Monday, March 7, 2016

حمل ساقط ہونے پہ نمازوروزہ اور جماع کا حکم


حمل ساقط ہونے پہ نمازوروزہ اور جماع کا حکم
=================
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرا سوال یہ ہے کہ میری بیوی کا حمل آپ خود گرگیا ہے ، اس کی نماز اور روزے کا کیا حکم ہے اور اس سے جماع کرنے کے متعلق اسلام میں کیا ہے ؟
سائل : شیخ محمد
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ :
اگر گرے ہوئے حمل سے بچے کی شکل وصورت ظاہر ہے یعنی اس کا ہاتھ و پیر اور سر وغیرہ کی تخلیق ہوگئی ہے تو جب تک عورت کو خون آئے اس وقت تک وہ نماز، روزہ سے باز رہے گی اور اس سے جماع بھی منع ہے ۔ چالیس دن یا اس سے پہلے خون بند ہونے پہ پاکی حاصل کرنے کے بعد نمازوروزہ ادا کرسکتی ہے اور اس سے جماع بھی جائز ہوگا۔


واللہ اعلم
مقبول احمد سلفی


0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔