ گاؤں کی مسجد میں خواتین کے لیے نماز تراویح کا اہتمام نہیں ہوتا؟

جواب:عورت ہو یا مرد اس کے لئے ضرورت کے وقت تراویح اور قیام اللیل میں قرآن سے دیکھ کر پڑھنا جائز ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے غلام کو تراویح پڑھانے کو حکم دیا اور وہ قرآن سے دیکھ کر سیدہ عائشہ کو تراویح پڑھاتے ۔ یہ روایت صحیح بخاری میں موجود ہے۔ سیدہ عائشہ دین کی بڑی عالمہ وفاضلہ تھیں، ان سے صحابہ اور صحابیات دین سیکھتے اور مسائل دریافت کرتے تھے، ظاہر سی بات ہے کہ ان کی فقاہت کے سامنے بعد والے یا ائمہ اربعہ کی فقاہت کچھ بھی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی صحابی سے حضرت عائشہ کے اس عمل کی مخالفت وارد نہیں ہے حتی کہ عمومی طور پر بھی کسی صحابی نے مصحف دیکھ کر نماز پڑھنے سے منع نہیں کیا ہے۔ امام زہری سے کسی نے سوال کیا کہ رمضان میں قرآن دیکھ کر پڑھنا کیسا ہے تو انہوں نے بہترین جواب دیا:كان خيارنا يقرؤون في المصاحف(المدونة الكبرى1/288-289والمغني لابن قدامة 1/335) کہ ہم میں سے بہتر لوگ قرآن دیکھ کر پڑھتے تھے۔

مختصر یہ کہ جس طرح مرد تروایح میں ضرورت کے وقت قرآن سے دیکھ کر پڑھ سکتا ہے، اسی طرح عورت بھی نماز میں قرآن سے دیکھ کر پڑھ سکتی ہے۔

سوال: کیا رمضان سے پہلے زیورات کی زکوۃدو ماہ کی  دے سکتے ہیں پھر رمضان سے رمضان زکوۃ دیا کریں گے؟

جواب:اصل میں زکوۃ سال مکمل ہونے پر دی جاتی ہے کیونکہ مال زکوۃ کے بارے میں یہ یقین نہیں ہوتا ہے کہ یہ سال تک باقی رہے یا سال سے پہلے ہی ختم ہو جائے۔ سال سے پہلے ہی مال ختم ہونے پر اس کی کوئی زکوۃ ادا کرنی نہیں ہوتی۔یہاں سوال سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے زیورات کی زکوۃ کا وقت رمضان سے دو مہینہ پہلے ہو جاتا ہے اور آپ رمضان سے رمضان زکوۃ دینا چاہتے ہیں۔ اس صورت میں

اس میں کوئی حرج نہیں ہے آپ دو مہینے کی جو زکوۃ بنتی ہے اس کو ادا کر دیں اورپھر  ہر رمضان اپنے زیورات کی زکوۃ ادا کیا کریں۔

سوال: اگر کسی عورت کا بچہ چھوٹا ہو اور تراویح پڑھنا اس کے لیے مشکل ہو تو کیا حکم ہے اس کے لیے؟

جواب:تراویح پڑھنا نفل ہے، یہ ضروری نہیں ہے۔ اگر کوئی نہیں پڑھنا چاہے تو حرج کی بات نہیں ہے لیکن رمضان سال میں ایک مرتبہ آتا ہے اور تراویح کا ثواب بہت زیادہ ہے اس لیے تراویح پڑھنے کی کوشش کرنا چاہیے۔

جیسے عورت پنج وقت نماز پڑھتی ہے، اسی طرح تراویح بھی پڑھ سکتی ہے اس کے لیے مسجد جانا ضروری نہیں ہے، عورت اپنے گھر میں تراویح پڑھے اور بچے کو اپنے پاس رکھ کر پڑھے۔ جب بچہ رونے لگے تو اسے گود میں بھی لے سکتی ہے۔ تراویح پڑھتے ہوئے، کبھی کم بیش پڑھ لے یا ہلکی تراویح پڑھے یا کبھی نہیں پڑھ سکے تو اس میں بھی کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔اپنی سہولت کے اعتبار سے عمل کرے۔

سوال: رمضان سے پہلے قرآن پاک کے بارہ سپارے ختم کئے تھے، اب رمضان میں ایک پارہ سے شروع کرسکتی ہوں، رہنمائی فرمادیں؟

جواب:اس میں پہلی بات یہ ہے کہ اگر آپ تلاوت کرتے ہوئے بارہ پارہ تک پہنچے تھے تو اسی کو آگے تک لے جائیں اور اس کو مکمل پڑھ کے ختم کرلیں پھر اس کے بعد دوبارہ ازسر نو پڑھیں۔ اور اگر بارہ پارہ سے چھوڑ کر ایک پارہ سے بھی شروع کرتے ہیں، اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے لیکن قرآن کی تلاوت ترتیب سے ہی کرتے رہیں تو یہ اچھا ہے۔

جہاں تک رمضان میں تلاوت کا اجر و ثواب ہے تو آپ جس طرح سے بھی پڑھیں گے، تلاوت کا اجر آپ کو ملے گا۔ اس میں ترتیب کا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے پھر بھی ترتیب بہتر و افضل ہے۔رمضان آنے پر بھی بارہ پارہ سے آگے پڑھیں یہاں تک کہ مکمل قرآن ختم ہوجائے۔

سوال: ہم بہو کوجو زیور دیتے ہیں، اس کی زکوة دینا کس پر فرض ہے؟

جواب:ساس نے بہو کو زیور دیا تو یہ زیور اب بہو کی ملکیت ہے، اس طرح ایک عورت کو اپنے شوہر، ساس اور دوسرے لوگوں سے شادی کے موقع پر بہت سارے زیورات ملتے ہیں۔ ایسی صورت میں یہ سارے زیورات اس خاتون کے ہیں جس کو ہدیہ دیا گیا ہے۔ان سارے زیورات کی زکوۃ اس خاتون کو دینا ہے جس کی ملکیت ہے بشرطیکہ یہ زیورات نصاب تک پہنچتے ہوں اور ان پر ایک سال گزر جائے۔

سوال: کیا ہم عورتیں گھر میں جماعت کر کے تراویح کی نماز پڑھ سکتی ہیں اور اگر پڑھ سکتی ہیں تو کیا اجر اتنا ہی ملے گا جتنا مسجد میں ملتا ہے یا اس سے کم ملے گا ۔مسجد میں پڑھنے کا اجر زیادہ ہے یا گھر میں پڑھنے جتنا ہی ملے گا؟

جواب:عورت کی نماز مسجد کے مقابلہ میں اس کے اپنے گھر میں اجر کے اعتبار سے زیادہ ہے لہذا جو عورت اپنے گھر میں نماز ادا کرے، اس کو مسجد میں نماز ادا کرنے سے بھی زیادہ اجر ملتا ہے۔ اس سلسلے میں شیخ البانیؒ  کا جواب بھی ملاحظہ فرمائیں۔ آپ فرماتے ہیں:

عورت کی مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز کا اجر بھی اسی طرح بڑھایا جاتا ہے جیسے مرد کے لیے ستائیس (27) گنا بڑھایا جاتا ہے۔ اورمسجد نبوي میں ایک ہزار گنا اور مسجد حرام میں ایک لاکھ گنا اجر ملتا ہے لیکن اگر عورت ان سب سے بھی زیادہ اجر چاہے تو وہ اپنے گھر میں نماز ادا کرے؛کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا: اور ان کے گھر ان کے لیے زیادہ بہتر ہیں۔(سلسلہ الہدی:270)

سوال: کیا ایک ہی شخص کو تیس دنوں کے روزہ کافدیہ دیا جاسکتا ہے؟

جواب:پورے رمضان کے روزہ کا فدیہ ایک آدمی کو بھی دے سکتے ہیں اور مختلف آدمی کو بھی دے سکتے ہیں۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ حالات دیکھ کر فدیہ کم یا زیادہ آدمی کو دیا جاسکتا ہے۔

سوال: اگر کسی خاتون کو انتیس شعبان کو حیض آتا ہے اور عادت کے مطابق چھ دن تک حیض چلتا ہے اور پاک ہونے کے بعد غسل کرتی ہے مگر غسل کے بعد دوبارہ حیض کی طرح آجاتا ہے، ایسی صورتحال میں رمضان کے چھٹے دن، بغیر غسل کئے سحری کھا سکتی ہے  پھر صبح غسل کرے، ایسے میں کیا روزہ صحیح ہوگا؟

جواب:حیض سے پاک ہونے کے بعد اور غسل کرلینے کے بعد تھوڑا بہت گدلے یا مٹیالے پانی کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا ہےاسے حیض نہیں کہیں گے ۔ ایسی صورت میں دوبارہ غسل کی ضرورت نہیں ہے۔ اور اس حال میں روزہ اپنی جگہ درست ہے۔ہاں اگر غسل حیض کے بعد دوبارہ باقاعدہ حیض آئے تو اسے حیض شمار کرے اور پاکی کا انتظار کرےاور ابھی نمازو روزہ سے رک جائے۔ جب پاک ہوجائے پھر دوبارہ پاکی کا غسل کرے اورپھر نماز وروزہ کی پابندی کرے۔

سوال: میرے پاس کچھ استعمال والے کپڑے ہیں جو اچھی حالت میں ہیں، اس کو بیچنا چاہتے ہیں ، کیا اسے کسی غریب لڑکی کی شادی میں بطور زکوۃ دے سکتے ہیں؟

جواب:استعمال شدہ کپڑے ہوں یا نئے کپڑے ہوں زکوۃ کے طور پر ان کپڑوں کو نہیں دے سکتے ہیں حتی کہ زکوۃ کے پیسے سے کپڑے خرید کر بھی نہیں دینا چاہیے۔ نقدی پیسوں کی زکوۃ ہر حال میں نقد پیسوں کی صورت میں ہی دینا چاہیے۔ اگر زیورات کی زکوۃ دینی ہو تو بھی پیسے کی صورت میں دینا چاہیے۔

بہرکیف! آپ کے پاس جو استعمال شدہ کپڑے ہیں، وہ زکوۃ کے طور پر کسی غریب لڑکی کی شادی میں نہیں دے سکتے ہیں۔ تحفہ کی شکل میں یا صدقہ کی شکل میں دیتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن زکوۃ کی شکل میں نہیں دے سکتے۔

سوال: کیا زکوٰۃ قسطوں میں دی جا سکتی ہےیعنی کچھ رقم رمضان میں دے دیں کچھ تھوڑی تھوڑی کر کے رمضان سے پہلے مکمل کر لیں؟

جواب:زکوۃ دینے کی دو شکلیں ہیں۔ ایک ہے ضرورت اور مصلحت کی بنیاد پر وقت سے پہلے ضرورت مندوں کو زکوۃ دینا اور ایک ہے جب زکوۃ کا وقت ہوجائے اس وقت ادا کرنا۔

پہلی صورت میں یعنی زکوۃ کی ادائیگی کا وقت آنے سے پہلے قسط کی شکل میں یا تھوڑا تھوڑا کرکے زکوۃ دے سکتے ہیں، جب فقیر اور مسکین کے لیے کوئی مصلحت ہو۔لیکن زکوۃ کا وقت آجانے کے بعد اب قسطوں کی شکل میں زکوۃ نہیں دے سکتے ہیں بلکہ جیسے ہی زکوۃ کا وقت آگیا اب فوری طور پر زکوۃ ادا کرنا ہے، اس میں تاخیر نہیں کرنا ہے۔

سوال: ایک خاتون کی نظر کمزور ہو گئی ہے، اسے دھندلا نظر آنے لگا ہے جس کی وجہ سے اب وہ دیکھ کر قرآن مجید کو تراویح کے نوافل میں نہیں پڑھ سکتی۔ وہ پوچھنا چاہتی ہے کہ کیا وہ کسی قاری کی آڈیو ریکارڈنگ لگا کر اپنے نوافل پڑھ سکتی ہے۔ ہر رکعت کے رکوع اور سجدہ میں وہ آڈیو بند کرتی ہے پھر اگلی رکعت میں آن کرتی ہے۔ کیا اس طرح اس کی صلاۃ التراويح ادا ہو جائے گی؟

جواب:نماز پڑھنے کا یہ طریقہ درست نہیں ہے، اس طرح سے آڈیو لگا کر نماز پڑھنے سے ان کی نماز بے کار ہے، ان کی نماز نہیں ہوگی بلکہ اس میں نماز کے ساتھ سخریہ اور اہانت کا پہلو نکلتا ہے۔اللہ تعالی نے دین کو ہمارے لیے آسان بنایا ہے اور دین پر عمل کرنا انسان کی استطاعت کے مطابق ہے۔

جس خاتون کی نظر کمزور ہو گئی ہے ان کو نماز میں نہ قرآن دیکھنا ہے، اور نہ ہی آڈیو چلانا ہے بلکہ ان کو جو کچھ یاد ہے اس  میں سے زبانی  طورپرپڑھ کر اپنی نماز ادا کرنی ہےحتی کہ  کم سورت یاد ہونے کی وجہ سے ایک سورت ایک سے زائد بار دہرالے یا  جوچند سورتیں یاد ہیں ان کو ہی ساری رکعتوں میں پڑھے اس میں حرج نہیں ہے۔اور اگر کسی دوسرے کے پیچھے نماز پڑھ سکے تو اس کے پیچھے نماز پڑھے لیکن آڈیو چلا کر تراویح کی نماز پڑھنا قطعا درست نہیں ہے۔اس عمل سے اس خاتون کوبالکلیہ  منع کریں۔

سوال: کیا زکوۃ اور فطرانہ کے پیسے سے رمضان میں راشن تقسیم کر سکتے ہیں جبکہ فطرانہ تو عید کا چاند نظر آنے پہ ادا کیا جاتا ہے؟

جواب:اس میں پہلا مسئلہ یہ ہے کہ مال کی زکوۃ مال کی صورت میں دینا ہے راشن کی صورت میں دینے سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی۔

فطرانہ اناج سے دینا ہے، اناج کی صورت میں دینا چاہیے مگر کچھ لوگ بلاضرورت پیسے کی شکل میں دیتے ہیں اور کچھ لوگ راشن کا پیک بنا کر تھوڑی تھوڑی چیزیں ملا کر دیتے ہیں یہ دونوں صورتیں صحیح نہیں ہیں۔

جہاں تک فطرانہ کے وقت کا مسئلہ ہے تو یہ عید کا چاند نظر آنے کے بعد سے لے کر عید کی نماز پڑھنے سے پہلے تک دینا ہے تاہم عید سے ایک دو دن پہلے بھی دیا جا سکتا ہے، اس سے زیادہ پہلے فطرانہ دینے سے وہ فطرہ نہیں مانا جائے گا۔

سوال: میرا بھائی پی آئی اے ایرلائنس میں جاب کرتا ہے۔ جب اس کی فلائٹ سعودیہ کی ہوتی ہے تو کیا وہ حرم میں عمرہ کئے بغیروہاں  اپنی نمازیں ادا کر سکتا ہے اور طواف کرسکتا ہے؟

جواب:اس میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ اگر آپ کے  بھائی نے اپنا ایک عمرہ زندگی میں ادا کر لیا ہے تو دوبارہ عمرہ کرنا ان کے اوپر واجب نہیں ہے لہذا جب وہ سعودی عرب آئے اور عمرہ کرنے کا ارادہ نہ ہو تو بغیر عمرہ کیے طواف بھی کرسکتا ہے اور حرم میں نماز بھی پڑھ سکتا ہے اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔اور جب عمرہ کرنے کا ارادہ ہو اس وقت احرام باندھ کرآئے اور  عمرہ کرے۔

سوال: کیا ہر نماز کے بعد مصلی پر تسبیح اور دعا کرنا ہاتھ اٹھا کر، سنت سے ثابت ہے؟

جواب:فرض نماز کے بعد انفرادی طور پر دعا کی جا سکتی ہے کیونکہ اس سلسلے میں دلیل ملتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے، اگر دعا نہ کی جائے تو نماز میں کچھ کمی رہ جاتی ہے۔جہاں تک ذکر کا مسئلہ ہے تو فرض نماز کے بعد متعدد اذکار حدیث سے ثابت ہیں، ان اذکار کو پڑھ لینا چاہیے پھر اس کے بعد مصلی سے اٹھنا چاہیے۔

خلاصہ یہ ہے کہ فرض نماز کے بعد اکیلے دعا کی جاسکتی ہے اور ہاتھ اٹھا کر بھی دعا کی جا سکتی ہے مگر یہ ضروری عمل نہیں ہے بلکہ آدمی کی اپنی چاہت پر منحصر ہے۔ اس کو نماز کا حصہ نہ سمجھا جائے اور نہ ہی اسے ضروری خیال کرکے ہر نماز کے بعد دعا کی جائے۔البتہ اذکار ہر فرض نماز کے بعد مصلی پہ بیٹھ کے پڑھنا چاہیے۔یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت رہی ہے۔

سوال: کیا روزہ کا فدیہ اپنے غیرمسلم پڑوسی کو دے سکتے ہیں؟

جواب:روزہ کا فدیہ کسی غیر مسلم کو نہیں دیا جائے گا۔ یہ صرف مسلمانوں کو دیا جائے گا۔ آپ کے پاس جو دوسرے مسلمان محتاج ہیں ان کو روزہ کا فدیہ دیں اور اگر وہاں پر کوئی دوسرا مسلمان فدیہ کا اہل نہ ہو تو اپنا فدیہ کسی ایسی جگہ بھیجیں جہاں فقیر و مسکین مسلمان رہتے ہوں۔

سوال: ایک عورت نے اپنے خاوند سے خلع کا مطالبہ کیا لیکن تین بار جب بھی کورٹ میں حاضری ہوئی تو اس کا شوہر نہیں آیا لیکن عدالت نے خلع دے دیا، کیا ایسے خلع مل جائے گا؟

جواب:اگر بیوی اپنے شوہر سے کسی شرعی عذر کی بنیاد پر الگ ہونا چاہتی ہو تو شوہر سے خلع کا مطالبہ کرے۔ اگر شوہر خلع دینے پر راضی ہو تو ٹھیک ہے ورنہ عدالت کے ذریعہ اپنا نکاح فسخ کرا سکتی ہے۔جو صورت آپ نے ذکر کیا کہ بیوی نے کورٹ میں خلع کا کیس کیا اور شوہر حاضر نہیں ہوا ایسی صورت میں کوٹ نکاح کو فسخ کر سکتا ہے اور اس طرح نکاح ختم ہو جائے گا۔لہذا اس معاملہ میں میاں بیوی کا نکاح فسخ ہوچکا ہے۔

سوال: پی ایف فنڈ میں جمع شدہ پیسوں پر زکوۃ دینا ہے جو تنخواہ سے کاٹا جاتا ہے؟

جواب:پی ایف فنڈ پر بروقت زکوۃ نہیں ہے کیونکہ یہ پیسہ آدمی کی اپنی ملکیت میں نہیں ہوتا یہ حکومت کی ملکیت میں ہوتا ہے۔ جب یہ پیسہ اپنے پاس آجائے اس کے بعد اس پر زکوۃ کا نظام لاگو ہوگا۔

سوال: اگر امام کے ساتھ وتر پڑھ لئے پھر اس وتر کو کیسے جفت بنانا ہے تاکہ رات میں نفل پڑھ کر وتر دوبارہ پڑھ لیں۔ مجھے تین وتر جفت بنانے طریقہ سمجھا دیں؟

جواب:امام کے ساتھ وتر پڑھ لینے کے بعد وتر کو جفت نہیں بنانا ہے بلکہ امام کے ساتھ وتر پڑھتے وقت ہی جفت بنایا جائے گا۔جب امام ایک رکعت یا تین رکعت وتر پڑھائے تو مقتدی سلام نہ پھیر کر کھڑے ہو کر مزید ایک رکعت پڑھ لے اس طرح اس کی نماز جفت ہو جائے گی۔

اگر کسی نے امام کے ساتھ وتر کی نماز ادا کر لی اور پھر دوبارہ نماز ادا کرنا چاہے تو دوبارہ نماز ادا کی جا سکتی ہے اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے تاہم اس عمل کو معمول نہ بنائے، معمول یہ ہو کہ وتر کی نماز کو سب سے آخر میں ادا کرے۔دوسری بات یہ ہے کہ رات میں وتر ایک بار ہی ادا کرنا ہے، دومرتبہ نہیں ۔ ایک مرتبہ پڑھ لئے تو دوبارہ وتر نہیں ادا کریں۔

سوال: میری بہن نے کچھ عرصہ سے مجھ سے تعلق ختم کر دیا تھا ۔ الحمدللہ اس نے مجھے دو دن پہلے میسج کیا ہے اور مجھ سے بات کی ہے مگر میرے شوہر نے مجھے اس سے بات کرنے سے منع کیا تھا تو کیا میں نے بہن سے بات کر کے ٹھیک کیا۔ ایک طرف رسول اللہ کا حکم اور دوسری طرف شوہر کا حکم اس وقت مجھے کیسے چلنا چاہئے؟

جواب:بہت ساری بہنیں یہ سمجھتی ہیں کہ شوہر جو بھی حکم دے اس کو ماننا ضروری ہے حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے۔ شوہر کی صرف اسی بات کو ماننا ضروری ہے جو درست ہو اور جو بات درست نہ ہو یعنی قرآن و حدیث کے خلاف ہو یا اللہ کی معصیت میں ہو اس بات کو تسلیم نہیں کرنا ہے خواہ شوہر حکم دے یا والدین حکم دیں یا کوئی اور حکم دے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ اللہ کی معصیت میں کسی کی فرمانبرداری نہیں کی جائے گی۔

آپ نے جو سوال پوچھا ہے، اس میں غلطی آپ کی طرف سے بھی ہے۔ آپ نے اپنے شوہر کے کہنے کی وجہ سے بہن سے بات کرنا چھوڑا ہے، دوسری طرف آپ کی بہن نے بھی بات کرنا ترک کیا ہے لیکن اس میں غلطی آپ کی جانب سے بھی ہے۔اور آپ نے اپنی بہن سے بات کر کے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے۔ آپ کے اوپر شوہر کی حق بات ماننا ضروری ہے۔ جو حق کے خلاف ہو اس کو ماننا ضروری نہیں ہے بلکہ وہاں پر اللہ اور اس کے رسول کے حکم کو دیکھنا ہے۔

سوال: جنوری ۲۰۲۵ میں چالیس گرام سونا خریدا گیا پھر مزید نومبر ۲۰۲۵ میں پچاس گرام کی خریداری ہوئی اور دس گرام پہلے سے موجود ہے، پورا ملا کر نصاب تک پہنچ رہا ہے مگر حولان حول کا وقت الگ الگ ہے، ان سب کی زکاۃ کب نکالی جائے گی؟

جواب:جب اور جس دن آپ کے پاس سونے کا نصاب پورا ہو رہا ہے اس دن سے لے کر جب سال مکمل ہوگا تب اس کی زکوۃ دینی ہے مثلا آپ کے پاس پہلے سے چالیس گرام سونا تھا پھر کچھ سونا آیا مگر اب بھی نصاب پورا نہیں ہوا پھر کچھ سونا آیا اب اس کا نصاب پورا ہو رہا ہے۔ تو اب اس نصاب پر جب سال مکمل ہوگا اس وقت آپ کو زکوۃ دینی ہوگی۔

سوال: کیا نبی ﷺ نے ابتدائی رات میں وتر کی نماز ادا فرمائی ہے؟

جواب:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کے ابتدائی حصے میں بھی وتر پڑھنا ثابت ہے۔عبداللہ بن ابو قیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں پوچھا: انہوں نے کہا: کبھی شروع رات میں وتر پڑھتے اور کبھی آخری رات میں، میں نے پوچھا: آپ کی قرآت کیسی ہوتی تھی؟ کیا سری قرآت کرتے تھے یا جہری؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں طرح سے پڑھتے تھے، کبھی قرآت سری کرتے اور کبھی جہری، کبھی غسل کر کے سوتے اور کبھی وضو کر کے سو جاتے۔ (سنن ابي داود: 1437)

حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم بھی دیا ہے کہ اگر کوئی رات کے آخری حصے میں وتر نہ پڑھ سکتا ہو یا اٹھنے کی امید نہ ہو تو وہ رات کے ابتدا ہی سے ہی میں وتر پڑھ لے۔چنانچہ  حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں نہیں اٹھ سکے گا، وہ رات کے شروع میں وتر پڑھ لے۔ اور جسے امید ہو کہ وہ رات کے آخر میں اٹھ جائے گا، وہ رات کے آخر میں وتر پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصے کی نماز کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ افضل ہے۔(صحيح مسلم: 1766)

خلاصہ یہ ہے کہ عشاء کے بعد سے لے کر فجر سے پہلے تک وتر پڑھ سکتے ہیں اور آخری وقت میں وتر پڑھنا افضل ہے۔

سوال:میری کزن ہے، وہ کینسر کی مریضہ ہے۔ اس کو کوئی مسئلہ ہے جس کی وجہ سے خون جاری ہونے لگتا ہے جیسے ماہواری ہوتی ہے، وہ پوچھتی ہے کہ کیا وہ اس حال میں روزہ رکھ سکتی ہے اور نماز پڑھ سکتی ہے؟

جواب:عورتوں کو ایک ماہواری آتی ہے جو ہر مہینے متعین دن کے لیے مخصوص صفات کے ساتھ آتی ہے۔ اس ماہواری کا معاملہ واضح ہے کہ اس میں نماز نہیں پڑھنا ہے روزہ بھی نہیں رکھنا ہے۔اس ماہواری کے علاوہ بعض عورتوں سے بیماری کے سبب خون ظاہر ہوتا ہے اس کو استحاضہ کا خون کہتے ہیں۔جب عورت سے استحاضہ کا خون آئے تو اس حالت میں عورت نماز بھی پڑھے گی اور روزہ بھی رکھے گی۔

اس بہن کو صرف اس بات کی تاکید کرنی ہے کہ یہ ماہواری ہے یا استحاضہ ہے؟ اگر یہ استحاضہ ہے تو اس میں نماز بھی پڑھے گی اور روزہ بھی رکھے گی۔

 

 

 

 

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔