Monday, August 29, 2022

حج وعمرہ میں عورتوں کے احرام کا لباس

  حج وعمرہ میں عورتوں کے احرام کا لباس
 تحریر: مقبول احمد سلفی /اسلامک دعوۃ سنٹر، جدہ
 
سب سے پہلے یہاں مرد وعورت کویہ جان لینا چاہئے کہ کسی کپڑے یا لباس کا نام احرام نہیں ہے بلکہ حج یا عمرہ کی نیت کرنےکو احرام کہا جاتا ہے اس وجہ سے مرد اور عورت دونوں کا احرام ایک ہی ہے،وہ ہے نسک (حج وعمرہ)کی نیت کرنا ۔ عمرہ کے لئے" اللَّهمَّ لبَّيكَ عمرةً "اور حج کے لئے "اللَّهمَّ لبَّيكَ حجًّا"۔زبان سے یہ الفاظ کہنے پر مرد یا عورت نسک میں داخل ہوجاتے ہیں ۔
اب رہا مسئلہ احرام کی حالت میں لباس کا تو اس بارے میں مرد وعورت کے لباس میں فرق ہے ۔ مردوں کے لئے سلاہوا لباس ممنوع ہے ، وہ بغیر سلے ہوئے لباس میں احرام باندھیں گے جبکہ اسلام نے عورتوں کی عفت وعصمت کا خیال کرتے ہوئے سلے ہوئے لباس کو ممنوع نہیں کیا ۔ اس لئے عورت سلے ہوئے کپڑوں میں احرام باندھیں گی ۔
 عورتوں کے لئے احرام کے لباس میں نقا ب وبرقع اور دستانہ کی ممانعت:
 احرام باندھنے کے لئے عورتوں کو سلے ہوئے لباس استعمال کرنے کی اجازت ہے لیکن دو طرح کے کپڑوں کی ممانعت ہے ، ایک نقاب وبرقع اور دوسرا دستانہ ۔ اس بات کی دلیل یہ حدیث ہے ۔
 عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا:ولَا تَنْتَقِبِ المَرْأَةُ المُحْرِمَةُ، ولَا تَلْبَسِ القُفَّازَيْنِ( صحيح البخاري:1838)
ترجمہ: احرام کی حالت میں عورت منہ پر نہ نقاب ڈالے اور نہ دستانے استعمال کرے۔
عرب کی عورتیں چہرہ کو چھپانے کے لئے نقاب جسے برقع بھی کہاجاتا ہے استعمال کرتی تھیں اس میں ایک یا دو نوں آنکھوں کے لئے سوراخ چھوڑا جاتا تھا۔اسی طرح ہاتھ(انگلیاں، ہتھیلیاں اور بازو) کا پردہ کرنے کےلئے دستانہ لگاتی تھیں۔ احرام کی حالت میں رسول اللہ ﷺنے ان دونوں لباس سے منع فرمادیا۔ اس حدیث سے ایک بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ عہد رسول کی خواتین اپنے چہروں اور ہاتھوں کا پردہ کیا کرتی تھیں ۔
 غلط فہمی کا ازالہ : لوگوں میں اور خاص طور سے عورتوں میں دو طرح کی غلط باتیں مشہور ہیں ۔
پہلی غلط بات: احرام میں عورتوں کے چہرہ کا پردہ نہیں ہے ۔دوسری غلط بات: احرام میں عورت کے  رخسار سے کپڑا مس نہیں کرنا چاہئے۔
آپ کے علم میں یہ بات رہنی چاہئے کہ یہ دونوں باتیں غلط ہیں، دراصل انہیں دونوں باتوں کی حقیقت بتانے کے لئے یہ مختصر تحریر لکھ رہا ہوں تاکہ عورتوں کی اصلاح ہوسکے ۔
 غلط فہمی کی وجہ : سوال یہ ہے کہ آخر کس وجہ سے لوگوں میں یہ باتیں مشہور ہوگئیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث رسول کا غلط مطلب نکالا گیا ہے ۔ حدیث میں کہاگیا ہے کہ عورت احرام کی حالت میں نقاب نہ لگائے تو لوگوں نے سمجھ لیا چہرے کا پردہ ہی نہیں کرنا ہے یا چہرے سے پردہ نہیں لگنا چاہئے۔ ظاہر سی بات ہے حدیث کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے اور نہ ہی کسی حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کو چہرے کا پردہ کرنے سے منع کیا ہے۔ مقصد صرف یہ ہے کہ چہرے اور ہاتھ کی ساخت کا سلا ہوا کپڑانقاب و دستانہ احرام کی حالت میں عورت  نہ استعمال کرے ، ان کے علاوہ کسی دوسرے کپڑے سے اپنے چہرہ اور ہاتھ کو چھپائے۔ مذکورہ حدیث کا مطلب بیان کرتے ہوئے شیخ ابن باز کہتے ہیں کہ چہرے اور دونوں ہاتھوں کی ساخت کے حساب سے مخصوص طرز پر کاٹ کر جو سلا جائے وہ کپڑاممنوع ہے ، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عورت اپنے چہرے یا ہاتھوں کا پردہ نہ کرے جیساکہ بعض لوگوں کو غلط فہمی ہوئی ہے بلکہ مقصد یہ ہے کہ نقاب و دستانہ کے بغیر چہرہ اور ہاتھ کو چھپائے۔(مجموع فتاوى ابن باز:5/223)
احرام کی حالت میں چہرہ چھپانے کی دلیل :
صحیح بخاری کی مذکورہ بالا حدیث کا معنی ومفہوم جان لینے کے بعد اب آپ کو صریح دلیل بھی دیتا ہوں جس سے معلوم ہوگا کہ احرام کی حالت میں عورت اپنے چہرے کا پردہ کرے گی ، نبی ﷺ کے زمانے میں صحابیات احرام کی حالت میں اپنے چہرہ کو چھپایا کرتی تھیں۔
 ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:كان الركبًان يمرون بنا ونحن مع رسول اللهِ صلى الله عليه وسلم محرمات فإذا حاذوا بنا سدلت إحدانا جلبًابها من رأسها على وجهها فإذا جاوزونا كشفناه(أخرجه أبو داود:1833واللفظ له، وابن ماجه :2935، وأحمد:24021)
ترجمہ:سوار ہمارے سامنے سے گزرتے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام باندھے ہوتے، جب سوار ہمارے سامنے آ جاتے تو ہم اپنے نقاب اپنے سر سے چہرے پر ڈال لیتے اور جب وہ گزر جاتے تو ہم اسے کھول لیتے۔
حدیث پر حکم :اس کی سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف راوی ہے جس کی وجہ سے اس حدیث کو محدثین نے ضعیف کہا ہے مگر اس باب میں اسماء بنت ابی بکر کی صحیح روایت موجود ہونے کی وجہ سے اس حدیث کو مشکوۃ کی تخریج میں شیخ البانی نے حسن قرار دیا ہے ۔
 اب وہ روایت بھی دیکھ لیں جو اسماء بنت ابی بکر سے مروی ہے ۔
عن أسماء بنت أبي بكر - رحمه الله - قالت: «كُنَّا نُغَطِّيَ وُجُوهَنَا مِنَ الرِّجَالِ، وَكُنَّا نَتَمَشَّطُ قَبْلَ ذَلِكَ فِي الإِحْرَامِ» (أخرجه ابن خزيمة:4/ 203 برقم 2690 والحاكم: 1/ 454)
ترجمہ: سماء بنت ابی بکر سے مروی ہے وہ کہتی ہیں کہ ہم عورتیں اس سے پہلے احرام کی حالت میں مردوں سے اپنا چہرہ چھپاتی تھیں اور بالوں میں کنگھابھی کرتی تھیں۔
 حدیث کا حکم : اس کی سند صحیح ہے اور شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔(إرواء الغليل: 4/212)
اسی طرح شیخ البانی نے ارواء الغلیل میں ایک دوسرا اثر بھی ذکر کیا ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
عن فاطمةَ بنتِ المنذرِ أنها قالت كنا نُخمِّرُ وجوهَنا ونحن مُحرماتٌ ونحن مع أسماءَ بنتِ أبِي بكرٍ الصدِّيقِ۔(إرواء الغليل: 4/212)
ترجمہ: فاطمہ بنت منذر سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ ہم عورتیں احرام کی حالت میں اپنے چہروں کا پردہ کیا کرتی تھیں اور ہم اسماء بنت ابی بکر کے ساتھ ہوتی تھیں۔
احرام کی حالت میں عورت کے لباس کاطریقہ :دلائل سے بالکل صاف طور پر ہمیں معلوم ہوگیا کہ عورتیں احرام کی حالت میں اپنے چہرے کا پردہ کریں گی ، تو سوال ہےکہ چہرے کا پردہ کس طرح کریں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سر کے علاوہ بقیہ جسم کے لئے ایک لباس تو ہوگا ہی قمیص وعبایا یا اس شکل کا ۔ باقی چہرے اور ہاتھوں کو چھپانے کے لئے الگ سےوسیع دوپٹہ اور اوڑھنی کا استعمال کرے جس سے سر، چہرہ اور دونوں ہاتھ ڈھکا جا سکے ۔اس طرح عورت کے لئے احرام میں سلوار، قمیص اورموزے پہننا جائز ہے، ساتھ ہی کان ، ناک ، سر، پیر اور ہاتھ میں زینت کی جو چیزیں ہیں ان کو بھی اتارنے کی ضرورت نہیں ہے جیسے ریبن، کلپ، بالی، انگوٹھی، گھڑی، چوڑی اور پازیب وغیرہ ۔نیز محظورات احرام مثلا خوشبولگانا، بال وناخن کاٹنا، عقد نکاح ، جماع اور شکار ممنوع ہیں۔
 موضوع سے متعلق مزید وضاحت :
٭ اب یہ سوچ ختم کریں کہ احرام میں چہرے کا پردہ نہیں ہے اور یہ سوچ بنائیں کہ چہرے کا پردہ کبھی بھی منع نہیں کیا گیا ہے، حج وعمرہ میں احرام کی حالت میں بھی چہرے کا پردہ کیا جائے گا، یہی صحیح بات ہے ۔
٭صحیح بات کا علم نہ ہونے کی وجہ سے بعض عورتیں احرام کی حالت میں سر پہ انگریزی کیپ لگاتی ہیں تاکہ چہرے سے کپڑا نہ لگے ، یہ غلط طریقہ ہے، اس بارے میں صحیح بات یہ ہے کہ اوڑھنی سے چہرے کا پردہ کرنا ہے اور کیپ نہیں لگانا ہےاور رخسار سے کپڑا لگنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
٭احرام کا جو لباس ہے اس میں گندگی لگ جائے یا کسی ضرورت کے پیش نظر بدلنا پڑے تو کوئی حرج نہیں ہے،محرم عورت احرام کی حالت میں جیسے غسل کرسکتی ہے ویسے ہی احرام کا لباس بدل سکتی ہے۔
٭ اگر کوئی عورت بھول کر یا انجانے میں نقاب میں ہی احرام باندھ لے یا اسی حالت میں عمرہ کرلے تو بھولنے کی وجہ سے اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔
٭احرام کا مطلب سمجھ گئے ہیں کہ عمرہ یا حج کی نیت کرنا احرام ہے تو جب عورت کا عمرہ مکمل ہوجائےیعنی آخری کام بال کاٹ لے تو احرام سے محض نیت سے ہی نکل جائے گی اسے کوئی کپڑا وغیرہ بدلنے کی یا نہانے کی ضرورت نہیں ہے ۔

مکمل تحریر >>

Tuesday, August 23, 2022

اسلام میں عورت کا ختنہ – احکام ومسائل


 اسلام میں عورت کا ختنہ – احکام ومسائل                  
تحریر: مقبول احمد سلفی/اسلامک دعوۃ سنٹر، حی السلامہ –جدہ

اسلام میں ختنہ ایک فطری عمل ہے لیکن غیرمسلموں کی طرف سے اس پر مختلف سوالات اٹھائے جاتے ہیں، وجہ اسلام دشمنی ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ختنہ ایک امتیازی مذہبی پہچان ہے جس کی وجہ سے کسی مسلمان کادوسرے ادیان میں داخل ہونا بہت مشکل امر ہے۔ تاہم اس کے طبی فوائد کی وجہ سے بہت سارے غیرمسلم لوگ بھی اپنا ختنہ کرواتے ہیں ۔ جہاں تک عورتوں کے ختنہ کا معاملہ ہے تو اس معاملہ کو غیرمسلم کچھ زیادہ ہی اچھالتے ہیں تاکہ لوگوں کو اسلام سے نفرت دلاسکیں ۔ان کے غلط پروپیگنڈوں کی وجہ سے کچھ سادہ ذہن کے کم پڑھے لکھے یا یوں کہہ لیں دینی تعلیم سے نابلد موڈرن مسلمان غیرمسلموں کی مخالفت کو صحیح سمجھنے لگتے ہیں اور عورتوں کے ختنہ کو اسلام مخالف اور انسانیت مخالف قرار دیتے ہیں ۔
میں اپنے مضمون میں اپنے مسلمان بھائیوں کی معلومات کےلئے عورت کے ختنہ سے متعلق احکام ومسائل بیان کررہاہوں تاکہ وہ اسے پڑھ کر حق بات کو جان سکیں اور کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں ۔ عورتوں کے ختنہ سے متعلق متعدد احادیث آئی ہیں بلکہ اس بارے میں صحیحین کی بھی روایات سےرہنمائی ملتی ہے ۔ ان دلائل کو آپ کے سامنے ذکر کررہاہوں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کے لئے ختنہ کا ثبوت ملتا ہے ۔
صحیح بخاری کی حدیث ہے ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :نبی ﷺ نے فرمایا:الفِطْرَةُ خَمْسٌ: الخِتَانُ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَقَصُّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمُ الأظْفَارِ، وَنَتْفُ الآبَاطِ( صحيح البخاري:5891)
ترجمہ: پانچ چیزیں ختنہ کرانا، زیر ناف مونڈنا، مونچھ کترانا، ناخن ترشوانا اور بغل کے بال نوچنا پیدائشی سنتیں ہیں۔
اس حدیث میں پانچ چیزوں کو فطرت قرار دیا گیا ہے یعنی انسانی فطرت ان چیزوں کا تقاضہ کرتی ہے گویا یہ انسانی فطرت کے خلاف نہیں بلکہ موافق ہے ۔ اور چونکہ ان پانچ چیزوں میں عورت کو الگ نہیں کیا گیا ہے اس وجہ سے اس حکم میں عورت بھی شامل ہے سوائے مونچھ کے کہ یہ مردوں کے خصائص میں سے ہے ۔
اسی طرح صحیح مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی ﷺ فرماتے ہیں:
إذا جَلَسَ بيْنَ شُعَبِها الأرْبَعِ ومَسَّ الخِتانُ الخِتانَ فقَدْ وجَبَ الغُسْلُ(صحيح مسلم:349)
ترجمہ: جب مرد عورت کے چاروں کونوں میں بیٹھے اور ختنہ ختنہ سے مل جائےتو غسل واجب ہو گیا۔
یہ جماع سے متعلق  حدیث ہے ، اس میں شرمگاہ کا ذکر نہیں، ختان کا لفظ آیا ہےجواس بات پر دلالت کرتا ہے کہ عہد رسول کی خواتین ختنہ کراتی تھیں۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے مسند کے اس معنی کی حدیث کے بارے میں یہی کہا ہے ۔
إذا الْتَقَى الخِتانانِ وجَبَ الغُسلُ(تخريج المسند:26025)ترجمہ: جب ایک ختنہ دوسرے ختنہ سے مل جائے تب غسل واجب ہوجاتا ہے۔
عہد رسالت میں عربوں کی خواتین میں ختنہ کا رواج بھی صحیح بخاری کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے ۔ ایک لمبی سی حدیث ہے، اس میں مذکور ہے کہ عزوہ احد کے موقع پر جب (دونوں فوجیں آمنے سامنے) لڑنے کے لیے صف آراء ہو گئیں تو (قریش کی صف میں سے) سباع بن عبدالعزیٰ نکلا اور اس نے آواز دی، ہے کوئی لڑنے والا؟ بیان کیا کہ (اس کی اس دعوت مبازرت پر) امیر حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نکل کر آئے اور فرمایا:
يا سِبَاعُ، يا ابْنَ أُمِّ أنْمَارٍ مُقَطِّعَةِ البُظُورِ، أتُحَادُّ اللَّهَ ورَسولَه صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ؟! قَالَ: ثُمَّ شَدَّ عليه، فَكانَ كَأَمْسِ الذَّاهِبِ(صحيح البخاري:4072)
ترجمہ: اے سباع! اے ام انمار کے بیٹے! جو عورتوں کے ختنے کیا کرتی تھی، تو اللہ اور اس کے رسول سے لڑنے آیا ہے؟ بیان کیا کہ پھر حمزہ رضی اللہ عنہ نے اس پر حملہ کیا (اور اسے قتل کر دیا) اب وہ واقعہ گزرے ہوئے دن کی طرح ہو چکا تھا۔
اسى ليے عرب كے ہاں گالى گلوچ كے وقت " يا بن القلفاء " كہا جاتا ہے، جس كا معنى ہے بغير ختنہ كے زيادہ شہوت والى كے بيٹے.
عورتوں کے ختنہ سے متعلق ایک مشہور حدیث اس طرح وارد ہے ۔ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
أنَّ امرأةً كانت تختِنُ بالمدينةِ فقال لها النبيُّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ لا تُنهِكي فإنَّ ذلك أحظى للمرأةِ وأحبُ إلى البَعلِ(صحيح أبي داود:5271)
ترجمہ: مدینہ میں ایک عورت عورتوں کا ختنہ کیا کرتی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا:نیچا کر ختنہ مت کرویعنی  بہت نیچے سے مت کاٹوکیونکہ یہ عورت کے لیے زیادہ لطف و لذت کی چیز ہے اور شوہر کے لیے زیادہ پسندیدہ۔
اس حدیث کی سند میں ایک راوی محمد بن حسان مجہول ہے جس کی وجہ سے سند ضعیف ہے لیکن متابعات اور شواہد کی بناپر شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ام ایمن نام کی ایک عورت مدینہ میں ختنہ کیا کرتی تھی اس سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إذا خفضْتِ فأَشِمِّي ولا تُنهِكي فإنه أسرى للوجهِ وأحظى للزوجِ( السلسلة الصحيحة:2/344 )
ترجمہ: جب تو (کسی لڑکی کا) ختنہ کرے تو کچھ کھال چھوڑ دیا کر اور (کاٹنے میں) مبالغہ آمیزی نہ کیا کر، کیونکہ یہ چیز چہرے کو خوبصورت بنانے والی اور اسے خاوند کے لیے مقبول بنانے والی ہے۔
ام علقمہ رحمہا اللہ سے روایت ہے:
أنَّ بناتَ أخي عائشةَ [ خُتِنَّ ] ، فَقيل لعائشةَ : ألا نَدعو لهنَّ من يُلهِيهِنَّ ؟ قالَت : بلَى ، فأرسَلتُ إلى عَدِىٍّ فأتاهُنَّ فمرَّتْ عائشةُ في البَيتِ فرأَتْه يتغنَّى ويُحرِّكُ رأسَه طرَبًا وكانَ ذا شَعرٍ كثيرٍ فقالَت : أُفٍّ ، شَيطانٌ ! أخرِجُوهُ ، أخرِجُوهُ(صحيح الأدب المفرد:945)
ترجمہ: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بھتیجیوں کے ختنے کیے گئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی گئی: کیا ہم ان کو بہلانے کے لیے کسی شخص کو نہ بلائیں؟ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ چنانچہ اس نے عدی کی طرف پیغام بھیجا تو وہ آیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا گھر سے گزریں تو دیکھا کہ وہ گا رہا ہے اور جھوم رہا ہے۔ وہ بہت بالوں والا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اف! اس شیطان کو نکالو، نکالو اسے۔
ان دلائل کے ذکر کے بعد صاحب عون المعبود کا قول ذکر کرنا امانتداری سمجھتا ہوں ، انہوں نے عورت کے ختنہ پر احادیث کو جمع کیا ہے اور فیصلہ کرتے ہوئے آخر میں لکھا ہے :"اور عورت کے ختنہ کی حدیث کئی سندوں سے مروی ہے جو سب ضعیف معلول اور مخدوش ہیں ان سے حجت پکڑنا صحیح نہیں جیساکہ آپ جان گئے ہیں اور ابن منذر نے کہا ختان میں کوئی حدیث نہیں جس کی طرف رجوع کیا جائے اور نہ کوئی سنت ہے جس کی پیروی کی جائے اور ابن عبدالبر نے تمہید میں کہا وہ چیز جس پر مسلمانوں کا اجماع ہے کہ ختنہ مردوں کے لیے ہے"۔ (عون المعبود: 4/ 543)
حقیقت یہ ہے کہ جن احادیث پر ضعف کا حکم لگایا جاتا ہے ان سے صرف نظر کیا جائے تب بھی صحیحین کی روایات عورتوں کے ختنہ پر دلالت کرتی ہیں بلکہ صحیح مسلم کی روایت جس میں ختان کا لفظ آیا ہےوہ عورتوں کے ختنہ کی مشروعیت پر واضح برہان ہے۔
عورت کے ختنہ کا حکم :ختنہ کے حکم کے بارے میں اختلاف ہے۔ ایک قول تو یہ ہے کہ مردو عورت دونوں کے حق میں واجب ہے ۔د وسرا قول یہ ہے کہ دونوں کے حق میں مسنون ہے ۔ تیسرا قول یہ ہے کہ مرد کے حق میں واجب اور عورت کے حق میں مسنون ومستحب ہے۔تیسرا قول قوی اور راحج ہے یعنی عورتوں کے حق میں ختنہ مستحب ہے اور اسی جانب اکثر اہل علم گئے ہیں ۔ اس بنیاد پر ہم یہ کہیں گے کہ کوئی مسلم عورت ختنہ کرائے تو اس میں قباحت نہیں ہے اور کوئی نہ کرائے تو اس میں کوئی گناہ بھی نہیں ہے ۔
ختنہ کی جگہ ،اس کا طریقہ اور اس کا وقت : پیشاب نکلنے والی جگہ کے اوپر مرغ کی کلغی کی طرح جو چمڑی ہوتی ہے اس کا کچھ حصہ کاٹا جائے گا مگر اس میں مبالغہ نہیں کیا جائے گا یعنی اس حصے کو جڑ سے نہیں کاٹا جائے ، اس کا کچھ حصہ کاٹا جائے گاجیساکہ اوپر ابوداؤد اور سلسلہ صحیحہ کی روایت میں مذکور ہے۔
مختلف ممالک میں اس سے ہٹ کر مختلف طریقوں پر ختنہ کیا جاتا ہے جو خلاف سنت ہے بلکہ بعض طریقےاذیت ناک ہیں اس وجہ سے ماہر اور صحیح معرفت رکھنے والی مسلم عورت سے ہی ختنہ کرایا جائے ۔ ختنہ کے لئے مناسب و بہتر وقت پچپن ہے کہ اس وقت زخم آسانی سے مندمل بھی ہوجاتا ہے اور تکلیف کا احساس بھی کم ہوتا ہے۔
عورتوں کے ختنہ کی حکمت وفوائد: ختنہ سے عورتوں کی شہوت اعتدال پر آجاتی ہے اور میاں بیوی دونوں کے لئے زیادت لذت کا باعث ہے۔طبی نقطہ نظر سے مسلم اطباء اور اہل علم نے مختلف قسم کے فوائد بیان کئے ہیں ۔مثلا کبھی وہ کلغی بڑی ہونے کے سبب عدم لذت یا شوہر کے لئے تشویش کا سبب بن جاتی ہے ۔ اس کلغی کے ہٹنے سے اس کے نیچے گندگی جمع ہونے، اس میں بدبوہونے اور کسی طرح کا انفیکشن پیدا ہونے کا خطرہ نہیں رہتا ۔ ایک بڑا فائدہ پیشاب میں آسانی کا ہے کیونکہ یہ چمڑی اسی کے اوپر ہوتی ہے جس سے پیشاب میں دقت پیدا ہوتی ہے ۔ اسی طرح بہت سے جنسی امراض، پیشاب کی نالی کی جلن ، پیشاب کی نالی اور رحم کے کینسر سے حفاظت ہوتی ہے ۔
انسانی صحت اور عورتوں کا ختنہ : سطور بالا سے ہمیں معلوم ہوچلا ہے کہ عرب کی خواتین میں ختنہ کا عام رواج تھا ،اگر اس سے ہلاکت کا خطرہ ہوتا یا یہ عمل عورت کے حق میں ظالمانہ ہوتا تو نبی کریم اس عمل سےعورتوں کو ضرورمنع فرماتے مگر اس طرح کی ممانعت کی کوئی دلیل نہیں ملتی ۔اس وجہ سے ہمارے لئے نبی ﷺ کا فرمان ہی اس طور کافی ہے کہ اس عمل میں عورتوں پر نہ ظلم ہے اور نہ ہی انہیں ہلاکت میں ڈالنے کا سبب ہے ۔ اسلامی تعلیمات فطرت کے عین مطابق اور انسانیت کے حق میں ہے ۔ طلب کمال اور بڑے فوائد کے لئے ختنہ کی معمولی تکلیف قابل اعتراض ہرگز نہیں ہے ۔بعض طبی اداروں نے عورتوں کے ختنہ کو ظلم و ضرر سے تعبیر کیا ہے جس کے نتیجے میں مختلف ممالک میں عورتوں کے ختنہ پر پابندی لگائی گئی ہےبلکہ بعض ممالک میں بہت سختی سے اس پر عمل کیا جاتا ہے اور پکڑے جانے پر سزا دی جاتی ہے  ۔ حقیقت میں ان طبی اداروں کی رپوٹ پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ رپورٹ مذہبی عداوت میں اسلام مخالف بھی ہوسکتی ہے ، کسی شرارتی عورت کی عدالتی یا طبی طور پر جھوٹی شکایت کا نتیجہ بھی ہوسکتی ہے ، سنت سے ہٹ کر ظالمانہ طریقہ ختنہ کے سبب بھی ہوسکتی ہے (جیساکہ مختلف ختنے غلط اور تکلیف دہ ہوتے ہیں، اس کا اسلام سے تعلق نہیں)، ختنہ کی ماہردائی نہ ہونے کے سبب ختنہ سے ہونے والے بعض نقصانات کی وجہ بھی ہوسکتی ہے یا ایک آدھ قدرتی بیماری کو ختنہ سے جوڑکر اسلام کو بدنام کرنے کی سازش بھی ہوسکتی ہے، مسلمانوں کے علاوہ دوسرے ادیان میں بھی ختنہ کا رواج ہے ہوسکتاہے ان کے یہاں ظالمانہ طریقہ ہواس کے سبب مسلمانوں پربھی اعتراض کیا جاتا ہو ۔اس لحاظ سے علی الاطلاق طبی رپورٹ کی بنیا د پر یہ کہنا کہ عورتوں کا ختنہ ان پر ظلم اور ہلاکت کا باعث ہے غلط ہے۔ آپ جسمانی سرجری پر غور کریں تو ہر قسم کی سرجری میں کم یازیادہ تکلیف ہوتی ہے اور اس سے انسان کو خطرہ لاحق رہتا ہے بلکہ ضرورت کے وقت بڑی سے بڑی سرجری کی جاتی ہےاور اسے معمولی تصورکیاجاتا ہے کیونکہ سرجری کے واسطے جدید سے جدیدآلات وسہولیات میسر ہیں پھر ختنہ جیسی معمولی سرجری پر واویلا کیوں ؟
ختنہ پر اجرت لینا: ختنہ کے لئے ماہر دائی ہونا چاہئے یا اس کام کے لئے مخصوص طبیبہ ہو جو اس عمل کو نہایت بہتر طریقے سے سنت کے مطابق انجام دے لہذا اس عمل کو بطور پیشہ اختیار کیا جاسکتا ہے اور اس پر اجرت لی جاسکتی ہے ، اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

مکمل تحریر >>

Wednesday, August 17, 2022

صحابہ کرام اور آل بیت کے درمیان مشفقانہ تعلقات

 

صحابہ کرام اور آل بیت کے درمیان مشفقانہ تعلقات

مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر، حی السلامہ –جدہ

حضرت محمد ﷺ پر جو شریعت اللہ نے اتاری ہے اس شریعت پر چلنے والوں کی بہترین مثال صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں ۔ قرآن وحدیث کی تعلمات کو احسن طریقے سے اپنی زندگی میں نافذ کرنے والی یہی ہستیاں ہیں اسی وجہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانہ کے اہل ایمان (صحابہ) کو سب سے بہترین لوگ قرار دیا ہے ۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا:
سُئِلَ النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ: أيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أحَدِهِمْ يَمِينَهُ، ويَمِينُهُ شَهَادَتَهُ(صحيح البخاري:6658)
ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون لوگ اچھے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا زمانہ، پھر وہ لوگ جو اس سے قریب ہوں گے پھر وہ لوگ جو اس سے قریب ہوں گے۔ اس کے بعد ایک ایسی قوم پیدا ہو گی جس کی گواہی قسم سے پہلے زبان پر آ جایا کرے گی اور قسم گواہی سے پہلے۔
جہاں ایک طرف رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو سب سے بہترین انسان قرار دیا ہے وہیں اللہ تعالی نے ان کی بشری لغزشوں کو معاف کرکے، ان کی نیکیاں قبول کرکے ان سے رضامندی کا اظہار کیاہے  اور ان کو جنت کی بشارت دی ہے چنانچہ فرمان الہی ہے :
وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (التوبة:100)
ترجمہ: اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں، اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وه سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑی کامیابی ہے۔
ان دو دلیلوں سے یہ اندازہ کرنا کوئی مشکل نہیں ہے کہ صحابہ کرام جن میں آل بیت بھی داخل ہیں وہ اس امت کے بہترین لوگ اور بے مثال مومن ہیں مگر افسوس کی بات ہے کہ بے سند اورغیرمستند جھوٹی باتوں یا مشاجرات صحابہ کو بنیاد بناکر بعض لوگوں نے پاک ہستیوں (صحابہ ) کو نشانہ بنایا ، ان کو برا بھلا کہا حتی کہ اہل بیت کے نام پر امت میں غلط فہمی پھیلائی گئی ۔ ان غلط فہمیوں میں سے ایک غلط فہمی یہ ہے کہ بعض صحابہ کرام ، اہل بیت سے محبت نہیں کرتے تھے بلکہ بغض رکھتے تھے ۔میں اسی ایک غلط فہمی کا ازالہ کروں گا کہ تمام صحابہ کرام آپس میں ایک دوسرے سے یا یہ کہیں صحابہ کرام اہل بیت سے مل کر رہتے، ان سے محبت کرتے اور ان کے آپس کے تعلقات نہایت ہی مشفقانہ تھے ۔ یہ بات کوئی عام آدمی کہے یا بغیر دلیل کے کہےتو یقین نہیں ہوگا مگر جب یہی بات اور گواہی رب العالمین دے تو ایمان والوں کوسوفیصد یقین ہوگا اور شک کا کہیں امکان نہیں رہے گامگر جن کے دل میں کفر ونفاق پلتا ہوان کےلئے سودلیلیں بھی کم ہیں۔ اللہ کا فرمان ہے :
مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا(الفتح:29)
ترجمہ:محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحمدل ہیں، تو انہیں دیکھے گا کہ رکوع اور سجدے کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں۔
ایک دوسرے مقام پراللہ تعالی خصوصیت کے ساتھ آپسی الفت ومحبت اور اخوت وبھائی چارگی کی مثال دیتے ہوئے فرماتاہے:
وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا (آل عمران:103)
ترجمہ:اور اللہ تعالیٰ کی اس وقت کی نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی، پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے۔
اللہ جن کے اعلی کردار وایمان("أولئك كتب في قلوبهم الإيمان" یعنی یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کو لکھ دیا ہے) کی گواہی دے رہاہےاورجنہیں معافی کا پروانہ دے کر بخشش و جنت کی بشارت دے رہا ہے، پھر آپسی تعلقات رحم دلانہ اور مشفقانہ ہونے کی گواہی دے رہاہے کہ صحابہ انصار ومہاجرین اور اہل بیت یہ سب آپس میں ایک دوسرے سے حد درجہ محبت کرتے  اور رحم دلی کا معاملہ کرتے ہیں بلکہ اللہ نے یہاں تک بتادیا کہ ان سب صحابہ کے دلوں میں ہم نے ایک دوسرے کے لئے الفت ومحبت ڈال دی اور وہ سب بھائی بھائی ہوگئے۔بھلا بتائیے جس دل میں اللہ محبت ڈال دے اس میں بغض کیسے رہے گا اور جس کو اللہ محبت کرنے والا بنادے وہ بغض کرنے والا کیسے ہوسکتا ہے؟
اس لئے میرے مسلمان بھائیو!اللہ کی گواہی کے بعداگر کوئی کسی صحابی کے بارے میں زبان کھولتا ہے کہ فلاں صحابی کو اہل بیت سے محبت نہیں، فلاں صحابی اہل بیت سے بغض رکھتے تھےتو یہ عام جھوٹ نہیں اللہ تعالی پر بہتان ہے جو صحابہ کی آپس میں رحم دلی اور مشفقانہ تعلقات کی گواہی دیتا ہے ۔ العیاذ باللہ
اوریاد رکھو،کسی بھی صحابی کو برابھلا کہنا، ان کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنا ،ان سے بغض رکھنااور اللہ پر بہتان لگانا کوئی معمولی بات نہیں ہے ، ایسے لوگ مسلمان نہیں منافق ہیں ۔ہمیں ایسے منافقوں کی پہچان کرنی ہےاور ان کےنفاق سے پردہ اٹھانا ہے تاکہ سیدھے سادھے لوگ ان کے مکروفریب کا شکار ہوکر جانے انجانے میں کہیں صحابہ سے محبت کی بجائے عداوت نہ کرنے لگے ۔
دلائل کے ساتھ اب کچھ حقائق آپ کے سامنے رکھتا ہوں تاکہ اس موضوع پر ذہن پوری طرح صاف رہے اور آل بیت سمیت تمام صحابہ سے ہم سچی محبت کریں ۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے:
أنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ، والعَبَّاسَ، أتَيَا أبَا بَكْرٍ يَلْتَمِسَانِ مِيرَاثَهُمَا، أرْضَهُ مِن فَدَكٍ، وسَهْمَهُ مِن خَيْبَرَ، فَقالَ أبو بَكْرٍ:سَمِعْتُ النبيَّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ، يقولُ:لا نُورَثُ ما تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، إنَّما يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ في هذا المَالِ واللَّهِ لَقَرَابَةُ رَسولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ أحَبُّ إلَيَّ أنْ أصِلَ مِن قَرَابَتِي(صحيح البخاري:4035)
ترجمہ: فاطمہ رضی اللہ عنہا اور عباس رضی اللہ عنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زمین جو فدک میں تھی اور جو خیبر میں آپ کو حصہ ملا تھا، اس میں سے اپنی میراث کا مطالبہ کیا۔اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہمارا ترکہ تقسیم نہیں ہوتا۔ جو کچھ ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے البتہ آل محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اس جائیداد میں سے خرچ ضرور ملتا رہے گا۔اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں کے ساتھ عمدہ معاملہ کرنا مجھے خود اپنے قرابت داروں کے ساتھ حسن معاملت سے زیادہ عزیز ہے۔
اس حدیث کی روشنی میں ابوبکرؓکی اہل بیت سے حددرجہ محبت واضح ہوتی ہے ساتھ ہی یہ غلط فہمی بھی دور ہوجاتی ہے کہ آپ نے فدک سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو حصہ اس لئے نہیں دیا کہ ان کےسامنے رسول اللہ ﷺ کا فرمان تھا کہ نبی جو کچھ چھوڑجائیں اسے تقسیم نہیں کیاجائے گا، یہ صدقہ ہے جو عام فقراء ومساکین کا حق ہے۔ اس بات سے ابوبکررضی اللہ عنہ کی ایمانداری اوررسول اللہ سے محبت کا ثبوت ملتا ہے ۔اور جو بات رسول اللہ سے محبت کی علامت ہو وہ آل بیت سے بھی محبت کی علامت ہوگی ، نہ کی بغض کی ۔
یہ مسئلہ شیعہ کی کتاب سے بھی ثابت ہوتا ہےچنانچہ شیعہ امامیہ کے بڑے محدث محمد بن یعقوب الکلینی اپنی حدیث کی کتاب الکافی میں ذکرتے ہیں، ابوعبداللہ جعفرالصادق (جوشیعہ اثناعشریہ کے چھٹے امام ہیں اور بریلوی جن کے نام سے ستائیس رجب کو کونڈے بھرکرشرکیہ وسیلہ لگاتے ہیں) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے بیان فرمایا:
وإن العلماء ورثة الأنبياء إن الأنبياء لم يورثوا دينارا ولا درهما ولكن ورثوا العلم فمن أخذ منه أخذ بحظ وافر(الكافي 1/34)
ترجمہ: اور بےشک انبیاء کے وارث علماء ہیں، بےشک نبیوں کی وراثت درہم اور دینار نہیں ہوتی لیکن وہ علم کی وراثت چھوڑتے ہیں، جس نے اسے لے لیا تو اس نے بڑاحصہ لے لیا۔
الکافی جو شیعہ کی چار معتبر کتابوں میں سے ایک ہے جس کے بارے میں علمائے شیعہ کا اعتقاد ہے کہ الکافی کی تمام احادیث صحیح ہیں ۔ اس لحاظ سے شیعہ کتاب سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبی کی چھوڑی ہوئی وراثت تقسیم نہیں ہوتی ہے پھر فدک کے معاملے میں اہل تشیع کا واویلا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بغض وعداوت کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔
محبت آہل بیت سے متعلق خلیفہ اول کا یہ فرمان بھی پڑھیں، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:
قالَ أبو بَكْرٍ: ارْقُبُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ في أهْلِ بَيْتِهِ(صحيح البخاري:3751)
ترجمہ: ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال آپ کے اہل بیت میں رکھو۔
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جب مرض الموت میں مبتلا ہوئیں تو ابوبکرؓنے اپنی اہلیہ اسماء بنت عمیس کو ان کی تیمارداری کے لئے بھیجا ، وفات تک وہیں رہیں اور تجہیزوتکفین میں بھی شریک ہوئیں ۔اگرابوبکرؓکو فاطمہؓ سے عداوت ہوتی توتیمارداری کے لئے ان کے پاس اپنی اہلیہ نہ بھجتے یا سیدہ فاطمہ کو آپ سے نفرت ہوتی تو آپ کی اہلیہ وفات تک وہاں نہ رہتیں بلکہ لوٹادی جاتیں۔ مزید آگے سنیئے ۔ جب ابوبکر ؓکی وفات ہوگئی تو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے آپ کی بیوہ اسماء بنت عمیس سے شادی کرلی ۔ ان حقائق سے آل صدیق اور آہل بیت کی محبت کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے۔
خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی آل بیت سے محبت پر تاریخی بات کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے آتے ہی آہل بیت کے خصوصی وظائف کا اہتمام کیا ۔فارس کی فتح میں جب کسری کی کئی پوتیاںمسلمانوں کے ہاتھ آئیں تو ان میں سے ایک حضرت عمر نے حسین بن علی ؓکو دیا جس نے حسین ؓنے شادی کرلی ، انہیں کے بطن سے زین العابدین ابوبکرعلی بن حسین پیدا ہوئے ۔ کربلا میں مردوں میں صرف زین العابدین ہی بچ گئے تھے کیونکہ بیماری کی وجہ سے واقعہ کربلا میں شریک نہیں تھے ۔ آپ شیعہ اثناعشریہ کے چوتھے امام ہیں۔ گویا شیعہ اثناعشریہ کے چوتھے امام کی والدہ حضرت عمرؓکی طرف  سےہبہ کی گئیں تھیں بلکہ زین العابدینؒ کی کنیت بھی خلیفہ اول کے نام پر ہے۔ حضرت علی ؓنے اپنی بیٹی ام کلثوم کا نکاح حضرت عمر سے کیا تھا ۔اسی طرح حضرت عمر ؓکی یہ دعا اہل بیت سے محبت کی علامت ہے۔
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
أنَّ عُمَرَ بنَ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عنْه، كانَ إذَا قَحَطُوا اسْتَسْقَى بالعَبَّاسِ بنِ عبدِ المُطَّلِبِ، فَقالَ: اللَّهُمَّ إنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إلَيْكَ بنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا، وإنَّا نَتَوَسَّلُ إلَيْكَ بعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا، قالَ: فيُسْقَوْنَ(صحيح البخاري:3710)
ترجمہ: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ قحط کے زمانے میں عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھا کر بارش کی دعا کراتے اور کہتے کہ اے اللہ پہلے ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بارش کی دعا کراتے تھے تو ہمیں سیرابی عطا کرتا تھا اور اب ہم اپنے نبی کے چچا کے ذریعہ بارش کی دعا کرتے ہیں۔ اس لیے ہمیں سیرابی عطا فرما۔ راوی نے بیان کیا کہ اس کے بعد خوب بارش ہوئی۔
آہل بیت سے صحابہ کی محبت اورشہادت حسین ؓ پرافسوس سےمتعلق حضرت عمرؓکے بیٹے عبداللہ ؓکا یہ واقعہ بھی غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے۔
ابونعیم نے بیان کیا کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں موجود تھا ان سے ایک شخص نے (حالت احرام میں) مچھر کے مارنے کے متعلق پوچھا (کہ اس کا کیا کفارہ ہو گا) ابن عمر رضی اللہ عنہما نے دریافت فرمایا کہ تم کہاں کے ہو؟ اس نے بتایا کہ عراق کا، فرمایا کہ اس شخص کو دیکھو، (مچھر کی جان لینے کے تاوان کا مسئلہ پوچھتا ہے) حالانکہ اس کے ملک والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسہ کو (بےتکلف قتل کر ڈالا) میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے:
هُما رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا(صحيح البخاري:5994)
ترجمہ: یہ دونوں (حسن اور حسین رضی اللہ عنہما) دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔
خلیفہ سوم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو جب بلوائیوں نے گھیر رکھا تھا اور آپ محصور ہوگئے تھے تب آپ کی حفاظت کے لئے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ تلوار کے ساتھ موجود تھے جو آپ کی حفاظت اور دفاع کرنا چاہتے تھے مگر حضرت عثمان ؓکی اہل بیت سے محبت کا جذبہ دیکھئے کہ خود تکلیف میں ہوتے ہوئے اہل بیت کو کوئی تکلیف نہ پہنچے ، حسن ؓکو اللہ کا واسطہ دے کر گھر بھیج دیا تاکہ حسنؓ کو تکلیف نہ پہنچے اور ان کی وجہ سے ان کے والد کو تکلیف محسوس نہ ہو۔ ان تاریخی حقائق سے نظریں چرا کرمنافقین جھوٹی باتیں جن کی صحت کا پتہ نہیں ان پر اعتبار کرکے خلفائے راشدین اور دیگر صحابہ کے بارے میں طعن وتشنیع کرتے ہیں ۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور آپ کے بیٹے محمد بن حنفیہ کا خلفائے راشدین کے بارے میں کیا ایمان واعتقاد ہے آپ سے جانیں اور دوسروں تک بھی یہ بات پہنچائیں ۔
عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الحَنَفِيَّةِ، قَالَ: قُلتُ لأبِي: أيُّ النَّاسِ خَيْرٌ بَعْدَ رَسولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ؟ قَالَ: أبو بَكْرٍ، قُلتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ عُمَرُ، وخَشِيتُ أنْ يَقُولَ: عُثْمَانُ، قُلتُ: ثُمَّ أنْتَ؟ قَالَ: ما أنَا إلَّا رَجُلٌ مِنَ المُسْلِمِينَ(صحيح البخاري:3671)
ترجمہ: محمد بن حنفیہ نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد (علی رضی اللہ عنہ) سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل صحابی کون ہیں؟ انہوں نے بتلایا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ میں نے پوچھا پھر کون ہیں؟ انہوں نے بتلایا، اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ مجھے اس کا اندیشہ ہوا کہ اب (پھر میں نے پوچھا کہ اس کے بعد؟) کہہ دیں گے کہ عثمان رضی اللہ عنہ اس لیے میں نے خود کہا، اس کے بعد آپ ہیں؟ یہ سن کر وہ بولے کہ میں تو صرف عام مسلمانوں کی جماعت کا ایک شخص ہوں۔
یہ کوئی عام حوالہ نہیں ہے صحیح بخاری کی حدیث ہے ، اس حدیث سے اہل بیت کی صحابہ سے بطور خاص خلفائے ثلاثہ سے محبت کاعلم ہوتا ہے کیونکہ کوئی کسی کی فضیلت اسی وقت بیان کرتا ہے جب اس سے محبت وعقیدت ہوتی ہے ۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی اہل بیت کے فضائل پر مشتمل متعدد احادیث بیان کرتی ہیں بطورخاص اہل بیت سے متعلق صحیح مسلم کی مشہورحدیث (حدیث نمبر:2424) جس میں مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی چادر میں حسن، حسین، فاطمہ اور علی رضوان اللہ علیھم اجمعین کو ڈھک لیا اور اہل بیت سے متعلق آیت تطہیر کی تلاوت کی ۔
اس کے بعد حضرت علی کے گھرانہ میں اولاد کے اسمائے گرامی پر نظر ڈالتے ہیں کیونکہ انسان نام بھی عقیدت و محبت کی بنیاد پر ہی رکھتا ہے ۔
حضرت علی نے مختلف اوقات میں متعدد شادیاں کیں ، علامہ ابن کثیر نےالبدایہ والنہایہ میں نو بیویوں کا ذکر کیا ہے ، ان سے اٹھائیس (28) اولاد کا پتہ چلتا ہے۔ ان میں اولاد میں تین نام تینوں خلفاء کے نام پر تھے ابوبکر، عمر اور عثمان ۔یہ تینوں میدان کربلا میں شہید ہوئے ۔ سیدنا حسن ؓکی اولاد میں ابوبکروعمر تھے جو کربلامیں شہید ہوئے اور سیدنا حسین کی اولاد میں بھی ایک نام عمر کا ملتا ہے۔
رشتے داریوں کی بات کی جائے جن سے اہل بیت کی نسبت ہے یعنی کہ محمد ﷺ تو آپ نے دو خلیفہ حضرت ابوبکر کی بیٹی سیدہ عائشہ اور حضرت عمر کی بیٹی سیدہ حفصہ سے نکاح کیا اور دو خلیفہ حضرت عثمان کا اپنی بیٹی رقیہ اور ام کلثوم اور حضرت علی کا اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ سے نکاح کرایا۔ اس طرح خلیفہ اول ودوم آپﷺ کے سسر اور خلیفہ سوم وچہارم آپ کےد اماد ٹھہرے ۔ اندازہ لگائیے کہ بیت رسول کا آل صدیق، آل عمر ، آ ل عثمان اورآل علی سےکتنا گہرا رشتہ ہے؟
شیعہ اثناعشریہ کے چوتھے امام زین العابدین کی بات اوپر گزرچکی ہے ، چھٹے امام جعفر صادق جن کی طرف شیعہ کی فقہ جعفریہ منسوب ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ جعفر صادق کے نانا(محمد بن ابوبکراور عبدالرحمن بن ابوبکر) کی سگی بہن تھیں، اس اعتبار سے آل بیت اور آل صدیق میں خونی رشتہ بھی تھا ۔ جعفرصادق کا مشہور مقولہ ہے: ولدني أبو بكر مرتين یعنی مجھے ابوبکر نے دومرتبہ جنم دیا ۔ بعض روایت میں ابوبکر کے ساتھ الصدیق کا بھی اضافہ ہے ۔ (حوالہ شیعہ کتاب ، بحار الأنوار ازعلامہ مجلسی: 29/651)
دومرتبہ جنم دینے سے مراد والدہ ام فروہ ، ابوبکرؓکے پوتے کی بیٹی تھی اور نانی اسماء بنت عبدالرحمن ، ابوبکرؓکی پوتی تھی۔
میں نے بطور حجت محض چندرشتہ داریوں کو ذکر کیا ہے ، حقیقت تو یہ ہےکہ صحابہ آپسی محبت اور اسلامی اخوت کی بنیاد پر سب شیروشکر ہوکر رہتے ۔ آپس میں رشتہ داریاں کرتے اور ان میں ایک دوسرے خلاف قطعا بغض وحسد نہیں تھا، اگر بتقاضائے بشریت کچھ آپسی اختلافات کہیں ملتےبھی ہیں تو یہ اسلامی اخوت ومحبت پر کوئی اثر نہیں ڈالتے ۔
اہل بیت اور صحابہ کرام کے درمیان ناموں کی مماثلت اور رشتہ داریاں جاننے کے لئے سید بن احمد بن ابراہیم کی عربی کتاب " الاسماء والمصاھرات بین اھل البیت والصحابہ " دیکھیں ۔ اس کا اردو ترجمہ کتاب وسنت ڈاٹ کام اور اسلام ہاؤس پر" آل بیت اور صحابہ کرام کے تعلقات اسماء اور قرابت داری کی روشنی میں "کے نام سے موجود ہے ۔ سورہ شوری آیت نمبرپچیس میں اللہ کے رسول نے مومنوں سے اپنے رشتہ داروں کے سلسلے میں جس مودت کا مطالبہ کیا ہے ،اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں ہمیں اس طرح کی مودت آل بیت سے کرنے کی توفیق دے اور اس معاملے میں ناصبیوں اور رافضیوں کو سیدھےراستےکی ہدایت دے۔ آمین

مکمل تحریر >>